Connect with us

تجزیہ

پنچائت چناؤ غیرسیاسی ہوں

Published

on

عاصم محی الدین

سرمائی دارالحکومت میں گذشتہ مہینے ریاستی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے گورنر این این وہرا سے بند کمرے میں ملاقات کی۔ انہوں نے میٹنگ میں ریاست کے حالات پر تبادلہ خیال کیا تاہم پنچایتی چناؤ منعقد کرانے کا ایجنڈا سرفہرست تھا۔ سیکریٹریٹ واپس آنے کے بعد وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ ریاست میں 15فروری سے پنچائتی چناؤ منعقد ہونگے۔ چناؤ کی تاریخ کا اعلان کے بعد حکومت نے انتخابات منعقد کرانے کیلئے اہلکاروں اور مشینری کو متحرک کردیا جو کہ طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔ ریاست میں آخری پنچائتی چناؤ 2011میں منعقد ہوئے حالانکہ نامساعدحالات اور علیحدگی پسندوں کے بائیکاٹ کال کے باوجود بھی لوگوں نے انتخابات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ ووٹ ڈالنے والے دیہاتی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اوراس کومذاکرات کے ذریعہ ہی حل کیاجاسکتا ہے تاہم ان کا اسرار ہے کہ ووٹ ڈالنے کی وجوہات روز مرہ کے مسائل جیسے پانی،بجلی اور سڑک ہے۔ پنچائت کی مدت 2016میں ختم ہوگئی اور حکومت نئے چناؤ کرانے کی منصوبہ بندی کررہی تھی لیکن وادی میں حزب کمانڈر برہانی وانی کی موت کے بعد حالات قابو سے باہر ہوگئے جس کے دوران 95افراد مارے گئے ، ہزاروں زخمی ہوئے اور سنگین حالات کے پیش نظر حکومت نے انتخابات کو ملتوی کیا۔ 2017میں سرینگر لوک سبھا سیٹ کے انتخاب کے دوران حالات پھر خراب ہوئے اور عوام پولنگ سٹیشنوں سے دور رہے جس کے باعث پنچائتی چناؤ پھر نہیں ہوسکے۔ پُرتشدد واقعات کی وجہ سے حکومت نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور مرکزی وزارت داخلہ سے صلح و مشورہ کے بعد اننت ناگ لوک سبھا سیٹ کیلئے چناؤ کرانا منسوخ کیا ۔ یہ سیٹ محبوبہ مفتی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد خالی ہوگئی ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وادی میں موجودہ سنگین حالات،جس میں جنگجو مخالف کاروائیاں اور معرکہ آرائیاںآئے روز ہورہی ہیں،حکومت پنچائت چناؤ کرانے کا فیصلہ کرچکی ہے حالانکہ متعدد سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت کررہی ہیں۔ ریاست کی بڑی سیاسی جماعتوں این سی،کانگریس، برسراقتدار بی جے پی، پی ڈی پی اور پی سی نے پہلے ہی کارکنوں کو چناؤ میں حصہ لینے کیلئے تیار کرنے کو کہا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ چناؤ کو مرحلہ وار بنیادوں پر انجام دیا جائیگا۔ چناؤ پہلے ان جگہوں میں منعقد ہونگے جہاں صورتحال پرامن ہے خاص کر جموں اور شمالی کشمیر کے علاقوں میں۔ سرکاری اہلکاروں کاکہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد جنوبی کشمیر میں چناؤ ہونگے حالانکہ وہاں ابھی بھی حالات پُرتناؤ ہیں۔ علیحدگی پسندوں اورجنگجوؤں نے لوگوں کو چناؤ سے دور رہنے کیلئے خبردار کیا ہے،حزب المجاہدین نے ووٹ ڈالنے والوں کیخلاف تیزاب استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے۔ حزب المجاہدین آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو اپنے کمانڈر سمیر ٹائیگر کو ایک آڈیوبیان میں کہتا ہے کہ جو لوگ چناؤ میں حصہ لینگے، ان کی آنکھوں میں تیزاب ڈالاجائے۔ ریاض نائیکو کے بیان میں سنا جاسکتا ہے کہ 2016میں چھروں سے کئی نوجوانوں کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی اور کئی نوجوانوں نے اپنی زندگیاں کھودیں اور جو چناؤ لڑینگے ، ان کابھی ایسا ہی حال کیاجائیگا۔ صوتی کلپ میں نائیکو دوسرے کمانڈر سے کہتا ہے کہ اس بار چناؤ میں حصہ لینے والوں کونہ مارا جائیگا اور نہ ہی ان کی مارپیٹ کی جائے گی بلکہ ’ہم ان کے گھروں میں جاکر ان کی آنکھوں میں تیزاب ڈالینگے تاکہ وہ عمر بھرکیلئے اپنے کنبوں پر بوجھ بنے رہیں‘۔نائیکو کاکہنا ہے کہ لوگ پنچائتی چناؤ کے اثرات کے بے خبر ہیں اور انہیں سیاسی ایجنٹ اپنے مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ علیحدگی پسند لیڈر سید علی گیلانی نے بھی لوگوں سے پنچائتی چناؤ سے دور رہنے کو کہا ہے۔ چناؤ میں حصہ لینے والوں کی آنکھوں میں حزب کے تیزاب ڈالنے پر نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹویٹ کرکے جنگجوؤں کی نکتہ چینی کی ہے۔ ’یہ پیلٹ نہیں ایسڈ ہے، کسی نہ کسی طریقے سے لوگوں کو اندھا بنانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں‘۔سرکاری اہلکاروں کاکہناہے کہ ریاست میں 4500پنچائتوں کا چناؤ ہوگا اور یہ تعداد 2011میں کئے گئے چناؤ سے زیادہ ہے جو ایک سال بعد منعقد ہوئے، جس کے دوران جنوبی کشمیر میں 3نوجوانوں کی ماورائے عدالت ہلاکت ہونے کے بعد حالات خراب ہوئے ۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے پنچائت چناؤ کرانے کے اعلان کے بعد جموں میں ایک تقریب میں کہاکہ پنچائت چناؤ کے بعد حکومت ریاست میں میونسپل چناؤ کرانے کا سوچ رہی ہے۔ پنچائتی چناؤ منعقد کرانے کے حکومتی فیصلہ کے تناظر میں سراغرساں ایجنسیوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ریاست اور خاص کر وادی میں انتخاب کرانے سے حالات خراب ہونگے ۔200سے زائد مقامی اور غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی سے چناؤ کو خطرہ ہے اور خاص کر شمالی کشمیر میں جہاں برہانی وانی کے مارے جانے کے بعد متعدد مقامی نوجوانوں نے بندوق اٹھاکر جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے تاہم حکومت چناؤ کرانے کیلئے کمربستہ دکھائی دے رہی ہے۔ چند ہفتہ قبل جموں میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی سربراہی میں یونیفائڈ ہائی کمانڈ کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں فوج کے اعلیٰ افسران اور سیکورٹی ایجنسیوں کے سربراہوں نے شرکت کی اور ریاستی کی مجموعی صورتحال پر غوروخوض ہوا۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ میٹنگ میں پنچائت انتخابات کیلئے سیکورٹی سرفہرست رہی اور چناؤ کیلئے حفاظتی انتظامات کے بارے میں اعلیٰ افسران سے رپورٹ حاصل کیں۔ چناؤ منعقدکرانے سے قبل سرکار کی ذمہ داری لوگوں کی حفاظت ہے جبکہ ماضی میں منعقدہوئے انتخابات کے دوران تشدد میں اضافہ ہوا ۔سیاسی تجزیہ کاروں کاماننا ہے کہ حالات قابو سے باہر ہونگے جس طرح سرینگر پارلیمنٹ سیٹ کے ضمنی چناؤ کے دوران گذشتہ برس ہوئے اور ووٹ ڈالنے کے دن کئی شہری جان گنوابیٹھے۔ متعدد ایجنسیوں کی طرف سے فیڈبیک ملنے کے باوجود الیکشن کمیشن نے چناؤ منعقد کرائے اور کئی شہری مارے گئے ۔اس بار حکومت کو چاہئے کہ وہ سنجیدگی سے سیکورٹی حالات کا مشاہدہ کریں اور جہاں الیکشن منعقد کرانے کیلئے حالات موزوں نہیں ہیں وہاں صورتحال کو مد نظر رکھنے کے بعد ہی چناؤ کو ہری جھنڈی دکھائے ۔انتخابی عمل کیلئے حکومت اپنی آنکھیں بند نہیں کرسکتی۔ جنگجو قیادت کو یہ احساس کرنا چاہئے کہ پنچائت چناؤ میں حصہ لینے والے لوگ عام شہری ہیں اور انہیں مارنے سے ان کا کوئی مقصد پورانہیں ہوگا اور نہ وہ حکومت پر دباؤ بناسکتے ہیں۔ لوگ پنچائتی چناؤ میں اپنے روزمرہ مسائل حل کرنے اور بنیادی ضروریات کوکم کرنے کیلئے حصہ لیتے ہیں تاکہ سیاستدانوں پر انحصار کم ہو۔ اگر حکومت پنچائت چناؤ کو کامیابی اور عوامی شرکت کویقینی بناناچاہتی ہے اس کیلئے سیکورٹی اورسیاسی تجزیہ نگاروں کا ریاست اور مرکز کو مشورہ ہے کہ وہ پنچائت انتخابات کو سیاست کی نظر نہ کریں اورآخرکار عوام کو ہی اس کا خمیازہ بھگتناپڑتا ہے۔ چناؤ میں لوگوں کی بھاری شرکت کو بعض اوقات ریاست اور مرکزی حکومت ڈھول پیٹنے میں استعمال کرتی ہے اور علیحدگی پسندوں کی اہمیت کم کرنے کیلئے بھاری عوامی شرکت کو مختلف وجوہات دیتی ہے۔ 25ہزار پنچوں اور سرپنچوں کی تنظیم جموں وکشمیر پنچائت کانفرنس نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان چناؤ کوسیاست کیلئے استعمال نہ کریں اور کہا کہ وہ مناسب سیکورٹی کی فراہمی کے بعد ہی چناؤ میں حصہ لینگے۔ پنچائت کانفرنس کے چیئرمین شفیق میر نے کہاکہ ’ہم پنچائتی چناؤ میں حصہ لینے کیلے تیار ہیں لیکن ریاستی حکومت کو پرامن ماحول کو یقینی بنانا ہوگا‘۔ متعدد بار پنچائت ممبران خصوصی طور پر سرپنچوں کو سیکورٹی فراہم نہ کرنے سے وہ لنگڑے بن جاتے ہیں۔ شفیق میر نے بی جے پی اور پی ڈی پی مخلوط حکومت پر علاقائی، مذہبی اور سیاسی جذبات کااستحصال کرکے امن کو تباہ کرنے کاالزام عائد کیا۔ انہوں نے کہاکہ ’دونوں جماعتوں کے اقتدار میں آنے کے بعد یو ٹرن لینے سے عوام میں جمہوری اداروں سے پوری طرح اعتماد اٹھ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ 5برسوں کے دوران 15سرپنچ اور پنچ مارے گئے اور 2 درجن پنچائت لیڈران حملوں میں زخمی ہوئے۔ شفیق میر نے کہاکہ ان ہلاکتوں کی ذمہ داری حکومت پرہے اور بار بار گذارشات کے باوجودبھی سیکورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ ہزاروں پنچائت ممبران کو اگرچہ سیکورٹی فراہم کرنا ناممکن ہے تاہم ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو پنچائت چناو کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کرنا چاہئے۔ یہ چناؤ غیر سیاسی جماعتوں کی بنیادوں پر منعقدہورہے ہیں اور حکومت کویہ واضح کرنا چاہئے کہ وہ ان چناؤ کے ذریعہ فنڈوں کی فراہمی کیلئے ایک طریقہ کار پورا کررہی ہے۔ گذشتہ پنچائتی چناؤ میں پنچوں اور سرپنچوں کی بڑی تعداد ہونے کے باوجودان کو اختیارات نہیں دئے گئے جس کے سبب ان کا پنچائتی نمائندہ بننابے کارہوگیا۔ اس بار پنچائتی ممبران کو بااختیار بنایاجاناچاہئے تاکہ وہ زمینی سطح پر کئے جانے والے وعدوں کو پوراکرسکیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تجزیہ

