جموں و کشمیر
شمالی کمان کے کے سربراہ کا ایل او سی دورہ، فوج کی تیاریوں کا جائزہ لیا

جموں، فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اوپندر دویدی نے جمعے کے روز لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا۔معلوم ہوا ہے کہ فوجی کمانڈر نے راجوری میں اگلی چوکیوں کا دورہ کیا او روہاں پر فوج کی آپریشنل تیاریوں کا بچشم جائزہ لیا۔بتادیں کہ بفلیاز حملے کے بعد راجوری اور پونچھ اضلاع میں سیکورٹی فورسز کی تعیناتی بڑھائی گئی ہے۔
دفاعی ترجمان نے بتایا کہ شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اوپندر دویدی نے جمعے کے روزراجوری کے سرحدی علاقوں کا دورہ کیا۔
سرحد پر تعینات اہلکاروں سے بات چیت کے دوران شمالی کمان کے کمانڈر نے کہاکہ سخت ترین موسمی صورتحال اور دیگر چیلنجوں کے باوجود فوجی جوان اپنی خدمات خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ فوج کی کوششوں کے نتیجے میں ہی لائن آف کنٹرول پر اس وقت امن و امان قائم ہے۔
فوجی کمانڈر نے سرحد پر تعینات جوانوں کو بتایا کہ امن دشن عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی خاطر ایل او سی پر مزید چوکسی برتنے کی ضرورت ہے۔اس سے قبل لیفٹیننٹ جنرل اوپندر دویدی کو فوج کے سینئر آفیسران نے سرحدوں کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی۔
فوجی کمانڈر کو اس موقع پر پونچھ اور راجوری کے جنگلی علاقوں میں سرگر ملی ٹینٹوں کے خلاف چلائے جارہے آپریشنز کے بارے میں جانکاری فراہم کرتے ہوئے بتایا گیا کہ فوج کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح سے تیار ہیں۔واضح رہے کہ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی سربراہی میں جمعرات کو جموں میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں فوج اور پولیس کے سینئر آفیسران نے شرکت کی۔
میٹنگ کے دوران ایل جی منوج سنہا نے فوجی کمانڈروں کو ہدایت دی کہ پونچھ اور راجوری میں سرگرم ملی ٹینٹوں کے خلاف چلائے جارہے آپریشنز کو مزید تیز تر کیا جائے تاکہ امن دشمن عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکے۔ذرائع نے بتایا کہ راجوری اور پونچھ اضلاع میں سرگرم ملی ٹینٹوں کو مار گرانے کی خاطر نئی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے ۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر حج کمیٹی کے سامان سے متعلق فیصلے سے واپس آرہے حاجیوں میں نظر آئی ناراضگی
سری نگر جموں و کشمیر حج کمیٹی کے ذریعے حاجیوں کے سامان کے ایک بڑے حصے کو احمد آباد سے سری نگر تک سڑک کے راستے سے لے جانے کے فیصلے پر حاجیوں، ان کے خاندانوں اور سیاسی لیڈروں نے بڑے پیمانے پر تنقید کی ہے۔
نوٹیم سے متعلق پابندیوں اور طیارے میں سامان لے جانے کی حد طے ہونے کی وجہ سے کیے گئے اس فیصلے سے حج سے واپس آرہے بزرگ حاجیوں میں پریشانی کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
کئی لوگوں کو سعودی عرب میں قیام کے دوران خریدی گئی مذہبی اشیاء، تحائف اور جلد خراب ہونے والی چیزوں سمیت ذاتی سامان میں تاخیر، نقصان یا خرابی کا ڈر ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے فوری طور پر سرکاری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
سری نگر کے لیے حج پروازوں کی آمد دو جون سے شروع ہونے والی ہے، پہلی پرواز کے دوپہر 12:45 بجے سری نگر انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر اترنے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ پروازوں کے اوقات تین اور چار جون کو مقرر ہیں۔ اس سال جموں و کشمیر سے 7,000 سے زیادہ زائرین نے سفر حج کیا۔
جموں و کشمیر حج کمیٹی نے ایک نوٹیفکیشن میں کہا کہ حاجیوں کی امیگریشن اور کسٹم کلیئرنس سری نگر کے آگے کے سفر سے پہلے احمد آباد میں ہی مکمل کر لی جائے گی۔
سامان کے ترمیم شدہ انتظام کے تحت، حاجیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صرف سات کلو گرام تک کا ایک ہینڈ بیگیج لے جائیں، جبکہ سری نگر جانے والی پروازوں میں صرف پانچ کلو گرام کا چیک ان بیگیج ہی لے جانے کی اجازت ہوگی۔ نوٹیم سے متعلق پابندیوں اور طیارے کے وزن کی حدود کی وجہ سے باقی سامان، فی زائر 30 کلو گرام تک، سڑک کے راستے سے الگ سے لے جایا جائے گا۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ کسی بھی چیک ان بیگیج کا وزن 22 کلو گرام سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ حاجی سڑک کے راستے سے لائے گئے اپنے سامان کو حج ہاؤس سری نگر پہنچنے پر وہاں سے حاصل کر سکیں گے۔
اس فیصلے سے حاجیوں اور ان کے خاندانوں میں غم و غصہ نظر آ رہا ہے۔ کئی زائرین کو اندیشہ ہے کہ سعودی عرب میں قیام کے دوران خریدی گئی مذہبی اشیاء، تحائف اور دیگر اشیاء سمیت ان کے سامان میں تاخیرسے خرابی یا نقصان کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
