تازہ ترین
اسمبلی تحلیل ہونے کے بعدبھی سیاستدان سرکاری رہائش گاہوں پرہنوز قابض

خبراردو:
ریاست کے سابق وزرا اور ممبران اسمبلی ابھی تک سرکاری کوٹھیوں میں ڈیرہ جمائے ہوئے ہیں جبکہ محکمہ اسٹیٹس کی طرف سے نافذ ضابطے کے مطابق اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد سابق وزراء اور ممبران اسمبلی کو ایک ماہ کے اندر اندر سرکاری رہائش گاہوں سے دستبردار ہونا چاہیے تھا۔ معلوم ہو اہے کہ محکمہ اسٹیٹس ریاست بھر میں سرکاری رہائش گاہوں سے سیاست دانوں اور سابق ممبران اسمبلی کو بے دخل کرنے کے حوالے سے 21دسمبر کے بعد کبھی بھی نوٹس جار ی کرسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ صرف چند وزراء اور ممبران اسمبلی نے اب تک محکمہ اسٹیٹس کے ضابطے کی اطاعت عمل میں لائی ہے جبکہ بقیہ سابق وزرا اور ممبران اسمبلی ابھی بھی ریاست بھر میں سرکاری کھوٹیوں میں ڈیرہ جمائے ہوئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ابھی تک سرینگر اور جموں سے جن وزراء اور ممبران اسمبلی نے سرکاری کوٹھیوں سے اپنا بوریا بسترہ گول کردیا ہے ان میں سابق ممبر اسمبلی عبدالمجید لارمی، سابق وزیرعمران رضا انصاری، سابق ممبر اسمبلی مرتضیٰ خان، سابق وزیر بھالی بھگت، سابق ممبر اسمبلی دیوندر سنگھ رانا، سابق وزیر عبدالغنی کوہلی، سابق ممبر اسمبلی شیخ اشفاق جبار، انوپ کھجوریہ، سابق ممبر اسمبلی پیر زادہ منصور، سیاسی کارکن نذیر احمد میر، ثناء اللہ ڈار، پیر محمد حسین، سابق ممبر اسمبلی عثمان مجید اور شاہینہ بیگم شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مذکورہ افراد جموں اور سرینگر میں محکمہ اسٹیٹس کے مختلف رہائشی کوارٹروں میں رہائش پذیر تھے تاہم انہوں نے محکمہ کے ضابطے اخلاق کی پاسداری کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر یہاں سے اپنا بوریا بسترہ گول کیا۔سرکاری ذرائع نے کے این ایس کو بتایا کہ محکمہ اسٹیٹس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ان افراد کے حق میں نوٹس اجرا کرے جنہوں نے ابھی تک سرکاری کوٹھیاں خالی نہیں کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ایسے افراد نے 21دسمبر تک سرکاری رہائش گاہوں کو خالی نہیں کیا تو محکمہ اسٹیٹس ایسے افراد کو سرکاری رہائش گاہوں کا استعمال کرنے کے لیے کرایہ وصول کرنے کا مجاز ہے۔
دنیا
شرقِ اوسط ’نازک موڑ‘ پر کھڑا ہے: ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے بعد چین کا انتباہ
بیجنگ، چین نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کے لیے مزید وقت دینے کی غرض سے جنگ بندی میں جو توسیع کی ہے، اس کے بعد شرقِ اوسط کی صورتِ حال ایک ’نازک موڑ‘ پر ہے۔
ٹرمپ نے منگل کے روز تہران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کر دی تاہم کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے ایک نیوز بریفنگ میں کہا، “موجودہ علاقائی صورتِ حال جنگ اور امن کے درمیان منتقلی کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے؛ اہم ترین ترجیح دشمنی کو دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہے۔” گو نے جنگ بندی کے بارے میں سوال پر براہِ راست کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ بیجنگ “تعمیری” کردار ادا کرتا رہے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آئی آر جی سی نے ہرمز میں ایک اسرائیلی سمیت دو بحری جہاز قبضے میں لے لیے
تہران، اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں دو بحری جہازوں کو روک کر پکڑ لیا اور انہیں ایرانی پانیوں میں منتقل کر دیا۔
آئی آر جی سی نیوی نے کہا کہ بحری جہازوں کو ایران کے ساحل پر لایا گیا ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں “امن و امان میں خلل ڈالنا” ایران کے لیے سرخ لکیر ہے۔ بیان کے مطابق ایک بحری جہاز کو ایران کے ساحل کے قریب نشانہ بنایا گیا جب کہ دوسرے کو عمان کے ساحل کے قریب حملے میں نقصان پہنچا۔
آئی آر جی سی نے جن بحری جہازوں کی نشاندہی کی ہے ان میں ایم ایم ایس سی-فرانسسکا شامل ہے، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ اسرائیل کی ملکیت ہے۔ دوسرا جہاز ایپامنوڈیس ہے۔
تنظیم کے مطابق یہ جہاز بغیر اجازت کے کام کر رہے تھے اور بار بار ضوابط کی خلاف ورزی کر رہے تھے، نیوی گیشن سسٹم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے اور خفیہ طور پر آبنائے سے باہر نکلنے کی کوشش کر کے میری ٹائم سکیورٹی کو خطرے میں ڈال رہے تھے۔
