دنیا
امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کا متن جاری کردیا
واشنگٹن، امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کا متن جاری کر دیا جو 14 نکات پر مشتمل ہے امریکی حکام نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا متن میڈیا نمائندوں کے سامنے پڑھ کر سنایا جس میں آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران پر بعض مالی پابندیوں میں نرمی اور ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق مستقبل کے مذاکرات کے بنیادی خدوخال بھی شامل ہیں متن کو امریکہ اور ایران کے عنوان سے جاری دستاویز کہا گیا۔
ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی
امریکی حکام نے متن کے بارے میں میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ معاہدہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کیلیے ایران کو پابند کرتا ہے، یہ ایران کو جوہری مواد تلف کرنے کے عمل کا پابند بناتا ہے، یہ ایران کے مثبت اقدامات پر معاشی اور پابندیوں میں نرمی کا فریم ورک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہو سکتا ہے عبوری معاہدے پر ٹرمپ اور پزشکیان دستخط کریں: ایران
‘مفاہمتی یادداشت جمعہ کو باضابطہ طور پر دستخط کیلیے پیش کی جائے گی جس کے بعد حتمی معاہدے کی شرائط طے کرنے کیلیے 60 روزہ مذاکراتی مدت شروع ہوگی۔ اس کا پہلا نکتہ فوری اور مستقل جنگ بندی ہے۔’
امریکا 30 روز میں بحری ناکہ بندی مکمل ختم کر دے گا
متن کے مطابق فریقین تمام محاذوں بشمول لبنان مستقل جنگ بندی پر اتفاق کر چکے ہیں، فریقین نے جنگ یا طاقت کے استعمال سے گریز اور لبنان کی خودمختاری کے احترام کا عہد کیا، امریکا اور ایران ایک دوسرے کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے، دونوں ممالک اندرونی معاملات میں مداخلت سے اجتناب کریں گے۔
‘فریقین 60 دن کے اندر حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کرنے کی کوشش کریں گے، اس مدت میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی ممکن ہوگی۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے 30 روز میں امریکہ بحری ناکہ بندی مکمل ختم کر دے گا، امریکی افواج بھی ایران کے اطراف سے ہٹا لی جائیں گی۔’
ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی پلان کی مالیت 300 ارب ڈالر ہوگی
متن کے مطابق ایران 60 دن کیلیے خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کی محفوظ بنائے گا، تہران 60 دن کیلیے آبنائے ہرمز سے بلا معاوضہ آمد و رفت یقینی بنائے گا، ایران بارودی سرنگوں و دیگر رکاوٹیں ہٹانے کے بعد 30 دن میں بحری ٹریفک مکمل بحال کرے گا، امریکا علاقائی شراکت داروں کے ساتھ ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی پر کام کرے گا، تعمیر نو اور اقتصادی ترقی پلان کی مالیت 300 ارب ڈالر ہوگی جبکہ اس کی تفصیلات حتمی معاہدے میں طے کی جائیں گی۔
ایران پر عائد تمام پابندیاں متفقہ شیڈول کے مطابق ختم کی جائیں گی
معاہدے کے تحت ایران پر عائد آئی اے ای اے، یو این اور یکطرفہ امریکی پابندیاں ختم کی جائیں گی، تہران پر عائد تمام پابندیاں متفقہ شیڈول کے مطابق ختم کی جائیں گی، ایران نے دوبارہ یقین دہانی کروائی کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہیں کرے گا، افزودہ یورینیم ذخائر کے مستقبل کا فیصلہ آئی اے ای اے کی نگرانی میں باہمی اتفاق سے ہوگا، حتمی معاہدے تک ایران موجودہ جوہری پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔
ایران کو خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات پر خصوصی مراعات اور مالی سہولت ملے گی
‘امریکا ایران پر نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا خطے میں مزید فوجی تعیناتی سے گریز کرے گا۔ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ایران کو خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات پر خصوصی مراعات اور مالی سہولت ملے گی۔ ایران کو خام تیل پیٹرومصنوعات پر خدمات کیلیے بھی خصوصی چھوٹ ملے گی۔’
متن کے مطابق امریکا ایران کے منجمد یا محدود مالی اثاثوں کو قابل استعمال بنانے کیلیے اجازت نامے دے گا، امریکا منجمد فنڈز تک رسائی کیلیے ایران کو لائسنس جاری کرے گا، معاہدے پر عملدرآمد اور مستقبل کے حتمی معاہدے کی نگرانی کیلیے مشترکہ نظام قائم ہوگا، ابتدائی اقدامات پر عملدرآمد کے بعد دونوں ملک حتمی معاہدے پر باضابطہ مذاکرات شروع کریں گے، حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکا ایران کے درمیان معاہدہ ہوگیا لیکن اسرائیل کی جدوجہد باقی ہے؛ نیتن یاہو
تل ابیب،اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت طے ہوجانے کے باوجود لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانے سے صاف انکار کردیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس فیصلے کا اعلان اسرائیلی
وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ معاہدے اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے واپس نہیں ہٹے گی۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ جب تک اسرائیل کی سلامتی کا تقاضا ہوگا جنوبی لبنان میں قائم سکیورٹی زون برقرار رکھا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ شمالی اسرائیل کے شہروں میں امن اور خوشحالی کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی ناگزیر ہے۔
انہوں نے زور دیکر کہا کہ ہم شمالی شہروں میں سیکیورٹی اور خوشحالی بحال کریں گے اس کے لیے جنوبی لبنان میں سیکیورٹی زون برقرار رکھنا ضروری ہے اور جب تک اسرائیل کی سلامتی کا تقاضا ہوگا ہم وہاں سے نہیں جائیں گے۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو ضرورت سے زیادہ جارحانہ قرار دیا تھا اور یہ محاذ شامی صدر احمد الشرح کے حوالے کرنے کی تجویز دی تھی۔
دریں اثنا ایران نے بھی امریکا کے ساتھ ہونے والے مفاہمتی معاہدے میں جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلا کو ایک بنیادی شرط قرار دیا ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ روز دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت میں بھی لبنان سمیت تمام جنگی محاذ بند کرنے کی شق شامل ہے تاہم اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں ہے اور اس نے واضح کیا ہے کہ وہ خود کو اس کی شرائط کا پابند نہیں سمجھتا۔
یواین آئی ۔م ا ع
دنیا
ایرانی صدر نے امریکہ کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کی تصویر شیئر کردی
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کےلیے طے پانے والے معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔
مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یہ ایک تاریخی دستاویز ہے اور ایک طاقتور ایران کا پیغام ہے کہ امن باہمی احترام کے سائے میں حاصل کیا جائے گا۔
انہوں نے معاہدے کی تصویر بھی شیئر کی، جس پر ان کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے دستخط بھی موجود ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے معاہدے پر دستخط کردیے، وزیراعظم شہباز شریف کے بھی بطور ثالث معاہدے پر دستخط موجود ہیں، پاکستان نے بطور ثالث معاہدے کی توثیق کردی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کی بنیاد ثابت ہوگا، پیش رفت ممکن بنانے اور امن و علاقائی استحکام آگے بڑھانے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک محنت نہایت اہم رہی۔
وزیراعظم نے معاہدے پر صدر ٹرمپ ، سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای اور ایرانی صدر کو مبارک باد بھی دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے وعدے پورے نہ کیے تو امریکہ دوبارہ کارروائی کیلئے تیار ہو گا: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ امریکہ کی مضبوط اور طاقتور پوزیشن کے نتیجے میں ممکن ہوا، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کی موجودگی میں تبدیلی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔
برسلز میں نیٹو وزرائے دفاع کے اجلاس میں شرکت کے بعد پیٹ ہیگستھ نے گفتگو کے دوران کہا کہ اگر ایران نے اپنی ذمے داریاں اور وعدے پورے نہ کیے تو امریکہ دوبارہ کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار ہو گا۔
اُنہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے معاہدے کی شرائط پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ایک بار پھر سخت اور مؤثر بحری ناکہ بندی نافذ کی جائے گی۔
امریکی وزیرِ جنگ کا کہنا ہے کہ یورپ کے بعض ممالک آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی اور بحری آپریشنز میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
پیٹ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ یہاں کسی قسم کی رعایت یا یک طرفہ فائدہ نہیں دیا جا رہا، مذاکرات کے پیچھے امریکا کی مضبوط فوجی طاقت اور دباؤ موجود رہے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر5 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان5 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا5 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا6 days agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا1 week agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں
جموں و کشمیر5 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا3 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoپاکستان کا افغانستان پر حملہ، 11 بچوں سمیت 13 افراد ہلاک
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
دنیا3 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا




































































































