تازہ ترین
امپورٹڈ حکومت کے خلاف مارچ پرامن ،تحریک کا مقصدنرم انقلاب : عمران خان

لاہور، 27 اکتوبر (یواین آئی) اپنے آنے والے احتجاج کو پاکستان کی ’سب سے بڑی آزادی کی تحریکوں‘ میں سے ایک قرار دینے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے لاہور میں پارٹی رہنماؤں کو مختلف کام تفویض کیے تاکہ لانگ مارچ میں حامیوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنایا جا سکے عمران خان نے زور دے کر کہا کہ ’امپورٹڈ حکومت‘ کے خلاف مارچ کرنے والے مظاہرین پرامن رہیں گے کیونکہ ان کی تحریک کا مقصد ’نرم انقلاب‘ ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے صوبائی دارالحکومت میں متعدد ملاقاتیں کیں، جن میں وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی سے ان کے زمان پارک ہاؤس میں ملاقات بھی شامل ہے، جس میں مارچ سے قبل سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو مارچ کے حوالے سے عوام میں آگاہی پیدا کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی۔
پی ٹی آئی کا ارادہ 28 اکتوبر کو لاہور کے لبرٹی چوک سے مارچ شروع کرنے کے ایک ہفتے بعد 4 نومبر کو راولپنڈی-اسلام آباد پہنچنے کا ہے۔
خود عمران خان کی قیادت میں ریلی لاہور سے باہر شاہدرہ میں پہلی رات قیام کرے گی جس کے بعد گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات اور جہلم میں رات کو رکا جائے گا اور آخر کار جی ٹی روڈ کے راستے راولپنڈی پہنچیں گے۔
لاہور میں پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد اور پارٹی کی دیگر قیادت نے ایک کنٹینر پر سرخ اور سبز رنگ کیا، پارٹی کے جیل روڈ آفس سے لبرٹی چوک تک کا دورہ کیا اور جمعہ کی صبح پارٹی کارکنوں اور حامیوں کے اجتماع کے لیے انتظامات کی منصوبہ بندی کی۔
ایک ویڈیو پیغام میں یاسمین راشد نے پارٹی کارکنوں اور حامیوں کو دعوت دی کہ وہ ’امپورٹڈ حکومت‘ کو جھٹکا دینے کے لیے مارچ میں حصہ لیں۔
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی جانب سے کنٹینرز کی دیواریں کھڑی کرنے پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا تو وفاقی حکومت گرا دی جائے گی۔
بعد ازاں عمران خان نے پرویز الٰہی کے ساتھ پنجاب کی حکمران جماعتوں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کی اور لانگ مارچ کے حوالے سے قانون سازوں کو اعتماد میں لیا۔
ہندوستان
کانگریس نے تمل ناڈو میں وجے کی ٹی وی کے پارٹی کو حمایت دینے کا دیا اشارہ
نئی دہلی، کانگریس نے منگل کو اشارہ دیا کہ وہ اداکار سے سیاست داں بنے وجے اور ان کی پارٹی، تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے) کو تمل ناڈو میں حکومت بنانے کے لیے حمایت دینے پر غور کر رہی ہے حالانکہ حتمی فیصلہ پارٹی کی ریاستی اکائی کی جانب سے کیا جائے گا ایکس پر ایک پوسٹ میں، کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ وجے نے حکومت بنانے کے لیے پارٹی کی حمایت مانگنے کے لیے رسمی طور پر پارٹی سے رابطہ کیا ہے۔ مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ “ٹی وی کے صدر تھیرو وجے نے تمل ناڈو میں حکومت بنانے کے لیے بھارتیہ راشٹریہ کانگریس سے حمایت کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی مشن میں پیرومتھلائیور کے۔ کامراج سے ترغیب لینے کی بات بھی کہی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس تمل ناڈو میں کےانتخابی نتائج کو آئینی اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم سیکولر حکومت کے مینڈیٹ کے طور پر دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “تمل ناڈو میں کانگریس کو واضح طور پر یہ مینڈیٹ ملا ہے کہ ایک سیکولر حکومت منتخب کی جائے جو آئین کی لفظی اور معنوی طور پر حفاظت کرنے کے لیے پرعزم ہو۔ کانگریس یہ یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ بی جے پی اور اس کے حامی کسی بھی طرح سے تمل ناڈو حکومت میں نہ آئیں۔”
مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ پارٹی قیادت نے تمل ناڈو کانگریس کمیٹی سے زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد درخواست پر حتمی فیصلہ لینے کو کہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “اسی مناسبت سے، کانگریس قیادت نے تمل ناڈو کونسل کو انتخابی نتائج میں جھلکتے ریاست کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے تھیرو وجے کی درخواست پر حتمی فیصلہ لینے کی ہدایت دی ہے۔”
یہ پیش رفت تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد کی غیر مستحکم سیاسی صورتحال کے درمیان سامنے آئی ہے، جہاں پارٹیاں اکثریت حاصل کرنے اور اگلی حکومت بنانے کے لیے اتحاد کے امکانات تلاش کر رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، تمل ناڈو اسمبلی کی 234 سیٹوں میں سے ٹی وی کے کو 108 سیٹیں ملی ہیں۔ کانگریس کو پانچ سیٹیں ملی ہیں جبکہ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 118 سیٹوں کی ضرورت ہوگی۔
