تازہ ترین
مغل روڑ پر المناک حادثہ: 9طالبات سمیت 11جاں بحق؛11 زخمی

خبراردو: مغل روڑ پر پیر کی گلی کے مقام پر سڑک کے ایک المناک حادثے میں ایکسکرشن پر آرہی گاڑی لعل غلام روڑ پر سڑک سے لڑھک کر گہری کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 9طالبات سمیت 11افراد جاں بحق ہوگئیں جبکہ حادثے میں ایک درجن کے قریب اسکولی طالبات زخمی ہوگئیں جنہیں علاج و معالجے کی خاطر شوپیان اور سرینگر منتقل کیا گیا۔
مغل روڑ پر جمعرات کو اُس وقت چیخ و پکار اور فضا شکن سسکیاں سنی گئیں جب پونچھ سے شوپیان کی طرف آرہی ٹیمو ٹراولر لعل غلام روڑ کے نزدیک سڑک سے لڑھکنے کے بعد گہری کھائی میں جاگری۔اطلاعات کے مطابق مغل روڑ پر واقع پیر کی گلی پر سرنکوٹ پونچھ سے تعلق رکھنے والے نجی کمپوٹر انسٹی چوٹ میں زیر تعلیم طالبات ایکسکرشن کی غرض سے دھوبجن شوپیان جارہے تھے کہ اسی اثنا میں بدھوار دوپہر کے قریب گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر کر سڑک سے لڑھکنے کے بعد گہری کھائی میں جاگری۔ ذرائع سے معلوم ہوا کہ گاڑی میں سوار11طالبات موقعے پر ہی جاں بحق ہوگئیں جبکہ اس کے علاوہ دیگر ایک درجن طالبات شدید طور پر زخمی ہوگئیں جنہیں نازک حالت میں شوپیان اور سرینگر کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ہسپتال ذرائع نے جاں بحق ہوئے افراد کی شناخت تبسم دختر محمد رفیق، شاہین فاطمہ دختر زمان احمد، سہیل احمدولد زبیر احمد، عرفانہ کوثر، حمیرہ قاظمی، رحمت بی، جمیل احمد، نجمہ جان، شبنم اور رابعہ جان کے طور پر کی ہے۔پولیس ذرائع نے حادثے سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ بدھوار کو پونچھ کے سرنکوٹ میں قائم نجی کمپوٹر انسٹی چوٹ سے وابستہ طالبات سیر و تفریح کی غرض سے شوپیان آرہے تھے جس دوران ان کی گاڑی پیر کی گلی کے مقام پر سڑک سے لڑھکنے کے بعد 100میٹر گہری کھائی میں جاگری۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے کی شکار گاڑی کھائی میں گرجانے کے بعد مکمل طور پر تباہ ہوگئیں جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 11افراد موقعے پر ہی دم توڑ بیٹھے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر حادثے میں مرنے والوں میں 9طالبات شامل ہیں جبکہ دیگر زخمیوں میں سے مزید کئی طالبات کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔
پولیس نے مزید بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد یہاں پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سمیت مقامی لوگوں نے پہنچ کر بچاؤ کارروائیاں شروع کی اور گاڑی میں پھنسے دیگر زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں علاج و معالجے کی خاطرمنتقل کیا۔ پولیس کے مطابق گاڑی میں سوار 22افراد میں سے ابتدائی طور پر 11افراد از جان ہوئے جبکہ دیگر زخمیوں کو شوپیان کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا تاہم یہاں سے 7طالبات کو نازک حالت میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا۔ادھرہسپتال ذرائع نے بتایا کہ پیر کی گلی پر پیش آچکے حادثے کے متاثرین کو پہلے شوپیان کے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اُن کا ابتدائی علاج و معالجہ عمل میں لایا گیا تاہم 7طالبات کو نازک حالت میں سرینگر کے ہسپتالوں کو منتقل کیا گیا۔عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ حادثے کے فوراً بعد انتظامیہ، پولیس اور لوگوں نے مشترکہ طور پر بچاؤ کارروائیاں شروع کیں جس کے بعدزخمی افراد کو مختلف طبی مراکز کو منتقل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جونہی حادثہ پیش آیا تو یہاں کہرام مچ گیا جس دوران گاڑی میں سوار زخمی طالبات کی چیخ و پکار سے ماحول آبدیدہ ہوگیا۔ادھر ڈپٹی کمشنر شوپیان ڈاکٹر اُویس احمد کے مطابق حادثے میں ابتدائی طور پر 4طالبات موقعے پر ہی لقمہ اجل بن گئیں جبکہ گاڑی میں سوار دیگر زخمی طالبات کو نازک حالت میں نزدیکی ہسپتالوں کو منتقل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے میں زخمی ہوچکی دیگر طالبات کی حالت ہنوز تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 7طالبات کو نازک حالت میں شوپیان کے طبی مراکز سے سرینگر کے ہسپتالوں کو منتقل کیا گیا جبکہ دیگر زخمیوں کا علاج و معالجہ جاری ہے۔ادھر پولیس نے واقعے کے حوالے سے ایک کیس درج کرتے ہوئے حادثے کے محرکات کو جاننے کیلئے انکوائری شروع کردی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مغل روڑ پر پیش آچکے سڑک کے المناک حادثے سے متعلق مقدمہ درج کرنے کے ساتھ ساتھ تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔
