پاکستان
مذاکرات برابری کی بنیاد پر ہونگے: شاہ محمود قریشی

خبراردو: شنگھائی کانفرنس میں ہندوپاک مملکتوں کے وزرائے اعظم کے درمیان خوش طبعی کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کےساتھ مذاکرات برابری کی بنیاد پر ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حل طلب معاملات کے پرامن تصفیے کےلئے ہندوستان کو آگے آکر اپنا رول ادا کرنا ہوگا۔
پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہندوپاک مملکتوں کے درمیان مذاکراتی عمل پر جاری تعطل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات برابری کی بنیاد پر ہوں گے۔ شنگھائی سمٹ میں ہندوپاک مملکتوں کے وزرائے اعظم نریندر مودی اور عمران خان کے درمیان خوش طبعی کی تصدیق کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تمام حل طلب اُمور پر مذاکرات برابری کی بنیاد پر اور باعزت طریقے پر ہوں گے۔
انہوں نے بتایاکہ یہ نئی دہلی پر منحصر ہے کہ وہ اسلام آباد کے ساتھ کشمیر سمیت تمام معاملات پر مذاکرات کی راہ اپناتے ہیں یا نہیں؟19ویں شنگھائی کانفرنس کے دوران نریندر مودی اور عمران خان کے درمیان علیک سلیک پرپاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ”ہاں ! دونوں وزرائے اعظم کے درمیان علیک سلیک ہوا ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے کےساتھ ہاتھ ملائے اور ایک دوسری کی خیر و عافیت پوچھی“۔ انہوں نے اس موقعے پر بھارتی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پر ابھی بھی چناوی ماحول محسوس کیا جارہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہندوستان ابھی تک چناوی ماحول سے باہر نہیں آیا ہے۔ ہندوستان نے انتہا پسندانہ سوچ اختیار کرتے ہوئے اپنے رائے دہندگان کو لبھائے رکھا ہے، ہندوستان کی حکومت اسی محدود سوچ میں پھنسی ہوئی ہے۔قریشی کے بقول ”ہندوستان کو اگر آگے بڑھنا ہے تو اسے کوئی نہ کوئی فیصلہ لینا ہوگا۔ پاکستان نہ ہی پریشان ہے اور نہ ہی جلد بازی میں فیصلہ لینے میں یقین رکھتا ہے۔ جب ہندوستان خود مذاکرات کےلئے تیار ہوگا تو وہ پاکستان کو سامنے پائےگا۔ پاکستان تمام حل طلب اُمور پر بات چیت کا خواہاں ہے تاہم بات چیت برابری اور باعزت طریقے پر ہونی چاہیے۔کشمیرنیوز سروس مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کسی کے پیچھے پیچھے چلنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے میں کوئی دلچسپی ہے۔
پاکستان کا طریق کار حقیقت پسندانہ ہے۔خیال رہے بھارت اور پاکستان کے درمیان رواں برس کے فروری میں اُس وقت تعلقات کشیدہ ہوئے جب جنگجوﺅں نے 14فروری کو پلوامہ کے لیت پورہ شاہراہ پر فدائین حملہ انجام دے کر سی آر پی ایف کے 40اہلکاروں کو موقعے پر ہی ہلاک کیا۔ حملے کی ذمہ داری اُس وقت جیش محمد نامی تنظیم نے قبول کی تھی جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان آپسی رشتوں میں انتہا درجے کی تلخیاںواقع ہوئی تھیں۔
پاکستان
“اسلام آباد مذاکرات”ایرانی وفد تاحال پاکستان نہیں پہنچ سکا
اسلام آباد، ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی وفد اب تک پاکستان نہیں پہنچ سکا ۔
نشریاتی ادارے نے کہاہے کہ اب تک کوئی بھی ایرانی وفد اسلام آباد نہیں پہنچا۔ آئی آر آئی بی نے مزید کہا کہ متعدد میڈیا رپورٹس کہ ایرانی وفد پاکستان کا سفر کرے گا یا یہ کہ مذاکرات پیر کی شام یا منگل کی صبح طے تھے، غلط تھیں۔ رپورٹ میں اتوار کی شام ایرانی حکام کے بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں اشارہ کیا گیا کہ مذاکرات میں مسلسل شرکت امریکی رویے میں تبدیلیوں پر منحصر ہے اور یہ کہ تہران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو مسترد کرتا ہے۔
پاکستان نے 11-12 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی، جب اس نے 8 اپریل کو 14 روزہ جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا جو بدھ کو ختم ہونے والی ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے ایک اور دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اس سے قبل پاکستانی ذرائع نے کہا تھا کہ ایرانی حکام کی منگل کو اسلام آباد آمد متوقع ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان واپس پرواز کے لیے تیار تھے، لیکن تہران نے اپنی شرکت کے بارے میں غیر یقینی برقرار رکھی اور امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ایک جہاز کی ضبطی کے ذریعے جلد ختم ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ وینس کے بارے میں توقع ہے کہ وہ منگل کی صبح مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوں گے۔
