تازہ ترین
ویڈیو: پاکستان نے پائلٹ ابھی نندن کو رہا کیوں کیا؟
پاکستان کے وزیر اعظم نے پا رلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی پائلٹ کی رہائی اعلان کر دیا اور کہا کہ ہم اسے جذبہ خیر سگالی کے تحت کل رہا کیا کر رہیں ہیں ۔
اور جمعہ کو رات ۹ بجے کے قریب واہگہ بارڈر کے راستے ابھی نندن کو بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا ۔
پاکستان اس جذبہ خیر سگالی قرار دے رہا ہے ،۔ وہیں بھارت یہ مانتا ہے کہ اس کے سخت رخ پاکستان مجبور ہو گیا ۔
بھارتی نائب ائر مارشل کا ماننا ہے کہ پاکستان نے ابھی نندن کو کسی خیر سگالی جذبے کے تحت نہیں بلکہ جنیوا کنونشن کے تحت رہا کیا ہے .
بھارت نے رہائی اعلان سے پہلے کہا تھا کہ پائلٹ پر ڈیل کی کوئی بات نہیں ہو گی ، ہم اس کی واپسی بغیر کسی شرط کے جلد از جلد چاہتے ہیں ۔ ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
جبکہ عمران خان کے اعلان کے کچھ منٹوں بعد وزیر اعظم مودی نے ایک تقریب میں کہا کہ ابھی ابھی ایک پائلٹ پروجیکٹ ہو گیا ہے ، یعنی اس بیان کو بھی پائلٹ رہائی کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے ۔ امیت شاہ نے کہا کہ کم وقت میں پائلٹ کیلئے واپسی کا ماحول تیار کرنا یہ ہمارے لئے سفارتی فتح ہے ۔
جبکہ بھارتی میڈیا اسے بھارت کی بڑی جیت قرار دے رہا ہے۔
وہیں پاکستان کے وزیر شیخ رشید نے کہا کہ اگر انہیں پائلٹ واپس کرنے کے بعد بھی بھارت نے حملہ کیا تو کیا ہو گا ۔
لیکن اب یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان نے اپنی مرضی پر پائلٹ کو رہا کیا یا پھر بھارت کے دباؤ کی وجہ سے پائلٹ کو رہائی ملی ۔
دراصل عمران خان کے رہائی اعلان کے محض ایک گھنٹے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت سے جلدی اچھی خبر ملنے والی ہے ۔
جبکہ دنیا کے طاقتور ترین ممالک دوونوں ممالک کے مابین کشیدگی کو کم کرنے کیلئے رابطے میں دیکھائی دئے ۔ وہیں متحدہ عرب امارات جو کہ بھارت کا اتحادی بھی مانا جاتا ہے کے پرنس کراؤن شیخ محمد بن زید نے مودی سے ٹیلیفونک بات بھی کی تھی ۔ اور ڈائیلاگ کرنے پر زور دیا ۔
وہیں تیسرا ہے سعودی عرب ہے جس کے کروان پرنس محمد بن سلمان نے بھارت اور پاکستان کا حال ہی میں دورہ بھی کیا ، اور اب آج ایک بار پھر سعودی وزیر خاجہ عبدالعل جبیر ایم بی ایس کا اہم پیغام پاکستان کو دینے آئے ہیں جبکہ دوسری طرف بھارت میں سعودی مشیر نے جمعرات کو مودی سے ملاقات کی تھی ۔
اداھر بھارت کی سیاسی پارٹیوں کا ریکشن کیا رہا ، کانگریس نے کہا ہمیں راحت ملی کہ پاکستانی حکومت نے ہمارے پائلٹ کو رہا کرنے کا اعلان کیا ۔
نوجوت سنگھ سدھو نے کہا عمرن خان آپ کی جذبہ خیر سگالی نے اربوں لوگوں کیلئے خوشی کا سامان پیدا کیا ہے
صحافی راجدیپ سر دیسائی نے لکھا شائد ہم بھارتیوں کو یہ پسندنہ آئے لیکن اخلاقی سطح پر عمران خان کی جیت ہے ۔ریاست سے عمر عبداللہ نے لکھا کہ چلو امریکہ نے پائلٹ کی رہائی کو یقینی بنا کر ہندوستان کو کشیدگی ختم کرنے پر راضی کیا ۔وہیں انہوں نے لکھا کہ مجھے خوشی ہوئی کہ ابھی نند ن واپس گھر لوٹیں گے میں خوش ہوں عمران خان نے ان کی رہائی کا اعلان کیا ۔
محبوبہ مفتی نے ابھی نندن کی رہائی کو عظیم فیصلہ قرار دے کر کہا کہ میری نظر میں یہ مفاہمت کی ایک اعلامیت ہے ۔
حریت کانفرنس کے چیر مین عمر فاروق نے لکھا۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے پائلٹ کی رہائی کا خوش آئند فیصلہ امید ہے بہتر احساس پیدا ہو اور جنگ کے بادل چھٹ جائے اور مسلہ کشمیر پر امن حل کی طر ف بڑھے ۔
فاروق عبداللہ نے پاکستان کے اس قدم کو ’’ میچور سٹپ ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اب بال بھارت کے کورٹ میں آگئی ہے ۔
اور اب دیکھنے والی بات ہو گی کہ بھارت کا اگلا قدم کیا ہو گا ۔
دنیا
اسرائیل کو لبنان سے 60 دن میں واپس جانا ہوگا:حزب اللہ
بیروت، لبنان میں حزب اللہ کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ محمد رعد نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے پاس اپنے حملے ختم کرنے اور لبنانی سرزمین سے اپنی فوجوں کی مکمل واپسی کے لیے “60 دن کا وقت” ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے بیروت پر زور دیا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مفاہمت نامے کا “غور اور غیر جانبدارانہ” جائزہ لے۔ محمد رعد کا یہ بیان جمعرات کو اس وقت سامنے آیا جب قابض اسرائیلی افواج نے لبنان پر اپنے روزانہ کے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور تل ابیب بضد ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے کچھ حصوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھے گا، جبکہ امریکہ اور ایران کے معاہدے کی پہلی شق کے مطابق تمام محاذوں بشمول لبنان میں فوجی کارروائیوں کو “فوری اور مستقل طور پر روکنے” کا حکم دیا گیا ہے۔
