تازہ ترین
24گھنٹوں کے دوران وادی میں 4 خونریز معرکہ آرائیاں،12سالہ کمسن سمیت 6جنگجو جاں بحق،ہتھیاراور قابل اعتراض مواد ضبط

خبراردو
گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران کلنترہ، وارپورہ، حاجن اور شوپیاں میں الگ الگ معرکہ آرائیوں میں 6جنگجو جاں بحق ہوگئے جبکہ عسکریت پسندوں کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ایس ایچ او ڈنگی وچھ سمیت 3فورسز اہلکار زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق فوج کی29آر آر، جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری نے بدھوار شام کو کلنترہ کنڈی بارہمولہ کا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کی تلاش شروع کی۔ اس دوران اگر چہ فورسز نے شام دیرگئے تک کئی رہائشی مکانات کی تلاشی مکمل کرلی تاہم موسم کی خراب صورتحال اور رات کی تاریکی کے پیش نظر جنگجو مخالف آپریشن کو جمعرات کی صبح تک ملتوی کیا گیا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ فوج ، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی بھاری جمعیت نے کنڈی کلنترہ علاقے کا کڑا محاصرہ عمل میں لایا جس دوران یہاں تلاشی کا سلسلہ شروع کیا۔
انہوں نے بتایا کہ فورسز نے علاقے میں جونہی تلاشی کارروائی میں تیزی لائی تو یہاں موجود جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کی۔اس دوران جمعرات کی شام دیر گئے فوج کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں جیش محمد سے وابستہ 2عسکریت پسندوں کو جاں بحق کیا گیا ۔ معلوم ہوا کہ جھڑپ کے نتیجے میں آرم پورہ سوپور کا رہنے والا جنگجو آمر رسول کبو ولد غلام رسول اپنے غیر ملکی ساتھی سمیت جاں بحق ہوگیا۔ ادھر پولیس نے جنگجو کی نعش کو قانونی لوازمات کے بعد لواحقین کے حوالے کردیا جس کے بعد بارہمولہ اور سوپور کے متعدد علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد آرم پورہ پہنچ چکی تھی جنہوں نے مہلوک جنگجو کی نماز جنازہ میں شرکت کرتے ہوئے انہیں پرنم آنکھو ں سے سپرد لحد کردیا۔ کے این ایس نمائندے سیدفیاض کے مطابق جنگجو کی ہلاکت کے مابعد سوپور اور مضافاتی علاقوں میں جمعہ دن بھر تناؤ کی صورتحال برقراررہی تاہم جونہی آمر رسول کی نعش آبائی علاقے آرم پورہ پہنچائی گئی تو یہاں کہرام مچ گیا جس کے بعد نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اسلام اور آزادی کے نعروں کے بیچ جنگجو کی میت کو مقامی قبرستان تک پہنچایا جہاں انہیں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔ نمائندے کے مطابق 20سالہ آمر رسول 5ماہ قبل آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد جنگجوؤں کی صف میں شامل ہواتھا۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں دن بھر خشت باری کے واقعات رونما ہوئے جس دوران فورسزا ہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے آنسو گیس کے علاوہ پیلٹ فائرنگ کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں 3نوجوان عادل مشتاق ، عرفان مشتاق ولد مشتاق احمد ساکنان آرم پورہ کے علاوہ عادل احمد ساکن آرم پورہ پیلٹ لگنے سے بری طرح زخمی ہوگئے ۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی ہوئے نوجوانوں کو علاج و معالجے کی خاطر ڈسٹرکٹ ہسپتال بارہمولہ منتقل کیا گیا۔ ادھر میر محلہ حاجن میں بھی گزشتہ روز سے فوج اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ جمعہ کی دوپہر کو 2غیر ملکی جنگجوؤں اور ایک کمسن لڑکے کی ہلاکت پر اختتام پذیر ہوئی۔
