جموں و کشمیر
ریونیو ملازمتوں سے اردو کی لازمی اہلیت ختم کرنے کے خلاف پی ڈی پی کا زبردست احتجاج
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے منگل کے روز سری نگر میں جموں و کشمیر حکومت کےاس مسودہ قوانین کے خلاف احتجاج کیا، جس میں ریونیو محکمے کی ملازمتوں کے لیے اردو کی لازمی اہلیت کو ختم کردیا گیا ہے۔
یہ احتجاج جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے ان مسودہ قوانین کے نوٹیفکیشن کے بعد شروع ہوا ہے، جن میں عوامی اعتراضات طلب کیے گئے ہیں اور ان میں ریونیو کی آسامیوں کے لیے اردو کی لازمی شرط کو ختم کر دیا گیا ہے۔
پی ڈی پی کی رہنما التجا مفتی نے سری نگر میں پارٹی احتجاج کی قیادت کی، جسے بعد میں پولیس نے روک دیا۔ انہوں نے اردو کی شرط ختم کرنے کے اقدام کو جموں و کشمیر کے انتظامی اور لسانی ورثے پر کاری ضرب قرار دیا۔
محترمہ التجا مفتی نے اس تبدیلی کو ثقافتی شناخت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ریونیو کے بیشتر ریکارڈ اب بھی اردو میں ہیں اور اس تبدیلی سے انتظامی امور میں خلل پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے اس معاملے پر حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، “اردو کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جامعہ سراج العلوم جیسے تعلیمی اداروں پر پابندی لگائی جا رہی ہے اور سوپور میں طلبہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، لیکن نیشنل کانفرنس کی حکومت کچھ نہیں کر رہی۔” انہوں نے مزید کہا کہ اردو جموں و کشمیر کی مختلف برادریوں کے درمیان رابطے کی زبان کے طور پر کام کرتی ہے۔
اردو کے معاملے پر نیشنل کانفرنس کی ‘خاموشی’ پر سوال اٹھاتے ہوئے محترمہ التجا مفتی نے کہا، “نیشنل کانفرنس کے پاس 50 ایم ایل اے ہیں۔ وہ خاموش کیوں ہیں؟ میں وزیر اعلیٰ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ وہ یہاں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے دوسری ریاستوں میں میراتھن میں شرکت کرنے میں کیوں مصروف ہیں؟”
انہوں نے نیشنل کانفرنس پر اہم معاملات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا الزام بھی لگایا۔ بعد ازاں احتجاج پرامن طور پر ختم ہوا۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
محبوبہ کا اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کو معمول بنائے جانے پر تنقید
سرینگر، محبوبہ مفتی، صدر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)، نے ہفتہ کے روز الزام عائد کیا کہ ملک میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور امتیازی سلوک کو بتدریج معمول بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ ’’بی جے پی کے نام نہاد وکست بھارت کی حقیقت یہی ہے کہ نفرت انگیز تقاریر اس حد تک معمول بن چکی ہیں کہ پیدا نہ ہونے والے مسلم بچوں کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور آدیواسیوں کو مسلسل حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے، جبکہ گھروں اور مساجد کو بلاخوف و خطر مسمار کیا جا رہا ہے۔‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ نے تقسیم پیدا کرنے والی زبان اور بیانات کی بڑھتی ہوئی قبولیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے بیانات کے خلاف خاموشی معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اس قسم کی نفرت انگیز بیان بازی پر جاری خاموشی اُن عناصر کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو ہمارے معاشرے کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
محبوبہ مفتی کا یہ ردِعمل للت شرما کی جانب سے دہرادون کے بیراگی والا علاقے میں مبینہ نفرت انگیز تقریر کے بعد سامنے آیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
ای او ڈبلیو کشمیر نے دھوکہ دہی کے مقدمے میں اترپردیش کے ایک باشندے کے خلاف چارج شیٹ دائر کر دی
سرینگر، جموں و کشمیر کرائم برانچ کے اکنامک آفنسز ونگ (ای او ڈبلیو) کشمیر نے ہفتہ کے روز سوپور کی ایک عدالت میں اتر پردیش کے ایک ملزم کے خلاف چارج شیٹ دائر کی، جس پر غیر ملکی ٹیلی کام منصوبہ فراہم کرنے کا جھانسہ دے کر شکایت کنندہ سے دھوکہ دہی کے ذریعے رقم حاصل کرنے کا الزام ہے۔
ای او ڈبلیو کے مطابق یہ چارج شیٹ سال 2023 میں تعزیراتِ ہند کی دفعہ 420 کے تحت درج ایف آئی آر کے سلسلے میں پیش کی گئی۔ ملزم کی شناخت ہرکیت سنگھ، ساکن کالی ماتا مندر، لال بنگلہ، کانپور، اتر پردیش کے طور پر ہوئی ہے۔
مقدمے کی بنیاد ایک تحریری شکایت پر رکھی گئی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ملزم نے امریکہ کی ایک ٹیلی کام کمپنی سے منسلک مبینہ اے ٹی اینڈ ٹی اِن باؤنڈ سیلز کال پروجیکٹ فراہم کرنے کا وعدہ کرکے شکایت کنندہ کو رقم دینے پر آمادہ کیا۔
تحقیقات کے دوران اکنامک آفنسز ونگ نے الزامات کا جائزہ لیا اور مقدمے سے متعلق شواہد جمع کیے۔ تفتیش کاروں نے پایا کہ ملزم نے مبینہ طور پر منصوبے کے بارے میں جھوٹی یقین دہانیاں کرا کے شکایت کنندہ کو دھوکہ دیا اور فراڈ کے ذریعے رقم حاصل کی۔
کرائم برانچ حکام کے مطابق، تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے شواہد نے شکایت میں لگائے گئے الزامات کی تائید کی۔
بعد ازاں، عدالتی کارروائی کے لیے چارج شیٹ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، سوپور کی عدالت میں پیش کر دی گئی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں ٹیکسی سڑک سے پھسل کر حادثے کا شکار، آٹھ افراد زخمی
سرینگر، جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں ہفتہ کے روز ایک ٹویرا کیب سڑک سے پھسل کر حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔
حکام کے مطابق ٹنگمرگ کے بابا ریشی علاقے کے قریب ٹویرا کیب ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو کر سڑک سے پھسل گئی، جس کے باعث گاڑی میں سوار آٹھ مسافر زخمی ہو گئے۔
زخمیوں کو فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی علاج کے بعد انہیں مزید خصوصی علاج کے لیے سرینگر کے جے وی سی اسپتال ریفر کر دیا گیا۔
ادھر، اس واقعے کے سلسلے میں پولیس اسٹیشن ٹنگمرگ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر1 week agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
جموں و کشمیر1 week agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
ہندوستان1 week agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا6 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
ہندوستان3 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
جموں و کشمیر5 days agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا7 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا6 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
ہندوستان6 days agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا4 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ






































































































