تازہ ترین
بندوق برداروں نے حیوانیت کا مظاہرہ کیا ،ایسے واقعات ناقابل قبول: محبوبہ مفتی

خبراردو:
پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے شوپیان میں گزشتہ روز بندوق برداروں کی طرف سے معصوم طالب علم کی ہلاکت کو حیوانیت قرار دیتے ہوئے اسے سماج کے لیے ناقابل قبول قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ جس طریقے سے بندوق برداروں نے ایک طالب علم کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا وہ حیوانیت کا انتہائی مظاہرہ ہے اور اس طرح کے بہیمانہ واقعات سماج کے لیے ہر حیثیت میں ناقابل قبول ہے۔انہوں نے ریاستی عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ متحد ہوکر نوجوان پود کو اس تباہی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
پہاڑی ضلع شوپیان سے آئے ہوئے پارٹی وفود کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر نے بتایا کہ نوجوانوں کو اس طرح سے مارنے جیسے واقعات کی مذمت کے لیے الفاظ کم پڑجاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کشمیرجو ولیوں اور ریشیوں کی سرزمین ہے‘ صدیوں سے بھائی چارے اور رحم دلی کے لیے معروف ہیں لہٰذا اس طرح کے بہیمانہ کارروائیوں کی کشمیری سماج میں کوئی جگہ موجود نہیں ہے۔نوجوانوں کی ہلاکت کو تشویش کن اور پریشان کن قرار دیتے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بتایا کہ دنیا کے کسی بھی مذہب میں اس طرح کی کارروائیوں کی اجازت نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کو بہیمانہ طریقے پر قتل کرنا اور امن پسند لوگوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے دنیا کے کسی بھی مذہب میں اس طرح کی کوئی تعلیم موجود نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہمیں مجموعی طور پر تنظیمی سطح سے اُوپر اُٹھ کر ریاستی نوجوانوں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔ پی ڈی پی صدر نے بتایا کہ اس غم کی گھڑی کے موقعے پر کلیجہ منہ کو آتا ہے اور پوری ریاست اس وقت دکھ اور صدمے میں ہے۔ خیال رہے بندوق برداروں نے سنیچر کی شام 19سالہ طالب علم حذیف کٹے ساکن کولگام کو اغوا کرنے کے بعد اس کا گلا کاٹ کر ابدی نیند سلادیا جس کے بعد بندوق برداروں نے واقعے کا ویڈیو بناکر اسے سوشل میڈیا پرشائع کیا۔
دنیا
واضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ سے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، واضح نتیجہ سامنے آنے تک مذاکرات سے متعلق کوئی فیصلہ یا رائے نہیں دی جا سکتی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ قیاس آرائیوں کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن کی باتوں اور وعدوں پر بھروسہ نہیں، امریکہ کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ ٹھوس نتائج کے بغیر نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن ملکی اتحاد کو کمزور کر کے انتشار پھیلانا چاہتا ہے، فوجی ناکامی کا بدلہ معاشی دباؤ کے ذریعے لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کے بغیر کوئی معاہدہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں ایرانی پارلیمنٹ کے رکن علی رضا سلیمی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں کے درمیان واقع ہے، کسی
دوسرے ملک کو اس کے بارے میں فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ جلد آبنائے ہرمز سے متعلق قانون سازی کی منظوری دے گی۔
ہندوستان
ہند۔عمان تجارتی معاہدہ آج سے نافذ، دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز
نئی دہلی، مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت پیوش گوئل نے ہندستان اور عمان کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدے کے پیر سے نافذ العمل ہونے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا ہے مسٹر گوئل نے سوشل میڈیا پر کہا، “آج سے ہندستان-عمان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) نافذ ہو رہا ہے اور میں اس بارے میں لکھ رہا ہوں کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو کیسے مزید مضبوط کرے گا۔”
وزیر تجارت نے کہا، “وزیر اعظم نریندر مودی کے ہندستان کی عالمی تجارتی شراکت داری کو وسعت دینے کے وژن سے متاثر یہ معاہدہ نئی مارکیٹیں کھول کر، برآمدات کو بڑھا کر، سرمایہ کاری کو راغب کر کے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں تیزی لا کر ہندستانی طلبہ، کاریگروں، خواتین، کسانوں، ماہی گیروں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے اداروں کو نمایاں طور پر فائدہ پہنچائے گا۔”
