ہندوستان
سونیا گاندھی نے خامنہ ای کی ہلاکت پر حکومت کی خاموشی پر اٹھایا سوال، پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مارے جانے کی مذمت کی ہے اور اس معاملے پر مودی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
محترمہ گاندھی نے ایک اخبار میں لکھے مضمون میں کہا کہ حکومت کی یہ خاموشی غیر جانبداری نہیں، بلکہ ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے، جس سے ہندستان کی خارجہ پالیسی کی سمت اور اس کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندستان کی خارجہ پالیسی تاریخی طور پر خودمختار مساوات، عدم مداخلت اور پرامن حل جیسے اصولوں پر مبنی رہی ہے۔ خاموشی ان اصولوں کے منافی معلوم ہوتی ہے۔
سونیا گاندھی نے کہا کہ یکم مارچ کو ایران نے تصدیق کی تھی کہ اس کے سپریم لیڈر ایک روز قبل امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے ہدفی حملوں میں مارے گئے۔ انہوں نے اسے جاری سفارتی مذاکرات کے دوران کسی برسرِ اقتدار سربراہِ مملکت کا قتل قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات میں ایک سنگین خلل بتایا اور اس معاملے پر پارلیمنٹ میں جامع بحث کا مطالبہ کیا ہے۔
محترمہ گاندھی نے الزام عائد کیا کہ حکومت ہند نے نہ تو اس قتل کی واضح مذمت کی اور نہ ہی ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر کوئی ٹھوس ردعمل دیا۔ ان کے مطابق وزیر اعظم نریندرمودی نے اپنے ابتدائی ردعمل میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا ذکر کیے بغیر صرف ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات (یواے ای) پر کی گئی جوابی کارروائی پر تنقید کی۔ بعد ازاں انہوں نے عمومی تشویش ظاہر کرتے ہوئے مکالمے اور سفارت کاری کی بات کہی، حالانکہ حملوں سے قبل یہی عمل جاری تھا۔
محترمہ گاندھی نے کہا کہ باضابطہ اعلانِ جنگ کے بغیر اور سفارتی عمل کے دوران کسی سربراہِ مملکت کا قتل اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی روح کے خلاف ہے، جو کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال پر پابندی عائد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے اقدامات پر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی جانب سے اصولی اعتراض درج نہ کیا جائے تو بین الاقوامی معیارات کا زوال معمول بنتا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے سے 48 گھنٹے قبل وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کے دورے سے واپس آئے تھے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو حکومت کے تئیں حمایت کا اعادہ کیا تھا۔ ان کے مطابق عالمی جنوب کے کئی ممالک اور برکس شراکت داروں کی جانب سے فاصلہ اختیار کیے جانے کے درمیان ہندستان کا یہ مؤقف تشویش ناک ہے اور اس سے عالمی سطح پر غلط پیغام جاتا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
کانگریس نے تمل ناڈو میں وجے کی ٹی وی کے پارٹی کو حمایت دینے کا دیا اشارہ
نئی دہلی، کانگریس نے منگل کو اشارہ دیا کہ وہ اداکار سے سیاست داں بنے وجے اور ان کی پارٹی، تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے) کو تمل ناڈو میں حکومت بنانے کے لیے حمایت دینے پر غور کر رہی ہے حالانکہ حتمی فیصلہ پارٹی کی ریاستی اکائی کی جانب سے کیا جائے گا ایکس پر ایک پوسٹ میں، کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ وجے نے حکومت بنانے کے لیے پارٹی کی حمایت مانگنے کے لیے رسمی طور پر پارٹی سے رابطہ کیا ہے۔ مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ “ٹی وی کے صدر تھیرو وجے نے تمل ناڈو میں حکومت بنانے کے لیے بھارتیہ راشٹریہ کانگریس سے حمایت کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی مشن میں پیرومتھلائیور کے۔ کامراج سے ترغیب لینے کی بات بھی کہی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس تمل ناڈو میں کےانتخابی نتائج کو آئینی اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم سیکولر حکومت کے مینڈیٹ کے طور پر دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “تمل ناڈو میں کانگریس کو واضح طور پر یہ مینڈیٹ ملا ہے کہ ایک سیکولر حکومت منتخب کی جائے جو آئین کی لفظی اور معنوی طور پر حفاظت کرنے کے لیے پرعزم ہو۔ کانگریس یہ یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ بی جے پی اور اس کے حامی کسی بھی طرح سے تمل ناڈو حکومت میں نہ آئیں۔”
مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ پارٹی قیادت نے تمل ناڈو کانگریس کمیٹی سے زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد درخواست پر حتمی فیصلہ لینے کو کہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “اسی مناسبت سے، کانگریس قیادت نے تمل ناڈو کونسل کو انتخابی نتائج میں جھلکتے ریاست کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے تھیرو وجے کی درخواست پر حتمی فیصلہ لینے کی ہدایت دی ہے۔”
یہ پیش رفت تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد کی غیر مستحکم سیاسی صورتحال کے درمیان سامنے آئی ہے، جہاں پارٹیاں اکثریت حاصل کرنے اور اگلی حکومت بنانے کے لیے اتحاد کے امکانات تلاش کر رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، تمل ناڈو اسمبلی کی 234 سیٹوں میں سے ٹی وی کے کو 108 سیٹیں ملی ہیں۔ کانگریس کو پانچ سیٹیں ملی ہیں جبکہ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 118 سیٹوں کی ضرورت ہوگی۔
ریاست میں اتحاد کی سیاست میں کانگریس روایتی طور پر ایک اہم رول ادا کرتی رہی ہے اور اکثر بھارتیہ جنتا پارٹی کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقائی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرتی رہی ہے۔ وجے کی سیاسی رسائی اور کانگریس کے ایک معزز لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ کامراج کا ذکر کرنا، ریاست میں حکومت کی تشکیل کے حوالے سے بات چیت تیز ہونے کے ساتھ ہی اپنی پارٹی کو ایک وسیع سیکولر اور علاقائی سیاسی ساخت قائم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
ٹیگور کے یومِ پیدائش پر نو مئی کو بنگال میں منعقد ہو سکتی ہے بی جے پی حکومت کی حلف برداری کی تقریب
نئی دہلی گرو دیو ربیندر ناتھ ٹیگور کے یومِ پیدائش 25 بیساکھ (نو مئی) کو مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب ہو سکتی ہے واضح رہے کہ ٹیگور کا یومِ پیدائش ہر سال بنگالی مہینے کی 25 تاریخ یعنی بیساکھ کو منایا جاتا ہے اور یہ دن بنگال کے لوگوں کے لیے کافی اہمیت رکھتا ہے۔ ریاست کے لوگ نوبل انعام یافتہ ٹیگور کے یومِ پیدائش کو کافی دھوم دھام سے مناتے ہیں اور اس دن ریاست بھر میں مختلف قسم کے پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اس دن ریاست میں بی جے پی کی نئی حکومت کی تشکیل کے لیے حلف برداری کی تقریب منعقد ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل بی جے پی کے مرکزی مبصر اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں آٹھ مئی کو کولکتہ میں پارٹی کی قانون سازپارٹی کی میٹنگ ہو سکتی ہے جس میں ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ آٹھ مئی کو ہی ریاست میں پارٹی کے لیڈر کے نام کا اعلان ہو سکتا ہے اور نو مئی کو گرو دیو ربیندر ناتھ ٹیگور کے یومِ پیدائش کے موقع پر حلف برداری کی تقریب کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔
بی جے پی نے ریاست میں قانون سازپارٹی کی میٹنگ کے لیے مسٹر شاہ کو مرکزی مبصر اور اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی کو شریک مبصر مقرر کیا ہے۔ مغربی بنگال بی جے پی کے صدر سمک بھٹاچاریہ نے بھی نو مئی کو نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب منعقد کرنے کا اشارہ دیا ہے۔
