تازہ ترین
ریاستی سرکار کا ’دی اینڈ ‘،بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ توڑا اتحاد

سری نگر ریاستی سیاست میں منگلوار کو اُس وقت بھونچال آگیا جب مخلوط حکومت میں شامل بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت سے اپنی حمایت واپس لیتے ہوئے ریاست سے لے کر نئی دہلی تک سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کی صدارت میں نئی دہلی میں منعقدہ اہم میٹنگ میں فیصلہ لیتے ہوئے کہا گیا کہ ریاست میں مخلوط حکومت کے ساتھ محو سفر رہنا اب بی جے پی کے لیے ناقابل قبول ہے۔
پارٹی کے سینئر لیڈر اور جنرل سیکرٹری رام مادھو نے میڈیا کو بتایا کہ بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ اشتراک صرف اس وجہ سے عمل میں لایا تھا تاکہ وادی میں امن و قانون کی صورتحال میں بہتری آئے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان طے پاچکے ایجنڈا آف الائنس میں بنیادی نقطہ یہ تھا کہ مخلوط حکومت میں شامل دونوں جماعتیں ریاست کے تینوں خطوں میں امن وخوشحالی کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ تینوں خطوں میں ترقی کو فروغ دیں۔
اس دوران پی ڈی پی صدر اور ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کی طرف سے حمایت واپس لینے کے فوراً بعد اپنا استعفیٰ ریاستی گورنر این این ووہر کو پیش کیا جس کے فوراً بعد محبوبہ مفتی نے پارٹی ہائی کمان کا اعلیٰ سطحی اجلاس اپنی سرکاری رہائش گاہ پر طلب کیا۔ کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق ریاست جموں وکشمیر میں منگلوار دوپہر اُس وقت سیاسی سطح پر ایک بہت بڑی تبدیلی رونما ہوئی جب مخلوط حکومت کی اتحاد جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے مخلوط حکومت سے اپنی حمایت واپس لیتے ہوئے سیاست کی گلیاروں میں ہلچل مچادی۔
ذرائع نے بتایا کہ بی جے پی کی اہم میٹنگ منگلوارکو پارٹی صدر امت شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پارٹی کی ریاستی یونٹ کو قبل از وقت مدعو کیا گیا تھا۔ میٹنگ میں بی جے پی کی اعلیٰ قیادت جن میں پارٹی صدر امت شاہ، جنرل سیکرٹری رام مادھو کے علاوہ ریاستی یونٹ کے ذمہ داروں اور بی جے پی وزرا کی بڑی تعداد شامل تھی۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ میٹنگ میں ریاست کی مجموعی سیکورٹی صورتحال زیر بحث رہنے کے علاوہ پارٹی کی زمینی سطح پر کارکردگی پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔
اس دوران ریاستی یونٹ سے وابستہ بی جے پی ممبران نے پارٹی ہائی کمان کو ریاست کی زمینی صورتحال سے واقف کراتے ہوئے کئی اہم نکات کی جانب توجہ مبذول کروائی۔ میٹنگ میں آخر پر بہ اتفاق رائے یہ طے پایا کہ ریاست کی مجموعی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بی جے پی مخلوط حکومت سے اپنی حمایت واپس لے رہی۔میٹنگ کے اختتام پر بی جے پی کے جنرل سیکرٹری رام مادھو نے میڈیا کو بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر میں پی ڈی پی کے ساتھ مخلوط حکومت کا حصہ بننا اب بی جے پی کے لیے ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وادی کی بگڑتی سیکورٹی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مخلوط حکومت سے اپنی حمایت واپس لے گی۔ رام مادھو نے بتایا کہ مخلوط حکومت سے حمایت واپس لینے کا فیصلہ پارٹی ہائی کمان، ریاست کی بی جے پی یونٹ کے ذمہ داروں کے ساتھ تفصیلی صلاح و مشورہ کے بعد ہی لیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کو خیر باد کہنے کے فیصلے میں ہر کسی کے ساتھ گفت و شنید کی جاچکی ہے اور نئی دہلی سے لے کر ریاست جموں وکشمیر تک پارٹی سے وابستہ سیاسی قائدین کو قبل از وقت اعتماد میں لیا جاچکا ہے ، بی جے پی وزرا ریاستی گورنر کو اپنے فیصلہ سے آگاہ کرنے کے علاوہ جلد ہی کابینی منصب سے استعفیٰ پیش کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ بھاریہ جنتا پارٹی ریاست میں گورنر رول کی حمایت کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کا ماننا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر بھارت کا ناقابل تنسیخ حصہ ہے لہٰذا ہم نے فیصلہ لیا ہے کہ ریاست میں اقتدار کی باگ ڈور گورنر کے ہاتھوں میں دی جائے۔
اس دوران پی ڈی پی صدر اور ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کی طرف سے حمایت واپس لینے کے فوراً بعد اپنا استعفیٰ ریاستی گورنر این این ووہر کو پیش کیا جس کے فوراً بعد محبوبہ مفتی نے پارٹی ہائی کمان کا اعلیٰ سطحی اجلاس اپنی سرکاری رہائش گاہ پر طلب کیا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ریاستی کی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کی جانب سے حمایت واپس لینے کے فوراً بعد اپنا استعفیٰ ریاستی گورنر این این ووہرا کو پیش کیا جبکہ موصوفہ نے منگلوار سہ پہر کو پارٹی کا اعلیٰ سطح اجلاس طلب کیا۔محبوبہ مفتی نے بتایا کہ موصوفہ نے اپنی رہائشی گاہ واقع گپکار پر پارٹی لیڈران کی ایمرجنسی میٹنگ طلب کی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ مخلوط حکومت کے درمیان مختلف معاملات پر یکساں رائے نہ ہونے کی وجہ سے مختلف اُمورانجام دینے میں دشواریاں پیش آرہی تھیں۔پی ڈی پی کے سینئر لیڈر پیر منصور نے بتایا کہ مخلوط حکومت میں شامل دونوں جماعتوں کے درمیان مختلف معاملات کو لے کر الگ الگ رائے تھی جس کے ہوتے ہوئے حکومت کو مزید چلانا سخت دشوار بن چکا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ایسی صورتحال میں پی ڈی پی کے لیے مناسب نہیں تھا کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مزید کام کرتی۔انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی کے لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کیوں کہ بی جے پی کے ساتھ مختلف معاملات کو لے کر تلخیاں چلی آرہی تھی۔یاد رہے بی جے پی اور پی ڈی پی کے درمیان 2014میں اتحاد قائم ہوا تھا تاہم 3سال اور 3ماہ کے بعد دونوں پارٹیوں کے راستے الگ الگ ہوگئے ۔KNS
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر2 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا6 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ





































































