آئی آر جی سی بحریہ نے کہا کہ “ان جہازوں کی شناخت اور ان کو فورسز کی انٹیلی جنس نگرانی کے تحت روکا گیا تھا، تاکہ آبنائے ہرمز میں ایرانی قوم کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔” تنظیم نے کہا کہ دونوں بحری جہازوں کو اب ایرانی علاقائی پانیوں میں لے جایا جا رہا ہے اور ان کے سامان اور دستاویزات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ آئی آر جی سی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کے اعلان کردہ قوانین کی خلاف ورزی یا محفوظ نیویگیشن کے خلاف کسی بھی سرگرمی پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور قصورواروں کے خلاف فیصلہ کن اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
پاکستان ‘ڈبل گیم’ کھیل رہا ہے، منیر امریکہ کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے: ایرانی تجزیہ کار
تہران، ایران کے سرکاری میڈیا نے پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر ”ڈبل گیم” کھیلنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ اسلام آباد امریکہ کی طرف جھکاؤ رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ متوازی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اس ہفتے ایران کے سرکاری میڈیا کی طرف سے نشر ہونے والے ایک ٹیلیویژن مباحثے کے دوران لگائے جانے والے الزامات نے دونوں پڑوسیوں کے درمیان اعتماد میں سنگین خلاف ورزی کو بے نقاب کیا ہے اور یہ ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان خود کو امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ٹی وی مباحثوں میں ایران کی تجاویز کو نظر انداز کیے جانے پر بحث کی گئی ہے۔
جنرل منیر نے حال ہی میں ایران کا دورہ کیا تھا جس میں 10 نکاتی مذاکراتی تجویز امریکہ کے سامنے پیش کی گئی تھی لیکن ابھی تک اس کا کوئی جواب، قبولیت یا عزم سامنے نہیں آیا ہے۔ ایرانی تجزیہ کاروں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پاکستان نے اس تجویز کو نظر انداز کر دیا ہے اور اب امریکہ کی جانب سے ایران پر 15 سے 16 نئی شرائط عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے اس کے موقف پر سوالات اٹھتے ہیں۔
ایس این این کے تجزیہ کار نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ “ہمارے منصوبے کے مطابق عاصم منیر ایران آیا اور ہمارا پیغام وصول کیا، یہ پیغام امریکی فریق کو پہنچانا تھا، اس نے ایسا ہی کیا ہوگا، لیکن جہاں تک میں جانتا ہوں، اور ہم نے اعلیٰ سطح پر بات کی ہے، ہمیں ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے کہ آیا یہ پیغام قبول ہوا ہے یا نہیں۔ میں یہ بھی کہوں گا کہ اسلام آباد کی طرف سے جواب موصول ہوا تو وہ بھی جواب دیں گے اور دوسری طرف بھی کہوں گا”۔ ‘ٹھیک ہے، میں اسے بالکل بھی قبول نہیں کرتا۔’
دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام جنرل منیر اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو فوجی کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک ایسا قدم قرار دیا جو جاری سفارتی کوششوں میں توسیع کرے گا اور اس بات کی تصدیق کی کہ مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہوگا، حالانکہ تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
دریں اثناء ایرانی میڈیا نے ان پیش رفتوں کو پاکستان کی جانب سے تعلقات عامہ کی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور دعویٰ کیا کہ اصل مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے اور صرف پیش رفت کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا6 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
ہندوستان1 week agoوزیراعظم مودی کا ‘ناری شکتی’ کے نام خط، خواتین کے ریزرویشن کے عزم کا اعادہ
جموں و کشمیر6 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
جموں و کشمیر6 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا6 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا3 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا6 days agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا1 week ago’’اگر میں امریکہ کا صدر نہ ہوتا تو دنیا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی‘‘
دنیا7 days agoاسرائیل کا ایران و لبنان میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان، فوج مکمل تیاری کے ساتھ ہائی الرٹ پر : اہداف تیار
دنیا7 days agoامریکی سینیٹ نے ایران پر مزید حملوں کی اجازت کی قرارداد مسترد کردی
دنیا2 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ









































































































