تازہ ترین
دہائیوں کی خاموشی کے بعد: دہشت گردی کے متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف اور وقار کی ایک جھلک

کشمیر میں دہشت گردی کے ہاتھوں برباد ہونے والے درجنوں خاندانوں کے لیے ہفتہ کا دن محض ایک سرکاری تقریب نہیں تھا، بلکہ یہ دہائیوں پر محیط خاموش انتظار کے اختتام کی علامت بن گیا۔ لوک بھون سری نگر میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کشمیر ڈویژن سے تعلق رکھنے والے دہشت گردی کے متاثرہ خاندانوں کے 39 افراد کو تقرری کے خطوط سونپے، جسے متاثرین کے لیے انصاف، بحالی اور عزت کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ دہشت گردی نے صرف جانیں ہی نہیں لیں بلکہ اس نے پورے پورے خاندانوں کو ٹوٹ پھوٹ، خوف، بدنامی اور غربت کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ ہر دہشت گردانہ قتل کے پیچھے ایک ایسا گھر ہوتا ہے جو کبھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو پاتا، اور ایسے بچے ہوتے ہیں جو والدین کے بغیر جوان ہو جاتے ہیں۔
تقریب کے دوران کئی متاثرہ خاندانوں نے اپنے دردناک تجربات بیان کیے—کہ کس طرح برسوں تک ان کی آواز سنی نہیں گئی، فائلیں دفاتر میں دبتی رہیں اور انہیں خاموشی کے ساتھ جینے پر مجبور کیا گیا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے ان کہانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ کچھ خاندانوں نے بتایا کہ ان کے گھروں کے چراغ بجھنے کے بعد ان کی ماؤں کو بچوں کی پرورش کے لیے بھیک تک مانگنی پڑی، جبکہ کئی بچے والدین کے سائے کے بغیر بڑے ہوئے، مگر کوئی ان کا سہارا بننے آگے نہیں آیا۔
منوج سنہا نے کہا کہ دہشت گردی کے شکار خاندانوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کا عمل تقریباً تیرہ ماہ قبل اس وقت شروع ہوا، جب کچھ متاثرہ خاندانوں نے ان سے ملاقات کر کے اپنی داستانیں سنائیں۔ انہی ملاقاتوں کے بعد انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ حقیقی متاثرین کی نشاندہی کر کے انہیں روزگار اور بحالی فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ آج کشمیر ڈویژن کے 39 خاندانوں کو تقرری کے خطوط دیے گئے ہیں، جبکہ اس سے قبل جموں خطے میں 41 متاثرہ خاندانوں کو بھی یہ سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔ رواں سال اب تک 200 سے زائد متاثرہ خاندانوں کے افراد کو سرکاری ملازمتیں دی گئی ہیں، جبکہ نوگام دھماکے کے متاثرہ نو خاندانوں کو بھی حال ہی میں تقرری کے خطوط فراہم کیے گئے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا کہ دہشت گردی کے صبر آزما سالوں کے دوران متاثرہ خاندانوں سے چھینی گئی جائیدادیں اصل مالکان کو واپس لوٹائی جائیں گی اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی مستحق خاندان پیچھے نہ رہ جائے۔
انہوں نے اس تلخ حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا کہ کئی دہائیوں تک دہشت گردی کے حقیقی متاثرین کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام سے جڑے عناصر ناجائز فائدے اٹھاتے رہے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب دہشت گردوں کے جنازوں کو شان و شوکت دی جاتی تھی، مگر اصل متاثرین خاموشی سے دکھ سہنے پر مجبور تھے۔
منوج سنہا نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دہشت گردی سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق رکھنے والے متعدد سرکاری ملازمین کو برطرف کیا گیا ہے اور اداروں کو دہشت گردی کے اثر سے پاک کرنے کا عمل جاری رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جھوٹا بیانیہ پھیلانے اور دہشت گردی کی مدد کرنے والے ہر فرد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کو دہشت گردی اور اس کے پورے ماحولیاتی نظام سے پاک کرنا حکومت کا غیر متزلزل عزم ہے۔ دہشت گردوں کو پناہ، سہولت یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے والوں کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
تقریب میں اعلیٰ سول اور پولیس حکام، سماجی تنظیموں کے نمائندے اور دہشت گردی کا نشانہ بننے والے خاندانوں کے افراد شریک ہوئے۔ ان خاندانوں کے لیے یہ دن محض ملازمت کے خطوط کا نہیں، بلکہ اس اعتراف کا دن تھا کہ ان کا درد حقیقی تھا—اور بالآخر ریاست نے اسے تسلیم کیا۔
ہندوستان
وزیرِ اعظم مودی کے بیان پر راہل کا سخت ردِعمل، بولے ’’نصیحت نہیں، حکومت کی ناکامی کے ثبوت ہیں”
