تازہ ترین
لداخ: وادی گلوان میں انڈیا اور چین کی جھڑپ، ہلاک ہونے والے انڈین فوجیوں کی تعداد 20 ہوگئی

انڈیا کی فوج کا کہنا ہے کہ پیر کی شب چینی فوج کے ساتھ وادی گلوان میں ہونے والی سرحدی جھڑپ میں شدید زخمی ہونے والے فوجیوں میں سے مزید 17 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں جس سے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی کل تعداد 20 ہوگئی ہے۔
اس کے ساتھ ہی انڈین فوجی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس جھڑپ میں چینی فوج کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے تاہم چینی حکام کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن چینی فوج کے ایک ترجمان نے انڈیا کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو قابو میں رکھے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) ویسٹرن تھیئٹر کمانڈ کے ترجمان چینگ شویلی کا بیان پی ایل اے کے مصدقہ ویبو اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا گیا ہے۔ اس بیان میں چانگ نے کہا کہ انڈیا سختی کے ساتھ اپنے فوجیوں کو روکے اور تنازع کے خاتمے کے لیے بات چیت کے صحیح راستے پر آگے بڑھے۔
چینگ نے کہا: ‘انڈین فوجیوں نے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کی اور پھر سے ایک بار ایل اے سی کو عبور کیا۔ دانستہ طور پر چینی فوجیوں کو اکسایا اور ان پر حملہ کیا۔ اس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے مابین آمنے سامنے کا تصادم ہوا اور یہی بات اموات کی وجہ بنی۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ انڈیا اپنی فوجیوں کو سختی کے ساتھ روکے اور تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔’
اس سے قبل انڈیا کی فوج کا بیان آیا کہ گلوان کے علاقے میں 15 اور 16 جون کی درمیانی شب جہاں دونوں فوجوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی وہاں سے اب فوجیں پیچھے ہٹ گئی ہیں۔
پیر کی صبح بتایا گیا تھا کہ چھڑپ میں انڈیا کے ایک افسر سمیت تین اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن اب انڈین فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چھڑپ میں شدید زخمی ہونے والے 17 فوجی بھی ہلاک ہوگئے ہیں جس سے ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں کی کل تعداد 20 ہوگئی ہے۔
چین اور انڈیا کی متنازع سرحد پر کسی جھڑپ میں ہلاکت کا کم از کم 45 برس میں یہ پہلا واقعہ ہے۔
انڈین فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ جھڑپ پیر کی شب متنازع وادی گلوان کے علاقے میں ہوئی جہاں فریقین کی افواج کی پسپائی کا عمل جاری تھا۔
اس سے پہلے انڈین فوج کی جانب سے دیے گئے بیان کے مطابق اس واقعے کے بعد انڈیا اور چین کے سینیئر فوجی حکام وادی گلوان میں ملاقات کر رہے تھے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
بیجنگ میں انڈین سفارتخانے کے باہر پیرا ملٹری پولیس کے دو چینی اہلکار پیٹرول کر رہے ہیں
انڈیا کی حکومت کی طرف سے اس بارے میں ابھی کوئی بیان جاری نہیں ہوا لیکن فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی حکام نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور انڈیا پر الزام لگایا ہے کہ اس کے فوجیوں نے سرحد عبور کر کے چینی اہلکاروں پر حملہ کیا۔
اے ایف پی کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لیجیان نے کہا کہ انڈین فوجیوں نے پیر کو دو بار سرحد پار کی اور انھوں نے ‘ چینی فوجیوں کو اشتعال دلوایا، ان پر حملے کیے جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان زبردست جھڑپ ہوئی۔’
منگل کو انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے وادی گلوان کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ملک کے چیف آف ڈیفنس سٹاف اور تینوں افواج کے سربراہوں کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس میں بھی شرکت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی موجود تھے۔
وادی گلوان لداخ میں انڈیا اور چین کی سرحدی لائن کا علاقہ ہے۔ اس علاقے میں انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی نے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور اس تناؤ کو سنہ 1999 میں انڈیا کے روایتی حریف پاکستان کے ساتھ کارگل میں ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی کہا جا رہا ہے۔
اس سے قبل سنہ 2017 میں انڈیا اور چین کی افواج ڈوکلام کے مقام پر آمنے سامنے آئی تھیں لیکن گذشتہ ایک ماہ کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ سمیت انڈیا اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے مختلف مقامات پر دونوں جانب سے افواج کی موجودگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
ماضی قریب میں انڈیا اور چین کے درمیان اس علاقے میں چار جھڑپیں ہوئی ہیں لیکن کسی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