معلوم ہوا کہ فوج و فورسز نے جنگجوؤں سے متعلق اطلاع موصول ہونے کے بعد میر محلہ بستی کا سخت محاصرہ کرتے ہوئے یہاں گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا۔ معلوم ہوا کہ فورسز اہلکاروں نے میر محلہ نامی بستی کے تمام اندرونی و بیرونی راستوں کو اپنی تحویل میں لیتے ہوئے یہاں جگہ جگہ فورسز کے اضافی دستوں کوتعینات کیا۔ اس دوران مشتبہ مکان کے نزدیک پیش قدمی کرنے کے ساتھ ہی یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر خود کار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ شروع کی جس کے بعد علاقے میں گن گرج کا سلسلہ شروع ہوا۔اگر چہ پولیس ذرائع نے جمعرات کی شام دیر گئے میڈیا کو بتایا کہ علاقے میں اب تک ایک جنگجو کو جاں بحق کردیا گیا ہے تاہم طرفین میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جائے جھڑپ کے نزدیک مقامی آبادی کو فورسز نے محفوظ مقامات کی جانب منتقل کردیا تاہم ابھی بھی نزدیکی مکان میں 12برس کا کمسن لڑکا پھنسا ہوا ہے۔ علاقے میں آخری اطلاعات موصول ہونے تک طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ جاری تھا۔اس دوران جمعہ کی صبح سے جائے جھڑپ پر طرفین کے مابین شدید گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے مکان کا گھیراؤ تنگ کرتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ معلوم ہوا کہ جمعہ کی دوپہر کو یہاں طرفین کے درمیان گولیوں کا سلسلہ تھم گیا جس کے بعد ہی فورسز اہلکاروں نے یہاں ملبے کی تلاشی کا سلسلہ شروع کردیا۔ اس دوران پولیس نے ملبے سے 2غیر ملکی جنگجوؤں کی لاشیں برآمد کی۔
ایس ایس پی بانڈی پورہ نے ہلاک شدہ جنگجوؤں کی شناخت علی اور عبید ساکنان پاکستان کے طور پر بتائی۔انہوں نے بتایاکہ مارے گئے جنگجوؤں کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔ اس دوران پولیس نے بتایا کہ جائے جھڑپ پر مکان میں یرغمال بنائے گئے کم عمر لڑکے کو جنگجوؤں نے جاں بحق کردیا۔ معلوم ہوا کہ 12سالہ عاطف گزشتہ روز سے ہی مکان میں پھنسا ہوا تھا تاہم اس دوران موصوف کو کوئی راہ داری نہ مل سکی۔معلوم ہوا کہ جائے جھڑپ سے تینوں لاشیں مسخ شدہ حالت میں پولیس نے برآمد کرلی جبکہ فورسز نے یہاں ملبے سے 2اے کے 47رائفلیں بھی برآمد کیں۔ادھر پہاڑی ضلع شوپیان کے گڈاپورہ رتنی پورہ میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو فوج، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ جمعیت نے علاقے کا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں گھر گھر تلاشیوں کا آغاز کیا۔ معلوم ہوا کہ فورسز اہلکاروں کو یہاں 2سے3جنگجوؤں کے چھپے بیٹھنے کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی جس کے بعد علاقے کے ارد گرد سخت پہرا عمل میں لاتے ہوئے فورسز کی بھاری کمک کو علاقے میں تعینات کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ صبح 3بجے کے ساتھ ہی علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا اور صبح 7:40تک وقفے وقفے سے طرفین کے درمیان گولیوں کا سلسلہ چلتا رہا۔
اس دوران فوج نے سماجی رابطہ سائٹ پر میڈیا کو اطلاع فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ گڈاپورہ علاقے میں فوج اور جنگجوؤں کے مابین جھڑپ جاری ہے تاہم ابھی تک 1جنگجو کو جاں بحق کردیا گیا ہے۔اس دوران گڈاپورہ سے متصل رتنی پورہ علاقے میں اُس وقت تشدد بھڑک اُٹھا جب یہاں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے جائے جھڑپ کی طرف پیش قدمی کی کوشش کرنے کے علاوہ فورسز اہلکاروں پر خشت باری کا سلسلہ شروع کیا۔ نمائندے نے بتایا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کی خاطر فورسز اہلکاروں نے درجنوں آنسو گیس کے گولے داغنے کے علاوہ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک درجن کے قریب مظاہرین زخمی ہوئے جن میں سے ایک نوجوان کی گردن پر گولی پیوست ہونے سے انہیں مزید 2زخمیوں کے ہمراہ سرینگر منتقل کیا گیا۔اس دوران سوپور کے وار پورہ نامی بستی میں گزشتہ روز سے فوج اور جنگجوؤں کے مابین معرکہ آرائی جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سوپور کے وارپورہ علاقے میں جمعرات کی دوپہر فوج کی 22آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ پارٹی نے علاقے کا کڑا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں جنگجوؤں کی تلاش شروع کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فورسز اہلکارں نے جونہی علاقے میں تلاشی کارروائی کا سلسلہ شروع کیا تو مشتبہ مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی جس کے بعد علاقے میں جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوا۔