تازہ ترین
ویڈیو: گورنر کے حکومتی ملازمین کو یوم جمہوریہ کی تقاریب میں شرکت لازمی کرنے والے حکم نامے پر ہنگامہ

خبراردو:
ریاستی انتظامیہ کی طرف سے کچھ روز قبل جاری کئے گئے ایک حکم نامے میں ۲۶ جنور ی کو یوم جمہوریہ کی تقریبات میں اپنے ملازمین کی شرکت کو لازمی قرار دیا ہے ۔
حکومت نے اس حوالے سے جاری کردہ سرکیولر میں خلاف ورزی کے مرتکب کو پائے جانے والے سرکاری ملازمین کو تادیبی کا روائی کا انتباہ کیا ہے .
اس سرکیو لر پر ہنگامہ شروع ہو گیا ہے کچھ سیاسی پارٹیاں اس حکم نامے کے حق میں ہیں جبکہ کچھ اس کے خلاف بول رہی ہیں ۔
جبکہ ریاست کے نائب وزرائے اعلی محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے تو ٹویٹر پر ہی بحث شروع کر دیْ ۔
صحافی ہریندر بویجا نے ایک ٹویٹ کے زریعے اس حکم نامے کو بے وقوفانہ قرار دے کر لکھا ’’ ریاستی گورنر کی طرف سے اپنے سرکاری ملازموں کیلئے یوم جمہوریہ کی شرکت کو لازمی بنانا احمقانہ ہے ۔ یہ وہ کچھ کر رہا ہے جو زمینی صورتحال کو نہیں سمجھ پایا ۔ اور سوالیہ انداز میں لکھا کہ کیا حب الوطنی زبردستی منوائی جائے گی؟ ۔
عمر عبدللہ نے اس ٹویٹ پر واپس ٹویٹ کرتے ہوئے سیدھے پی ڈی پی نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ ’’ مہربانی کر کے مجھے درست کیا جائے اگر میں غلط ہوں ، یہ پہلی بار نہیں ہو رہا ۔ ان تقریبات میں شرکت ماضی میں بھی لازمی بنائی گئی تھی ۔ حقیقت میں تو مرحوم مفتی صاحب تو کشمیر کی صورتحال کو بہتر دکھانے کیلئے ریاستی ٹرانسپورٹ اور پولیس کی گاڑیوں کا استعمال کرتے تھے اور اپنے حامیوں کو ان تقاریب میں لاتے تھے ، ۔ محبوبہ مفتی عمر کے ٹویٹ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو ہمارے درمیان موجود نہ ہوں اس پر الزام لگانا درست نہیں ۔ عمر نے پھر ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ الزام نہیں لگا رہا بخشی سٹیڈیم میں خود اس کا گواہ ہوں ۔
پی ڈی پی کے یوتھ صدر وحید رحمان پرہ نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ قوم پرستی ڈکٹیٹ نہیں کی جا سکتی ، ایسی تقاریب کیلئے مرضی ہونی چائیے زبردستی حکم نامے نہیں ، اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اٹوٹ انگ میں کیسی چیزیں ہو رہی ہیں ۔
عاومی اتحاد پارٹی کء چیر مین انجینئر رشید نے کہا کہ یہ غیر آئینی ہے اور قوم پرستی سرکاری سٹاف پر لاگو نہیں کی جاسکتی ۔
بھاجپا کے جنرل سیکرٹری نے ان لیڈران پر وار کرتے ہوئے کہا کہ صرف علیحدگی پسند لیڈران ہی اس فیصلے کے خلاف تھے لیکن اب سیاسی پارٹیاں بھی اس کی مخالفت کر رہی ہیں اور اسے سیاسی رنگ دے رہی ہیں کیوں کہ الیکشن قریب ہیں ۔
گورنر ستیہ پال ملک نے اپنے حکم نامے کا دفاع کرتے ہو ئے کہا کہ یوم جمہوریہ کی تقاریب میں حاضر ر ہنا سرکاری ملازمین کی ڈیوٹی ہے اس میں قوم پرستی تھوپنے کی کوئی بات نہیں ، سرکاری ملازم تنخوا ہ لے رہے ہیں تو ڈیوٹی دینا ان کا کام ہے ۔
وہیں انہوننے سیاسی جماعتوں پر نشانہ سادھتے ہوئے انوہں نے کہا کہ جن کی جڑیں کھوکلی ہو گئی ہیں وہ وہ اس کو ایشو بنا رہی ہیں ۔ اب یہ جماعتیں بے کار ہو گئی ہیں ۔ اس لئے چیزوں کو الگ عینک سے دیکھ رہی ہیں ۔ ایسی سیاست و نے کشمیر کو تباہ کر دیا ہے ۔
جموں و کشمیر
آئی جی پی کشمیر نے امرناتھ یاترا کے لیے سکیورٹی اور رابطہ کاری کے منصوبے کا جائزہ لیا
سری نگر، انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کشمیر وی کے بردی نے جمعہ کے روز آئندہ امرناتھ یاترا کے لیے سکیورٹی اور انتظامی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ مختلف اداروں کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنایا جائے، اہلکاروں کو باقاعدگی سے بریفنگ دی جائے، معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پی) پر سختی سے عمل کیا جائے اور یاتریوں کے ساتھ دوستانہ اور معاون رویہ اپنایا جائے تاکہ سالانہ یاترا پرامن اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے بغیر مکمل ہو سکے۔
امرناتھ یاترا 3 جولائی سے شروع ہوگی اور 28 اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔
پولیس کے ترجمان کے مطابق، شری امرناتھ جی یاترا کی تیاریوں کے سلسلے میں آئی جی پی کشمیر نے زونل اور سیکٹر افسران کو یاترا کے راستوں پر رابطہ کاری، سکیورٹی اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے بریفنگ دی۔ اس اجلاس میں پولیس کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
بریفنگ کے دوران آئی جی پی کشمیر نے اس بات پر زور دیا کہ یاترا کے محفوظ، کامیاب اور ہموار انعقاد کے لیے پیشہ ورانہ مہارت، چوکسی اور عوامی خدمت کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھا جائے۔
انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ تمام سکیورٹی اور انتظامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں اور قائم شدہ سکیورٹی نظام پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
وی کے بردی نے زونل افسران کو ہدایت دی کہ وہ اپنے ماتحت سیکٹر افسران اور جوانوں کو باقاعدگی سے بریفنگ دیں تاکہ تمام اہلکار اپنی ذمہ داریوں، فرائض اور موجودہ سکیورٹی صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ رہیں۔
انہوں نے تعیناتی کے تمام مراحل میں مسلسل نگرانی اور مؤثر رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔ مزید برآں، افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں کام کرنے والے دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں تاکہ معلومات کے تبادلے، مشترکہ ردعمل اور ہم آہنگ آپریشنل اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
عوامی خدمت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے آئی جی پی کشمیر نے تمام افسران اور اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ یاتریوں کی حفاظت، سہولت اور فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فرائض کی انجام دہی کے دوران عوام دوست رویہ برقرار رکھا جائے۔
آئی جی پی کشمیر نے سخت نظم و ضبط، پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور مقررہ ایس او پیز پر مکمل عمل کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے تمام اہلکاروں سے کہا کہ وہ ہر وقت چوکس رہیں، آپریشنل تیاری کی اعلیٰ سطح برقرار رکھیں اور اپنے مثالی طرزِ عمل کے ذریعے فورس کی ساکھ کو مضبوط بنائیں۔
اجلاس کے اختتام پر رابطہ کاری کے طریقہ کار اور ہنگامی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ شری امرناتھ جی یاترا 2026 کو پرامن اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے پاک بنایا جا سکے۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
اسرائیل کو لبنان سے 60 دن میں واپس جانا ہوگا:حزب اللہ
بیروت، لبنان میں حزب اللہ کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ محمد رعد نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے پاس اپنے حملے ختم کرنے اور لبنانی سرزمین سے اپنی فوجوں کی مکمل واپسی کے لیے “60 دن کا وقت” ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے بیروت پر زور دیا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مفاہمت نامے کا “غور اور غیر جانبدارانہ” جائزہ لے۔ محمد رعد کا یہ بیان جمعرات کو اس وقت سامنے آیا جب قابض اسرائیلی افواج نے لبنان پر اپنے روزانہ کے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور تل ابیب بضد ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے کچھ حصوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھے گا، جبکہ امریکہ اور ایران کے معاہدے کی پہلی شق کے مطابق تمام محاذوں بشمول لبنان میں فوجی کارروائیوں کو “فوری اور مستقل طور پر روکنے” کا حکم دیا گیا ہے۔
اس مفاہمت نامے میں “لبنان کی آزادی اور اس کی زمین کی حفاظت کی ضمانت” دینے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ حتمی معاہدہ “تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے” کی تصدیق کرے گا۔ محمد رعد نے ایک بیان میں کہاکہ “دشمن کے پاس لبنانی سرزمین سے مکمل طور پر پیچھے ہٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دستیاب وقت ٹھیک دو ماہ ہے۔
” انہوں نے مزید کہا کہ اس عرصے کے دوران اسرائیل کو “زمین، سمندر اور ہوا” کے راستے دشمنی بند کرنی ہوگی اور کسی بھی براہ راست مذاکرات کی ضرورت کے بغیر لبنانی سرزمین سے پیچھے ہٹنا شروع کرنا ہوگا۔ حزب اللہ کے قانون ساز نے اصرار کیا کہ لبنانی حکام “مفاہمت نامے کے متن کو غور اور غیر جانبدارانہ طریقے سے پڑھیں اور ان حقائق اور اثرات کے بارے میں نتائج اخذ کریں جو لبنان سمیت خطے اور پوری دنیا پر اثر انداز ہوں گے۔”
انہوں نے حکام پر یہ بھی زور دیا کہ وہ “صہیونی دشمن کو روکنے کے لیے ایران کی اپنی عزم کو پورا کرنے کی صلاحیت کو کم نہ سمجھیں۔ بدھ کی شام، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے الیکٹرانک طریقے سے “اسلام آباد مفاہمت نامے” پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنا ہے۔ اس مفاہمت نامے کے تحت، واشنگٹن اور تہران کے درمیان 60 دن تک مذاکرات ہونے ہیں، جس میں توسیع کا امکان بھی موجود ہے، تاکہ ایران کے جوہری پروگرام اور بین الاقوامی پابندیوں پر ایک حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
