تازہ ترین
جنگجوﺅں کےخلاف سخت گیر پالیسی پر کاربند رہیں گے:وزیر داخلہ

خبراردو:مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میںقرار دار پیش کرتے ہوئے ریاست جموں وکشمیر میں مزید 6مہینوں کےلئے صدر راج کو منظوری دینے کی مانگ کی ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے 2روزہ کشمیر دورے کو مکمل کرتے ہوئے نئی دہلی پہنچے کے بعد جمعہ کو لوک سبھا میں قرار داد پیش کرتے ہوئے ریاست جموں وکشمیر میں مزید 6مہینوں کےلئے صدر راج کو منظوری دیے جانے کی مانگ کی ہے۔ لوک سبھا میں قرار داد کو پیش کرنے کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بتایا کہ جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی کو پہلے ہی برخواست کیا جاچکا ہے جبکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اسمبلی الیکشن کو منعقد کرانے کے حوالے سے پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ عوامی حکومت کو وجود بخشنے کےلئے ریاست بھر میں اسمبلی انتخابات کو رواں برس کے آخیر میں منعقد کیا جائےگا تاہم وزیر داخلہ نے لوک سبھا پر زور دیا کہ اس طرح کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے جموں وکشمیر میں صدر راج کو مزید 6مہینوں کےلئے وسعت دی جائے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر میں صورتحال کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے 3جولائی 2019سے صدر راج کو مزید 6مہینوں کےلئے منظوری دی جائے۔ امت شاہ کے بقول جموں وکشمیر میں ماضی قریب میں منعقد ہوئے انتخابات کے دوران کافی خون خرابہ دیکھنے کو ملا تاہم اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ منعقد ہوچکے لوک سبھا انتخابات کے دوران جموں وکشمیر میں کوئی تشدد آمیز کارروائی نہیں ہوئی اور لوگوں نے پرامن طور پر اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔امت شاہ نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر میںفی الوقت امن و قانون کی صورتحال قابو میں ہے اور سرکار دہشت گردی کو لے کر زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر مکمل طور پر کاربند ہے۔مرکزی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات رواں برس کے اختتام پر منعقد کئے جائیں گے اور اس سلسلے میں تمام اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار جموں وکشمیر میں عوامی منتخب حکومت کو وجود بخشنے کےلئے وعدہ بند ہے۔
اس موقعے پر مرکزی وزیر داخلہ نے اُن تمام اسکیموں کو زیر بحث لایا جو ریاست جموں وکشمیر میں تعمیر و ترقی کے حوالے سے مرکزی سرکار نے شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیر و ترقی کے حوالے سے جو بھی معاملات زیر التوا ہے انہیں عنقریب ہی حل کیا جائےگا۔سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر آبادی کی سلامتی سے متعلق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا کہنا تھا کہ مرکزی سرکار کی جانب سے شروع کی گئی اسکیموں کے تحت سرحد پر رہنے والے لوگوں کی حفاظت کےلئے 4400زیر زمین بنکر تعمیر کئے جاچکے ہیں جبکہ آنے والے وقت میں مزید 15ہزار بنکروں کی تعمیر کو یقینی بنایا جائےگا۔انہوں نے اس موقعے پر جموں وکشمیر ریزرویشن (ترمیمی) بل 2019کو بھی لوک سبھا میں بحث و تمحیص کےلئے پیش کی۔ واضح رہے بل کے مطابق بین الاقوامی سرحد پر رہائش پذیر عوام کےلئے کئی مراعات قابل ذکر ہے جن میں نوکری میں خصوصی بھرتی وغیرہ شامل ہیں۔ اس موقعے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے صدارتی راج میں توسیع کے مطالبے کی آر ایس پی کے این کے پریما چندرن نے مخالفت کی تاہم انہوں نے ریزرویشن بل کی مکمل تائید کی۔انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی وجوہات کے پیش نظر جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کو التوا میں رکھنا صحیح نہیں ہوگا۔