پولیس نے بتایا کہ ممکنہ طور پر علاقے میں 1سے 2جنگجو چھپے بیٹھے ہیں جنہیں ڈھونڈ نکالنے کی خاطر ہی وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چھپے بیٹھے جنگجوؤں میں سے چوٹی کا کمانڈر بھی بتایا جاتا ہے۔اس دوران جمعرات کی شام یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پارٹی کی جانب ایک ہتھ گولہ داغا جو زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں جائے جھڑپ کے نزدیک پولیس افسر سمیت اُن کا ذاتی محافظ زخمی ہوگیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ زخمی پولیس افسر ایس ایچ او ڈنگی وچھ مدثر گیلانی اور اُن کے ذاتی محافظ جاوید احمد کو علاج و معالجے کی خاطر سرینگر منتقل کیا گیا ہے۔ادھر مذکورہ علاقوں میں عوامی احتجاج کو غیر مؤثر بنانے اور بے لگام افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے انتظامیہ نے تلاشی آپریشن شروع ہونے کے ساتھ ہی موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا۔ معلوم ہو اکہ کلنترہ ، وارپورہ، حاجن اورشوپیان میں فوج اور فورسز کی جانب سے کارڈن اینڈ سیرچ آپریشن عمل میں لاتے ہی انتظامیہ نے موبائل انٹرنیٹ پر لگام کس لی جس کے ساتھ ہی یہاں مواصلاتی بریک ڈاؤن کے تنیجے میں طلبا اور تجار پیشہ افراد کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
جموں و کشمیر
آئی جی پی کشمیر نے امرناتھ یاترا کے لیے سکیورٹی اور رابطہ کاری کے منصوبے کا جائزہ لیا
سری نگر، انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کشمیر وی کے بردی نے جمعہ کے روز آئندہ امرناتھ یاترا کے لیے سکیورٹی اور انتظامی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ مختلف اداروں کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنایا جائے، اہلکاروں کو باقاعدگی سے بریفنگ دی جائے، معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پی) پر سختی سے عمل کیا جائے اور یاتریوں کے ساتھ دوستانہ اور معاون رویہ اپنایا جائے تاکہ سالانہ یاترا پرامن اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے بغیر مکمل ہو سکے۔
امرناتھ یاترا 3 جولائی سے شروع ہوگی اور 28 اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔
پولیس کے ترجمان کے مطابق، شری امرناتھ جی یاترا کی تیاریوں کے سلسلے میں آئی جی پی کشمیر نے زونل اور سیکٹر افسران کو یاترا کے راستوں پر رابطہ کاری، سکیورٹی اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے بریفنگ دی۔ اس اجلاس میں پولیس کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
بریفنگ کے دوران آئی جی پی کشمیر نے اس بات پر زور دیا کہ یاترا کے محفوظ، کامیاب اور ہموار انعقاد کے لیے پیشہ ورانہ مہارت، چوکسی اور عوامی خدمت کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھا جائے۔
انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ تمام سکیورٹی اور انتظامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں اور قائم شدہ سکیورٹی نظام پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
وی کے بردی نے زونل افسران کو ہدایت دی کہ وہ اپنے ماتحت سیکٹر افسران اور جوانوں کو باقاعدگی سے بریفنگ دیں تاکہ تمام اہلکار اپنی ذمہ داریوں، فرائض اور موجودہ سکیورٹی صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ رہیں۔
انہوں نے تعیناتی کے تمام مراحل میں مسلسل نگرانی اور مؤثر رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔ مزید برآں، افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں کام کرنے والے دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں تاکہ معلومات کے تبادلے، مشترکہ ردعمل اور ہم آہنگ آپریشنل اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
عوامی خدمت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے آئی جی پی کشمیر نے تمام افسران اور اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ یاتریوں کی حفاظت، سہولت اور فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فرائض کی انجام دہی کے دوران عوام دوست رویہ برقرار رکھا جائے۔
