جموں و کشمیر
پاکستان زیر قبضہ کشمیر کو واپس لانے کے متعلق منظور شدہ قرار داد کو نافذ کیا جائے گا: راجناتھ سنگھ

سری نگر،27 اکتوبر (یو این آئی) مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پاکستان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ بھارت، پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کو واپس لانے کے متعلق پارلیمنٹ میں منظور کی گئی 1994 کی قرار داد کو نافذ کرنے کے لئے پر عزم ہے انہوں نے کہا: ’بھارت، پاکستان زیر قبضہ کشمیر کے ہر شہری کے درد کو محسوس کرتا ہے جہاں لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانا اور ہراساں کرنا معمول بن گیا ہے‘۔
بتادیں کہ پارلیمنٹ میں 22 فروری 1994 کو ایک قرار داد پاس کی گئی جس میں پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس کے قبضے والے کشمیر کے حصے کو خالی کرے۔
موصوف وزیر دفاع نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں بڈگام میں 76 ویں انفنٹری دن کے موقعہ پر فوج کے زیر اہتمام ‘شوریہ دیوس‘ سے خطاب کے دوران کیا۔
اس موقع پر جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا: ’بھارت، پاکستان زیر قبضہ کشمیر کے لوگوں کے درد کو محسوس کر رہا ہے جہاں لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانا اور ہراساں کرنا معمول بن گیا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا: ’پاکستانی حکومت پاکستان زیر قبضہ کشمیر میں نفرت کے بیچ بو رہی ہے اور وہ وقت دور نہیں ہے جب وہاں لوگ بڑے پیمانے پر آواز بلند کریں گے‘۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ بھارت پاکستان زیر قبضہ کشمیر بشمول گلگت اور بلتستان کو واپس لینے کے متعلق پارلیمنٹ میں منظور کی گئی 1994 کی قرار داد کو نافذ کرنے کے لئے پر عزم ہے۔
انہوں نے کہا: ’پاکستان زیر قبضہ کشمیر کے لوگوں کو تمام تر بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے جس سے ہم اچھی طرح باخبر ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا: ’سردار ولبھ بھائی پٹیل کا خواب اس دن پورا ہوگا جب سال1947 کے تمام مہاجروں کو اپنی زمین اور اپنے گھر واپس ملیں گے‘۔
انہوں نے کہا: ’اور میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ وہ دن ضرور آئے گا‘۔
وزیر دفاع نے کہا کہ دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد جموں وکشمیر تعمیر و ترقی اور کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔
انہوں نے کہا: ’قبل ازیں کشمیر کا سماج ٹکڑوں میں بٹا ہوا تھا لیکن مذکورہ دفعہ کے خاتمے کے بعد سے یہاں تمام طبقوں کے لوگ ایک ساتھ تعمیر و ترقی اور کامیابی کی راہ پر گامزن ہیں اور یہ ابھی شروعات ہی ہیں‘۔
راجناتھ سنگھ نے کہا کہ دفعہ 370 کی تنسیخ سے جموں وکشمیر میں نئی شروعات ہوئیں۔
انہوں نے کہا: ’جموں وکشمیر کے لوگوں نے جموں وکشمیر کے بھارتی یونین میں مکمل طور پر ضم ہونے کو حمایت کی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ آج جموں و کشمیر اور لداخ یونین ٹریٹریز ترقی کر رہی ہیں اور تمام طبقے کے لوگو ں کو ان کے حقوق مل رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ سال1947 میں بھارتی فوج نے دشمنوں کا بھر پور اور موثر جواب دیا جنہوں نے کشمیر پر غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
انہوں نے کہا: ’میں ان انفنٹری ریجمنٹس کو خراج پیش کرتا ہوں جنہوں نے بیش بہا قربانیاں پیش کرکے حملہ آوروں کو واپس دھکیلا‘۔
ان کا کہنا تھا: ’انفنٹری دن ہمیں دشمنوں کو جڑ سے اکھاڑنے اور ملک کی سالمیت کو محفوظ رکھنے کے عہد کو تازہ کرنے کی یاد دلاتا ہے‘۔
انہوں نے ملک کے سرحدوں اور ملک کو تحفظ فراہم کے لئے فوجی جوانوں کے رول کی سراہنا کی۔
جموں و کشمیر
ایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
پہلگام، جیسے جیسے سیاح پہلگام کا رخ کر رہے ہیں، سیاحوں کی مجموعی تعداد بدستور کم ہے کیوں کہ کئی اہم مقامات اب بھی بند ہیں، جن میں بائیسرن چراگاہ بھی شامل ہے، جہاں گزشتہ سال دہشت گردوں نے 25 سیاحوں اور ایک مقامی شہری کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس بندش کی وجہ سے سیاحوں کا اعتماد بحال نہیں ہو سکا ہے۔
22 اپریل کے اس حملے نے نہ صرف 26 جانیں لیں بلکہ ہندوستان اور پاکستان کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ اگرچہ اس کے بعد حالات کچھ بہتر ہوئے ہیں، لیکن پہلگام سے تقریباً 6 کلومیٹر دور واقع بائیسرن چراگاہ، جسے “منی سوئٹزرلینڈ” بھی کہا جاتا ہے، کی مسلسل بندش نے مسافروں کے حوصلے بحال کرنے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا۔
بائیسرن ان درجنوں سیاحتی مقامات میں شامل تھا جنہیں گزشتہ سال دہشت گردانہ حملے کے بعد بند کر دیا گیا تھا، جن میں سے بہت سے مقامات گزشتہ ایک سال کے دوران دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔
اس مشہور سیاحتی مقام کے داخلے پر، حکومت نے ایک یادگار نصب کی ہے جس میں گزشتہ سال کے حملے میں ہلاک ہونے والے تمام 26 افراد کے نام درج ہیں، جن میں مقامی رہائشی عادل شاہ کا نام 22 ویں نمبر پر ہے۔ پہلگام آنے والے سیاح یہاں تصاویر کھنچواتے ہیں، نام پڑھتے ہیں اور پھر دریائے لڈر کی طرف بڑھ جاتے ہیں، جو پہلگام کی وادی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے اور پھر سیر و تفریح کے بعد وہاں سے روانہ ہو جاتے ہیں۔