ریاست میں بی جے پی تاریخی جیت درج کرتے ہوئے پہلی بار حکومت بنانے جا رہی ہے اور اس کے لیے بی جے پی کولکتہ میں شاندار پروگرام منعقد کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ بی جے پی کی نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی نیز بی جے پی اور این ڈی اے کے زیر اقتدار ریاستوں کے لیڈروں کے شامل ہونے کی امید ہے، جس کو لے کر سکیورٹی ایجنسیاں بھی چوکس ہیں۔ ہندوستان کی سیاست میں اس تبدیلی کو کافی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
ووٹ چوری کے الزام پر سیاست گرم، راہل گاندھی کا الیکشن کمیشن اور حکومت کی تنقید
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ایک بار پھر انتخابی عمل پر سنگین سوال اٹھاتے ہوئے “ووٹ چوری” کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کی جانبداری پر سوال اٹھائے۔
مسٹر راہل گاندھی نے بدھ کو کہا کہ “ووٹ چوری سے کبھی سیٹیں چرائی جاتی ہیں، کبھی پوری حکومت۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا میں بی جے پی کے 240 ارکان پارلیمنٹ میں سے “تقریباً ہر چھٹا رکن پارلیمنٹ ووٹ چوری سے جیتا ہے۔” انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگوں کو کیا بی جے پی کی زبان میں “گھس پیٹھیا” کہا جانا چاہیے۔ ہریانہ کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر راہل گاندھی نے کہا کہ “وہاں تو پوری حکومت ہی ‘گھس پیٹھیا’ ہے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ جو اداروں کو اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں اور ووٹر لسٹوں و انتخابی عمل میں ہیر پھیر کرتے ہیں، وہ خود “ریموٹ کنٹرول” سے چل رہے ہیں۔ مسٹر گاندھی نے یہ بھی کہا کہ منصفانہ انتخابات ہونے پر برسراقتدار جماعت 140 سیٹوں کے آس پاس بھی نہیں پہنچ پائے گی۔
اس دوران، مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج کے تعلق سے بھی سیاست تیز ہوگئی ہے۔ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سمیت اپوزیشن کے کئی بڑے لیڈروں نے الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت پر سوال اٹھائے ہیں۔ واضح رہے کہ بی جے پی نے مغربی بنگال میں تاریخی جیت درج کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کے 15 سال پرانے اقتدار کا خاتمہ کر دیا ہے۔ بی جے پی لیڈروں نے راہل گاندھی کے الزامات کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے اسے ہار کی مایوسی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آزاد ادارہ ہے، جس پر اس طرح کے الزامات جمہوری اداروں کو کمزور کرتے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ نے امریکی انتخابات کو دھاندلی زدہ اور دنیا کے لیے مذاق قرار دے دیا
جموں و کشمیر2 days agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا6 days agoپوتن نے صدر ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام پر تجاویز دے دیں
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز سے گزرنے کی ایرانی فیس دنیا کے لیے ناقابل برداشت ہوگئی
دنیا4 days agoایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام
دنیا1 week agoعالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کو آبنائے ٹرمپ قرار دینے پر ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی صدر کو جواب
جموں و کشمیر1 week agoاردو زبان پر تنازع: التجا مفتی کا عمر عبداللہ سے سوال، “جو بی جے پی نے نہیں مٹایا، وہ آپ کیوں مٹا رہے ہیں
ہندوستان1 week agoگریٹ نکوبار پروجیکٹ پر راہل نے حکومت سے مانگا جواب
دنیا5 days agoامریکی وزیر دفاع کی کانگریس میں سخت تقریر، ایران سے جنگ میں اسلحہ کی قلت کا اعتراف












































































