آئی جی پی کشمیر نے سخت نظم و ضبط، پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور مقررہ ایس او پیز پر مکمل عمل کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے تمام اہلکاروں سے کہا کہ وہ ہر وقت چوکس رہیں، آپریشنل تیاری کی اعلیٰ سطح برقرار رکھیں اور اپنے مثالی طرزِ عمل کے ذریعے فورس کی ساکھ کو مضبوط بنائیں۔
اجلاس کے اختتام پر رابطہ کاری کے طریقہ کار اور ہنگامی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ شری امرناتھ جی یاترا 2026 کو پرامن اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے پاک بنایا جا سکے۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
اسرائیل کو لبنان سے 60 دن میں واپس جانا ہوگا:حزب اللہ
بیروت، لبنان میں حزب اللہ کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ محمد رعد نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے پاس اپنے حملے ختم کرنے اور لبنانی سرزمین سے اپنی فوجوں کی مکمل واپسی کے لیے “60 دن کا وقت” ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے بیروت پر زور دیا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مفاہمت نامے کا “غور اور غیر جانبدارانہ” جائزہ لے۔ محمد رعد کا یہ بیان جمعرات کو اس وقت سامنے آیا جب قابض اسرائیلی افواج نے لبنان پر اپنے روزانہ کے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور تل ابیب بضد ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے کچھ حصوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھے گا، جبکہ امریکہ اور ایران کے معاہدے کی پہلی شق کے مطابق تمام محاذوں بشمول لبنان میں فوجی کارروائیوں کو “فوری اور مستقل طور پر روکنے” کا حکم دیا گیا ہے۔
اس مفاہمت نامے میں “لبنان کی آزادی اور اس کی زمین کی حفاظت کی ضمانت” دینے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ حتمی معاہدہ “تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے” کی تصدیق کرے گا۔ محمد رعد نے ایک بیان میں کہاکہ “دشمن کے پاس لبنانی سرزمین سے مکمل طور پر پیچھے ہٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دستیاب وقت ٹھیک دو ماہ ہے۔
” انہوں نے مزید کہا کہ اس عرصے کے دوران اسرائیل کو “زمین، سمندر اور ہوا” کے راستے دشمنی بند کرنی ہوگی اور کسی بھی براہ راست مذاکرات کی ضرورت کے بغیر لبنانی سرزمین سے پیچھے ہٹنا شروع کرنا ہوگا۔ حزب اللہ کے قانون ساز نے اصرار کیا کہ لبنانی حکام “مفاہمت نامے کے متن کو غور اور غیر جانبدارانہ طریقے سے پڑھیں اور ان حقائق اور اثرات کے بارے میں نتائج اخذ کریں جو لبنان سمیت خطے اور پوری دنیا پر اثر انداز ہوں گے۔”
انہوں نے حکام پر یہ بھی زور دیا کہ وہ “صہیونی دشمن کو روکنے کے لیے ایران کی اپنی عزم کو پورا کرنے کی صلاحیت کو کم نہ سمجھیں۔ بدھ کی شام، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے الیکٹرانک طریقے سے “اسلام آباد مفاہمت نامے” پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنا ہے۔ اس مفاہمت نامے کے تحت، واشنگٹن اور تہران کے درمیان 60 دن تک مذاکرات ہونے ہیں، جس میں توسیع کا امکان بھی موجود ہے، تاکہ ایران کے جوہری پروگرام اور بین الاقوامی پابندیوں پر ایک حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
محمد رعد نے کہا، “مزاحمت (حزب اللہ) حکومت (بیروت) کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ مزاحمت کو نشانہ بنانے کے لیے صہیونی دشمن کے ساتھ براہ راست کسی معاملے میں شامل نہ ہو، کیونکہ یہ لبنان یا لبنانی عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “لبنان میں مزاحمت کو ختم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی جنگ ناکام ہو چکی ہے اور یہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرے گی۔” لبنانی یا اسرائیلی حکام کی طرف سے محمد رعد کے اس بیان پر اب تک کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ ان کا یہ بیان لبنان اور اسرائیل کے درمیان 22 جون کو ہونے والے مذاکرات کے پانچویں دور سے پہلے آیا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں امریکہ میں ہونے والے پچھلے دور کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان کے مطابق، دونوں فریقین نے جنگ بندی پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا تھا جس کی شرط یہ تھی کہ حزب اللہ کے حملے مکمل طور پر بند ہوں اور اس کے ارکان لیتانی دریا کے جنوبی علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں۔