پہلگام ٹیکسی ڈرائیورز یونین کے صدر غلام نبی نے کہا کہ ”سیاح واپس تو آ رہے ہیں، لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ رات کو قیام نہیں کر رہے۔ اگر وہ یہاں نہیں رکیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ گھڑ سواری یا ٹیکسی کی خدمات استعمال نہیں کریں گے اور ہوٹلوں میں بھی کوئی بکنگ نہیں ہوگی۔”
حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال چار لاکھ سے کچھ زیادہ سیاحوں نے پہلگام کا دورہ کیا، جو کہ سالانہ 12 سے 15 لاکھ کی معمول کی تعداد کے مقابلے میں ایک بڑی گراوٹ ہے۔ متعلقہ افراد اس کمی کی بڑی وجہ بائیسرن اور دیگر قریبی مقامات کی مسلسل بندش کو قرار دیتے ہیں۔
ایک اور مقامی تاجر نے بتایا کہ ”برسوں سے بائیسرن کبھی بند نہیں رہا تھا۔ اسے صرف گزشتہ سال کے حملے کے بعد بند کیا گیا تھا۔ ہم حکومت اور سکیورٹی ایجنسیوں سے اس علاقے کو محفوظ بنا کر دوبارہ کھولنے کی درخواست کر رہے ہیں، لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔ زیادہ تر سیاح خاص طور پر بائیسرن کے لیے آتے ہیں اور جب وہ اسے بند پاتے ہیں تو مختصر دورے کے بعد چلے جاتے ہیں۔”
انہوں نے ایک اور بڑے پرکشش مقام ‘چندن واڑی’ کی بندش کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر دو اہم مقامات بند ہوں گے تو سیاح پہلگام میں کیوں رکیں گے؟ اس سے غلط پیغام جاتا ہے۔”
بیتاب ویلی مرکزی پہلگام کے باہر واحد مقام ہے جو فی الحال کھلا ہوا ہے۔
جاری۔۔۔ یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
جنوبی کشمیر رینج کے ڈی آئی جی نے پلوامہ میں جرائم اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا
سری نگر، جنوبی کشمیر رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس جاوید اقبال مٹو نے پیر کے روز پلوامہ میں جرائم اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا، جس میں انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے چوکسی بڑھانے اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا گیا۔
پلوامہ ضلع پولیس لائنز میں ایس ایس پی پلوامہ تنوشری اور دیگر سینئر افسران کی موجودگی میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاوید اقبال مٹو نے جاری تحقیقات، این ڈی پی ایس مقدمات اور مجموعی سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ خفیہ نیٹ ورک کو مضبوط بنایا جائے، مختلف ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر کیا جائے اور ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطح کی چوکسی برقرار رکھی جائے۔
انہوں نے ضلع میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں اور اینٹی ٹیرر گرڈ کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے موجودہ سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس دوران ملک مخالف عناصر کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان رابطہ بڑھانے، علاقے پر کنٹرول مضبوط کرنے اور خفیہ نظام کو مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔
افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ ہر وقت بلند سطح کی چوکسی برقرار رکھیں اور کسی بھی سکیورٹی چیلنج کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے تیار رہیں۔
یو این آئی۔ اے ایم۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع ادھم پور میں پیر کی صبح رام نگر سے ادھم پور جا رہی ایک بس کے گہری کھائی میں گر جانے سے کم از کم 16 مسافر ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ مسافروں کو لے جانے والی بس ضلع کی رام نگر تحصیل کے کانوٹے موڑ کے قریب حادثے کا شکار ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں 16 مسافر ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔” پولیس، مقامی لوگوں اور فوج کے جوانوں نے حادثے کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ زخمیوں کو ادھم پور کے گورنمنٹ میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا ہے۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے ادھم پور کے ڈی سی منگا شیرپا سے بات کی، کیونکہ ایک گھنٹہ پہلے کانوٹ گاؤں کے قریب رام نگر سے ادھم پور جانے والی ایک مسافر بس کے حادثے کی خبر موصول ہوئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’بچاؤ کی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئی ہیں۔ کئی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔ شدید زخمیوں کو ایئر لفٹ کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔” ڈاکٹر سنگھ نے لکھا کہ وہ مقامی انتظامیہ اور راجندر شرما کی قیادت میں مقامی کارکنوں کی ٹیم کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’’ادھم پور میں ہونے والا سڑک حادثہ انتہائی دردناک ہے۔ میری گہری ہمدردی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔ خدا انہیں صبر عطا فرمائے۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔ میں نے ضلع انتظامیہ، پولیس، ایس ڈی آر ایف اور محکمہ صحت کو متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔”
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا4 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
دنیا4 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
جموں و کشمیر5 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ
جموں و کشمیر4 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا










































































