گورنر ستیہ پال ملک نے بدھوار کو سڑک حادثے میں انسانی جانیں تلف ہونے پر اپنے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔
گورنر ستیہ پال ملک نے اپنے تعزیتی پیغام میں جاں بحق افراد کے ابدی سکون کیلئے دعائیں کرنے کے علاوہ لواحقین کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ گورنر نے حادثے میں مرنے والے کے حق میں فی کس 5لاکھ روپے بطور ایکس گریشیا ریلیف کا اعلان کیا ہے۔اس موقعے پر گورنر ستیہ پال ملک نے انتظامیہ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ حادثے میں زخمی افراد کو بہتر علاج و معالجہ فراہم کریں۔ انہوں نے زخمی ہوئے افراد کی جلد اور فوری صحتیابی کیلئے بھی دعا کی۔
اس دوران حادثے پر متعدد سیاسی، سماجی اور مذہبی لیڈران جن میں ڈاکٹر فاروق عبد اللہ، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی، ڈاکٹر شاہ فیصل، غلام احمد میر، عمران رضا انصاری، سجاد غنی لون، محمد یوسف تاریگامی، حکیم محمد یاسین، بیگم خالدہ شاہ، ایڈوکیٹ مظفر شاہ، علی محمد ساگر، ناصر اسلم وانی، محمد رفیع میر، نعیم اختر، انعام النبی، اشتیاق بیگ شامل ہیں،نے اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے ابدی سکون کی دعا کرنے کیساتھ ساتھ لواحقین کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
ہندوستان
گزشتہ چار دنوں میں پی او کے مظاہروں اور پولیس تشدد میں کم از کم 41 افراد ہلاک
نئی دہلی، پاکستانی مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں حکام نے منگل کی سہ پہر کو کرفیو نافذ کر دیا کیونکہ مظاہرے کئی شہروں میں پھیل گئے، جب کہ پولیس تشدد میں گزشتہ چار دنوں میں کم از کم 41 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 19 بچے اور سات حاملہ خواتین شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق راولکوٹ، مظفرآباد، کوٹلی، بھمبر، ڈڈیال، پالندری اور سدھانوتی میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، حکومت اور فوج مخالف نعرے لگائے اور آزادی کا مطالبہ کیا۔ مظفرآباد، کوٹلی، بھمبر اور ڈڈیال میں انتظامی بندش سے معمولات زندگی درہم برہم ہو گئے، پولیس کی کارروائی میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
راولکوٹ میں صبح 11 بجے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا، مظاہرین نے مرکزی سڑک بلاک کر دی، جس سے پاکستانی پولیس، فوج اور رینجرز کو گولیوں، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کا سہارا لینا پڑا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انتظامی کارروائی میں کم از کم سات افراد زخمی ہوئے۔
ذرائع کے مطابق کوٹلی اور ڈڈیال میں لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی، نعرے لگاتے ہوئے راولکوٹ کی طرف مارچ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ پالندری میں آنسو گیس کے استعمال کے باوجود ہزاروں افراد پاکستانی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔
دریں اثنا، سودھانوتی میں مظاہرین نے لکڑی کی لاٹھیوں سے مظاہرے کیے اور پاکستانی حکومت اور فوج کو وارننگ جاری کی۔ مظفرآباد میں نیلم پل پر مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ فائرنگ کی ویڈیوز نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پی او کے میں مظاہرین 38 مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان میں بنیادی طور پر سستی بجلی اور آٹے، چاول اور دالوں کی کم قیمتیں شامل ہیں۔
مظاہرین کا موقف ہے کہ پاکستان نے پی او کے میں منگلا ڈیم جیسے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ بنائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ پاکستان کا حصہ نہیں ہے اس لیے مقامی رہائشیوں کو کم نرخوں پر بجلی ملنی چاہیے۔ مظاہرین کا ایک بڑا سیاسی مطالبہ پی او کے اسمبلی میں پناہ گزینوں کے لیے مخصوص 12 نشستوں کو ختم کرنا ہے۔ یہ نشستیں ان لوگوں کے لیے مخصوص ہیں جنہیں پناہ گزین سمجھا جاتا ہے اور جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جموں و کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر آئے ہیں لیکن اب وہ پی او کے کے بجائے پاکستان کے دوسرے حصوں میں رہتے ہیں۔ مظاہرین سوال کرتے ہیں کہ جو لوگ پی او کے میں نہیں رہتے وہ ان 12 سیٹوں کو ووٹ اور نمائندگی کیسے دے سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاکستانی فوج اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی میں موجودگی کے باوجود صرف حزب المجاہدین کے ارکان اور ان کے رشتہ دار ہی ان مخصوص نشستوں پر منتخب ہوں۔ نتیجے کے طور پر، پی او کے اسمبلی کی 45 میں سے 12 سیٹیں آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کے زیر اثر رہیں۔ اس سے وہ قانون سازوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور اگر ضروری ہو تو اپنی پسند کا وزیر اعظم مقرر کر سکتے ہیں۔
ایک مثال عبداللہ سعید شاہ کی ہے، جنہیں پیر مظہر سعید شاہ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ جیش محمد کا سندھ کا صوبائی سربراہ بتایا جاتا ہے۔ اس شدت پسند تنظیم میں ان کے مبینہ کردار کے باوجود، وہ پی او کے اسمبلی کے رکن ہیں اور حال ہی میں اطلاعات و نشریات کے وزیر کے عہدے پر فائز تھے۔ اسی طرح کی مظاہروں کی لہر گزشتہ سال اکتوبر میں بھی پھوٹ پڑی تھی جس میں 31 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ان مظاہروں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے قریبی ساتھی اور سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ کو مذاکرات کے لیے پی او کے بھیجا۔ حکام نے مظاہرین کے 38 میں سے 21 مطالبات تسلیم کر لیے۔ تاہم آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود وہ وعدے پورے نہیں ہوئے۔ حکام نے موجودہ بدامنی کے دوران اور اس سے پہلے دونوں مظاہرین پر گولیاں چلائی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال بریگیڈیئر فائق ایوب کے آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے پی او کے میں شہریوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ مظاہرین اور ماہرین کا الزام ہے کہ ان کی کمان میں فوج کے جبر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پی او کے میں اپنی پوسٹنگ سے قبل، بریگیڈیئر فائق ایوب پنجاب میں سیکٹر کمانڈر تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لاہور میں پرتشدد کریک ڈاؤن کا ذمہ دار تھا، جس کی وجہ سے انہیں “لاہور کا قصائی” کا لقب ملا۔ اس کے بعد، لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے انہیں پی او کے منتقل کر دیا، جہاں کریک ڈاؤن جاری ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل کے موقف سے قطع نظر امریکہ ایران جوہری معاہدے پر آگے بڑھے گا: وینس
واشنگٹن، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام پر کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھے گا، چاہے اس پر اسرائیل کا موقف کچھ بھی ہو۔
مسٹر وینس نے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ “گزشتہ چند مہینوں میں اور درحقیقت گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران جو کچھ ہوا ہے، اس نے ایک ایسا ماحول بنایا ہے جس میں صدر یقین رکھتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم ایرانی جوہری مسئلے کا ایک طویل مدتی حل تلاش کر سکتے ہیں۔” “چاہے اسرائیل اسے پسند کرے یا نہ کرے، ہمیں یقین ہے کہ یہ امریکہ کے بہترین مفاد میں ہے۔ لہٰذا ہم اس سمت میں آگے بڑھتے رہیں گے، کیونکہ امریکی عوام نے یہی صدر منتخب کیا ہے اور ہمیں امریکی عوام کی خدمت کے لیے یہی کرنا ہے،”
مسٹر وینس کے تبصرے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دراڑ کے بارے میں قیاس آرائیوں کے درمیان آئے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ایرانی میزائل حملوں کا جوابی کارروائی نہ کرے، لیکن اسرائیل نے اس درخواست پر کان دھرنے سے انکار کر دیا۔ اتوار کو مغربی ایشیا میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملہ کیا۔
ایران نے اس کے جواب میں شمالی اسرائیل کی طرف میزائل داغے۔ اس کے بعد اسرائیل نے ایران کے خلاف کئی راؤنڈ فضائی حملے کیے، جب کہ تہران نے اضافی میزائل حملوں کا جواب دیا۔ ایران کی فوج نے پیر کی صبح کہا کہ وہ اسرائیل کے خلاف حملوں کو روک رہی ہے، لیکن لبنان میں اسرائیلی کارروائی جاری رکھنے کی صورت میں “انتہائی سخت اور تباہ کن” ردعمل کا انتباہ دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے فی الحال ایران پر فضائی حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن وہ جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