لداخ میں پینگونگ ٹیسو، گالوان وادی اور دیمچوک کے مقامات پر دونوں افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی جبکہ مشرق میں سکم کے پاس بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے ہیں۔
صورتحال کشیدہ کیوں ہوئی؟
مئی میں بیجنگ میں چین کے سرکاری میڈیا میں کہا گیا تھا کہ ‘مغربی سیکٹر کی گلوان وادی میں انڈیا کے ذریعے یکطرفہ اور غیر قانونی تعمیرات کے ذریعے موجودہ صورتحال کو بدلنے کی کوشش کے بعد پیپلز لبریشن آرمی نے اپنا کنٹرول سخت کر دیا ہے۔’
مشرقی لداخ میں پینگونگ سو جھیل کے نزدیک پانچ اور چھ مئی کو چینی اور انڈین فوجیوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی تھی۔
انڈین میڈیا این ڈی ٹی وی نے انٹیلیجنس ماہرین کے اوپن سورسز ڈیٹریسفا کے حوالے سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ چین پینگوگ جھیل سے 200 کلو میٹر کے فاصلے پر اپنے ایئر بیس پر بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام کر رہا ہے۔
اس نے چھ اپریل کی ایک سٹیلائٹ تصویر پیش کی ہے اور اس کا مقابلہ 21 مئی کی سیٹلائٹ تصویر سے کیا ہے جس میں واضح فرق دکھایا گیا ہے۔
اس سے قبل انڈیا نے کہا تھا کہ چینی فوج کے کچھ خیمے چین میں وادی گالوان کے ساتھ دیکھے گئے ہیں۔ اس کے بعد انڈیا نے بھی وہاں فوج کی تعیناتی میں اضافہ کیا ہے۔
اسی کے ساتھ ہی چین کا الزام ہے کہ انڈیا وادی گالوان کے قریب دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کر رہا ہے۔
انڈیا اور چین کا سرحدی تنازع کیا ہے؟
انڈیا اور چین کا سرحدی تنازع بہت پرانا ہے اور سنہ 1962 کی جنگ کے بعد یہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
انڈیا اور چین کے درمیان تین ہزار 488 کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے۔ یہ سرحد جموں وکشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیشمیں انڈیا سے ملتی ہے اور اس سرحد کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مغربی سیکٹر یعنی جموں و کشمیر، مڈل سیکٹر یعنی ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ اور مشرقی سیکٹر یعنی سکم اور اروناچل پردیش۔
بہر حال انڈیا اور چین کے درمیان سرحد کی مکمل حد بندی نہیں ہوئی اور جس ملک کا جس علاقے پر قبضہ ہے اسے ایل اے سی کہا گیا ہے تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے کے علاقے پر اپنا علاقہ ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں جو کشیدگی کا باعث بھی رہا ہے۔
انڈیا مغربی سیکٹر میں اکسائی چین پر اپنا دعویٰ کرتا ہے لیکن یہ خطہ اس وقت چین کے کنٹرول میں ہے۔ سنہ 1962 کی جنگ کے دوران چین نے اس پورے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔
دوسری جانب چین مشرقی سیکٹر میں اروناچل پردیش پر اپنا دعویٰ کرتا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ یہ جنوبی تبت کا ایک حصہ ہے۔ چین تبت اور اروناچل پردیش کے مابین میک موہن لائن کو بھی قبول نہیں کرتا ہے۔
مجموعی طور پر چین اروناچل پردیش میں میک موہن لائن کو قبول نہیں کرتا اور اس نے اکسائی چین سے متعلق انڈیا کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔(بی بی سی اردو)
دنیا
ایران میں کوئی شدت پسند نہیں، سب ایرانی اور انقلابی ہیں، پزشکیان اور قالیباف کا ٹرمپ کے بیان پر رد عمل
تہران، ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے صدر ٹرمپ کے بیان پر مشترکہ ردعمل میں کہا ہے کہ ایران میں کوئی شدت پسند ہے نہ اعتدال پسند، ہم سب ایرانی اور انقلابی ہیں ایرانی صدر نےبدنیتی اورناکہ بندی کوحقیقی مذاکرات میں اصل رکاوٹ قرار دیدیا، باقرقالیباف نے کہا کہ امریکی ناکہ بندی میں جنگ بندی بے معنی ہے ادھر ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ میدان جنگ ہو یا سفارتکاری مکمل مربوط محاذ ہیں، ایرانی پہلے سے کہیں متحد ہیں۔ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی ناکامی ایران کےتمام ریاستی اداروں کے اتحاد، ایک مقصد اور نظم وضبط میں جھلکتی ہے۔
ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے کہا کہ ایران کی تیز رفتار کشتیاں اور سمندری ڈرونز امریکی بحریہ کے جہازوں کو تباہ کرنے کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی آبنائے ہرمز تک پہنچنے کی ہمت بھی نہیں کرتے کیونکہ انہوں نے دیکھا ہے کہ ان کے انتہائی جدید سمجھے جانے والے جہازوں کے ساتھ کیا ہوا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے اندر سخت گیر اور نام نہاد اعتدال پسندوں کے درمیان شدید اختلافات ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
کشمیر کو ریاست کا درجہ نہ دینا ’سزا‘ کے مترادف: عمر عبداللہ