ریاست میں اتحاد کی سیاست میں کانگریس روایتی طور پر ایک اہم رول ادا کرتی رہی ہے اور اکثر بھارتیہ جنتا پارٹی کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقائی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرتی رہی ہے۔ وجے کی سیاسی رسائی اور کانگریس کے ایک معزز لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ کامراج کا ذکر کرنا، ریاست میں حکومت کی تشکیل کے حوالے سے بات چیت تیز ہونے کے ساتھ ہی اپنی پارٹی کو ایک وسیع سیکولر اور علاقائی سیاسی ساخت قائم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
ٹیگور کے یومِ پیدائش پر نو مئی کو بنگال میں منعقد ہو سکتی ہے بی جے پی حکومت کی حلف برداری کی تقریب
نئی دہلی گرو دیو ربیندر ناتھ ٹیگور کے یومِ پیدائش 25 بیساکھ (نو مئی) کو مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب ہو سکتی ہے واضح رہے کہ ٹیگور کا یومِ پیدائش ہر سال بنگالی مہینے کی 25 تاریخ یعنی بیساکھ کو منایا جاتا ہے اور یہ دن بنگال کے لوگوں کے لیے کافی اہمیت رکھتا ہے۔ ریاست کے لوگ نوبل انعام یافتہ ٹیگور کے یومِ پیدائش کو کافی دھوم دھام سے مناتے ہیں اور اس دن ریاست بھر میں مختلف قسم کے پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اس دن ریاست میں بی جے پی کی نئی حکومت کی تشکیل کے لیے حلف برداری کی تقریب منعقد ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل بی جے پی کے مرکزی مبصر اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں آٹھ مئی کو کولکتہ میں پارٹی کی قانون سازپارٹی کی میٹنگ ہو سکتی ہے جس میں ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ آٹھ مئی کو ہی ریاست میں پارٹی کے لیڈر کے نام کا اعلان ہو سکتا ہے اور نو مئی کو گرو دیو ربیندر ناتھ ٹیگور کے یومِ پیدائش کے موقع پر حلف برداری کی تقریب کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔
بی جے پی نے ریاست میں قانون سازپارٹی کی میٹنگ کے لیے مسٹر شاہ کو مرکزی مبصر اور اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی کو شریک مبصر مقرر کیا ہے۔ مغربی بنگال بی جے پی کے صدر سمک بھٹاچاریہ نے بھی نو مئی کو نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب منعقد کرنے کا اشارہ دیا ہے۔
ریاست میں بی جے پی تاریخی جیت درج کرتے ہوئے پہلی بار حکومت بنانے جا رہی ہے اور اس کے لیے بی جے پی کولکتہ میں شاندار پروگرام منعقد کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ بی جے پی کی نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی نیز بی جے پی اور این ڈی اے کے زیر اقتدار ریاستوں کے لیڈروں کے شامل ہونے کی امید ہے، جس کو لے کر سکیورٹی ایجنسیاں بھی چوکس ہیں۔ ہندوستان کی سیاست میں اس تبدیلی کو کافی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
دنیا
جنگ بندی کیلئے امریکہ، پاکستان اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری، تجاویز کا تبادلہ: عرب ٹی وی
تہران، عرب ٹی وی الجزیرہ کے مطابق جنگ بندی کے لیے امریکہ، پاکستان اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
عرب ٹی وی الجزیرہ نے واشنگٹن سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ ایران جنگ بندی کے لیے واشنگٹن، اسلام آباد اور تہران کے درمیان اس وقت مذاکرات جاری ہیں، تجاویز کا تبادلہ ہو رہا ہے، ریڈلائنز پر بات ہو رہی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق امریکی بضد ہیں کہ وہ کسی اور نکتے سے پہلے ایران کے ایٹمی پروگرام پر بات کرنا چاہتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی چاہتے ہیں کہ پہلے ایرانی سمندروں کی ناکا بندی ختم ہو۔
رپورٹ کے مطابق جہاں ان مذاکرات کے آگے بڑھنے کا امکان بہت روشن ہے، وہیں یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ کسی ایک واقعے کو لے کر تنازع پھر بڑھ سکتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن اور اسرائیل میں دو سے تین ہفتوں کی مختصر جنگ کی باتیں بھی گردش میں ہیں اور کہا جارہا ہے کہ اس مختصر جنگ کا ہدف ایران کو مرضی کے مذاکرات پر قائل کرنا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ نے امریکی انتخابات کو دھاندلی زدہ اور دنیا کے لیے مذاق قرار دے دیا
جموں و کشمیر2 days agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا6 days agoپوتن نے صدر ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام پر تجاویز دے دیں
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی کیلئے ایران کی نئی شرط
دنیا1 week agoامریکہ سے مذاکرات میں پاکستان اہم ثالث ہے: ایرانی وزیرخارجہ
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز سے گزرنے کی ایرانی فیس دنیا کے لیے ناقابل برداشت ہوگئی
دنیا4 days agoایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام
دنیا1 week agoعالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ
دنیا5 days agoامریکی وزیر دفاع کی کانگریس میں سخت تقریر، ایران سے جنگ میں اسلحہ کی قلت کا اعتراف
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کو آبنائے ٹرمپ قرار دینے پر ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی صدر کو جواب










































































