اگر حکومت کو پہلے ہی معلوم تھا تو بل کیوں پیش کیا گیا؟

Published

on

اگر وزیرِاعظم Narendra Modi کی حکومت کو، جیسا کہ قائدِ حزبِ اختلاف Rahul Gandhi نے دعویٰ کیا، یہ علم تھا کہ آئین (131ویں ترمیم) بل لوک سبھا میں مطلوبہ خصوصی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث ناکام ہو جائے گا، تو پھر اسے پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

حقیقت یہ ہے کہ ایک “ناکام ہونے والا” بل بھی قانون بننے سے آگے کئی مقاصد پورے کر سکتا ہے—جیسے ایجنڈا طے کرنا، عوامی بحث کا رخ موڑنا، اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا، اور وقت کے ساتھ پالیسی خیالات کو معمول کا حصہ بنانا۔ مبصرین کے مطابق، ایسے بل کو متعارف کرانے کے کئی عملی اور سیاسی محرکات ہوتے ہیں، چاہے اس کی کامیابی کے امکانات کم ہی کیوں نہ ہوں۔

سب سے پہلے نیت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ بل پیش کرکے حکومت نے اپنے حامیوں—خصوصاً خواتین، جو وزیرِاعظم مودی کا ایک مضبوط ووٹ بینک سمجھی جاتی ہیں—کو یہ پیغام دیا کہ بی جے پی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ حتیٰ کہ مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود، یہ قدم انتخابی مہمات میں عوامی رائے ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسرا پہلو اپوزیشن پر دباؤ ڈالنا ہے۔ پارلیمان میں باضابطہ بحث نے تمام جماعتوں کو اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے پر مجبور کیا، جس سے حکمران جماعت کو یہ بیانیہ بنانے کا موقع ملا کہ اس نے اصلاحات کی کوشش کی مگر مخالفین نے اسے ناکام بنایا۔ بل کی ناکامی کے بعد بی جے پی رہنماؤں نے اپوزیشن کو “خواتین مخالف” قرار دیتے ہوئے اسی بیانیے کو مزید تقویت دی۔

