ہندوستان
بی جے پی کے دورِ حکومت میں اب متاثرہ کو ہراساں کرنے کا نیا نظام بن گیا ہے: پرینکا گاندھی
نئی دہلی،
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے اتر پردیش میں ایک لڑکی کے قتل سے پہلے اس کی شکایت درج کرنے میں تامل برتنے اور پھر بدمعاشوں کی جانب سے متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈالنے کے معاملے پر ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے دورِ اقتدار میں اب یہ ایک نیا نظام بن گیا ہے۔
سنیچر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں محترمہ واڈرا نے لکھا: “اتر پردیش کے غازی پور میں ایک لڑکی کے قتل کے معاملے میں پہلے ایف آئی آر درج کرنے میں آنا کانی، پھر متاثرہ خاندان کو دھمکیاں ملنا اور بدمعاشوں کے ذریعے لاقانونیت پھیلانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست میں خواتین کے خلاف مظالم انتہا پر ہیں۔”
پرینکا گاندھی نے کہا کہ بی جے پی راج میں اب یہ ایک “غیر اعلانیہ قانون” بن گیا ہے کہ جب بھی کسی خاتون پر ظلم ہوتا ہے تو الٹا متاثرہ شخص کو ہی مزید ہراساں کیا جاتا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی پر خواتین کی حفاظت کے حوالے سے غیر سنجیدہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ خواتین کے بارے میں وزیراعظم کی بڑی بڑی باتیں محض دکھاوا ہیں۔
انہوں نے اناؤ، ہاتھرس، پریاگ راج اور اب غازی پور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی خواتین کے ساتھ ناانصافی ہوئی، بی جے پی اپنی پوری طاقت کے ساتھ ظالم کے حق میں اور مظلوم کے خلاف کھڑی ہو گئی۔
پرینکا گاندھی نے مزید کہا کہ ملک بھر کی خواتین یہ “اندھیر نگری” دیکھ رہی ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
بنگال اور تمل ناڈو میں دوبارہ پولنگ کی کوئی سفارش نہیں کی گئی:الیکشن کمیشن
نئی دہلی،
الیکشن کمیشن کے حکام نے ہفتے کے روز واضح کیا ہے کہ مغربی بنگال اور تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے لیے 23 اپریل کو ہونے والی پولنگ کے حوالے سے کسی بھی مقام پر دوبارہ ووٹنگ کی سفارش نہیں کی گئی ہے۔
ریاست کی 294 رکنی اسمبلی کے پہلے مرحلے کے تحت 152 نشستوں کے لیے اس ہفتے جمعرات کو ووٹ ڈالے گئے۔ ان نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 44,376 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔ چند مقامات پر اکا دکا واقعات کے علاوہ ووٹنگ کا عمل پرامن رہا۔
تمل ناڈو کی تمام 234 اسمبلی نشستوں پر ایک ہی مرحلے میں انتخابات مکمل کر لیے گئے۔ اس مقصد کے لیے ریاست بھر میں 75,064 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے تھے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، دونوں ریاستوں میں رائے دہندگان کی جانب سے بھرپور جوش و خروش دیکھا گیا اور پولنگ کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔ کسی بھی مرکز سے دھاندلی یا سنگین بے ضابطگی کی شکایت موصول نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ پولنگ کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
مئو،
اتر پردیش کے ضلع مئو میں دوہری گھاٹ تھانہ علاقے کے تحت ہفتے کی صبح ایک دلدوز سڑک حادثہ پیش آیا، جہاں شادی کی تقریب سے واپس لوٹ رہی ایک اسکارپیو کار سامنے سے آنے والے ٹریلر سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد سمیت کل پانچ لوگوں کی موت ہو گئی۔
پولیس کے مطابق، گورکھپور کا رہنے والا ایک خاندان اپنی بیٹی کی شادی میں شرکت کرکے رانچی سے واپس گھر لوٹ رہے تھے۔ ہفتے کی صبح مئو ضلع میں ‘برسات پور اہیرانی ہائی وے’ پر اسکارپیو بے قابو ہو کر اپنی لین سے نکل کر دوسری طرف چلی گئی اور سامنے سے آنے والے ٹریلر سے ٹکرا گئی۔
ٹکر اتنی زوردار تھی کہ گاڑی میں سوار پانچوں افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت ونے شریواستو،ارچنا،کریتارتھ شریواستو،رویندر یاد اورپرشوتم کمار کے طور پر ہوئی ہے۔
پولیس نے موقع پر پہنچ کر تمام لاشوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور پوسٹ مارٹم کے لیے ضلع اسپتال روانہ کر دیا ہے۔ یو
این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے نکالے گئے انتخابی افسران کی عرضیاں خارج کر دیں
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے جمعہ کو ان افراد کی رٹ پٹیشنز پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا جنہیں ووٹر لسٹ کی ‘خصوصی تفصیلی نظر ثانی’ (ایس آئی آر) کے بعد مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے باہر کر دیا گیا تھا، جبکہ وہ موجودہ اسمبلی انتخابات میں انتخابی افسران کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئمالیہ باگچی کی بنچ نے عرضی گزاروں کو ان اپیلی ٹریبونلز سے رجوع کرنے کی ہدایت دی جو ووٹر لسٹ سے نام نکالے جانے کے چیلنجوں کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دیے گئے ہیں۔ عرضی گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد نے عدالت کو بتایا کہ کئی افسران کے نام کسی وجہ کے بغیر من مانے طریقے سے ووٹر لسٹ سے کاٹ دیے گئے ہیں۔
جسٹس باگچی نے تسلیم کیا کہ جن لوگوں کی اپیلیں ابھی زیر التوا ہیں، وہ شاید مغربی بنگال کے موجودہ اسمبلی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے، لیکن وہ اپنی اپیل جاری رکھ سکتے ہیں تاکہ مستقبل کے لیے ووٹر لسٹ میں ان کا نام بحال کیا جا سکے۔
عدالت نے بتایا کہ موجودہ وقت میں تقریباً 19 اپیلی ٹریبونلز کام کر رہے ہیں اور وہ عدالتی افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کر رہے ہیں۔
اس سے پہلے 13 اپریل کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مغربی بنگال کے وہ ووٹرز جن کے نام انتخابات سے کم از کم دو دن پہلے اپیلی ٹریبونلز کے ذریعے منظور کر لیے جاتے ہیں، وہ اسمبلی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حقدار ہوں گے۔ قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال میں انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ جمعرات کو مکمل ہو گئی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے کی پولنگ 29 اپریل کو ہوگی۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا5 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا1 week agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
جموں و کشمیر1 day agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا1 week agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا4 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر4 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
ہندوستان1 week agoاسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا ہندوستان کی جانب سے خیر مقدم، امن کی سفارتی کوششوں کی حمایت








































































