انہوں نے سوال کرتے ہوئے بتایا کہ اگر جموں وکشمیر میں لوک سبھا انتخابات کو منعقد کیا گیا تو اسمبلی انتخابات کو منعقد کرنے میں کیا حرج ہے؟ادھر کانگریس کے منیش تواری نے بھی صدارتی راج سے متعلق بل کی مخالفت کی۔ کانگریس لیڈر نے بتایا کہ کانگریس کی حکومت نے ترقی یافتہ جموں وکشمیر کو بی جے پی کے حوالے کی تھی۔انہوں نے سابق مخلوط حکومت پی ڈی پی، بی جے پی کو ریاست میں غیر یقینی صورتحال کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیوں کی ناقص کارکردگی اور عوام کش پالیسیوں کی وجہ سے آج اس طرح کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔اس دوران مرکزی وزیر داخلہ نے لوک سبھا میں بتایا کہ کشمیری پنڈتوں کی فلاح و بہبود اور بازآبادکاری کےلئے مرکزی سرکار ان کی مالی معاونت میں اضافہ کرےگی۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری کو ممکن بنانے کےلئے کئی ٹھوس اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں جن میں مالی معاونت میں اضافہ شامل ہیں۔امت شاہ کا کہنا تھا کہ مرکزی سرکار نے خطہ لداخ کو خودمختار بنانے کے ساتھ ساتھ کشمیری پنڈتوں کو بااختیار بنانے کےلئے ان کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت میں بڑی حد تک اضافہ کردیا ہے۔لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے بتایا کہ مرکزی سرکار جموں وکشمیر میں ملی ٹینسی کو ختم کرنے کےلئے اپنے موقف پر قائم و دائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کےلئے ہندوستان نے سرحد پر جاکر ان کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنانے کی غرض سے سرجیکل سٹرائیک کیں جس دوران کسی بھی عام شہری کو کوئی گزند نہیں پہنچی۔امت شاہ کا کہنا تھا کہ ”مرکزی سرکار اس بات کےلئے وعدہ بند ہے کہ جموں وکشمیر میں ملی ٹینسی کا خاتمہ کیا جائےگا“۔انہوں نے بتایا کہ جنگجوﺅں کے تئیں مرکزی سرکار کی پالیسی سخت گیر اور جارحانہ رہے گی اور اس میں کسی بھی قسم کی نرمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ کاکہنا تھا کہ جموں وکشمیر کی تعمیر و ترقی مرکزی سرکار کے آگے ترجیحات میں شامل ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جموںو کشمیر میں تعمیرو ترقی کو یقینی بنانے کےلئے 80ہزار کروڑ روپے کا پیکچ واگزار کیا ہے جس سے بخوبی اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ریاست کی تعمیر و ترقی مرکزی سرکار کے ایجنڈے پر سرفہرست ہے۔
ہندوستان
گزشتہ چار دنوں میں پی او کے مظاہروں اور پولیس تشدد میں کم از کم 41 افراد ہلاک
نئی دہلی، پاکستانی مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں حکام نے منگل کی سہ پہر کو کرفیو نافذ کر دیا کیونکہ مظاہرے کئی شہروں میں پھیل گئے، جب کہ پولیس تشدد میں گزشتہ چار دنوں میں کم از کم 41 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 19 بچے اور سات حاملہ خواتین شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق راولکوٹ، مظفرآباد، کوٹلی، بھمبر، ڈڈیال، پالندری اور سدھانوتی میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، حکومت اور فوج مخالف نعرے لگائے اور آزادی کا مطالبہ کیا۔ مظفرآباد، کوٹلی، بھمبر اور ڈڈیال میں انتظامی بندش سے معمولات زندگی درہم برہم ہو گئے، پولیس کی کارروائی میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
راولکوٹ میں صبح 11 بجے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا، مظاہرین نے مرکزی سڑک بلاک کر دی، جس سے پاکستانی پولیس، فوج اور رینجرز کو گولیوں، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کا سہارا لینا پڑا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انتظامی کارروائی میں کم از کم سات افراد زخمی ہوئے۔
ذرائع کے مطابق کوٹلی اور ڈڈیال میں لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی، نعرے لگاتے ہوئے راولکوٹ کی طرف مارچ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ پالندری میں آنسو گیس کے استعمال کے باوجود ہزاروں افراد پاکستانی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔
دریں اثنا، سودھانوتی میں مظاہرین نے لکڑی کی لاٹھیوں سے مظاہرے کیے اور پاکستانی حکومت اور فوج کو وارننگ جاری کی۔ مظفرآباد میں نیلم پل پر مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ فائرنگ کی ویڈیوز نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پی او کے میں مظاہرین 38 مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان میں بنیادی طور پر سستی بجلی اور آٹے، چاول اور دالوں کی کم قیمتیں شامل ہیں۔