آئین (131ویں ترمیم) بل کی ناکامی کے بعد، جس کا مقصد 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر 2029 کے انتخابات تک خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنا تھا، پارلیمانی امور کے وزیر Kiren Rijiju نے دو متعلقہ بل—یونین ٹیریٹوریز لاز (ترمیمی) بل 2026 اور ڈیلیمیٹیشن بل 2026—بھی واپس لے لیے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اس نے خواتین کے حقوق کی حمایت کا ایک اہم موقع ضائع کر دیا۔ این ڈی اے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج بھی کیا اور اپوزیشن کے خلاف بیانات دیے۔

بی جے پی نے اس شکست کو محض عددی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بنا کر پیش کیا، اور خود کو وزیرِاعظم مودی کی قیادت میں خواتین کو بااختیار بنانے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، کانگریس، راہل گاندھی اور دیگر جماعتوں جیسے سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کو صنفی مساوات کی اصلاحات کی مخالفت کرنے والا دکھایا گیا۔ بحث کے دوران وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ Amit Shah نے کہا کہ “ملک کی خواتین انہیں معاف نہیں کریں گی” — ایک ایسا پیغام جو آئندہ سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایک اور امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عمل نے مستقبل میں مذاکرات اور ترامیم کی گنجائش پیدا کی ہو۔ اس سے حکومت کو پارلیمانی اعداد و شمار اور مختلف جماعتوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کے مؤقف کا اندازہ لگانے کا موقع ملا ہوگا، جس کی بنیاد پر آئندہ قانون سازی کی حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکتی ہے—اگرچہ بعض مبصرین کے نزدیک بی جے پی قیادت کی حکمتِ عملی کو دیکھتے ہوئے یہ امکان کمزور دکھائی دیتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، این ڈی اے کو بل کے حق میں 298 ووٹ ملے جبکہ انڈیا اتحاد نے 230 ووٹ حاصل کیے، جبکہ بل کی منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے۔ کیا حکومت کو اس کا علم نہیں تھا؟ یہ بعید از قیاس لگتا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی یہی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے سے زیادہ ایک سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا—خاص طور پر حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشے میں تبدیلی لانا اور جنوبی و چھوٹی ریاستوں کے حقوق کو متاثر کرنا، جبکہ ہندی بیلٹ کو فائدہ پہنچانا، جو بی جے پی کا اہم ووٹ بینک ہے۔

راہل گاندھی کے مطابق، اس اقدام کے دو بنیادی مقاصد تھے: “پہلا، بھارت کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنا، اور دوسرا، وزیرِاعظم کو خواتین دوست رہنما کے طور پر پیش کرنا۔”

Continue Reading

تجزیہ

کاربن کے اخراج، درخت کاری اور حیاتیاتی تنوع: موسمیاتی حکمتِ عملی کے درمیان توازن کی تلاش

Published

on

خصوصی مضمون: ظفر اقبال

دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نہ صرف واضح ہو چکے ہیں بلکہ تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں، بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور حیاتیاتی تنوع کا زوال یہ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ انسان کو اپنی ترقی کے ماڈل پر نظرثانی کرنا ہوگی، کاربن کے اخراج کو کم کرنا اس جدوجہد کا بنیادی جزو ہے، لیکن موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف اخراج میں کمی کافی نہیں ہوگی۔ ہمیں فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو نکالنے کے مؤثر طریقے بھی اپنانے ہوں گے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کاربن کو ہٹانے کے لیے درخت لگانا ہمیشہ فائدہ مند ہوتا ہے؟ یا یہ بعض حالات میں ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے؟ حالیہ سائنسی تحقیق اس پیچیدہ سوال کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے، خاص طور پر جب بات حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کی ہو۔

دنیا بھر میں انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہر سال تقریباً 42 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہو رہی ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ جیواشم ایندھن (fossil fuels) جیسے کوئلہ، تیل اور گیس کے استعمال سے آتا ہے، جبکہ زمین کے استعمال میں تبدیلی—جیسے جنگلات کی کٹائی—بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اگرچہ مختلف ممالک نے اخراج کم کرنے کے وعدے کیے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر اخراج میں اب بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف اخراج کو کم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ہمیں ‘نیٹ زیرو’ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کاربن کو فضا سے نکالنا بھی ہوگا۔

پیرس معاہدہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کو نہ صرف اخراج میں بڑی حد تک کمی لانی ہوگی بلکہ کاربن ہٹانے کی ٹیکنالوجیز اور حکمت عملیوں کو بھی بڑے پیمانے پر اپنانا ہوگا۔

لیکن یہاں ایک چیلنج ہے۔کاربن کو ہٹانے کے لیے استعمال ہونے والے طریقے خود ماحول پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر اگر انہیں بغیر منصوبہ بندی کے اپنایا جائے۔

کاربن کو ہٹانے کے کئی طریقے زیرِ غور ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

(اول) درخت لگانا: درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور اسے اپنے اندر ذخیرہ کرتے ہیں۔ اس لیے درخت کاری کو سب سے قدرتی اور سستا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