سیاسی جماعتوں نے بھی اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے کہا کہ یہ تشویشناک ہے کہ ایک مقدس سفر سے لوٹ رہے زائرین کو غیر ضروری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ایک بیان میں مسٹر بخاری نے کہا کہ “یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ جموں و کشمیر کے حاجی، جو اپنی مقدس زیارت مکمل کرنے کے بعد گھر آنے کی تیاری کر رہے ہیں، متعلقہ حج حکام اور ایئر لائن حکام کے غیر حساس اور غیر تعاون پر مبنی رویے کی وجہ سے غیر ضروری پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔”
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے رام بن میں ٹرک کھائی میں گرا، ڈرائیور اور ہیلپر کی موت
جموں جموں و کشمیر کے رام بن ضلع کے رامسو علاقے میں ایک ٹرک کے گہری کھائی میں گر جانے سے ڈرائیور اور اس کے ہیلپر کی موت ہو گئی۔
پولیس کے مطابق، جموں سے سرینگر جا رہا چونا پتھر سے لدا ٹرک رامسو علاقے کے گنگرو کے پاس ڈرائیور سے مبینہ طور پر گاڑی سے کنٹرول کھو دینے کے سبب گہری کھائی میں گر گیا۔ ٹرک کے کھائی میں گرنے سے اس میں آگ لگ گئی۔
پولیس کی ایک ٹیم نے مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں کی مدد سے فوراً بچاؤ مہم شروع کی اور گاڑی کے کیبن میں پھنسے ڈرائیور اور ہیلپر کی لاشیں باہر نکالیں۔ ٹرک میں آگ لگنے سے لاشیں جزوی طور پر جھلسی ہوئی پائی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ مرنے والوں کی شناخت کو یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ معاملہ درج کر لیا گیا ہے اور واقعے کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
امرناتھ یاترا: اعلیٰ سطح کی چوکسی اور ہم آہنگی برقرار رکھیں، جموں کے ایس ایس پی کی پولیس کو ہدایت
جموں، 3 جولائی سے شروع ہونے والی شری امرناتھ یاترا کے پیشِ نظر، جموں کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) جوگیندر سنگھ نے جمعہ کے روز پولیس اہلکاروں کو ہدایت دی کہ وہ یاترا کے دوران اعلیٰ سطح کی چوکسی اور باہمی ہم آہنگی برقرار رکھیں۔
بھگوتی نگر بیس کیمپ کے دورے کے دوران یاترا کے پُرامن اور منظم انعقاد کے لیے کیے جانے والے سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے ایس ایس پی جموں نے سکیورٹی تعیناتی کا تفصیلی معائنہ کیا اور بیس کیمپ پر تعینات افسران و اہلکاروں سے بات چیت کی۔
جائزہ اجلاس میں سی آر پی ایف اور سول انتظامیہ کے افسران بھی موجود تھے۔
ایس ایس پی جموں نے تمام انتظامات بروقت مکمل کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے افسران کو ہدایت دی کہ یاترا کے دوران اعلیٰ سطح کی مستعدی اور باہمی رابطہ برقرار رکھا جائے۔
انہوں نے بیس کیمپ پہنچنے والے زائرین کے لیے مناسب سہولیات، ہموار نقل و حرکت اور بلا رکاوٹ مدد کی فراہمی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں مجموعی سکیورٹی حکمتِ عملی، ہجوم کے نظم و نسق، ٹریفک کنٹرول، نگرانی کے نظام، ہنگامی ردِعمل کی تیاری اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا تاکہ یاتریوں کی حفاظت اور سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔
افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کریں تاکہ مقدس یاترا پر جانے والے زائرین کو محفوظ، پُرسکون اور آرام دہ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
امرناتھ یاترا 2026 کا آغاز 3 جولائی کو ہوگا اور یہ 28 اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر1 week agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
جموں و کشمیر5 days agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
دنیا1 week agoکیوبا نے مارکو روبیو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا دیا
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹنے کی دھمکی سے یورپ اور ایشیا کو نیوکلیئر حملے کے خطرات پیدا ہوگئے تھے: رپورٹ
دنیا1 week agoامریکہ سے مذاکرات: ایران کا تمام محاذوں پرجنگ کا خاتمہ ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور بحری تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoحزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف امریکی کارروائی
دنیا1 week agoپاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں ایٹمی پروگرام پر بات نہیں ہوگی: ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر ایران کا نیا ٹول ٹیکس: جہازوں کے گزرنے کیلئے فیس
ہندوستان5 days agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران کے ساتھ چل رہی امن بات چیت کو اور وقت دینے کا فیصلہ کیا
ہندوستان1 week agoپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر اضافہ































































