مظاہرین کا موقف ہے کہ پاکستان نے پی او کے میں منگلا ڈیم جیسے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ بنائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ پاکستان کا حصہ نہیں ہے اس لیے مقامی رہائشیوں کو کم نرخوں پر بجلی ملنی چاہیے۔ مظاہرین کا ایک بڑا سیاسی مطالبہ پی او کے اسمبلی میں پناہ گزینوں کے لیے مخصوص 12 نشستوں کو ختم کرنا ہے۔ یہ نشستیں ان لوگوں کے لیے مخصوص ہیں جنہیں پناہ گزین سمجھا جاتا ہے اور جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جموں و کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر آئے ہیں لیکن اب وہ پی او کے کے بجائے پاکستان کے دوسرے حصوں میں رہتے ہیں۔ مظاہرین سوال کرتے ہیں کہ جو لوگ پی او کے میں نہیں رہتے وہ ان 12 سیٹوں کو ووٹ اور نمائندگی کیسے دے سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاکستانی فوج اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی میں موجودگی کے باوجود صرف حزب المجاہدین کے ارکان اور ان کے رشتہ دار ہی ان مخصوص نشستوں پر منتخب ہوں۔ نتیجے کے طور پر، پی او کے اسمبلی کی 45 میں سے 12 سیٹیں آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کے زیر اثر رہیں۔ اس سے وہ قانون سازوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور اگر ضروری ہو تو اپنی پسند کا وزیر اعظم مقرر کر سکتے ہیں۔
ایک مثال عبداللہ سعید شاہ کی ہے، جنہیں پیر مظہر سعید شاہ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ جیش محمد کا سندھ کا صوبائی سربراہ بتایا جاتا ہے۔ اس شدت پسند تنظیم میں ان کے مبینہ کردار کے باوجود، وہ پی او کے اسمبلی کے رکن ہیں اور حال ہی میں اطلاعات و نشریات کے وزیر کے عہدے پر فائز تھے۔ اسی طرح کی مظاہروں کی لہر گزشتہ سال اکتوبر میں بھی پھوٹ پڑی تھی جس میں 31 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ان مظاہروں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے قریبی ساتھی اور سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ کو مذاکرات کے لیے پی او کے بھیجا۔ حکام نے مظاہرین کے 38 میں سے 21 مطالبات تسلیم کر لیے۔ تاہم آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود وہ وعدے پورے نہیں ہوئے۔ حکام نے موجودہ بدامنی کے دوران اور اس سے پہلے دونوں مظاہرین پر گولیاں چلائی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال بریگیڈیئر فائق ایوب کے آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے پی او کے میں شہریوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ مظاہرین اور ماہرین کا الزام ہے کہ ان کی کمان میں فوج کے جبر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پی او کے میں اپنی پوسٹنگ سے قبل، بریگیڈیئر فائق ایوب پنجاب میں سیکٹر کمانڈر تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لاہور میں پرتشدد کریک ڈاؤن کا ذمہ دار تھا، جس کی وجہ سے انہیں “لاہور کا قصائی” کا لقب ملا۔ اس کے بعد، لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے انہیں پی او کے منتقل کر دیا، جہاں کریک ڈاؤن جاری ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل کے موقف سے قطع نظر امریکہ ایران جوہری معاہدے پر آگے بڑھے گا: وینس
واشنگٹن، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام پر کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھے گا، چاہے اس پر اسرائیل کا موقف کچھ بھی ہو۔
مسٹر وینس نے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ “گزشتہ چند مہینوں میں اور درحقیقت گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران جو کچھ ہوا ہے، اس نے ایک ایسا ماحول بنایا ہے جس میں صدر یقین رکھتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم ایرانی جوہری مسئلے کا ایک طویل مدتی حل تلاش کر سکتے ہیں۔” “چاہے اسرائیل اسے پسند کرے یا نہ کرے، ہمیں یقین ہے کہ یہ امریکہ کے بہترین مفاد میں ہے۔ لہٰذا ہم اس سمت میں آگے بڑھتے رہیں گے، کیونکہ امریکی عوام نے یہی صدر منتخب کیا ہے اور ہمیں امریکی عوام کی خدمت کے لیے یہی کرنا ہے،”
مسٹر وینس کے تبصرے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دراڑ کے بارے میں قیاس آرائیوں کے درمیان آئے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ایرانی میزائل حملوں کا جوابی کارروائی نہ کرے، لیکن اسرائیل نے اس درخواست پر کان دھرنے سے انکار کر دیا۔ اتوار کو مغربی ایشیا میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملہ کیا۔
ایران نے اس کے جواب میں شمالی اسرائیل کی طرف میزائل داغے۔ اس کے بعد اسرائیل نے ایران کے خلاف کئی راؤنڈ فضائی حملے کیے، جب کہ تہران نے اضافی میزائل حملوں کا جواب دیا۔ ایران کی فوج نے پیر کی صبح کہا کہ وہ اسرائیل کے خلاف حملوں کو روک رہی ہے، لیکن لبنان میں اسرائیلی کارروائی جاری رکھنے کی صورت میں “انتہائی سخت اور تباہ کن” ردعمل کا انتباہ دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے فی الحال ایران پر فضائی حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن وہ جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