(دوم) توانائی کی فصلیں (Bioenergy Crops): ایسی فصلیں اگائی جاتی ہیں جنہیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے، اور پھر ان کے جلنے سے پیدا ہونے والے کاربن کو پکڑ کر ذخیرہ کیا جائے۔

(سوم) کاربن کیپچر اور اسٹوریج (CCS): صنعتی ذرائع سے نکلنے والے کاربن کو پکڑ کر زمین کے اندر محفوظ کرنا۔

(چہارم) ڈائریکٹ ایئر کیپچر (DAC): جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فضا سے براہِ راست کاربن کو نکالنا۔

ان میں سے سب سے زیادہ زیرِ بحث طریقہ درخت لگانا ہے، کیونکہ یہ فطری اور نسبتاً آسان ہے۔ لیکن اس کے بھی کئی پیچیدہ پہلو ہیں۔

بظاہر درخت لگانا ایک بہترین حل معلوم ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف کاربن کو جذب کرتا ہے بلکہ مٹی کو محفوظ رکھتا ہے، پانی کے چکر کو بہتر بناتا ہے اور ماحولیاتی نظام کو مستحکم کرتا ہے۔ لیکن جب اسے بڑے پیمانے پر نافذ کیا جاتا ہے، تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

بڑے پیمانے پر درخت لگانے کے لیے لاکھوں مربع کلومیٹر زمین درکار ہوتی ہے۔ یہ زمین کہاں سے آئے گی؟ اکثر یہ زرعی زمین یا قدرتی گھاس کے میدان (grasslands) ہوتی ہے، جو خود بھی اہم ماحولیاتی نظام ہیں۔

اگر ایک ہی قسم کے درخت بڑے پیمانے پر لگائے جائیں (monoculture plantations)، تو یہ مقامی پودوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس سے حیاتیاتی تنوع کم ہو جاتا ہے۔

کچھ درخت بہت زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں، جس سے مقامی آبی وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ زمین کے استعمال میں تبدیلی سے مقامی لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر کسانوں اور چرواہوں کی۔

حالیہ مطالعات میں سائنسدانوں نے مختلف موسمیاتی منظرناموں کا تجزیہ کیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کاربن ہٹانے کی حکمت عملیوں کا حیاتیاتی تنوع پر کیا اثر پڑتا ہے۔

انہوں نے عالمی نقشوں کو استعمال کرتے ہوئے یہ دیکھا کہ مستقبل میں کہاں درخت لگائے جائیں گے یا توانائی کی فصلیں اگائی جائیں گی، اور یہ علاقے حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے کتنے حساس ہیں۔

بہت سے ایسے علاقے جہاں درخت لگانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں۔ اگر ان علاقوں میں غیر مقامی درخت لگائے جائیں، تو مقامی ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔کچھ علاقوں میں درخت لگانا فائدہ مند ہو سکتا ہے، خاص طور پر جہاں پہلے جنگلات موجود تھے اور انہیں بحال کیا جا سکتا ہے۔

کاربن ہٹانے اور حیاتیاتی تنوع کے درمیان تعلق کو دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔درخت لگانے سے کاربن تو کم ہو سکتا ہے، لیکن حیاتیاتی تنوع متاثر ہو سکتا ہے۔ زرعی زمین کو جنگل میں تبدیل کرنے سے خوراک کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔

مقامی انواع کے درخت لگانے سے دونوں اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جنگلات کی بحالی (restoration) سے کاربن ذخیرہ بھی ہوتا ہے اور حیاتیاتی تنوع بھی بڑھتا ہے۔

ان چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے، ماہرین درج ذیل حکمت عملی تجویزکرتے ہیں۔

درخت لگاتے وقت مقامی پودوں کو ترجیح دی جائے۔حساس ماحولیاتی علاقوں کو محفوظ رکھا جائے۔مقامی لوگوں کو منصوبوں میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے مفادات کا تحفظ ہو۔ صرف درخت لگانے پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مختلف طریقوں کو یکجا کیا جائے۔

موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی مسئلہ ہے۔ کاربن کو ہٹانا اس کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن اسے اکیلے حل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

ہمیں ایک متوازن نقطہ نظر اپنانا ہوگا جس میں: کاربن کا اخراج (removal)، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، سماجی و اقتصادی انصاف سب کو یکجا کیا جائے۔

درخت لگانا ایک بہتر حل ہو سکتا ہے، لیکن یہ کوئی جادوئی حل نہیں ہے۔ اگر اسے بغیر سوچے سمجھے اپنایا جائے تو یہ ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سائنسی شواہد کی بنیاد پر فیصلے کریں اور ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف کاربن کو کم کریں بلکہ زمین کے حیاتیاتی نظام کو بھی محفوظ رکھیں۔مستقبل کی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کریں —ایسا توازن جو انسان اور فطرت دونوں کے لیے فائدہ مند ہو۔

