تازہ ترین
راجیہ سبھا میں جے پی نڈا کی مداخلت پر کھڑگے کا اعتراض

نئی دہلی، قائد ایوان جے پی نڈا نے بدھ کے روز راجیہ سبھا میں ترنمول کانگریس کی ڈولا سین کے بیان پر مداخلت کی، جس سے قائد حزب اختلاف ملک ارجن کھڑگے نے ان پر پارلیمانی جمہوریت کو پامال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایوان کو چلانا ان کا کام نہیں ہے محترمہ ڈولا سین نے وقفہ صفر کے دوران ملک بھر میں راج بھون کا نام بدل کر لوک بھون رکھنے کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ “لوک” سے مراد عام لوگ ہیں، لیکن مرکزی حکومت کو عوام کی کوئی فکر نہیں ہے اور اسے بنگال کے لوگوں کی حالت زار نظر نہیں آتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے منریگا کے تحت مغربی بنگال کے زیر التواء واجبات کی ادائیگی کا معاملہ اٹھایا۔
چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے فیصلہ دیا کہ ترنمول لیڈر نے منظور شدہ موضوع سے ہٹ کر جو کچھ کہا اسے ریکارڈ نہیں کیا جائے گا۔ مسٹر جے پی نڈا نے پھر مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ ڈولا سین نے کہا تھا کہ وہ راج بھون کا نام بدل کر لوک بھون رکھنے کے معاملے پر بات کریں گی۔ انہوں نے چیئرمین سے درخواست کی کہ دیگر تمام معاملات کو ریکارڈ سے نکالنے کی ہدایت دیں۔
قائد ایوان کی مداخلت پر اعتراض کرتے ہوئے مسٹر کھڑگے نے کہا کہ ترنمول لیڈر نے کوئی غیر پارلیمانی زبان استعمال نہیں کی۔ انہوں نے صرف چیئرمین کے دفتر سے منظور شدہ موضوع پر بات کی تھی۔ کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ مسٹر نڈا ایوان کے اندر جمہوریت کو پامال کر رہے ہیں۔ وہ حکم دے رہے تھے کہ کیا ریکارڈ کیا جانا چاہیے اور کیا نہیں۔ ایوان کو چلانا ان کا کام نہیں ہے۔
مسٹر کھڑگے کو جواب دیتے ہوئے، مسٹر نڈا نے کہا، “میں نے کہا کہ صرف موضوع سے متعلقہ معاملات کو ریکارڈ کیا جانا چاہئے، جو موضوع متعلقہ نہیں ہیں انہیں ریکارڈ نہیں کیا جانا چاہئے۔”
بعد میں ایوان میں ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ محترمہ ڈولا سین نے راج بھون کا نام بدل کر لوک بھون رکھنے کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ لوک کا مطلب عام لوگ ہوتا ہے۔
اسی حوالے سے انہوں نے بنگال کے عام لوگوں کی حالت زار کو ایوان میں پیش کیا اور اسی تناظر میں منریگا کا مسئلہ اٹھایا۔ اس لیے اس میں موضوع سے ہٹ کر کوئی بات نہيں ہے۔
یو این آئی۔ م ش۔
جموں و کشمیر
جے کے: ایل جی سنہا نے نوجوانوں سے اپنی انفرادیت اپنانے اور مکمل صلاحیتوں کو پہچاننے کی اپیل کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ دوسروں کی نقل کرنے کے بجائے اپنی انفرادیت کو اپنائیں، کیونکہ دنیا کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو منفرد شخصیت کے حامل ہوں، اپنی مکمل صلاحیتوں کو پہچانیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنیں۔
سری نگر میں قومی یوتھ فیسٹیول ’آروہن 2026‘ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ یہ پروگرام “اٹھو، چمکو اور فتح حاصل کرو” کے نئے وژن کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر ہے۔
انہوں نے کہاکہ “یہ پروگرام نوجوانوں کے لیے ‘اٹھو، چمکو اور فتح حاصل کرو’ کا نیا وژن پیش کرتا ہے، جو ایک مکمل فلسفے کی نمائندگی کرتا ہے، مستقبل کی راہ روشن کرتا ہے، ایک وعدہ ہے اور 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کا ایک جرات مندانہ چیلنج بھی۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ قومی یوتھ فیسٹیول اس بات کا بھی اعلان ہے کہ اب وقت نوجوانوں کا آ چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ “یوتھ فیسٹیول کے ‘ینگ لیڈرز ڈائیلاگ’ کے ذریعے ہم اس بنیاد اور فریم ورک کو تیار کر رہے ہیں جس پر ہندوستان کی شاندار وراثت کا اگلا باب قائم ہوگا۔”