اس مفاہمت نامے میں “لبنان کی آزادی اور اس کی زمین کی حفاظت کی ضمانت” دینے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ حتمی معاہدہ “تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے” کی تصدیق کرے گا۔ محمد رعد نے ایک بیان میں کہاکہ “دشمن کے پاس لبنانی سرزمین سے مکمل طور پر پیچھے ہٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دستیاب وقت ٹھیک دو ماہ ہے۔
” انہوں نے مزید کہا کہ اس عرصے کے دوران اسرائیل کو “زمین، سمندر اور ہوا” کے راستے دشمنی بند کرنی ہوگی اور کسی بھی براہ راست مذاکرات کی ضرورت کے بغیر لبنانی سرزمین سے پیچھے ہٹنا شروع کرنا ہوگا۔ حزب اللہ کے قانون ساز نے اصرار کیا کہ لبنانی حکام “مفاہمت نامے کے متن کو غور اور غیر جانبدارانہ طریقے سے پڑھیں اور ان حقائق اور اثرات کے بارے میں نتائج اخذ کریں جو لبنان سمیت خطے اور پوری دنیا پر اثر انداز ہوں گے۔”
انہوں نے حکام پر یہ بھی زور دیا کہ وہ “صہیونی دشمن کو روکنے کے لیے ایران کی اپنی عزم کو پورا کرنے کی صلاحیت کو کم نہ سمجھیں۔ بدھ کی شام، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے الیکٹرانک طریقے سے “اسلام آباد مفاہمت نامے” پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنا ہے۔ اس مفاہمت نامے کے تحت، واشنگٹن اور تہران کے درمیان 60 دن تک مذاکرات ہونے ہیں، جس میں توسیع کا امکان بھی موجود ہے، تاکہ ایران کے جوہری پروگرام اور بین الاقوامی پابندیوں پر ایک حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
محمد رعد نے کہا، “مزاحمت (حزب اللہ) حکومت (بیروت) کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ مزاحمت کو نشانہ بنانے کے لیے صہیونی دشمن کے ساتھ براہ راست کسی معاملے میں شامل نہ ہو، کیونکہ یہ لبنان یا لبنانی عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “لبنان میں مزاحمت کو ختم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی جنگ ناکام ہو چکی ہے اور یہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرے گی۔” لبنانی یا اسرائیلی حکام کی طرف سے محمد رعد کے اس بیان پر اب تک کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ ان کا یہ بیان لبنان اور اسرائیل کے درمیان 22 جون کو ہونے والے مذاکرات کے پانچویں دور سے پہلے آیا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں امریکہ میں ہونے والے پچھلے دور کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان کے مطابق، دونوں فریقین نے جنگ بندی پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا تھا جس کی شرط یہ تھی کہ حزب اللہ کے حملے مکمل طور پر بند ہوں اور اس کے ارکان لیتانی دریا کے جنوبی علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں۔
اس سے پہلے جمعرات کو لبنانی صدر جوزف عون نے واشنگٹن روانگی سے قبل ملک کے مذاکراتی وفد کے ارکان سے ملاقات کی۔ لبنانی صدارتی محل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عون نے وفد کو ہدایت کی کہ وہ “لبنان کے بنیادی مطالبات پر قائم رہیں”، جن میں مستقل جنگ بندی، مقبوضہ لبنانی سرزمین سے اسرائیلی افواج کی واپسی، سرحد تک لبنانی فوج کی تعیناتی، لبنانی قیدیوں کی واپسی، اور تعمیرِ نو کا عمل شروع کرنا شامل ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیل 2 مارچ سے لبنان پر بمباری کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 3,912 افراد جان بحق، 11,873 زخمی اور 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان کے علاقوں پر قابض ہے، جن میں سے کچھ دہائیوں سے اور کچھ حالیہ حملے کے بعد سے اس کے قبضے میں ہیں۔ اسرائیلی افواج نے اپنے حالیہ حملے کے دوران لبنانی سرزمین کے اندر 10 کلومیٹر سے زیادہ پیش قدمی کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل کی فوجی حکمت عملی علاقے میں نفرت اور تشدد کو مزید ہوا دیتی ہے: میکرون
پیرس، فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے جمعرات کو کہا کہ لبنان، غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی عسکری حکمتِ عملی اس کے اپنے مفادات کے خلاف ہے کیونکہ یہ نفرت اور تشدد کو ہوا دیتی ہے۔