(یواین آئی)

Continue Reading

تجزیہ

فلم گیت گایا پتھروں کے بعد جیتندر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے

Published

on

ممبئی، 7 اپریل (یواین آئی) بالی ووڈ کے مشہور اداکار جتیندرآج 84 سال کے ہوگئے 7 اپریل 1942 کو ایک جوہری خاندان میں پیدا ہونے والے جتیندرکا بچپن سے ہی فلموں کی جانب رجحان تھا اور وہ اداکار بننا چاہتے تھے۔ وہ اکثر گھر سے بھاگ کر فلم دیکھنے جایا کرتے تھے۔ جتیندرنے اپنے سنیما کیریئر کی شروعات 1959 میں ریلیز ہونے والی فلم نورنگ سے کی جس میں انہیں ایک چھوٹا سا کردار ادا کرنے کا موقع ملا تقریباً پانچ سال تک جتیندرفلم انڈسٹری میں اداکار کے طور پر کام حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ 1964 میں انہیں شانتارام کی فلم گیت گایا پتھروں نے میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم کے بعد جیتندر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔

1967 میں جتیندرکی ایک اور سپرہٹ فلم فرض ریلیز ہوئی۔ روی کانت ناگائچ کی ہدایتکاری میں بنی اس فلم میں جتیندرنے ڈانسنگ اسٹار کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں ان پر فلمایا گیا گانا مست بہاروں کا میں عاشق شائقین اور سامعین کے درمیان بہت مقبول ہوا۔ اس فلم کے بعد جتیندرکو “جمپنگ جیک” کہنا شروع کر دیا گیا۔

فرض کی کامیابی کے بعد ڈانسنگ اسٹار کے طور پر جتیندرکی شبیہ بن گئی۔ اس فلم کے بعد پروڈیوسرز اور ہدایتکاروں نے بیشتر فلموں میں ان کی ڈانسنگ شبیہ کو اجاگر کیا۔ پروڈیوسروں نے جتیندرکو ایک ایسے ہیرو کے طور پر پیش کیا جو رقص کرنے میں ماہر ہو۔ ان فلموں میں ہمجولی اور کارواں جیسی سپرہٹ فلمیں شامل ہیں۔ اس دوران جتیندرنے جینے کی راہ، دو بھائی اور دھرتی کہے پکار کے جیسی فلموں میں ہلکے پھلکے کردار ادا کر کے اپنی ہمہ جہت صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا۔

سال 1973 میں ریلیز ہونے والی فلم جیسے کو تیسا کے ہٹ ہونے کے بعد فلم انڈسٹری میں ان کے نام کے ڈنکے بجنے لگے اور وہ ایک کے بعد ایک مشکل کردار ادا کرتے ہوئے فلم انڈسٹری میں اپنا مقام بناتے گئے۔ 70 کی دہائی میں جتیندرپر یہ الزام لگنے لگا کہ وہ صرف ناچ گانے سے بھرپور رومانوی کردار ہی ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں اس شبیہ سے نکالنے میں پروڈیوسر اور ہدایتکار گلزار نے مدد کی اور ان کے ساتھ پریچے، خوشبو اور کنارا جیسی فیملی فلمیں بنائیں ۔ ان فلموں میں جتیندرکی سنجیدہ اداکاری دیکھ کر ناظرین حیران رہ گئے۔

جتیندرکے سنیما کیریئر پر نظر ڈالنے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ ملٹی اسٹارر فلموں کا اہم حصہ رہے ہیں۔ فلم انڈسٹری کے رنگین پردے پر جیتندر اور ریکھا کی جوڑی کو خوب پسند کیا گیا۔ 80 کی دہائی میں ان کی جوڑی سری دیوی اور جیا پردا کے ساتھ بھی کافی مقبول ہوئی۔ اپنے منفرد ڈانس اسٹائل کی وجہ سے اس جوڑی کو ناظرین نے بے حد پسند کیا۔

سال1982 سے 1987 کے درمیان جتیندر نے جنوبی ہندوستان کے فلم ساز ٹی راماراو، کے باپّیا کے راگھووندرا راؤ وغیرہ کی فلموں میں بھی کام کیا۔ 2000 کی دہائی میں فلموں میں اچھا رول نہ ملنے پر انہوں نے فلموں میں کام کرنا کم کر دیا۔ اس دوران وہ اپنی بیٹی ایکتا کپور کو چھوٹے پردے پر پروڈیوسر کے طور پر قائم کرنے میں ان کے رہنما بنے رہے۔ان دنوں وہ اپنی بیٹی ایکتا کپور کو فلم پروڈکشن میں مددکر رہے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement
ہندوستان20 minutes ago

خواتین ریزرویشن کے نفاذ کی خواہش مند نہیں مودی حکومت: کانگریس

دنیا1 hour ago

امریکہ “سرینڈر” چاہتا ہے لیکن ایرانی قوم طاقت کے آگے سر نہیں جھکاتی: مسعود پزشکیان