اس سے پہلے جمعرات کو لبنانی صدر جوزف عون نے واشنگٹن روانگی سے قبل ملک کے مذاکراتی وفد کے ارکان سے ملاقات کی۔ لبنانی صدارتی محل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عون نے وفد کو ہدایت کی کہ وہ “لبنان کے بنیادی مطالبات پر قائم رہیں”، جن میں مستقل جنگ بندی، مقبوضہ لبنانی سرزمین سے اسرائیلی افواج کی واپسی، سرحد تک لبنانی فوج کی تعیناتی، لبنانی قیدیوں کی واپسی، اور تعمیرِ نو کا عمل شروع کرنا شامل ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیل 2 مارچ سے لبنان پر بمباری کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 3,912 افراد جان بحق، 11,873 زخمی اور 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان کے علاقوں پر قابض ہے، جن میں سے کچھ دہائیوں سے اور کچھ حالیہ حملے کے بعد سے اس کے قبضے میں ہیں۔ اسرائیلی افواج نے اپنے حالیہ حملے کے دوران لبنانی سرزمین کے اندر 10 کلومیٹر سے زیادہ پیش قدمی کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل کی فوجی حکمت عملی علاقے میں نفرت اور تشدد کو مزید ہوا دیتی ہے: میکرون
پیرس، فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے جمعرات کو کہا کہ لبنان، غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی عسکری حکمتِ عملی اس کے اپنے مفادات کے خلاف ہے کیونکہ یہ نفرت اور تشدد کو ہوا دیتی ہے۔
میکرون نے فرانس 2 ٹیلی ویژن کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ‘ذمہ داری کا مظاہرہ’ کرنے کا مطالبہ کر کے درست کہا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کی سکیورٹی ‘ہمسایہ علاقوں پر قبضہ کرنے کے ذریعے یقینی نہیں بن سکتی۔’
انہوں نے کہا کہ ‘وہ حکمتِ عملی جو (نیتن یاہو) غزہ، مغربی کنارے اور جنوبی لبنان میں جاری رکھے ہوئے ہیں، طویل مدتی طور پر اسرائیل کے مفادات کے خلاف ہے کیونکہ یہ خطے کے تمام طبقوں میں نفرت اور تشدد کو ہوا دیتی ہے۔’ میکرون نے ایران کے ساتھ حالیہ امن معاہدے کی لبنان کے لیے اہمیت کو بھی دوبارہ واضح کیا۔
انہوں نے کہا، ‘ہم بہت جلد بین الاقوامی برادری کو متحرک کریں گے تاکہ لبنانی فوج کو اپنے علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے میں مدد ملے۔’ میکرون نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ معاہدے کے باوجود ایران کے معاملے میں جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، تاہم تعاون اور گفت و شنید کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”جنگ کے مقابلے میں معاہدہ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے، خاص طور پر جب کشیدگی میں عروج آنے کا خطرہ ہو، اور اس معاملے میں یہی بات درست تھی۔”
‘ہم بمباری کے ذریعے کسی نظام میں تبدیلی حاصل نہیں لا سکتے۔’
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر6 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
ہندوستان6 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا6 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
جموں و کشمیر6 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا4 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا6 days agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
دنیا4 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
دنیا4 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا


































































































