تازہ ترین
ویڈیو: کشمیر میں بدحال ہوتا سیاحتی شعبہ

خبراردو:
وادی میں سیاحتی شعبے کی حالت دن بدن بد حالی کی طرف جا رہی ہے ۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ وادی میں جاری شورش کی وجہ سے اگر کسی شعبے کو سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے تو وہ سیاحت ہی ہے ۔
اور حال ہی میں چودہ فروری کو پلوامہ حملے کے اگلے روز ہی برطانیہ ، امریکہ اور آسٹریلیا نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں سے کہا کہ کشمیر سفر کرنے سے پرہیز کریں ۔
اسکے علاوہ ہڑتالی کالز کی وجہ سے بھی سیاحت پر کافی اثر پڑا ہے اور خاص کر سپریم کورٹ میں ۳۵ اے کی شنوائی کی خبر جس دن بھی آتی ہے تو کشمیر میں پورا نظام درہم بر ہم ہو جاتا ہے۔ اور اس کی وجہ سے کشمیر ان گنت بار بار بند رہا ہے ۔
ادھر پلومہ حملے کے بعد مہارشٹرا ، گجرات اور مغربی بنگال کے ٹور آپریٹروں نے کشمیر کی سیاحت کا بائیکاٹ کر دیا ہے ۔ وہیں ۷۰ فیصد ٹورسٹ بکنگ اب منسوخ کی گئی ہیں جبکہ مشکل سے وادی میں اسوقت پانچ فیصد سیاح موجود ہیں ۔ اسکے علاوہ دلی کے میڈیا نے کشمیر کی سیاحت کو بد حال کرنے کا کوئی بھی موقع نہیں چھوڑا جو کہ ابھی بھی جاری ہے ۔
کشمیر کی سیاحت دلی کی نیوز چینلز نے بھی کافی نقصان پہنچایا ہے۔
ایک طرف یہ نیوز چینل اپنے ٹی آر پی کے چکر میں کشمیر کے حالات کو بہت زیادہ خراب دکھا کر سیاحوں میں خوف وڈر پیدا کرتے ہیں وہیں کشمیر میں چاہیں ہوٹل مالک ہو یا ڈل میں شکارہ چلانیوالے انہیں ہی اس کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔
۲۰۱۰ کے بعد سے کشمیر میں مزید حالات خراب ہونے کے بعد سے ہر سال سیاحوں کی آمد میں کمی دیکھی گئی ۔
۲۰۱۲ میں جہاں 13.0 لاکھ سیاح کشمیر آئے وہیں ۱۳ میں 11.71 lakh, ۱۴ میں 11.67 lakh , ۱۵ میں 9.27 lakh, ۱۶ میں 12.12 lakh, ۱۷ میں 11 lakh اور اب ۲۰۱۸ میں محض ساڑھے ۸ لاکھ ملکی اور غیر ملکی سیاح کشمیر دیکھنے آئے ہیں ۔
اور اس سال شروع سے ہی اس میں مزید گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے ۔
ہر گزرتے سال کشمیر میں بدحال ہوتے سیاحتی شعبے کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
دنیا
اسرائیل کو لبنان سے 60 دن میں واپس جانا ہوگا:حزب اللہ
بیروت، لبنان میں حزب اللہ کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ محمد رعد نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے پاس اپنے حملے ختم کرنے اور لبنانی سرزمین سے اپنی فوجوں کی مکمل واپسی کے لیے “60 دن کا وقت” ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے بیروت پر زور دیا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مفاہمت نامے کا “غور اور غیر جانبدارانہ” جائزہ لے۔ محمد رعد کا یہ بیان جمعرات کو اس وقت سامنے آیا جب قابض اسرائیلی افواج نے لبنان پر اپنے روزانہ کے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور تل ابیب بضد ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے کچھ حصوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھے گا، جبکہ امریکہ اور ایران کے معاہدے کی پہلی شق کے مطابق تمام محاذوں بشمول لبنان میں فوجی کارروائیوں کو “فوری اور مستقل طور پر روکنے” کا حکم دیا گیا ہے۔
اس مفاہمت نامے میں “لبنان کی آزادی اور اس کی زمین کی حفاظت کی ضمانت” دینے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ حتمی معاہدہ “تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے” کی تصدیق کرے گا۔ محمد رعد نے ایک بیان میں کہاکہ “دشمن کے پاس لبنانی سرزمین سے مکمل طور پر پیچھے ہٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دستیاب وقت ٹھیک دو ماہ ہے۔
” انہوں نے مزید کہا کہ اس عرصے کے دوران اسرائیل کو “زمین، سمندر اور ہوا” کے راستے دشمنی بند کرنی ہوگی اور کسی بھی براہ راست مذاکرات کی ضرورت کے بغیر لبنانی سرزمین سے پیچھے ہٹنا شروع کرنا ہوگا۔ حزب اللہ کے قانون ساز نے اصرار کیا کہ لبنانی حکام “مفاہمت نامے کے متن کو غور اور غیر جانبدارانہ طریقے سے پڑھیں اور ان حقائق اور اثرات کے بارے میں نتائج اخذ کریں جو لبنان سمیت خطے اور پوری دنیا پر اثر انداز ہوں گے۔”
