تازہ ترین
شوپیان مدبھیڑ : البدر جنگجو گروپ کے دو جنگجو ہلاک، ہزاروں کی تعداد میں جنازے میں ہوئے شریک

خبراردو:
شوپیان کے ربن زینہ پورہ نامی گاؤں میں فوج، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی بھاری جمعیت نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کو محاصرے میں لیتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کیا۔ تفصیلات کے مطابق سیکورٹی فورسز کی مشترکہ جمعیت نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد ربن زینہ پورہ کا کڑا محاصرہ عمل میں لایا جس دوران فورسز اہلکاروں نے گاؤں کے چاروں اطراف اپنا گھیرا تنگ کرتے ہوئے تمام راستوں پر خار دار تاریں نصب کیں۔ اس دوران فورسز نے جنگجوؤں کے خلاف فیصلہ کن محاذ سنبھالتے ہوئے گاؤں کے اندر تلاشی آپریشن شروع کیا۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے جونہی گاؤں میں گھر گھر تلاشی کا باضابطہ آغاز کردیا تو یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی کے خلاف فائرنگ شروع کی جس کے بعد فورسز نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف مورچہ سنبھالا۔ انہوں نے بتایا کہ طرفین کے درمیان گولیوں کے شدید تبادلے کے ساتھ ہی گاؤں میں جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوا جس کے ساتھ ہی فورسز نے یہاں تمام راستوں پر سیل کردیا۔ پولیس نے بتایا کہ اتوار کی صبح جونہی فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا تو فورسزا ہلکاروں نے جائے جھڑپ سے 2جنگجوؤں کی لاشیں برآمد کیں۔ انہوں نے مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت نوا زاحمد وگے ولد غلام قادر وگے ساکن ربن زینہ پورہ شوپیان اور یاور احمد وانی ولد علی محمد وانی ساکن بٹہ نور لتر پلوامہ کے بطور کی ۔ پولیس نے بتایا کہ مارے گئے جنگجو سیکورٹی فورسز پر متعدد حملوں میں ملوث ہیں۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ نواز احمد اور یاور احمد سیکورٹی فورسز اور عام شہریوں پر کئی حملے کرنے میں ملوث تھے۔انہوں نے بتایا کہ دونوں مارے گئے جنگجوؤں کا تعلق البدر سے ہے۔ترجمان نے بتایا کہ مارے گئے جنگجوؤں کی تحویل سے اسلحہ و گولہ بارود کے علاوہ قابل اعتراض مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔ انہوں نے عوام الناس سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی بڑے حادثے سے بچنے کے لیے جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی کرنے سے گریز کریں۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ عین ممکن ہے کہ جائے جھڑپ پر طرفین کی گولہ باری کے نتیجے میں کوئی بارودی شل پھٹنے سے رہ گیا ہو لہٰذا جب تک نہ پولیس جگہ کو مکمل طور پر صاف نہیں کرتی تب تک عوام یہاں آنے سے اجتناب کریں۔ادھر مقامی لوگوں نے بتایا کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کو ہی جھڑپ کے پیش نظر انتظامیہ نے ضلع میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کیا تاہم جھڑپ اختتام پذیر ہونے کے ساتھ ہی سروس کو دوبارہ بحال کیا گیا۔
ادھر مارئے گئے جنگجوؤں کی نعشوں کو جونہی متعلقہ آبائی علاقوں میں پہنچایا گیا تو یہاں جنوبی کشمیر کے متعدد علاقوں سے لوگوں کا سیلاب اُمڈ آیا جنہوں نے یہاں اسلام و آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کرنے کے علاوہ فورسز کارروائی کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے کئے۔ جب نواز احمد وگے اور یاور احمد وانی ساکنان ربن اور لتر پلوامہ پہنچائی گئی تو یہاں کہرام مچ گیا۔معلوم ہوا ہے کہ لوگوں کے بھاری رش کی وجہ سے جاں بحق جنگجوؤں کی نماز جنازہ 6سے زائد مرتبہ پڑھی گئی اور اس طرح ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں انہیں سپرد لحد کیا گیا۔
ہندوستان
تعلیم کو کاروبار بنانا سبھی برائیوں کی جڑ
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کی جانب سے اس کی غلطیوں کے لیے طلبہ سے فیس کی وصولی کو لوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تعلیم کو خدمت کے بجائے کاروبار بنا دیا جاتا ہے تو اس سے کئی برائیاں جنم لینا شروع کر دیتی ہیں راہل گاندھی نے پیر کو سوشل میڈیا ایکس پر کہا، “سی بی ایس ای کی غلطی سے نمبر غلط آئیں تو اس کی قیمت طلبہ کو چکانی پڑتی ہے۔ ڈیجیٹل اسکین کاپی، ری ٹو ٹلنگ اور ری ایویلیوایشن کے لیے الگ الگ فیس دینی پڑتی ہے۔ اپنے ہی پرچے کی صحیح جانچ کرانے کے لیے ایک طالب علم کو ہزاروں روپے تک خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں۔”