سری نگر، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام لگایا کہ وہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے میں تاخیر کر رہی ہے اور اسے عوام کے ووٹ دینے کی “سزا” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے عبداللہ حکومت پر “کام نہ کرنے، بدعنوانی اور غلط ترجیحات” کے الزامات عائد کیے تھے۔
اپوزیشن لیڈر نے جمعہ کو کہاکہ “ریاست کا درجہ اپنے وقت پر ملے گا، لیکن اسے کسی ایک لیڈر کے وزیر اعلیٰ بننے سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔”
اس کے جواب میں مسٹر عبداللہ نے کہا کہ حال ہی میں راجوری ضلع کے نوشہرہ علاقے میں منعقد ایک بڑے پروگرام سے بی جے پی بے چین ہو گئی ہے اور اب وہ کھل کر یہ تسلیم کر رہی ہے کہ ریاست کا درجہ اس لیے نہیں دیا جا رہا کیونکہ لوگوں نے نیشنل کانفرنس کو ووٹ دیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام کو ان کے ووٹ کے لیے سزا دی جا رہی ہے۔
مسٹر عبداللہ نے اپوزیشن لیڈر پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کی غیر موجودگی میں اسمبلی زیادہ پرسکون اور نتیجہ خیز طریقے سے چلی۔
ادھر، نیشنل کانفرنس کے ترجمان اور رکن اسمبلی تنویر صادق نے بھی اپوزیشن لیڈر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے “لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کرانے والے تھے۔”
اپوزیشن لیڈر مسٹر شرما نے الزام لگایا کہ حکومت کے وعدے، جیسے مفت ایل پی جی سلنڈر، 200 یونٹ بجلی اور نوجوانوں کو روزگار، اب تک پورے نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ کمزور ہو گئی ہے اور وزراء زمینی سطح پر فعال نہیں ہیں۔
مسٹر شرما نے انتظامیہ پر بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ عام کاموں کے لیے بھی لوگوں کو رشوت دینی پڑ رہی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
مودی نے دریائے ہگلی میں کشتی میں سواری کی اور فوٹوگرافی کا لطف اٹھایا
ہگلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کولکاتہ میں دریائے ہگلی میں کشتی کی سواری کرتے ہوئے اپنی تصویریں شیئر کیںمسٹر مودی کی طرف سے شیئر کی گئی تصویروں میں انہیں ہاتھ میں کیمرہ لیے ایک لکڑی کی کشتی پر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے پس منظر میں ودیا ساگر سیتو نظر آ رہا ہے مسٹر مودی نے سوشل میڈیا ایکس پر دریائے ہگلی میں کشتی میں سواری کے دوران فوٹوگرافی کرتے ہوئے تصویریں شیئر کیں۔ تصویروں میں وزیر اعظم کشتی میں ہاتھ میں کیمرہ لیے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا، “دریائے ہوگلی کے کناروں سے کچھ مزید جھلکیاں۔ اس عظیم دریا کی تصویریں کھینچنے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی ودیا ساگر سیتو اور ہوڑہ برج کی بھی قریب سے جھلک ملی۔” انہوں نے دریائے ہوگلی کو مغربی بنگال کی ثقافت کا اٹوٹ حصہ قرار دیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر ہوگلی میں کشتی کی سواری والی تصویریں شیئر کرتے ہوئے لکھا، “ہر بنگالی کے لیے گنگا کا ایک بہت ہی خاص مقام ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ گنگا بنگال کی روح میں بہتی ہے۔ اس کا مقدس پانی ایک پوری تہذیب کے لافانی جذبے کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔” انہوں نے مزید لکھا، “آج صبح کولکاتہ میں، میں نے دریائے ہوگلی کے کنارے کچھ وقت گزارا—یہ ماں گنگا کے تئیں شکر گزاری کا ایک موقع تھا۔ ساتھ ہی، مجھے وہاں کشتی چلانے والوں سے ملنے کا بھی موقع ملا، جن کی محنت کرنے کی عادت واقعی قابلِ تعریف ہے اور میں وہاں صبح کی سیر کرنے والوں سے بھی ملا۔”
انہوں نے کہا، “ہوگلی کے کنارے میں نے مغربی بنگال کی ترقی اور عظیم بنگالی لوگوں کی خوشحالی کے لیے کام کرنے کے اپنے عزم کو ایک بار پھر دہرایا۔”
یواین آئی ۔ایف اے
دنیا1 week agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 week agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا4 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا1 week agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا1 week agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا7 days agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا1 week agoامریکی سینیٹ نے ایران پر مزید حملوں کی اجازت کی قرارداد مسترد کردی
دنیا1 week agoاسرائیل کا ایران و لبنان میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان، فوج مکمل تیاری کے ساتھ ہائی الرٹ پر : اہداف تیار
دنیا1 week ago’’اگر میں امریکہ کا صدر نہ ہوتا تو دنیا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی‘‘
دنیا3 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر3 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند











































































































