تازہ ترین
پارلیمانی واسمبلی انتخابات:بھاجپاکی کشمیرپرخاص نظر،مودی ،شاہ کی آمدمتوقع،سجادلون کیساتھ اتحادپرہوگی مہرثبت

خبراردو:
اگلے برس منعقد ہونے والے پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی ریاست جموں وکشمیر میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی خاطر آنے والے دنوں میں اعلیٰ سطحی میٹنگ کا انعقاد کررہی ہے جس میں وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ ریاستی یونٹ کے لیڈران سے مل بیٹھ کر آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ اگلے برس اپریل یا مئی میں منعقد ہونے والے انتخابات میں کشمیر میں اپنا کھاتہ کھولنے کے لیے بی جے پی حکومت سازی میں اشتراک کے لیے سجاد غنی لون کی سربراہی والی پیپلز کانفرنس کے ساتھ بھی گٹھ جوڑ کرسکتی ہے۔
ذرائع سے معلوم ہو اہے کہ سال 2019میں منعقد ہونے والے پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ریاست جموں وکشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی خاطر بڑے پیمانے پر میٹنگوں کا انعقاد کرنے جارہی ہے جن میں وادی کشمیر میں پارٹی اپنا کھاتہ کھولنے کے لیے متوقع طور پر سجاد غنی لون کی سربراہی والی پیپلز کانفرنس کے ساتھ انتخابی گٹھ جوڑ کرسکتی ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت آنے والے دنوں میں اگلے برس ریاستی اسمبلی کے لیے ہونے والے انتخابات سے متعلق حتمی لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے بڑے پیمانے پر پارٹی لیڈران سے صلاح و مشورہ کرنے جارہی ہے ۔
بی جے پی ریاست جموں وکشمیر میں منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے انتخابات سے قبل ریاستی یونٹ کے لیڈران سے بڑے پیمانے پر صلاح مشورہ کرنے جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں وزیر اعظم نریندر مودی اورپارٹی صدر امت شاہ ریاستی یونٹ کے سربراہوں اور دیگر لیڈران کے ساتھ سنجیدہ غور و فکر عمل میں لارہی ہے جس میں آنے والے اسمبلی انتخابات کے دوران وادی کشمیر میں بھی بی جے پی اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دے گی۔بی جے پی ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ پارٹی کے ریاستی لیڈران سے مکمل تفصیلات حاصل کریں گے جس کے بعد ہی آگے کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران پارٹی کی اعلیٰ قیادت ریاستی لیڈران کے ساتھ اسمبلی انتخابات سے متعلق پالیسی اور طریق کار پر غوروخوض کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ریاست کی سرمائی راجدھانی جموں میں پارٹی ٹھیک ٹھاک سے اپنا کام چلارہی ہے اور وہاں پر پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہے تاہم وادی کشمیر میں بی جے پی آج تک اپنا کھاتہ کھولنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے جس کے لئے منعقد ہو نے والی میٹنگ کے دوران تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی نظریں وادی کشمیر کی چند نشستوں پر ٹکی ہوئی اور ان نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لئے پارٹی انتہائی متفکر دکھائی دے رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ انتخابات سے قبل بی جے پی وادی میں اتحاد کے آپشن پر بھی غور کرے گی اور ممکنہ طور پر سجاد غنی لون کی پیپلز کانفرنس کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ اسمبلی انتخابات کے دوران پارٹی اپنا کھاتہ کھولنے میں کامیاب نہیں ہوئی تاہم حال ہی میں منعقدہ بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے دوران پارٹی نے زمینی سطح پر اپنا ایک نیٹ ورک قائم کرلیا۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے تعاون سے ہی پیپلز کانفرنس کے اُمیدوار نے سرینگر میونسپل کارپوریشن میں بطور میئر کے عہدے پر کامیابی حاصل کرلی۔ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی ریاستی لیڈران کے ساتھ پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات سے متعلق صورتحال حاصل کریں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم ریاستی یونٹ کے لیڈران کے ساتھ پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات کو الگ الگ یا اکھٹے منعقد کرانے کے حوالے سے رائے حاصل کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران سال 2014میں منعقد ہوئے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی طرف سے 25سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے کا معاملہ بھی چھایا رہے گا جبکہ پارٹی آنے والے اسمبلی انتخابات کے دوران 44سیٹوں کا ہدف سامنے رکھے گی ۔انہوں نے بتا یا کہ ریاستی یونٹ کے لیڈران بشمول صدر رویندررینا اور جنرل سیکرٹری اشوک کول بھی میٹنگ میں موجود رہیں گے۔انہوں نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران بی جے پی کے قومی جنرل سیکرٹری رام مادھو کے علاوہ پی ایم او آفس میں تعینات ڈاکٹر جتیندر سنگھ بھی شرکت کررہے ہیں۔
ادھر پارٹی ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ کا دورہ کشمیرکی تاریخ پارٹی آنے والے دنوں میں طے کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی دورے کے دوران ریاست میں کئی اہم پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد بھی رکھنے والے ہیں جبکہ اس دوران وہ پارٹی کارکنان کے جلسے سے بھی خطاب کریں گے۔ کے این ایس
دنیا
شرقِ اوسط ’نازک موڑ‘ پر کھڑا ہے: ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے بعد چین کا انتباہ
بیجنگ، چین نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کے لیے مزید وقت دینے کی غرض سے جنگ بندی میں جو توسیع کی ہے، اس کے بعد شرقِ اوسط کی صورتِ حال ایک ’نازک موڑ‘ پر ہے۔
ٹرمپ نے منگل کے روز تہران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کر دی تاہم کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے ایک نیوز بریفنگ میں کہا، “موجودہ علاقائی صورتِ حال جنگ اور امن کے درمیان منتقلی کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے؛ اہم ترین ترجیح دشمنی کو دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہے۔” گو نے جنگ بندی کے بارے میں سوال پر براہِ راست کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ بیجنگ “تعمیری” کردار ادا کرتا رہے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آئی آر جی سی نے ہرمز میں ایک اسرائیلی سمیت دو بحری جہاز قبضے میں لے لیے