واضح رہے کہ دونوں ممالک نے گزشتہ سال دسمبر میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں نافذ ہو رہا ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی کی صورتحال کے باعث خطے کے ممالک کے ساتھ ہندستان کی تجارت متاثر ہوئی ہے۔
عمان ایک چھوٹا ملک ہے جس کی آبادی 55 لاکھ اور مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) 110 ارب ڈالر ہے، اس لیے ہندستان اور عمان کے متوقع تجارتی حجم کے آبادی اور معیشت کی حدود میں رہنے کا امکان ہے۔ ہندستان اور عمان کے درمیان 2024-25 میں دوطرفہ تجارت 10.61 ارب ڈالر کے برابر تھی۔
دوطرفہ معاہدے کے تحت بھارت کو عمان کی مارکیٹ میں اپنی برآمداتی فہرست کی 98.08 فیصد اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی (ٹیکس) میں 100 فیصد چھوٹ ملے گی۔ اس سے انجینئرنگ، ادویات، سمندری مصنوعات (سی فوڈ)، کپڑے، کیمیکلز، الیکٹرانکس، پلاسٹک اور جواہرات و زیورات کے شعبوں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ حکومت نے اس معاہدے کے تحت زیادہ افرادی قوت والے ملکی شعبوں کے مفادات کو خاص طور پر مدنظر رکھا ہے۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
وزیراعظم نے چھ سال مکمل ہونے پر پی ایم سواندھی یوجنا کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو پردھان منتری اسٹریٹ وینڈرز آتم نربھر ندھی (پی ایم سواندھی) اسکیم کے چھ سال مکمل ہونے پر اس کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پہل نے بغیر گارنٹی قرض، مالی شمولیت اور ترقی کے مواقع فراہم کر کے ان گنت ریہڑی پٹری والوں کی زندگی کو بدل دیا ہے وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، اسکیم کے مستفیدین کو مبارکباد دی اور ملک کی معیشت میں ان کے تعاون کی ستائش کی۔ مسٹر مودی نے کہا، “آج ہم پی ایم سواندھی اسکیم کے چھ سال مکمل کر رہے ہیں، جس نے بغیر گارنٹی قرض، مالی شمولیت اور ترقی کے نئے مواقع تک رسائی یقینی بنا کر ان گنت ریہڑی پٹری والوں کی زندگی کو بدل دیا ہے۔ یہ اسکیم بھروسے، وقار اور بااختیار بنانے کے بارے میں ہے۔ تمام مستفیدین کو میری مبارکباد، جن کا پختہ عزم اور کاروباری جذبہ ہمارے ملک کی معیشت کو مضبوط کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔”
مرکزی حکومت کی جانب سے جون 2020 میں کووڈ وبا کے درمیان شروع کی گئی، پی ایم سوانیدھی کو ان ریہڑی پٹری والوں کو اقتصادی سہارا فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جن کا روزگار لاک ڈاؤن اور اقتصادی رکاوٹوں سے شدید متاثر ہوا تھا۔ یہ اسکیم اہل فروخت کنندگان کو بغیر کسی ضامن کے ورکنگ کیپیٹل لون حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے، جس سے انہیں اپنے کاروبار کو دوبارہ شروع کرنے اور اسے وسعت دینے میں مدد ملتی ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں، یہ پروگرام ایک اہم پہل کے طور پر ابھرا ہے جس کا مقصد سڑکوں پر ریہڑی پٹری لگانے والوں کو باضابطہ بینکنگ نظام میں لا کر ان کے درمیان مالی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ مستفیدین کو ڈیجیٹل لین دین اپنانے کے لیے بھی ترغیب دی جاتی ہے اور وہ وقت پر قرض کی ادائیگی سے جڑی مراعات کے اہل ہیں۔
سرکاری حکام نے پی ایم سواندھی کو ایک انقلابی فلاحی اقدام کے طور پر بیان کیا ہے جس نے شہری علاقوں میں لاکھوں چھوٹے کاروباریوں کو بااختیار بنایا ہے، جس سے انہیں اپنی آمدنی میں بہتری لانے اور اپنی مالی لچک کو مضبوط کرنے میں مدد ملی ہے۔ وزیر اعظم کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا ہے جب حکومت نے اسکیم کے چھ سال مکمل ہونے پر زمینی سطح کی کاروباری صلاحیت کی حمایت کرنے اور ملک بھر میں ریہڑی پٹری لگانے والوں کے درمیان خود انحصاری کو فروغ دینے میں اس اسکیم کے کردار کا ذکر کیا ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان7 days agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا3 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
دنیا2 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
دنیا1 week agoچین میں کوئلے کی کان میں دھماکہ، 90 افراد ہلاک
جموں و کشمیر6 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
دنیا2 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
دنیا1 week agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر
ہندوستان1 week agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا2 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا3 days agoایرانی صدر نے ایک بار پھر پاکستان کے کردار کو سراہا































































