میکرون نے فرانس 2 ٹیلی ویژن کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ‘ذمہ داری کا مظاہرہ’ کرنے کا مطالبہ کر کے درست کہا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کی سکیورٹی ‘ہمسایہ علاقوں پر قبضہ کرنے کے ذریعے یقینی نہیں بن سکتی۔’
انہوں نے کہا کہ ‘وہ حکمتِ عملی جو (نیتن یاہو) غزہ، مغربی کنارے اور جنوبی لبنان میں جاری رکھے ہوئے ہیں، طویل مدتی طور پر اسرائیل کے مفادات کے خلاف ہے کیونکہ یہ خطے کے تمام طبقوں میں نفرت اور تشدد کو ہوا دیتی ہے۔’ میکرون نے ایران کے ساتھ حالیہ امن معاہدے کی لبنان کے لیے اہمیت کو بھی دوبارہ واضح کیا۔
انہوں نے کہا، ‘ہم بہت جلد بین الاقوامی برادری کو متحرک کریں گے تاکہ لبنانی فوج کو اپنے علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے میں مدد ملے۔’ میکرون نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ معاہدے کے باوجود ایران کے معاملے میں جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، تاہم تعاون اور گفت و شنید کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”جنگ کے مقابلے میں معاہدہ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے، خاص طور پر جب کشیدگی میں عروج آنے کا خطرہ ہو، اور اس معاملے میں یہی بات درست تھی۔”
‘ہم بمباری کے ذریعے کسی نظام میں تبدیلی حاصل نہیں لا سکتے۔’
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل کو امن عمل کا احترام کرنا ہوگا، بیروت میں شہریوں پر حملے ناقابل قبول ہیں: جے ڈی وینس
واشنگٹن، امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ ایران معاہدے کے بعد ایک کروڑ 20 لاکھ بیرل سے زیادہ تیل کی ایک رات میں آبنائے ہرمز سے ترسیل ہوچکی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے اب تک کسی جہاز پر حملہ نہیں کیا، ایران مفاہمتی یادداشت میں شامل آبنائے ہرمز کھولنے کی شق کی پاسداری کر رہا ہے۔ امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت میں طے ہونے والا 60 روزہ دورانیہ آج سے شروع ہوگیا ہے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایران کی زیادہ تر فوجی صلاحیتیں تباہ ہوچکی ہیں، ایران بھی اب اپنی معیشت کو بہتر بنانا چاہتا ہے، ایران کا رویہ بہتر رہا تو یہ ایران کے مفاد میں ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران کے بیلسٹک میزائل بنانے والی بہت سی تنصیبات کو تباہ کیا ہے، ہم یقینی بنائیں گے کہ ایران علاقائی دہشت گردی کے لیے فنڈنگ نہ کرے۔ جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ حتمی معاہدے میں بات ہوگی کہ ایران کے پاس دنیا کے لیے خطرہ بننے والے میزائل نہ ہوں، ایران کو اب اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے لیے بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہوگی۔
امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ معاہدے میں ایران پر پابندیوں کے معاملے میں زیادہ رعایت نہیں ہے، ہم دیکھیں گے کہ ایران لین دین کیسے کرتا ہے، ہم کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی عارضی طور پر ایران سے پابندیاں ہٹا سکتے ہیں۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیل کو امن عمل کا احترام کرنا ہوگا، بیروت میں شہریوں پر حملے ناقابل قبول ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سے معاہدہ علاقائی امن و استحکام کو یقینی بناتا ہے، خلیجی ممالک کو معاہدہ اچھا لگا ہے کیونکہ اس سے ایران کمزور ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں لبنان میں حزب اللہ مضبوط نہ ہو تاکہ اسرائیل کو کوئی خطرہ نہ رہے، اسرائیل کو خطرہ نہیں ہوگا تو اسرائیل بھی جنوبی لبنان یا بیروت پر حملہ نہیں کرے گا۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے رویے میں تبدیلی تک منجمد اثاثے بحال نہیں کریں گے، خطے میں امریکی افواج کو جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر لے آئیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر6 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان6 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا6 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
جموں و کشمیر6 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا4 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا4 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
دنیا4 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا6 days agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ

































































