تہران، اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں دو بحری جہازوں کو روک کر پکڑ لیا اور انہیں ایرانی پانیوں میں منتقل کر دیا۔
آئی آر جی سی نیوی نے کہا کہ بحری جہازوں کو ایران کے ساحل پر لایا گیا ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں “امن و امان میں خلل ڈالنا” ایران کے لیے سرخ لکیر ہے۔ بیان کے مطابق ایک بحری جہاز کو ایران کے ساحل کے قریب نشانہ بنایا گیا جب کہ دوسرے کو عمان کے ساحل کے قریب حملے میں نقصان پہنچا۔
آئی آر جی سی نے جن بحری جہازوں کی نشاندہی کی ہے ان میں ایم ایم ایس سی-فرانسسکا شامل ہے، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ اسرائیل کی ملکیت ہے۔ دوسرا جہاز ایپامنوڈیس ہے۔
تنظیم کے مطابق یہ جہاز بغیر اجازت کے کام کر رہے تھے اور بار بار ضوابط کی خلاف ورزی کر رہے تھے، نیوی گیشن سسٹم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے اور خفیہ طور پر آبنائے سے باہر نکلنے کی کوشش کر کے میری ٹائم سکیورٹی کو خطرے میں ڈال رہے تھے۔
آئی آر جی سی بحریہ نے کہا کہ “ان جہازوں کی شناخت اور ان کو فورسز کی انٹیلی جنس نگرانی کے تحت روکا گیا تھا، تاکہ آبنائے ہرمز میں ایرانی قوم کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔” تنظیم نے کہا کہ دونوں بحری جہازوں کو اب ایرانی علاقائی پانیوں میں لے جایا جا رہا ہے اور ان کے سامان اور دستاویزات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ آئی آر جی سی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کے اعلان کردہ قوانین کی خلاف ورزی یا محفوظ نیویگیشن کے خلاف کسی بھی سرگرمی پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور قصورواروں کے خلاف فیصلہ کن اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
پاکستان ‘ڈبل گیم’ کھیل رہا ہے، منیر امریکہ کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے: ایرانی تجزیہ کار
تہران، ایران کے سرکاری میڈیا نے پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر ”ڈبل گیم” کھیلنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ اسلام آباد امریکہ کی طرف جھکاؤ رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ متوازی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اس ہفتے ایران کے سرکاری میڈیا کی طرف سے نشر ہونے والے ایک ٹیلیویژن مباحثے کے دوران لگائے جانے والے الزامات نے دونوں پڑوسیوں کے درمیان اعتماد میں سنگین خلاف ورزی کو بے نقاب کیا ہے اور یہ ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان خود کو امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ٹی وی مباحثوں میں ایران کی تجاویز کو نظر انداز کیے جانے پر بحث کی گئی ہے۔
جنرل منیر نے حال ہی میں ایران کا دورہ کیا تھا جس میں 10 نکاتی مذاکراتی تجویز امریکہ کے سامنے پیش کی گئی تھی لیکن ابھی تک اس کا کوئی جواب، قبولیت یا عزم سامنے نہیں آیا ہے۔ ایرانی تجزیہ کاروں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پاکستان نے اس تجویز کو نظر انداز کر دیا ہے اور اب امریکہ کی جانب سے ایران پر 15 سے 16 نئی شرائط عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے اس کے موقف پر سوالات اٹھتے ہیں۔
ایس این این کے تجزیہ کار نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ “ہمارے منصوبے کے مطابق عاصم منیر ایران آیا اور ہمارا پیغام وصول کیا، یہ پیغام امریکی فریق کو پہنچانا تھا، اس نے ایسا ہی کیا ہوگا، لیکن جہاں تک میں جانتا ہوں، اور ہم نے اعلیٰ سطح پر بات کی ہے، ہمیں ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے کہ آیا یہ پیغام قبول ہوا ہے یا نہیں۔ میں یہ بھی کہوں گا کہ اسلام آباد کی طرف سے جواب موصول ہوا تو وہ بھی جواب دیں گے اور دوسری طرف بھی کہوں گا”۔ ‘ٹھیک ہے، میں اسے بالکل بھی قبول نہیں کرتا۔’
دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام جنرل منیر اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو فوجی کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک ایسا قدم قرار دیا جو جاری سفارتی کوششوں میں توسیع کرے گا اور اس بات کی تصدیق کی کہ مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہوگا، حالانکہ تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
دریں اثناء ایرانی میڈیا نے ان پیش رفتوں کو پاکستان کی جانب سے تعلقات عامہ کی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور دعویٰ کیا کہ اصل مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے اور صرف پیش رفت کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا5 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر6 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
ہندوستان1 week agoوزیراعظم مودی کا ‘ناری شکتی’ کے نام خط، خواتین کے ریزرویشن کے عزم کا اعادہ
جموں و کشمیر6 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا5 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا2 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا1 week ago’’اگر میں امریکہ کا صدر نہ ہوتا تو دنیا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی‘‘
دنیا7 days agoاسرائیل کا ایران و لبنان میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان، فوج مکمل تیاری کے ساتھ ہائی الرٹ پر : اہداف تیار
دنیا6 days agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا7 days agoامریکی سینیٹ نے ایران پر مزید حملوں کی اجازت کی قرارداد مسترد کردی
دنیا1 day agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ









































































