امریکہ نے اسی طرح تہران پر الزام لگایا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو ہراساں کرکے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، جو دنیا کے پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کا راستہ ہے، جسے ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے جواب میں تقریباً بند کر دیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے پیر کو تہران سے اس اشارے کا انتظار کیا کہ وہ اپنا مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجے گا۔ ثالثوں نے ایرانی حکام سے مذاکرات میں شرکت کی درخواست کی ہے اور انہیں وفد بھیجنے پر زور دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ “انتہائی غیر ممکن” ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور یہ کہ بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے مستقل خاتمے کا معاہدہ نہیں ہو جاتا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
عمران خان کو قید تنہائی میں رکھ کر غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہ: علیمہ خان
اسلام آباد، پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے الزام لگایا ہے کہ ان کے بھائی کو قید تنہائی میں رکھ کر ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔
محترمہ خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو 16 اکتوبر 2025 سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، انہوں نے 2025 میں اپنے بیٹوں سے صرف دو بار بات کی اور ایک بار فروری 2026 میں، وہ بھی سپریم کورٹ کے حکم کے بعد۔ بیان کے مطابق اسے پڑھنے کے لیے کتابیں بھی فراہم نہیں کی جا رہی ہیں اور جو کتابیں بھیجی گئی ہیں ان میں سے وہ صرف تین ہی وصول کر سکیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مسٹر خان، جو کہ دوسری صورت میں صحت مند تھے، اچانک ان کی آنکھ میں خون کا جمنا پیدا ہوگیا، لیکن انہیں بروقت طبی امداد دینے سے انکار کردیا گیا۔ اس نے دو ہفتوں تک جیل حکام کو بتایا کہ وہ دیکھنے سے قاصر ہے، اس کے باوجود علاج میں تاخیر ہوئی۔ الزام ہے کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ غفور انجم نے تین ماہ تک ماہر ڈاکٹر کو بلانے میں تاخیر کی جس سے آنکھ کو مستقل نقصان پہنچا۔
اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دوسری آنکھ بھی اسی طرح کی پریشانی کا شکار ہو سکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسٹر خان نے پچھلے کچھ مہینوں میں کئی بار علاج سے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور ایک انجیکشن کے بعد ان میں معمولی بہتری آئی تھی، لیکن اس کے بعد کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ دریں اثناء ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی آنکھوں میں تکلیف ہوئی اور حال ہی میں ان کا آپریشن ہوا۔ اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مسٹر خان کو بیماری کی وجہ معلوم کرنے کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں مناسب معائنہ اور علاج فراہم کیا جائے۔ محترمہ خان نے اسے “غیر انسانی” قرار دیا اور کہا کہ یہ پاکستانی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
بڑی تہذیب کا حامل ملک دھمکی و دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: ایرانی سفیر رضا امیری مقدم
اسلام، پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ بڑی تہذیب کا حامل ملک دھمکی اور دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں رضا امیری مقدم نے یہ بات کہی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ یہ ایک اہم، اسلامی اور دینی اصول ہے، کاش امریکہ اس بات کو سمجھتا۔ اس سے قبل ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکہ سے متضاد اشارے مل رہے ہیں، بامعنیٰ مذاکرات کی بنیاد معاہدے پورے کرنے پر ہوتی ہے۔
اپنے ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کے امریکہ پر اعتماد نہ ہونے کی وجوہات تاریخی بد اعتمادی ہے، امریکہ ایران سے ‘سرینڈر’ چاہتا ہے جبکہ ایرانی قوم طاقت کے آگے سر نہیں جھکاتی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا تھا کہ ہمیں دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ‘ہتھیار ڈالنے کی میز’ میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا5 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا1 week agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
جموں و کشمیر1 day agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا1 week agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا4 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر4 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا7 days agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
ہندوستان1 week agoاسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا ہندوستان کی جانب سے خیر مقدم، امن کی سفارتی کوششوں کی حمایت







































































































