تازہ ترین
پروفیسر سٹیفن ہاکنگ اور سائنس کی دنیا ، ذہانت کی صلاحیت سے تبدیلی میں ڈھلا جاسکتا ہے

سمیرہ بی ریشی
سائنس کے آسمان میں چمکتے ستارے کے نظریہ اور سوچ نے جدید علم کائنات (Cosmology) بدل دی اور دنیا میں لاکھوں لوگوں کو حوصلہ بخشنے والا 14مارچ 2018کو 76برس میں انتقال کرگیا۔ پروفیسر سٹیفن ولیم ہاکنگ ایک عظیم سائنسدان اور غیرمعمولی انسان تھے جن کے کام سے بلا لحاظ عمر کے لوگ حوصلہ پاتے رہینگے۔ اپاہج ہونے کے باوجود انہوں نے ثابت کیا کہ وہ ایک معمولی انسان نہیں تھے۔

1962میں پروفیسر سٹیفن ہاکنگ نے کیمبرج یونیورسٹی کے ڈیپارمنٹ آف میتھمٹکس اینڈ تھیوریٹیکل فزیکسDepartment of Applied Mathematics and Theoretical Physics) (DAMTP) )میں کاسمولاجی میں تحقیقات شروع کی اور 1965 میں انہوںنے ’کائنات کے پھیلاﺅ کی خصوصیات‘ (Properties of Expanding Universe )میں کاسمولاجسٹ ڈینس سیامہ کی نگرانی میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ لیکن 1970میں ایک بڑی پیش رفت ہوئی جب انہوںنے ساتھی راجر پنروز نے کائنات میں بلیک ہولز پر ایپلائڈ میتھمٹکس کا استعمال کرکے دکھایا کہ ایک ایسا وسیع لامنتاہی علاقہ خلا میں ہے جہاں جھکاﺅ ہے۔ پروفیسر ہاکنگ پہلے فزیکس دان تھے جنہوں نے بلیک ہولز کے برتاﺅ اور ان کی کائنات میں تخلیق کی وضاحت کی اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ وہ موجودہ دور کے انتہائی ذہین سائنسدان تھے۔
پروفیسر ہاکنگ نے فزیکل تھیوری کے بنیادی شعبوں کو یکساں طور پر اکٹھا کیا، گریوٹیشنل، کاسمولاجی، کانٹم تھیوری، تھرموڈائنامکس اور انفارمیشن تھیوری قابل ذکر ہے۔ پروفیسر ہاکنگ کائنات میں نیا کچھ کھوجنے کے متمنی تھے اور 1959میں جب وہ آکسفرڈ یونیورسٹی میں گریجویشن کر رہے تھے ، انہوںنے کاسمولاجی میں دلچسپی لینی شروع کی۔ برطانیہ میں راجر پنروز اور سابق متحدہ روس کے یاکو ذلڈاوچ کے ہمراہ ہاکنگ نے بلیک ہولز کے تصور پر کام کیا ۔پروفیسر ہاکنگ جنرل ریلیٹوٹی اور بلیک ہولز کی تحقیق میں مصروف رہے۔
جب پروفیسر ہاکنگ تحقیقات کررہے تھے تو وہ ایک خطرناک بیماری amyotrophic lateral sclerosis کے شکار ہوئے جس کی وجہ سے وہ پوری طرح اپاہج بن گئے۔ بیماری اس قدر خطرناک تھی کہ وہ روزمرہ کے کام نہیں کرپاتے لیکن اس کے باوجود بھی انہوں نے اپنے من پسند موضوع پر کام کرنا جاری رکھا اورمعذوری ان کیلئے کوئی بہانہ نہیں بنا۔
ہاکنگ نے سیکامہ کی نگرانی میں Big Bang تھیوری پر کام کرنا شروع کیا۔ بگ بینگ تھیوری کے مطابق کائنات کا وجود ذرے سے شروع ہوئی جو پھیلتی گئی اور آج اس تھیوری کو پوری دنیا میں تسلیم کیا جاتاہے۔ ہمارے لئے بگ بینگ سے کائنات کا وجودایک پُراسرار ہے لیکن پروفیسر ہاکنگ کیلئے یہ بلیک ہول الٹے میں گرنا تھا۔
پروفیسر ہاکنگ نے کائنات کے پوشیدہ رازوں کو جاننے کیلئے انتھک کام کیا ۔ انہوں نے تحقیق کے دوران دکھایا کہ بلیک ہول کے حجم میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ کبھی حجم میں گھٹتے نہیں ہیں۔ بلیک ہول کے قریب سے گزرنے والی چیز اس میں سماجاتی ہے اور اس طرح وزن اور مادہ بڑھ جاتا ہے۔
پروفیسر ہاکنگ بلیک ہول کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے میں دلچسپی اور پوشیدہ رازوں سے پردہ ہٹانے میں دلچسپی لیتے تھے ۔ ہاکنگ نے تحقیق کے دوران دکھایا کہ بلیک ہول آپس میں ٹکرانے سے کبھی بھی چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم نہیں ہوتے تاہم بعد میں انہوںنے اپنی تھیوری کو غلط ثابت کیا۔ انہوں نے بلیک ہول کی مزید تحقیق کی اور دکھایا کہ بلیک ہول چھوٹے ہوسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں انہوںنے ایک تھیوری دی جسے ’ہاکنگ ریڈیشن‘ ( Hawking Radiation) کہا جاتا ہے، اسے 1974میں رسالہ ’نیچر‘میں شائع کیا حالانکہ یہ تھیوری اُس وقت ایک جھٹکا اور متنازعہ تھی لیکن آج کل بہت سارے فزیکس دان یہ یقین کرتے ہیں کہ ہاکنگ ریڈیشن حقیقت میں ہیں اور بلیک ہول انہیں خارج کرینگے۔
پروفیسر ہاکنگ 8 جنوری1942کو آکسفرڈ انگلینڈ میں پیدا ہوئے اور ان کے والدین کا گھر شمالی لندن میں تھا۔ جب وہ8برس کے تھے تو ان کا کنبہ شمالی لندن سے 20میل دور سٹفن البانسمنتقل ہوا۔ 11سال کی عمر میں سٹیفن سٹیفن البانس سکول گئے اور 1952میں یونیورسٹی کالج آکسفرڈ گئے۔
ان کے کام میں The Large Scale Structure of Spacetime with G F R Ellis, General Relativity: An Einstein Centenary Survey with W Israel and 300 Years of Gravitation with W Israel. However, his popular books include the bestseller A Brief History of Time, Black Holes and Baby Universes شامل ہے۔
افسوس! یہ انتہائی ذہین شخص آج ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ وہ اکیلے تو چلے گئے لیکن انہوںنے سائنس کی دنیا کیلئے بہت کچھ چھوڑا ہے۔ الوداع پروفیسر سٹیفن ہاکنگ الوداع، اگلے بگ بینگ ہونے تک آپ کو لوگ یاد کرتے رہینگے۔
دنیا
غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری، متعدد فلسطینی شہید