دنیا3 hours ago

ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا تو اسے ‘بے مثال مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا: ٹرمپ

دنیا3 hours ago

ٹرمپ اپنے تصورات میں مذاکرات کی ٹیبل کو سرنڈر ٹیبل بنا رہے ہیں، باقر قالیباف

دنیا3 hours ago

ٹرمپ امریکہ کو ایک اور تباہ کن ڈیل میں نہیں جھونکیں گے: وائٹ ہاؤس

دنیا3 hours ago

مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے: ابراہیم عزیزی

دنیا4 hours ago

ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا تو اسے ‘بے مثال مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا: ٹرمپ

دنیا5 hours ago

برطانیہ اور فرانس اپنی جوہری صلاحیتوں میں اضافہ کر کے ہتھیاروں کی دوڑ شروع کر رہے ہیں: روس

دنیا5 hours ago

معاہدہ طے پانے تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں سے ناکہ بندی نہیں ہٹائے گا: ٹرمپ

دنیا17 hours ago

امریکہ پر انحصار اب ’کمزوری‘ بن گیا ہے: کینیڈین وزیرِ اعظم

جموں و کشمیر17 hours ago

جنوبی کشمیر رینج کے ڈی آئی جی نے پلوامہ میں جرائم اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا

دنیا17 hours ago

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تجارتی معاہدے پر بات چیت پیر سے شروع

دنیا18 hours ago

شریف، پیزیشکیان کی فون پر بات چیت، امن کی کوششیں جاری رکھنے کا عزم

دنیا20 hours ago

ایران امریکہ جنگ بندی کا کل آخری دن! توسیع کے لیے سفارتی رابطوں میں تیزی

دنیا21 hours ago

شہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر

دنیا21 hours ago

ایران پہلے کے مقابلے میں زیادہ متحد ہے: ایرانی سفیر

دنیا21 hours ago

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

دنیا21 hours ago

جنگ کسی کے مفاد میں نہیں: ایرانی صدر

دنیا21 hours ago

امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے ساتھ ساتھ تہران ‘ضروری اقدامات’ کے لیے تیار:ایرانی اسپیکر

دنیا23 hours ago

واشنگٹن سے فی الحال بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں، ایران نے مذاکرات جاری رکھنے سے انکار کر دیا

دنیا1 day ago

امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ زیادہ دور نہیں

ہندوستان1 day ago

کانگریس نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی ، پاکستان کے ‘بڑھتے ہوئے سفارتی کردار’ پر متنبہ کیا

ہندوستان1 day ago

کھڑگے مغربی بنگال اور راہل تمل ناڈو میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے

ہندوستان1 day ago

سپریم کورٹ کی ریزولوشن پلان کی منظوری میں تاخیر پر این سی ایل ٹی کی سرزنش، ملک گیر رپورٹ طلب

ہندوستان1 day ago

وزیر اعظم مودی منگل کو راجستھان میں 79,450 کروڑ روپے کے ریفائنری-پیٹرو کیمیکل میگا پروجیکٹ کا افتتاح کریں گے

دنیا1 day ago

امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری جہاز پر قبضہ کر لیا، ایرانی فوج کا جواب دینے کا اعلان

دنیا1 day ago

میناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط

دنیا1 day ago

یا سب کے لیے آزاد آئل مارکیٹ یا سب کے لیے بھاری قیمت: ایرانی نائب صدر

دنیا1 day ago

جے ڈی وینس کے ممکنہ دورۂ پاکستان سے متعلق امریکی میڈیا میں متضاد خبریں

دنیا1 day ago

ایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد

دنیا1 day ago

امریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ

جموں و کشمیر1 day ago

جموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی

دنیا1 day ago

ایرانی جہاز ہمارے پاس ہے، دیکھ رہے ہیں اس میں کیا ہے، ٹرمپ کا ٹویٹ

دنیا1 day ago

ایران-امریکہ مذاکرات میں ممکنہ خرابی کے درمیان عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ

دنیا1 day ago

خلیجِ عمان میں امریکی کارروائی کے بعد کشیدگی میں اضافہ، ایران کی جوابی کارروائی کی دھمکی

تجزیہ2 days ago

اگر حکومت کو پہلے ہی معلوم تھا تو بل کیوں پیش کیا گیا؟

دنیا3 days ago

آبنائے ہرمز بندش پر ٹرمپ کا ردعمل، ایران ہمیں دباؤ میں نہیں لا سکتا

ہندوستان3 days ago

خواتین کے ریزرویشن میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو ملک کی خواتین معاف نہیں کریں گی: مودی

دنیا3 days ago

امریکہ ایران جنگ بندی میں توسیع نہیں کی جا سکتی – ٹرمپ

دنیا3 days ago

کوئی بھی ملک ایران پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتا: ایران کا دو ٹوک اعلان