انہوں نے الزام لگایا کہ جانچ کے عمل میں خامیوں کا بوجھ طلبہ پر ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلطی سی بی ایس ای کرتا ہے اور اس کی سزا بچے کو ملتی ہے اور حکومت اس سے کمائی کرتی ہے۔ کانگریس رہنما نے کہا “جب تعلیم کو خدمت نہیں بلکہ کاروبار بنا دیا جاتا ہے تو غلطیاں سدھرنے کے بجائے نظام کا حصہ بن جاتی ہیں اور اس کی سب سے بڑی قیمت بچوں کو اپنے وقت، خود اعتمادی اور مستقبل سے چکانی پڑتی ہے۔”
واضح رہے کہ سی بی ایس ای بورڈ امتحان کے نتائج کا اعلان ہونے کے بعد پرچے کی ڈیجیٹل کاپی، دوبارہ گنتی اور دوبارہ جانچ کی سہولت فیس پر فراہم کرنے کے تعلق سے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر بحث تیز ہوئی ہے، جس ہر راہل گاندھی نے یہ تبصرہ کیا ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
تجزیہ
گلوبل ہیٹنگ اور حج: بڑھتی گرمی کے سائے میں مقدس سفر کا مستقبل
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
پوری دنیا کے مسلمان ہر سال جس روحانی سفر کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں وہ حج ہے، مکہ مکرمہ میں ادا کی جانے والی یہ اہم عبادت محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایمان، قربانی، صبر، مساوات اور بندگی کا عظیم مظہر سمجھی جاتی ہے, لاکھوں مسلمان نسل، رنگ، زبان، قومیت اور معاشی تفاوت سے بالاتر ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتے ہیں اور ایک ایسی فضا میں عبادت کرتے ہیں جہاں روحانیت کا ایک منفرد احساس جنم لیتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں ایک نئی اور تشویش ناک حقیقت اس مقدس عبادت کے ساتھ جڑتی جا رہی ہے اور وہ ہے بڑھتی ہوئی عالمی گرمی یا گلوبل ہیٹنگ۔
حالیہ تحقیقی رپورٹس اور موسمیاتی تجزیوں نے خبردار کیا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ مکہ مکرمہ کے موسم کو خطرناک حد تک تبدیل کر رہا ہے۔ شدید گرمی اب صرف گرمیوں کے چند مہینوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سال کے نسبتاً معتدل سمجھے جانے والے اوقات میں بھی حجاج کو جھلسا دینے والے درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال جاری رہی تو صدی کے اختتام تک حج تقریباً پورا سال شدید اور جان لیوا گرمی کے ماحول میں ادا کرنا پڑے گا۔
ایک تازہ تجزیے کے مطابق مکہ مکرمہ کی آب و ہوا میں بنیادی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ جہاں ماضی میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت صرف جون، جولائی یا اگست جیسے مہینوں میں دیکھا جاتا تھا، وہاں اب مئی جیسے نسبتاً ٹھنڈے تصور کیے جانے والے مہینے میں بھی 40 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت باقاعدگی سے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ فوسل فیول یعنی جیواشم ایندھن کا بے تحاشہ استعمال ہے، جس کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج نے عالمی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ کیا۔
حج چونکہ اسلامی قمری کیلنڈر کے مطابق ادا کیا جاتا ہے، اس لیے اس کی تاریخ ہر سال تقریباً دس دن پہلے آتی ہے۔ اس تبدیلی کا ایک مثبت پہلو یہ سمجھا جاتا تھا کہ حج مختلف موسموں میں گردش کرتا رہے گا، کبھی سردیوں میں، کبھی بہار میں اور کبھی گرمیوں میں۔ لیکن اب موسمیاتی تبدیلیوں نے اس قدرتی توازن کو متاثر کر دیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاہے حج موسمِ بہار میں ہو یا خزاں میں، عالمی حدت کے باعث شدید گرمی ایک مستقل خطرے کے طور پر موجود رہے گی۔
2024 میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ اس خطرے کی شدت کو واضح کرتا ہے۔ جون میں ادا کیے گئے حج کے دوران شدید گرمی اور نمی کے باعث 1300 سے زائد حجاج جاں بحق ہوگئے تھے۔ ہزاروں افراد کو ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، سانس لینے میں دشواری اور جسمانی کمزوری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں جو مستقبل میں مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔
حج بنیادی طور پر جسمانی مشقت پر مشتمل عبادت ہے۔ لاکھوں عازمین حج کو کئی کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے، مختلف مقامات کے درمیان مسلسل نقل و حرکت کرنا ہوتی ہے اور کھلے آسمان تلے عبادات انجام دینی پڑتی ہیں۔ میدانِ عرفات میں قیام، منیٰ میں قیام، جمرات پر رمی اور طواف جیسی عبادات جسمانی برداشت کا تقاضا کرتی ہیں۔ شدید گرمی ان تمام مراحل کو نہایت مشکل اور بعض اوقات خطرناک بنا دیتی ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق مئی کے مہینے کا اوسط درجہ حرارت اب ماضی کے مقابلے میں تقریباً 3.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو چکا ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں چند ڈگری کا فرق انسانی صحت، پانی کی دستیابی، جسمانی برداشت اور موسمی توازن پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے بار بار متنبہ کر رہے ہیں کہ موسمیاتی بحران صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، عبادات، معیشت اور عالمی استحکام کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔
اس صورتحال میں سعودی عرب نے کئی عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔ حجاج کی سہولت کے لیے سایہ دار راستے تعمیر کیے گئے ہیں، کولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، مسٹنگ سسٹمز لگائے گئے ہیں جو پانی کی باریک پھوار کے ذریعے درجہ حرارت کا احساس کم کرتے ہیں، جبکہ طبی خدمات میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ہسپتالوں، ایمبولینسوں اور طبی عملے کی تعداد بڑھائی گئی تاکہ گرمی سے متاثر افراد کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات وقتی اور حفاظتی نوعیت کے ہیں۔ اصل مسئلہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو کم کرنا ہے۔ اگر زمین مسلسل گرم ہوتی رہی تو حفاظتی انتظامات کی افادیت محدود ہو جائے گی۔ بعض سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب درجہ حرارت انسانی برداشت کی حد سے تجاوز کر جائے، اور محض ٹھنڈا پانی یا سایہ اس خطرے کو کم کرنے کے لیے کافی نہ رہے۔
یہ صورتحال ایک اہم اخلاقی اور سیاسی سوال بھی پیدا کرتی ہے۔ سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کی معیشت بڑی حد تک تیل کی صنعت پر منحصر ہے۔ دوسری طرف موسمیاتی سائنسدان مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوسل فیول کے استعمال میں کمی لائی جائے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی برادری اور خاص طور پر تیل پیدا کرنے والے ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں؟
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ حج میں شرکت کرنے والے لاکھوں افراد مختلف ممالک اور موسمی حالات سے تعلق رکھتے ہیں۔
بعض حجاج نسبتاً سرد خطوں سے آتے ہیں جہاں 20 یا 25 ڈگری درجہ حرارت بھی گرمی سمجھا جاتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے 45 یا 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بوڑھے افراد، دل کے مریض، شوگر کے مریض اور جسمانی کمزوری کے شکار افراد سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
عالمی حدت صرف حج ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن رہی ہے۔ شدید گرمی پانی کے بحران کو جنم دے رہی ہے، زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے، خشک سالی میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی ممالک میں انسانی صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ ان خطوں میں شامل ہے جہاں درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار نسبتاً زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں، کاربن کے اخراج میں کمی لائی جائے، قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دیا جائے اور تیل و گیس پر انحصار کم کیا جائے تو صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والی نسلوں کے لیے حج سمیت بہت سی مذہبی اور سماجی سرگرمیاں شدید موسمی خطرات سے جڑی رہیں گی۔
اس تناظر میں مسلمانوں کے لیے بھی ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماحولیات کے تحفظ کو دینی اور سماجی ذمہ داری کے طور پر کیسے دیکھا جائے۔ اسلام میں اسراف، وسائل کے ضیاع اور زمین میں فساد سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ماحولیاتی تحفظ کو ایک اجتماعی ذمہ داری کے طور پر لیا جائے تو نہ صرف ماحول بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے عبادات کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