انہوں نے حکام پر یہ بھی زور دیا کہ وہ “صہیونی دشمن کو روکنے کے لیے ایران کی اپنی عزم کو پورا کرنے کی صلاحیت کو کم نہ سمجھیں۔ بدھ کی شام، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے الیکٹرانک طریقے سے “اسلام آباد مفاہمت نامے” پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنا ہے۔ اس مفاہمت نامے کے تحت، واشنگٹن اور تہران کے درمیان 60 دن تک مذاکرات ہونے ہیں، جس میں توسیع کا امکان بھی موجود ہے، تاکہ ایران کے جوہری پروگرام اور بین الاقوامی پابندیوں پر ایک حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
محمد رعد نے کہا، “مزاحمت (حزب اللہ) حکومت (بیروت) کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ مزاحمت کو نشانہ بنانے کے لیے صہیونی دشمن کے ساتھ براہ راست کسی معاملے میں شامل نہ ہو، کیونکہ یہ لبنان یا لبنانی عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “لبنان میں مزاحمت کو ختم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی جنگ ناکام ہو چکی ہے اور یہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرے گی۔” لبنانی یا اسرائیلی حکام کی طرف سے محمد رعد کے اس بیان پر اب تک کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ ان کا یہ بیان لبنان اور اسرائیل کے درمیان 22 جون کو ہونے والے مذاکرات کے پانچویں دور سے پہلے آیا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں امریکہ میں ہونے والے پچھلے دور کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان کے مطابق، دونوں فریقین نے جنگ بندی پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا تھا جس کی شرط یہ تھی کہ حزب اللہ کے حملے مکمل طور پر بند ہوں اور اس کے ارکان لیتانی دریا کے جنوبی علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں۔
اس سے پہلے جمعرات کو لبنانی صدر جوزف عون نے واشنگٹن روانگی سے قبل ملک کے مذاکراتی وفد کے ارکان سے ملاقات کی۔ لبنانی صدارتی محل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عون نے وفد کو ہدایت کی کہ وہ “لبنان کے بنیادی مطالبات پر قائم رہیں”، جن میں مستقل جنگ بندی، مقبوضہ لبنانی سرزمین سے اسرائیلی افواج کی واپسی، سرحد تک لبنانی فوج کی تعیناتی، لبنانی قیدیوں کی واپسی، اور تعمیرِ نو کا عمل شروع کرنا شامل ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیل 2 مارچ سے لبنان پر بمباری کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 3,912 افراد جان بحق، 11,873 زخمی اور 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان کے علاقوں پر قابض ہے، جن میں سے کچھ دہائیوں سے اور کچھ حالیہ حملے کے بعد سے اس کے قبضے میں ہیں۔ اسرائیلی افواج نے اپنے حالیہ حملے کے دوران لبنانی سرزمین کے اندر 10 کلومیٹر سے زیادہ پیش قدمی کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل کی فوجی حکمت عملی علاقے میں نفرت اور تشدد کو مزید ہوا دیتی ہے: میکرون
پیرس، فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے جمعرات کو کہا کہ لبنان، غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی عسکری حکمتِ عملی اس کے اپنے مفادات کے خلاف ہے کیونکہ یہ نفرت اور تشدد کو ہوا دیتی ہے۔
میکرون نے فرانس 2 ٹیلی ویژن کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ‘ذمہ داری کا مظاہرہ’ کرنے کا مطالبہ کر کے درست کہا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کی سکیورٹی ‘ہمسایہ علاقوں پر قبضہ کرنے کے ذریعے یقینی نہیں بن سکتی۔’
انہوں نے کہا کہ ‘وہ حکمتِ عملی جو (نیتن یاہو) غزہ، مغربی کنارے اور جنوبی لبنان میں جاری رکھے ہوئے ہیں، طویل مدتی طور پر اسرائیل کے مفادات کے خلاف ہے کیونکہ یہ خطے کے تمام طبقوں میں نفرت اور تشدد کو ہوا دیتی ہے۔’ میکرون نے ایران کے ساتھ حالیہ امن معاہدے کی لبنان کے لیے اہمیت کو بھی دوبارہ واضح کیا۔