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے حالیہ خطاب پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو قربانی اور بچت کا مشورہ دیناحکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’’مودی جی نے کل عوام سے قربانی مانگی—سونا مت خریدو، بیرونِ ملک مت جاؤ، پٹرول کم استعمال کرو، کھاد اور کھانے کا تیل کم استعمال کرو، میٹرو میں سفر کرو اور گھر سے کام کرو۔ یہ نصیحت نہیں بلکہ حکومت کی ناکامی کے ثبوت ہیں۔”
انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ 12 برسوں میں ملک کی معیشت اور عام لوگوں کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ اب حکومت عوام کو یہ بتانے لگی ہے کہ کیا خریدنا ہے اور کیا نہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہر بار ذمہ داری عوام پر ڈال دی جاتی ہے تاکہ حکومت خود جوابدہی سے بچ سکے۔
کانگریس رہنما نے وزیرِ اعظم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’ملک چلانا اب وزیرِ اعظم کے بس کی بات نہیں ہے۔”
دراصل، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ملک کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے توانائی کی بچت، خود انحصاری اور ذمہ دار شہری رویے پر زور دیا تھا۔ وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ ’’ملک کے لیے لڑنا ہی حب الوطنی نہیں ہے، بلکہ ملک کے لیے جینا اور اپنے فرائض کی ادائیگی بھی حب الوطنی ہے۔” انہوں نے لوگوں سے پٹرول اور ڈیزل کا کم استعمال کرنے، میٹرو جیسے عوامی نقل و حمل کے ذرائع کا زیادہ استعمال کرنے، الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے اور ورک فرام ہوم، آن لائن کانفرنسنگ اور ورچوئل میٹنگز کو دوبارہ اپنانے کی اپیل کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی وزیرِ اعظم نے لوگوں سے سونا خریدنے سے گریز کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔
وزیرِ اعظم کے اسی بیان کو لے کر اب کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سیاسی ٹکراؤ تیز ہو گیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
ایران نے امریکی منصوبہ مسترد کر دیا، کہا اس میں ضرورت سے زیادہ مطالبات کے آگے جھکنا شامل ہے
ماسکو، ایران نے امریکہ کو دیے گئے اپنے جواب میں امریکی امن منصوبے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ اس کا مطلب امریکی حکومت کے حد سے زیادہ مطالبات کے سامنے جھکنا ہوگا۔ پریس ٹی وی کی ایک رپورٹ میں یہ معلومات دی گئی ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے نے پہلے بتایا تھا کہ امریکی پیغام پر ایران کا ردعمل جنگ کے خاتمے اور خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی سلامتی کو یقینی بنانے پر مرکوز تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازع کے حل کے لیے امریکی تجویز پر ایران کے ردعمل کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا۔
پریس ٹی وی کے مطابق، ایران کے جوابی منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امریکہ کو اسلامی جمہوریہ کو جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔
مئی کے آغاز میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ تہران کو اسلامی جمہوریہ کی نئی 14 نکاتی تجویز کے سلسلے میں پاکستان کے ذریعے امریکہ سے جواب موصول ہوا ہے۔ ایران کی تسنیم خبر رساں ایجنسی نے اتوار کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایران کی تجاویز کے متن میں، جسے تہران نے واشنگٹن کو بھیج کر جواب دیا تھا، میں پابندیاں اٹھانے، آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول اور بیرونی ممالک میں ایرانی اثاثوں کی رہائی لے التزام شامل ہیں۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں اہداف پر حملے شروع کیے، جن میں 3,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ واشنگٹن اور تہران نے 8 اپریل کو دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اسلام آباد میں بعد کی بات چیت بے نتیجہ رہی، اگرچہ دوبارہ دشمنی شروع ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی، تاہم امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کر دی۔ ثالث ایک نئے دور کی مذاکراتی کوششوں کا اہتمام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
دنیا
ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی امریکی پیشکش پر ایران کے ردعمل کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا
واشنگٹن، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی تجاویز پر ایران کے ردعمل کو “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دیا ہے۔ یہ معلومات بی بی سی میں شائع ایک رپورٹ میں دی گئی ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بتایا کہ پاکستان کے ذریعے بھیجے گئے تہران کی تجاویزمیں (جس میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے) تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی کو روکنا اور ایران پر مزید کسی حملے نہ کرنے کی ضمانت شامل ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری میں شروع کی گئی جنگ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کو سہل بنانے کی غرض سے کیا گیا جنگ بندی معاہدہ، وقفے وقفے سے فائرنگ کے باوجود، بڑی حد تک برقرار رہا ہے۔
اس ہفتے کے آغاز میں ٹرمپ نے دہرایا کہ ایران میں جنگ “جلد ہی ختم ہو جائے گی”۔
لیکن اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کو ختم ماننے سے پہلے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو “تباہ” کیا جانا چاہیے۔
سی بی ایس کے پروگرام ’60 منٹس’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا، “ابھی بھی ایسے افزودگی کے مقامات ہیں جنہیں تباہ کیا جانا باقی ہے۔”
اتوار کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے تہران کی تجویز کا براہِ راست ذکر تو نہیں کیا، لیکن کہا، “ہم دشمن کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے اور اگر بات چیت یا معاہدے کی بات اٹھتی ہے تو اس کا مطلب ہتھیار ڈالنا یا پیچھے ہٹنا نہیں ہے۔”
ٹرمپ نے ‘ٹروتھ سوشل’ پر پوسٹ کیا: “میں نے ابھی ابھی ایران کے نام نہاد ‘نمائندوں’ کا جواب پڑھا ہے۔ مجھے یہ پسند نہیں آیا—بالکل ناقابلِ قبول۔”
امریکی خبر رساں ادارے ‘ایکسیوس’ نے بتایا کہ ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی امریکی یادداشت میں ایرانی جوہری افزودگی پر پابندی، پابندیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے بلا رکاوٹ آمد و رفت بحال کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔
اس میں دو امریکی عہدیداروں اور دو دیگر ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے—جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے—جنہیں اس معاملے کی معلومات دی گئی تھیں۔ ان ذرائع کے مطابق یادداشت میں شامل کئی شرائط حتمی معاہدہ طے پانے کے بعد ہی نافذ ہوں گی۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو بند رکھنا جاری رکھا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ نے تہران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نافذ کر دی ہے، جس پر ایران نے شدید ناراضی ظاہر کی ہے۔
اسرائیلی اور امریکی افواج نے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کیے تھے۔ گزشتہ ماہ اس جنگ میں جنگ بندی نافذ ہوئی تھی۔
سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا، “میں اسرائیلی فوج کے لیے امریکی مالی امداد کو صفر تک کم کرنا چاہتا ہوں۔” انہوں نے کہا، “ہمیں ہر سال 3.8 ارب ڈالر ملتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم باقی فوجی امداد سے بھی خود کو الگ کر لیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آئیے ابھی سے اس کا آغاز کریں اور اگلی دہائی میں اسے مکمل کریں۔”
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر7 days agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا3 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
ہندوستان6 days agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا3 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
دنیا1 week agoایران کے ساتھ جنگ ختم ہو گئی: وائٹ ہاؤس
دنیا7 days agoایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ
ہندوستان6 days agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی
ہندوستان4 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
دنیا1 week agoامریکی نیوی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کیلئے ’بحری قزاقوں‘ جیسا کردار ادا کر رہی ہے: ٹرمپ
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا








































































