غور طلب ہے کہ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد پورے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی اڈوں کے ساتھ اسرائیل اور دیگر ممالک کو نشانہ بنایا۔ ایک عارضی جنگ بندی 8 اپریل کو عمل میں آئی تھی لیکن اس کے نفاذ اور علاقائی پیش رفت پر اختلافات کی وجہ سے بات چیت تعطل کا شکار ہے۔
صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا تاہم ابھی تک تنازع کو مکمل طور پر ختم کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو اس کے جوہری پروگرام پر کسی بھی قسم کی بات چیت سے قبل جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
این سی کے رکنِ پارلیمان روح اللہ دہلی احتجاج میں شامل ہوں گے، کہا ریاستی درجہ اور آئینی حقوق کی جدوجہد جاری رہنی چاہیے
سری نگر، نیشنل کانفرنس (این سی) کے ناراض رکنِ پارلیمان روح اللہ مہدی نے منگل کو کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے اور آئینی ضمانتوں کی بحالی کے مطالبے کے لیے دہلی میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ تحریک محض عوامی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایک روزہ علامتی پروگرام نہیں بننی چاہیے۔
گزشتہ ہفتے حکمران نیشنل کانفرنس نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن نئی دہلی میں احتجاج کیا جائے گا تاکہ جموں و کشمیر کو فوری طور پر ریاستی درجہ اور آئینی ضمانتیں بحال کرنے کا مطالبہ کیا جا سکے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روح اللہ مہدی نے کہا کہ عوام نے انہیں آرٹیکل 370 اور اگست 2019 سے قبل موجود آئینی تحفظات کی بحالی کے لیے جدوجہد کی ذمہ داری سونپی ہے۔
انہوں نے کہاکہ”میں دہلی جاؤں گا اور آرٹیکل 370 کے بارے میں بات کروں گا۔ میں ریاستی درجے کے بارے میں بات کروں گا۔ عوام نے ہمیں آرٹیکل 370 اور اپنے آئینی حقوق کے لیے لڑنے کی ذمہ داری دی ہے۔”
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جدوجہد وقتی احتجاجوں یا سیاسی پروگراموں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔
روح اللہ نے کہاکہ”ریاستی درجے کے لیے صرف ایک دن کا احتجاج نہیں ہونا چاہیے۔ ایسا کوئی پروگرام نہیں ہونا چاہیے جس کا مقصد صرف لوگوں کو خاموش کرنا ہو۔ یہ ایک منظم اور مسلسل جدوجہد ہونی چاہیے، صرف ریاستی درجے کے لیے نہیں بلکہ ان تمام آئینی تحفظات کی بحالی کے لیے بھی جو 2019 سے پہلے موجود تھے۔”
2024 کے پارلیمانی انتخابات میں سری نگر لوک سبھا نشست جیتنے والے روح اللہ مہدی کو آرٹیکل 370، ریاستی درجہ اور جموں و کشمیر کے آئینی حقوق کے معاملے پر نیشنل کانفرنس کے سب سے واضح اور سرگرم رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
واضح موقف رکھنے والے اس رکنِ پارلیمان نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے سخت ناقد کے طور پر بھی اپنی شناخت بنائی ہے۔
وہ متعدد بار عمر عبداللہ پر آرٹیکل 370 کے معاملے میں نرم رویہ اختیار کرنے اور نیشنل کانفرنس کو عوام کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ سے انحراف کا الزام عائد کر چکے ہیں۔
روح اللہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ آئینی تحفظات کی بحالی اور جموں و کشمیر کی شناخت کا تحفظ سیاسی بحث و مباحثے کا مرکزی موضوع رہنا چاہیے۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران انہیں پارٹی قیادت کی جانب سے نظر انداز کیا گیا اور نیشنل کانفرنس کے کئی اہم اجلاسوں میں بھی مدعو نہیں کیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر7 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
کھیل1 week agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
ہندوستان6 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا5 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا1 week agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا4 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا6 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا7 days agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران
دنیا1 week agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی









































































































