ہندوستان
آپریشن سندور:مسلح افواج کی کامیابیوں کو خراجِ تحسین، حکومت کی پالیسیوں پر کانگریس کی تنقید
نئی دہلی، کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعرات کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا، ’’آج آپریشن سندور کی پہلی برسی ہے یہ موقع ہماری مسلح افواج کی بہادری، جرأت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سلام پیش کرنے کا ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ اہم حقائق کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور انہیں یاد رکھنا بھی ضروری ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 10 مئی کو جنگ بندی کا پہلا اعلان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیا تھا اور اس کا سہرا صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مداخلت کو دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ٹرمپ نے مختلف مواقع پر فوجی کارروائی رکوانے کا دعویٰ دہرایا، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے عوامی طور پر کبھی اس دعوے کی تردید نہیں کی۔
جئے رام رمیش نے کہا کہ اس کے بعد 30 مئی کو سنگاپور میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے اعتراف کیا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں بعض حکمتِ عملی کی غلطیوں کی وجہ سے ہندستان کو نقصان اٹھانا پڑا، تاہم بعد میں حکمتِ عملی میں بہتری لا کر پاکستان کے اندر درست کارروائیاں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ 10 جون 2025 کو جکارتہ میں ہندستانی سفارت خانے کے ڈیفنس اتاشی نے بھی یہ تسلیم کیا تھا کہ سیاسی قیادت کی جانب سے مقرر کردہ حدود کے باعث ہندستان نے اپنے کچھ طیارے کھو دیے تھے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ 4 جولائی 2025 کو نائب سربراہِ فوج لیفٹیننٹ جنرل راہل نے پاکستان کی کارروائیوں میں چین کے کردار کی طرف اشارہ کیا تھا۔ ان کے مطابق چین نے پاکستان کو سازوسامان، گولہ بارود، سیٹلائٹ تصاویر اور ریئل ٹائم ٹارگٹنگ میں مدد فراہم کی۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ اس کے باوجود مودی حکومت چین کے معاملے میں نرم رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندستان کی وسیع سفارتی مہم کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر اس طرح تنہا نہیں ہوا، جیسے 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد ہوا تھا۔ کانگریس نے کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کو امریکی قیادت کی جانب سے مسلسل حمایت اور اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ کارگل جنگ کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی حکومت نے اسٹراٹیجک امور کے ماہر کے۔ سبرامنیم کی سربراہی میں کارگل جائزہ کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے مستقبل کے لیے تجاویز پیش کرتے ہوئے اپنی رپورٹ پارلیمنٹ میں جمع کرائی تھی۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ آپریشن سندور سے متعلق واقعات کا بھی اسی طرز پر جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
بزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مرکزی حکومت پر بزرگوں، بیواؤں اور معذور افراد کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ماہانہ پنشن میں برسوں سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے، جب کہ مہنگائی کی وجہ سے غریب اور محروم طبقہ شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے مسٹر کھرگے نے بدھ کو سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر لکھا کہ حکومت ایک طرف ملک کو کفایت شعاری اور قربانی کا درس دیتی ہے، وہیں دوسری طرف بزرگوں، بیواؤں اور معذوروں کا وقار چھین رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ 12 برسوں میں مودی حکومت نے بڑھاپے کی پنشن میں ‘ایک پیسے’ کا بھی اضافہ نہیں کیا، جبکہ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی قوتِ خرید میں تقریباً 45 فیصد کمی کے باوجود 200 روپے کی پنشن کی حقیقی قدر اب صرف 110 روپے، 300 روپے کی پنشن کی قدر 165 روپے اور 500 روپے کی پنشن کی قدر تقریباً 275 روپے کے برابر رہ گئی ہے۔
کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت عوام کی فلاح و بہبود پر اخراجات بڑھانے کے بجائے اشتہارات اور اپنی تشہیر پر بھاری رقم خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014-15 سے 2024-25 کے درمیان حکومت نے اشتہارات کے ذریعے اپنی تشہیر پر 5,987.46 کروڑ روپے خرچ کیے۔ جناب کھرگے نے کہا کہ کروڑوں بزرگ شہری بنیادی ادویات اور خوراک تک کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ حکومت اپنی تشہیر، بڑے پروگراموں اور انتخابی مہمات پر فضول خرچی کر رہی ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
کیجریوال نے پیپر لیک روکنے کے لیے سڑکوں پر اترنے کے لیے ‘جین زی’ سے کی اپیل