انہوں نے کہا، ‘ہم بہت جلد بین الاقوامی برادری کو متحرک کریں گے تاکہ لبنانی فوج کو اپنے علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے میں مدد ملے۔’ میکرون نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ معاہدے کے باوجود ایران کے معاملے میں جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، تاہم تعاون اور گفت و شنید کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”جنگ کے مقابلے میں معاہدہ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے، خاص طور پر جب کشیدگی میں عروج آنے کا خطرہ ہو، اور اس معاملے میں یہی بات درست تھی۔”
‘ہم بمباری کے ذریعے کسی نظام میں تبدیلی حاصل نہیں لا سکتے۔’
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل کو امن عمل کا احترام کرنا ہوگا، بیروت میں شہریوں پر حملے ناقابل قبول ہیں: جے ڈی وینس
واشنگٹن، امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ ایران معاہدے کے بعد ایک کروڑ 20 لاکھ بیرل سے زیادہ تیل کی ایک رات میں آبنائے ہرمز سے ترسیل ہوچکی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے اب تک کسی جہاز پر حملہ نہیں کیا، ایران مفاہمتی یادداشت میں شامل آبنائے ہرمز کھولنے کی شق کی پاسداری کر رہا ہے۔ امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت میں طے ہونے والا 60 روزہ دورانیہ آج سے شروع ہوگیا ہے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایران کی زیادہ تر فوجی صلاحیتیں تباہ ہوچکی ہیں، ایران بھی اب اپنی معیشت کو بہتر بنانا چاہتا ہے، ایران کا رویہ بہتر رہا تو یہ ایران کے مفاد میں ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران کے بیلسٹک میزائل بنانے والی بہت سی تنصیبات کو تباہ کیا ہے، ہم یقینی بنائیں گے کہ ایران علاقائی دہشت گردی کے لیے فنڈنگ نہ کرے۔ جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ حتمی معاہدے میں بات ہوگی کہ ایران کے پاس دنیا کے لیے خطرہ بننے والے میزائل نہ ہوں، ایران کو اب اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے لیے بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہوگی۔
امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ معاہدے میں ایران پر پابندیوں کے معاملے میں زیادہ رعایت نہیں ہے، ہم دیکھیں گے کہ ایران لین دین کیسے کرتا ہے، ہم کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی عارضی طور پر ایران سے پابندیاں ہٹا سکتے ہیں۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیل کو امن عمل کا احترام کرنا ہوگا، بیروت میں شہریوں پر حملے ناقابل قبول ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سے معاہدہ علاقائی امن و استحکام کو یقینی بناتا ہے، خلیجی ممالک کو معاہدہ اچھا لگا ہے کیونکہ اس سے ایران کمزور ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں لبنان میں حزب اللہ مضبوط نہ ہو تاکہ اسرائیل کو کوئی خطرہ نہ رہے، اسرائیل کو خطرہ نہیں ہوگا تو اسرائیل بھی جنوبی لبنان یا بیروت پر حملہ نہیں کرے گا۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے رویے میں تبدیلی تک منجمد اثاثے بحال نہیں کریں گے، خطے میں امریکی افواج کو جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر لے آئیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر6 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان6 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا6 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
جموں و کشمیر6 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا4 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا4 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا6 days agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
دنیا4 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی

































































































