ہندوستان
نفرت انگیز تقاریر کے انسداد کے لیے جامع ہدایات کی درخواستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

نئی دہلی، سپریم کورٹ نے ملک بھر میں نفرت انگیز تقاریر کے واقعات کے خلاف مؤثر کارروائی کی ہدایت دینے کی درخواستوں پر منگل کے روز اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے درخواستوں کی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے تمام فریقوں کو دو ہفتے کے اندر مختصر تحریری عرضداشتيں پیش کرنے کی ہدایت دی۔
ان درخواستوں پر سماعت عدالت کی پہلے کی ہدایات کے پس منظر میں کی جا رہی ہے جن میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ جب بھی کوئی تقریر یا طرز عمل تعزیرات ہند کی دفعہ 153A، 153B، 295A اور 505 کے تحت جرائم شمار ہو، تو حکام کو مقدمات درج کرنے اور مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ازخود کارروائی کرنی چاہیے، اور انہيں اس کے لیے رسمی شکایت کا انتظار نہيں کرنا چاہئے۔
سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ اگروال، ایم آر شمشاد، سنجے پاریکھ، سنجے ہیگڑے اور ایڈوکیٹ نظام پاشا درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہوئے، جبکہ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو اور سینئر ایڈوکیٹ ڈی ایس نائیڈو نے مدعا علیہان کی نمائندگی کی۔ متعدد درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ نظام پاشا نے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے نفرت انگیز تقاریر کے واقعات پر، بالخصوص جب ملزمان کا تعلق حکمران پارٹیوں سے ہو، تو ان کے خلاف کارروائی کرنے میں مسلسل ہچکچاہٹ ظاہر ہوتی ہے۔
انہوں نے عرض کیا کہ مسئلہ قانونی دفعات کی عدم موجودگی کا نہیں بلکہ ان کے ناقص نفاذ کا ہے۔ عدالت کی مکرر ہدایات کے باوجود “معمول کے مشتبہ افراد” اشتعال انگیز تقاریر کرتے رہتے ہیں، ایف آئی آر کے بعد اکثر گرفتاریاں نہیں کی جاتیں، اور حکام کارروائی کرنے میں ناکام رہتے ہیں، حتی کہ ایسے واقعات کی پہلے سے تشہیر کی جاتی ہے جس میں نفرت انگیز تقریر کے واضح اشارے کا اشتہار دیا جاتا ہے، مگر ان پر کوئی کارروائی نہيں ہوتی ہے۔
درخواست گزاروں نے ڈیجیٹل دور میں نفرت انگیز تقریر کی ابھرتی ہوئی نوعیت کو بھی اجاگر کیا۔ سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ اگروال نے ایک درخواست کا حوالہ دیا جس میں اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو میں مبینہ طور پر سیاسی مقاصد کے لیے فرقہ وارانہ بیانیے کا استعمال کیا گیا تھا۔ انہوں نے نفرت انگیز تقاریر کے ایسے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جن میں حکومتی منظوری درکار ہوتی ہے۔ جکہ یہ منظوری صرف ادراک کے مرحلے پر ضروری ہوتی ہے، ایف آئی آر درج یا تفتیش شروع کرنے کے لیے نہيں۔
جاری۔ یو این آئی۔ م ش۔
ہندوستان
آپریشن سندور:مسلح افواج کی کامیابیوں کو خراجِ تحسین، حکومت کی پالیسیوں پر کانگریس کی تنقید
نئی دہلی، کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعرات کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا، ’’آج آپریشن سندور کی پہلی برسی ہے یہ موقع ہماری مسلح افواج کی بہادری، جرأت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سلام پیش کرنے کا ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ اہم حقائق کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور انہیں یاد رکھنا بھی ضروری ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 10 مئی کو جنگ بندی کا پہلا اعلان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیا تھا اور اس کا سہرا صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مداخلت کو دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ٹرمپ نے مختلف مواقع پر فوجی کارروائی رکوانے کا دعویٰ دہرایا، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے عوامی طور پر کبھی اس دعوے کی تردید نہیں کی۔
جئے رام رمیش نے کہا کہ اس کے بعد 30 مئی کو سنگاپور میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے اعتراف کیا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں بعض حکمتِ عملی کی غلطیوں کی وجہ سے ہندستان کو نقصان اٹھانا پڑا، تاہم بعد میں حکمتِ عملی میں بہتری لا کر پاکستان کے اندر درست کارروائیاں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ 10 جون 2025 کو جکارتہ میں ہندستانی سفارت خانے کے ڈیفنس اتاشی نے بھی یہ تسلیم کیا تھا کہ سیاسی قیادت کی جانب سے مقرر کردہ حدود کے باعث ہندستان نے اپنے کچھ طیارے کھو دیے تھے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ 4 جولائی 2025 کو نائب سربراہِ فوج لیفٹیننٹ جنرل راہل نے پاکستان کی کارروائیوں میں چین کے کردار کی طرف اشارہ کیا تھا۔ ان کے مطابق چین نے پاکستان کو سازوسامان، گولہ بارود، سیٹلائٹ تصاویر اور ریئل ٹائم ٹارگٹنگ میں مدد فراہم کی۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ اس کے باوجود مودی حکومت چین کے معاملے میں نرم رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندستان کی وسیع سفارتی مہم کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر اس طرح تنہا نہیں ہوا، جیسے 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد ہوا تھا۔ کانگریس نے کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کو امریکی قیادت کی جانب سے مسلسل حمایت اور اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ کارگل جنگ کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی حکومت نے اسٹراٹیجک امور کے ماہر کے۔ سبرامنیم کی سربراہی میں کارگل جائزہ کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے مستقبل کے لیے تجاویز پیش کرتے ہوئے اپنی رپورٹ پارلیمنٹ میں جمع کرائی تھی۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ آپریشن سندور سے متعلق واقعات کا بھی اسی طرز پر جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
آپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
نئی دہلی، خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر نرملا سیتارمن، جو اس سے قبل وزیر دفاع کی ذمہ داری بھی سنبھال چکی ہیں، نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’آپریشن سندور نے ہماری مسلح افواج کی بہادری، سیاسی عزم کی مضبوطی اور دہشت گردی کے خلاف قوم کے زیرو ٹالرنس کے عہد کو نمایاں کیا ہے قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال اپریل میں پہلگام میں دہشت گردانہ حملے میں 26 بے گناہ ہندوؤں کے قتل کے بعد ہندستان نے آج ہی کے دن پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر محدود اور ہدفی کارروائی کی تھی۔ اس کے بعد پاکستان کی فوج کی اندھا دھند کارروائی کے جواب میں ہندستانی فضائیہ نے جوابی ایکشن لیتے ہوئے پاکستان کے فضائی دفاعی نظام کو ناکارہ بنا دیا تھا اور اس کے کئی فوجی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا تھا۔
بعد ازاں 10 مئی کو پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی درخواست پر کارروائی روک دی گئی تھی، تاہم حکومت نے واضح کیا تھا کہ آپریشن سندور ختم نہیں کیا گیا ہے۔
محترمہ سیتارمن نے کہا کہ یہ دن ہمارے ملک کی حفاظت کرنے والے بہادر سپاہیوں، ہندستانی فوج کے حوصلے، شجاعت اور جنگی مہارت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ ہندستان اپنی امن اور خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف ہمیشہ مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔
یو این آئی۔ ایم جے۔
ہندوستان
’آپریشن سندور‘ دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کا سخت ردِعمل اور سلامتی کے تئیں غیر متزلزل عزم کی علامت: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ’آپریشن سندور‘ دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کے پختہ ردِعمل اور قومی سلامتی کے تئیں غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے ’آپریشن سندور‘ کی پہلی برسی کے موقع پر جمعرات کو سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم ہماری افواج کی بہادری کو سلام پیش کرتی ہے۔ وزیراعظم مودی نے تحریر کیا، “ایک سال قبل ہماری مسلح افواج نے آپریشن سندور کے دوران بے مثال ہمت، درست حکمت عملی اور پختہ عزم کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے اُن عناصر کو منہ توڑ جواب دیا جنہوں نے پہلگام میں بے گناہ ہندوستانیوں پر حملہ کرنے کی جرأت کی تھی۔”
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’آپریشن سندور‘ نے دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کے سخت موقف اور قومی سلامتی کے تحفظ کے تئیں ہمارے پختہ عزم کو ثابت کیا۔ اس مہم نے ہماری مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، تیاریوں اور مربوط طاقت کو بھی اجاگر کیا۔ ساتھ ہی، اس نے افواج کے درمیان بڑھتے ہوئے تال میل کو ظاہر کیا اور یہ واضح کیا کہ دفاعی شعبے میں ہندوستان کی خود انحصاری کی کوششوں نے ہماری قومی سلامتی کو کتنی مضبوطی فراہم کی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آج ایک سال بعد بھی ہندوستان دہشت گردی کو شکست دینے اور اس کے معاون نظام کو تباہ کرنے کے اپنے ارادے پر پہلے کی طرح قائم ہے۔
یواین آئی۔ م س
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
جموں و کشمیر3 days agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoپوتن نے صدر ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام پر تجاویز دے دیں
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز سے گزرنے کی ایرانی فیس دنیا کے لیے ناقابل برداشت ہوگئی
دنیا5 days agoایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام
دنیا1 week agoعالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ
دنیا5 days agoہم کسی پاگل کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے: ٹرمپ
دنیا3 days agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
دنیا6 days agoامریکی وزیر دفاع کی کانگریس میں سخت تقریر، ایران سے جنگ میں اسلحہ کی قلت کا اعتراف
دنیا6 days agoایران میں آپریشن ختم ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں گِر جائیں گی، ٹرمپ
ہندوستان1 week agoگریٹ نکوبار پروجیکٹ پر راہل نے حکومت سے مانگا جواب













































































