غور طلب ہے کہ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد پورے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی اڈوں کے ساتھ اسرائیل اور دیگر ممالک کو نشانہ بنایا۔ ایک عارضی جنگ بندی 8 اپریل کو عمل میں آئی تھی لیکن اس کے نفاذ اور علاقائی پیش رفت پر اختلافات کی وجہ سے بات چیت تعطل کا شکار ہے۔
صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا تاہم ابھی تک تنازع کو مکمل طور پر ختم کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو اس کے جوہری پروگرام پر کسی بھی قسم کی بات چیت سے قبل جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
این سی کے رکنِ پارلیمان روح اللہ دہلی احتجاج میں شامل ہوں گے، کہا ریاستی درجہ اور آئینی حقوق کی جدوجہد جاری رہنی چاہیے
سری نگر، نیشنل کانفرنس (این سی) کے ناراض رکنِ پارلیمان روح اللہ مہدی نے منگل کو کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے اور آئینی ضمانتوں کی بحالی کے مطالبے کے لیے دہلی میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ تحریک محض عوامی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایک روزہ علامتی پروگرام نہیں بننی چاہیے۔
گزشتہ ہفتے حکمران نیشنل کانفرنس نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن نئی دہلی میں احتجاج کیا جائے گا تاکہ جموں و کشمیر کو فوری طور پر ریاستی درجہ اور آئینی ضمانتیں بحال کرنے کا مطالبہ کیا جا سکے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روح اللہ مہدی نے کہا کہ عوام نے انہیں آرٹیکل 370 اور اگست 2019 سے قبل موجود آئینی تحفظات کی بحالی کے لیے جدوجہد کی ذمہ داری سونپی ہے۔
انہوں نے کہاکہ”میں دہلی جاؤں گا اور آرٹیکل 370 کے بارے میں بات کروں گا۔ میں ریاستی درجے کے بارے میں بات کروں گا۔ عوام نے ہمیں آرٹیکل 370 اور اپنے آئینی حقوق کے لیے لڑنے کی ذمہ داری دی ہے۔”
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جدوجہد وقتی احتجاجوں یا سیاسی پروگراموں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔
روح اللہ نے کہاکہ”ریاستی درجے کے لیے صرف ایک دن کا احتجاج نہیں ہونا چاہیے۔ ایسا کوئی پروگرام نہیں ہونا چاہیے جس کا مقصد صرف لوگوں کو خاموش کرنا ہو۔ یہ ایک منظم اور مسلسل جدوجہد ہونی چاہیے، صرف ریاستی درجے کے لیے نہیں بلکہ ان تمام آئینی تحفظات کی بحالی کے لیے بھی جو 2019 سے پہلے موجود تھے۔”
2024 کے پارلیمانی انتخابات میں سری نگر لوک سبھا نشست جیتنے والے روح اللہ مہدی کو آرٹیکل 370، ریاستی درجہ اور جموں و کشمیر کے آئینی حقوق کے معاملے پر نیشنل کانفرنس کے سب سے واضح اور سرگرم رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
واضح موقف رکھنے والے اس رکنِ پارلیمان نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے سخت ناقد کے طور پر بھی اپنی شناخت بنائی ہے۔
وہ متعدد بار عمر عبداللہ پر آرٹیکل 370 کے معاملے میں نرم رویہ اختیار کرنے اور نیشنل کانفرنس کو عوام کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ سے انحراف کا الزام عائد کر چکے ہیں۔
روح اللہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ آئینی تحفظات کی بحالی اور جموں و کشمیر کی شناخت کا تحفظ سیاسی بحث و مباحثے کا مرکزی موضوع رہنا چاہیے۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران انہیں پارٹی قیادت کی جانب سے نظر انداز کیا گیا اور نیشنل کانفرنس کے کئی اہم اجلاسوں میں بھی مدعو نہیں کیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر7 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
کھیل1 week agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
ہندوستان6 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا5 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا1 week agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا4 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا6 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا1 week agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی
دنیا7 days agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران









































































