ہندوستان3 days ago

خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی پر حکومت کو گھیرتے ہوئے پرینکا نے اپوزیشن کے اتحاد کو مضبوط قرار دیا

دنیا3 days ago

ایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای

دنیا3 days ago

امریکہ نے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا: اسماعیل بقائی

دنیا3 days ago

وقت آگیا ہے آبنائے ہرمز کیلئے نئے بحری نظام کی پابندی کی جائے: ابراہیم عزیزی

دنیا3 days ago

ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کردیا

دنیا3 days ago

امریکی صدر نے ایک گھنٹے میں 7 دعوے کیے، ساتوں جھوٹے ہیں:اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ

دنیا3 days ago

لبنان سیز فائر کی خلاف ورزی، اسرائیلی کی متعدد قصبوں پر شدید بمباری: لبنانی میڈیا

دنیا3 days ago

جب تک لبنان میں فائر بندی جاری ہے ہُرمز کھُلا رہے گا:ایران

جموں و کشمیر3 days ago

جموں کشمیر میں کالعدم جماعتِ اسلامی اور ایف اے ٹی سے وابستہ 58 پرائیویٹ اسکول حکومت کی تحویل میں

جموں و کشمیر3 days ago

کشمیر میں دوسرے دن بھی بارش جاری، اگلے دو دنوں میں مزید بارش کا امکان

جموں و کشمیر2 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اداریہ4 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

جموں و کشمیر2 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر2 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین2 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

تازہ ترین2 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین3 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

تازہ ترین2 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

دنیا2 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

اہم خبریں2 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تجزیہ4 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

تازہ ترین2 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

کھیل2 months ago

تاریخ رقم: جموں و کشمیر نے پہلی بار رانجی ٹرافی کا خطاب اپنے سر سجایا

جموں و کشمیر2 months ago

کشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین

تازہ ترین2 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

دنیا2 months ago

ایرانی میزائل کی 10 انٹرسیپٹرز کو چکمہ دیکر ہدف کو نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل

کھیل3 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

دنیا3 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

دنیا2 months ago

خامنہ ای کی شہادت کے بعد امام خمینی کے پوتے حسن خمینی توجہ کا مرکز

تازہ ترین3 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

اہم خبریں2 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین3 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

تجزیہ5 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

دنیا1 month ago

ٹرمپ کے مشیر کی امریکہ کو ایران جنگ سے نکلنے کی تجویز پیش

تازہ ترین4 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

اداریہ4 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

ہندوستان3 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

جموں و کشمیر2 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

تازہ ترین3 months ago

شوپیاں کے زینہ پور علاقے میں رہائشی مکان سے ہیروئن بر آمد، ملزم گرفتار: پولیس

ہندوستان2 months ago

گھریلو ایل پی جی سلنڈر 60 روپے اور کمرشیل سلنڈر 114.50 روپے مہنگا

دنیا1 month ago

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ

دنیا2 months ago

ٹرمپ کی گردن پر سرخ نشان، صحت سے متعلق نئی بحث چھڑگئی

جموں و کشمیر3 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

دنیا1 month ago

کیا نیتن یاہو مر چکے ہیں سرکاری اکاؤنٹ سے نیتن یاہو کی ’’چھ انگلیوں‘‘ والی ویڈیو وائرل

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

دنیا1 month ago

امریکی شہریوں کو فوری طور پر افغانستان چھوڑنے کی ہدایت

اداریہ4 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

تازہ ترین5 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

جموں و کشمیر2 weeks ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

دنیا4 weeks ago

امریکہ کے ایران کو بھیجے گئے 15 نکاتی امن منصوبے کی ‘شرائط’

جموں و کشمیر2 months ago

جموں و کشمیر میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے مجھے بے حد متاثر کیا: سی پی رادھا کرشنن

کھیل3 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا قانون کیا کہتا ہے

جموں و کشمیر2 weeks ago

گاندربل تصادم میں مارے گئے شخص کی شناخت اے ٹی ایم کارڈ سے ہوئی

تازہ ترین3 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

دنیا2 months ago

بنگلہ دیش انتخابات: بی این پی کی ہندوستان، چین اور پاکستان کے ساتھ تعلقات پر واضح پالیسی :طارق رحمان

جموں و کشمیر1 month ago

محبوبہ مفتی نے ایرانی سفیر کے ساتھ کشمیری طلباء کا معاملہ اٹھایا

جموں و کشمیر4 weeks ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر2 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر2 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین2 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین2 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر2 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں2 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں2 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین3 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر6 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر2 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ2 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین2 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین2 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین2 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین2 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر2 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین2 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین3 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر3 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین3 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین3 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین3 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر3 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر3 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین3 years ago

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین3 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر3 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین3 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین3 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر3 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین3 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

تجزیہ3 years ago

از خود نوٹس کا فیصلہ: صدر پنجاب، گورنر خیبر پختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں

Advertisement

Trending