تازہ ترین
شرما نے گورنر کے مشیر کا عہدہ سنبھالا

خبراردو:
دلی اور گوا کے چیف سیکرٹری رہ چکے کیول کرشن شرما نے گورنر ستیہ پال ملک کے چوتھے مشیر کا عہدہ سنبھالا ۔ کے کے شرما 1983بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں اور ان کا تعلق کٹھوعہ ضلع کے بلاور قصبے سے ہے ۔
کے کے شرما نے 30سال کے دوران کئی عہدوں پر کام کیا ہے ۔وہ 2009 ء میں تعمیرات عامہ کے مرکزی سیکرٹری رہے ، بعد میں ان کو ترقی دے کر پرنسپل سیکرٹری بنایا گیا۔ انہوں نے انسانی وسائل کی مرکزی وزارت میں بھی سیکرٹری کے عہدے پر کام کیا ہے۔ شرمانے گوا کے چیف سیکرٹری کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے چندی گڈھ اِنتظامیہ میں صلاح کار کے طور کام کیا ۔
دنیا
مجوزہ معاہدے متن میں ایران کے لیے جوہری ہتھیاروں سے بارے میں کوئی رعایات شامل نہیں ہیں:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدہ واضح طور پر تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے پر مبنی ہے۔ انہوں نے اس فریم ورک کے جوہری معاملات کو مناسب طریقے سے نہ سنبھالنے کے بارے میں دعوؤں کو مسترد کیا۔
اتوار کو ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں، ٹرمپ نے کہا کہ مجوزہ ڈیل میں واضح ہے ” کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے” اور معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق وسیع شقیں شامل ہیں۔ ان کے بیانات بظاہر سی این این کی اس رپورٹ کی جانب اشارہ کرتے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ مجوزہ فریم ورک جوہری امور کو مناسب انداز میں حل نہیں کرتا۔
انہوں نے لکھا کہ “یہ معاہدہ مضبوط اور مفصل طور پر دوسرے جوہری پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ درحقیقت، معاہدے کا مرکزی معاملہ اسی بارے میں ہے۔” انہوں نے بعض میڈیا اداروں پر بھی تنقید کی اور ان پر مجوزہ معاہدے کے مندرجات کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام لگایا۔ ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ تہران کے ساتھ کوئی بھی سمجھوتہ ایسی ضمانتیں شامل کرے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار یا حاصل نہ کر سکے۔
نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، جنگ کو ختم کرنے والا معاہدہ طے کرنے کی کوششوں کے دوران ٹرمپ نے سخت شرائط پر مشتمل مجوزہ امن فریم ورک کا نظر ثانی شدہ مسودہ ایران کو بھیجا ہے۔ روزنامے نے ہفتے کو رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے مسودے کے بعض عناصر میں ترمیم کی اور غور کے لیے اسے تہران کو واپس بھیجا اور اس بات کا حوالہ تین ایسے حکام نے دیا جو معاملے سے واقف ہیں۔ رپورٹ میں متن میں کی گئی مخصوص تبدیلیوں کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔
حکام نے بتایا ہے کہ ٹرمپ نے ایسی شقوں کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں جو ایرانی اثاثوں کے منجمد ہونے کے ختم ہونے سے متعلق ہو سکتی ہیں، یہ وہ مسئلہ ہے جس پر انہوں نے سابق صدر باراک اوباما کے تحت 2015 کے جوہری معاہدے کے بارے میں پہلے تنقید کی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹرمپ ، پاکستان سمیت دیگر ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کے تحت طے کردہ امریکی تجاویز پر ایرانی ردعمل کی رفتار سے مایوسی محسوس کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
تہران،ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کویت میں ایک امریکی فضائی اڈے پر ایران کے ایک بالسٹک میزائل حملے میں چار امریکی سروس ممبران اور تین سول کنٹریکٹرز زخمی ہوئے، یہ حملہ جنوبی ایران میں ایک امریکی فضائی حملے کے جواب میں کیا گیا۔
براڈکاسٹر سی بی ایس نیوز نے اطلاع دی ہے کہ ان سات افراد کو معمولی چوٹیں آئیں اور وہ 24 گھنٹوں کے اندر دوبارہ خدمات پر لوٹ آئے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی ایران کے بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب ایک امریکی فضائی حملے کے جواب میں کویت میں ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، فوج نے جوابی حملہ مقامی وقت کے مطا بق صبح 5 بجے کے قریب کیا جو ساحلی شہر کے ہوائی اڈے کے قریب ایک امریکی حملے کے چند گھنٹوں بعد ہوا جس میں فضائی پروجیکٹائل استعمال کیے گئے تھے۔
بعد ازاں ایک بیان میں، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ میزائل حملہ ‘کویتی افواج نے کامیابی سے روک لیا’۔
علاقائی کشیدگی 28 فروری کو بڑھ گئی، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے بعد تہران نے ڈرونز اور میزائلوں کی برسات کے ذریعے خطے بھر میں اہداف کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔
8 اپریل کو پاکستانی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی نافذ ہو گئی، لیکن اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت ایک دیرپا معاہدہ قائم کرنے میں ناکام رہی۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عارضی وقفے کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دیا، جبکہ اس اسٹریٹجک آبی راستے کے ذریعے ایرانی بندرگاہوں سے آنے یا جانے والے جہازوں پر بحری محاصرہ برقرار رکھا اور وقتاً فوقتاً کہا کہ امن معاہدہ قریب ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہم کسی بھی مشکل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں: ایرانی صدر
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی عوام اور انقلاب کے راست میں اپنی جان قربان کرنے کے لیے حاضر ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کابینہ اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ عوام اور انقلاب کے راستے میں اپنی جان قربان کرنے کے لیے حاضر ہیں اور ہم کسی بھی مشکل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ طاقت کے ساتھ اپنا راستہ جاری رکھیں گے یا شہید ہو جائیں گے۔ طاقت سے آگے بڑھیں یا شہادت ملے، دونوں صورتوں میں کامیابی ہماری ہی ہے۔
مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ میری جان ہمارے شہید رہبر کی جان سے زیادہ قیمتی نہیں ہے۔ ہم میدان میں ایماندار رہیں گے تو اللہ ہماری ضرور مدد کرے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان7 days agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا2 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا1 week agoپاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں ایٹمی پروگرام پر بات نہیں ہوگی: ایران
ہندوستان7 days agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
دنیا3 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
جموں و کشمیر6 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
دنیا1 week agoجنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے جنوبی لبنان میں حملے، مزید 10 افراد شہید
دنیا1 week agoچین میں کوئلے کی کان میں دھماکہ، 90 افراد ہلاک
دنیا2 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
ہندوستان7 days agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا7 days agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر
































































