نئی دہلی، عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بدھ کو کہا کہ پیپر لیک جیسے گھناؤنے کھیل کو بند کرنے کے لیے ملک کی ‘جنریشن زی’ (نوجوان نسل) کو سڑکوں پر اتر کر پرامن احتجاج کرنا پڑے گا مسٹر کیجریوال نے نیٹ پیپر لیک معاملے کے حوالے سے بدھ کو ملک کے نوجوانوں سے براہِ راست ورچوئل خطاب کیا۔ انہوں نے نوجوان نسل کو پکارتے ہوئے کہا کہ پیپر لیک بہت ہو چکا، اب اس گھناؤنے کھیل کو ختم کرنے کے لیے ملک کے نوجوانوں کو سڑکوں پر نکلنا ہوگا۔ انہوں نے نیپال اور بنگلہ دیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب وہاں کے نوجوان اپنی حکومتیں بدل سکتے ہیں، تو ہمارے ملک کے نوجوان پیپر لیک میں ملوث وزراء اور لیڈروں کو جیل کیوں نہیں بھیج سکتے؟ انہوں نے کہا کہ ہر بار جانچ سی بی آئی کے سپرد کر دی جاتی ہے، لیکن آج تک کسی کو سزا نہیں ملی اور اس بار بھی کچھ ہونے والا نہیں ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ زیادہ تر پیپر لیک بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں ہی کیوں ہوتے ہیں؟ کیا اس گھناؤنے کھیل میں بی جے پی کے لیڈر براہِ راست ملوث ہیں؟ کچھ لوگ اسے سسٹم کی ناکامی کہتے ہیں، لیکن ایسا کہہ کر وہ نادانستہ طور پر پیپر لیک میں شامل اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے افراد کو بچا رہے ہیں۔ کیجریوال نے کہا کہ یہ ملک نوجوانوں کا ہے، ان لیڈروں کو ملک میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ ان کے بچے بیرون ملک پڑھتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ملک کے ایک بڑے لیڈر نے کہا تھا کہ ضرورت پڑی تو جھولا اٹھا کر چلا جاؤں گا، لیکن ہم کہاں جائیں گے؟ ہمارا خاندان تو اسی ملک میں رہتا ہے، اس لیے ہمیں اور نوجوانوں کو مل کر ہی اس ملک کو بچانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی سی بی آئی نے 10-15 لوگوں کو گرفتار کیا ہے، لیکن ہر بار کی طرح یہ تمام ملزمان تین چار مہینوں میں ضمانت پر باہر آ جائیں گے اور اگلے سال پھر پیپر لیک کی تیاری شروع کر دیں گے۔ مسٹر کیجریوال نے اعداد و شمار دیتے ہوئے بتایا کہ 2014 سے اب تک ملک میں 93 پیپر لیک ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر بی جے پی کی ‘ڈبل اور ٹرپل انجن’ حکومتوں میں ہوئے۔ ان واقعات سے تقریباً 6 کروڑ نوجوانوں کا مستقبل برباد ہوا۔ سب سے زیادہ پیپر لیک راجستھان، اتر پردیش، اتراکھنڈ اور گجرات میں ہوئے جہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔ حالیہ نیٹ پیپر لیک کا مرکز بھی راجستھان ہے اور جن پر شبہ ہے وہ بی جے پی کے لیڈر ہیں۔
عآپ لیڈر نے کہا کہ اگر نیپال اور بنگلہ دیش کے نوجوان سڑکوں پر اتر کر اپنی حکومتیں بدل سکتے ہیں تو ہمارے ملک کے نوجوان وزراء کو جیل کیوں نہیں بھیج سکتے؟ مجھے اپنے ملک کے نوجوانوں پر پورا بھروسہ ہے۔ یہ ملک نوجوانوں کا ہے، جبکہ لیڈروں کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
حکومت نے سونے اور چاندی کی درآمد پر ڈیوٹی بڑھا کر 15 فی صد کی
نئی دہلی، حکومت ہند نے سونے اور چاندی کی درآمد پر عائد کسٹم ڈیوٹی 6 فیصد سے بڑھا کر مجموعی طور پر 15 فیصد کر دی ہے تاکہ ملک میں ان قیمتی دھاتوں کی خریداری کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اور قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوذرائع کے مطابق سونے اور چاندی پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی 10 فی صد کر دی گئی ہے، جب کہ اس کے علاوہ 5 فی صد زرعی سیس بھی عائد کیا گیا ہے، جس کے بعد مجموعی ڈیوٹی 15 فیصد ہو گئی ہے۔
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے تیل اور گیس کی درآمد پر حکومت کو زیادہ زرمبادلہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی لیے حکومت دیگر اشیاء کی درآمد کم کر کے غیر ملکی کرنسی کے استعمال کو محدود کرنا چاہتی ہے۔
حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ایک سال تک سونا خریدنے سے گریز کریں، غیر ضروری بیرونِ ملک سفر سے بچیں اور جیواشم ایندھن کے استعمال میں بھی کمی کریں۔ حکومت کے دیگر وزراء بھی اس اپیل کو دہرا چکے ہیں۔
یو این آئی ایم جے
دنیا5 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
ہندوستان1 week agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا5 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان6 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
ہندوستان1 week agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
ہندوستان6 days agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا
دنیا4 days agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
ہندوستان1 week agoہندوستان نے فجیرہ حملے کی سخت مذمت کی، مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیا
دنیا1 week agoایران نے ایک بار پھر پر امن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا اعلان کر دیا
دنیا5 days agoاسرائیل کے غزہ میں جنگ بندی کے باوجود فضائی حملے، 9 فلسطینی شہید
دنیا1 week agoامریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی : باقر قالیباف













































































