رام اللہ، غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہو گئے، جس کی تصدیق فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے کی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق طبی ذرائع نے بتایا کہ وسطی غزہ کے البریج کیمپ میں اسرائیلی فوج کے حملے کے نتیجے میں ایک شخص شہید ہوا، جبکہ غزہ سٹی میں ایک اور حملے میں ایک شخص شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ بعد ازاں جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مغربی علاقے میں ہونے والے فضائی حملے میں مزید تین افراد شہید ہو گئے، جس کی تصدیق ناصر ہسپتال کے حکام نے کی۔
یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سالہ جنگ کے بعد اکتوبر میں امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، تاہم اس کے اہم نکات پر عملدرآمد کے حوالے سے پیش رفت تعطل کا شکار ہے۔ دوسری جانب الجزیرہ ٹی وی کے ایک حالیہ سیٹلائٹ تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں اپنے فوجی اڈوں اور انفرااسٹرکچر میں بڑے پیمانے پر توسیع شروع کر دی ہے۔
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ میں نئے فوجی اڈے، چوکیاں اور سڑکوں کا جال بچھا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق غزہ میں کم از کم 13 نئی فوجی آؤٹ پوسٹس (چوکیوں) کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ان تعمیرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ میں طویل المدتی موجودگی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے نہ صرف نئے اڈے قائم کیے ہیں بلکہ موجودہ فوجی تنصیبات کو بھی پہلے سے زیادہ مضبوط اور وسیع کر لیا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق خان یونس اور سرحدی علاقوں میں فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کئی علاقوں میں فلسطینیوں کی رہائشی عمارتوں کو مسمار کر کے وہاں فوجی تنصیبات قائم کی جا رہی ہیں۔ حیران کن طور پر، جنگ بندی کے بعد بھی ان تعمیراتی سرگرمیوں میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ کام تیزی سے جاری رہا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے دارالحکومت تہران کے ہوائی اڈے دوبارہ کھول دیے
تہران، تہران کے امام خمینی اور مہر آباد ہوائی اڈوں کو آپریشنل کر دیا گیا ہے۔
ایران کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت تہران کے دو بڑے ہوائی اڈوں، امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور مہرآباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، پر مسافر پروازوں کی بحالی کی اجازت دے دی گئی ہے، جس کا آغاز پیر سے ہو گیا ہے۔
نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اتھارٹی نے کہا کہ ارمیہ، کرمانشاہ، آبادان، شیراز، اور کرمان ایئر پورٹ کو بھی جلد کھول دیا جائے گا، رشت، یزد، زاہدان، گورگان، بیرجند کے ہوائی اڈے بھی اس ہفتے سے کھل سکتے ہیں۔
ایران نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ شمال مشرقی صوبے خراسان رضوی کے مشہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں اگلے دن دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔ ایران نے ہفتے کے روز اپنی مشرقی فضائی حدود بین الاقوامی پروازوں کے لیے دوبارہ کھول دی تھیں، جس سے ہوائی اڈوں کی جزوی بحالی کی راہ ہموار ہوئی۔ ایران نے 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی، جس کے باعث ملک بھر میں شہری ہوا بازی کی سرگرمیاں معطل ہو گئی تھیں۔
فضائی حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی فوجی اور سول ادارے تکنیکی اور آپریشنل تیاریاں مکمل کر لیں گے، ایرانی ہوائی اڈوں پر پروازوں کا نظام بتدریج معمول پر آ جائے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
مخالفین کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کا فیصلہ کن جواب دینے کیلئے تیار ہیں: سربراہ خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر
تہران، ایرانی فوج کی مشترکہ کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے سربراہ جنرل عبداللّہی نے کہا ہےکہ ایران مخالفین کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیارہے۔
ایک بیان میں جنرل عبداللّہی نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول مضبوط ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو زمینی صورتحال کے بارے میں غلط بیانیہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران مخالفین کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کافوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ادھر ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے دوبارہ حملوں کا امکان نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، ایرانی جہاز کے خلاف اقدام کا یقینی طور پر جواب دیا جائے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا4 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا4 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
جموں و کشمیر4 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
جموں و کشمیر5 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک










































































