حج ہمیشہ اتحاد، قربانی اور روحانی پاکیزگی کی علامت رہا ہے، مگر اب اس مقدس عبادت کے سامنے ایک نیا چیلنج موجود ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت صرف موسمی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، مذہبی آزادی اور عالمی ذمہ داری کا سوال بنتا جا رہا ہے۔ اگر دنیا نے بروقت اقدامات نہ کیے تو وہ دن دور نہیں جب حج کا یہ روحانی سفر لاکھوں لوگوں کے لیے شدید جسمانی آزمائش میں تبدیل ہو جائے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ موسمیاتی تبدیلی کسی ایک ملک، قوم یا مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ چیلنج ہے۔ اگر انسان نے اپنے طرزِ زندگی، صنعتی ترجیحات اور توانائی کے ذرائع پر نظرثانی نہ کی تو اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوں گے، حتیٰ کہ عبادت گاہیں اور مقدس مقامات بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔
(یواین آئی)
ہندوستان
تعلیمی نظام پر کانگریس کا مرکزی حکومت پر الزام ،کھیڑا نے اٹھائے سی بی ایس ای اور امتحان گھپلوں کے مسائل
نئی دہلی، کانگریس نے مرکزی حکومت کے تعلیمی نظام کے تعلق سے الزام لگایا کہ ملک میں مسلسل پیپر لیک اور امتحانات سے متعلق بے ضابطگیوں کے معاملات سامنے آ رہے ہیں، جس سے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے لیکن حکومت اس سنگین بحران پر بالکل بھی حساسیت نہیں دکھا رہی ہے کانگریس میڈیا ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین پون کھیڑا نے پیر کو کانگریس ہیڈکوارٹرمیں پریس کانفرنس کر کے مرکزی حکومت پر یہ الزام لگایا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای)، قومی اہلیت و داخلہ ٹیسٹ (نیٹ)، مرکزی یونیورسٹی مشترکہ داخلہ ٹیسٹ (سی یو ای ٹی)، جوائنٹ انٹرنس اکژام (جے ای) اور بہار پبلک سروس کمیشن (بی پی ایس سی) جیسے بڑے امتحانات میں گزشتہ دو سالوں کے دوران سامنے آنے والے تنازعات نے نوجوانوں کے اعتماد کو کمزور کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس معاملے کی سچائی سرکاری ایجنسیاں بے نقاب نہیں کر سکیں، اسے ایک 19 سالہ ایتھیکل ہیکر نے سامنے لا کر تعلیمی نظام کی خامیوں کو اجاگر کر دیا۔
کانگریس رہنما نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ ‘من کی بات’ پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوان امتحان گھوٹالوں اور تعلیمی نظام سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتے ہیں لیکن وزیر اعظم نے ان مسائل پر گفتگو نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ جہاں اپوزیشن نوجوانوں کے مستقبل اور روزگار کے مسائل اٹھا رہی ہے، وہیں حکومت ان سوالات سے بچتی نظر آ رہی ہے۔ پون کھیڑا نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے بیان پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امتحان گھوٹالوں پر اٹھ رہے سوالات کا جواب دینے کے بجائے اپوزیشن پر الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں، سرپرستوں اور پورے ملک میں تعلیمی نظام کے تعلق سے مایوسی اور تشویش کا ماحول ہے۔
انہوں نے وزارت تعلیم میں پیر کی صبح لگی آگ کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے اس کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت کو تعلیمی نظام میں شفافیت یقینی بنا کر نوجوانوں کا اعتماد بحال کرنا چاہیے۔ کانگریس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ امتحان کے نظام میں اصلاحات، پیپر لیک پر سخت کارروائی اور تعلیمی نظام میں جوابدہی یقینی بنانے کے لیے مرکزی حکومت فوری طور پر مؤثر اقدامات کرے۔
یواین آئی۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان7 days agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا2 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا3 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
جموں و کشمیر6 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
دنیا1 week agoچین میں کوئلے کی کان میں دھماکہ، 90 افراد ہلاک
دنیا2 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
ہندوستان1 week agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا7 days agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر
دنیا2 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا3 days agoایرانی صدر نے ایک بار پھر پاکستان کے کردار کو سراہا
































































