محمد رعد نے کہا، “مزاحمت (حزب اللہ) حکومت (بیروت) کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ مزاحمت کو نشانہ بنانے کے لیے صہیونی دشمن کے ساتھ براہ راست کسی معاملے میں شامل نہ ہو، کیونکہ یہ لبنان یا لبنانی عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “لبنان میں مزاحمت کو ختم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی جنگ ناکام ہو چکی ہے اور یہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرے گی۔” لبنانی یا اسرائیلی حکام کی طرف سے محمد رعد کے اس بیان پر اب تک کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ ان کا یہ بیان لبنان اور اسرائیل کے درمیان 22 جون کو ہونے والے مذاکرات کے پانچویں دور سے پہلے آیا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں امریکہ میں ہونے والے پچھلے دور کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان کے مطابق، دونوں فریقین نے جنگ بندی پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا تھا جس کی شرط یہ تھی کہ حزب اللہ کے حملے مکمل طور پر بند ہوں اور اس کے ارکان لیتانی دریا کے جنوبی علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں۔
اس سے پہلے جمعرات کو لبنانی صدر جوزف عون نے واشنگٹن روانگی سے قبل ملک کے مذاکراتی وفد کے ارکان سے ملاقات کی۔ لبنانی صدارتی محل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عون نے وفد کو ہدایت کی کہ وہ “لبنان کے بنیادی مطالبات پر قائم رہیں”، جن میں مستقل جنگ بندی، مقبوضہ لبنانی سرزمین سے اسرائیلی افواج کی واپسی، سرحد تک لبنانی فوج کی تعیناتی، لبنانی قیدیوں کی واپسی، اور تعمیرِ نو کا عمل شروع کرنا شامل ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیل 2 مارچ سے لبنان پر بمباری کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 3,912 افراد جان بحق، 11,873 زخمی اور 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان کے علاقوں پر قابض ہے، جن میں سے کچھ دہائیوں سے اور کچھ حالیہ حملے کے بعد سے اس کے قبضے میں ہیں۔ اسرائیلی افواج نے اپنے حالیہ حملے کے دوران لبنانی سرزمین کے اندر 10 کلومیٹر سے زیادہ پیش قدمی کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل کی فوجی حکمت عملی علاقے میں نفرت اور تشدد کو مزید ہوا دیتی ہے: میکرون
پیرس، فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے جمعرات کو کہا کہ لبنان، غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی عسکری حکمتِ عملی اس کے اپنے مفادات کے خلاف ہے کیونکہ یہ نفرت اور تشدد کو ہوا دیتی ہے۔
میکرون نے فرانس 2 ٹیلی ویژن کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ‘ذمہ داری کا مظاہرہ’ کرنے کا مطالبہ کر کے درست کہا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کی سکیورٹی ‘ہمسایہ علاقوں پر قبضہ کرنے کے ذریعے یقینی نہیں بن سکتی۔’
انہوں نے کہا کہ ‘وہ حکمتِ عملی جو (نیتن یاہو) غزہ، مغربی کنارے اور جنوبی لبنان میں جاری رکھے ہوئے ہیں، طویل مدتی طور پر اسرائیل کے مفادات کے خلاف ہے کیونکہ یہ خطے کے تمام طبقوں میں نفرت اور تشدد کو ہوا دیتی ہے۔’ میکرون نے ایران کے ساتھ حالیہ امن معاہدے کی لبنان کے لیے اہمیت کو بھی دوبارہ واضح کیا۔
انہوں نے کہا، ‘ہم بہت جلد بین الاقوامی برادری کو متحرک کریں گے تاکہ لبنانی فوج کو اپنے علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے میں مدد ملے۔’ میکرون نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ معاہدے کے باوجود ایران کے معاملے میں جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، تاہم تعاون اور گفت و شنید کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”جنگ کے مقابلے میں معاہدہ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے، خاص طور پر جب کشیدگی میں عروج آنے کا خطرہ ہو، اور اس معاملے میں یہی بات درست تھی۔”
‘ہم بمباری کے ذریعے کسی نظام میں تبدیلی حاصل نہیں لا سکتے۔’
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر6 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
ہندوستان6 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا6 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
جموں و کشمیر6 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا4 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا6 days agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
دنیا4 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
دنیا4 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا


































































