انہوں نے کہا کہ تاریخ ان لوگوں نے نہیں بنائی جو غیر معمولی بننے کے لیے اجازت کا انتظار کرتے رہے۔ انہوں نے ’وکست جے کے ینگ لیڈرز ڈائیلاگ‘، ’ہیکاتھون‘ اور ’ثقافتی پروگرام‘ میں شریک نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے خود کو وقف کریں، جس پر آنے والی نسلیں فخر کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی آواز کے بغیر حکمرانی کامیاب نہیں ہو سکتی، اور جامع حکمرانی کا مطلب یہ ہے کہ نوجوانوں کو ہر اہم شعبے میں جاری کاموں میں حقیقی شراکت داری دی جائے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ “ہر نوجوان لڑکے اور لڑکی میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہیں صرف مواقع اور خود پر یقین کی ضرورت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہندوستان کے نوجوان اپنی راہیں خود بنائیں، نہ کہ پرانی راہوں پر چلیں، کیونکہ جدت اور اختراع ہمیشہ نئی راہوں سے جنم لیتی ہے۔ ہندوستان کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو پہلے سے بنے ہوئے سانچوں کو توڑنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔”
یواین آئی۔ ظا
جموں و کشمیر
پی ڈی پی رہنما التجا مفتی نے عمر عبداللہ کے شراب سے متعلق بیان پر تنقید کی، جموں و کشمیر میں شراب بندی کا مطالبہ
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے پیر کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے شراب نوشی سے متعلق بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان پر “غلط ثقافت” کو فروغ دینے اور مسلم اکثریتی خطے کے حساس معاملات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
وہ عمر عبداللہ کے اتوار کو گاندربل میں دیے گئے اس بیان پر ردعمل ظاہر کر رہی تھیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کسی کو شراب پینے پر مجبور نہیں کیا جا رہا اور لوگ اپنی مرضی سے شراب کی دکانوں پر جاتے ہیں، جس کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا۔
تاہم، پیر کی صبح عمر عبداللہ نے وضاحت دی کہ ان کے شراب کی دکانوں سے متعلق بیان کو سیاسی مخالفین “توڑ مروڑ” کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شراب کی دکانیں صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جن کے مذہب میں شراب نوشی کی اجازت ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی کی التجا مفتی نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت نے 2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ریزرویشن، اردو زبان کے تحفظ، مفت بجلی اور روزگار جیسے اہم وعدوں پر بار بار “یو ٹرن” لیا ہے۔
عمر عبداللہ کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے پہلے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو شراب پینے سے نہیں روک رہی، اور بعد میں عوامی تنقید کے بعد اپنے بیان کو نرم کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہاکہ “شراب کے بارے میں ان کی بات بالکل غیر منطقی تھی”، اور مزید کہا کہ اسی منطق کو منشیات فروش بھی اس جواز کے لیے استعمال کر سکتے ہیں کہ نوجوان اپنی مرضی سے منشیات لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی انسدادِ منشیات مہم وزیر اعلیٰ کے بیان سے متصادم ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک طرف حکومت مبینہ منشیات فروشوں کی جائیدادیں منہدم کر رہی ہے، اور دوسری طرف یہ کہہ رہی ہے کہ لوگوں کے نشہ آور اشیاء استعمال کرنے کی ذمہ داری حکومت کی نہیں۔
التجا مفتی نے مزید الزام لگایا کہ عمر عبداللہ نے اس بحث میں مذہب کو شامل کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں غیر مسلموں کے لیے شراب نوشی ممنوع نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ “کوئی بھی مذہب نشہ آور اشیاء کو فروغ نہیں دیتا، چاہے وہ اسلام ہو، ہندو مذہب ہو یا سکھ مت”، اور دعویٰ کیا کہ تمام مذاہب میں شراب اور منشیات کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
میں کہیں نہیں جا رہا، لوگوں کو اُمید دلانے کی ضرورت ہے: برطانوی وزیرِ اعظم
لندن،حالیہ انتخابات اور لیڈر شپ چیلنج سے متعلق خطاب کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ الیکشن کے نتائج انتہائی مشکل تھے، جن کی ذمے داری قبول کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ذمے داری قبول کرتا ہوں، اب تبدیلی لانا بھی میری ذمے داری ہے، ہمیں خطرناک مخالفین کا سامنا ہے، اگر ہم نے درست راستہ اختیار نہ کیا تو ملک تاریک راہ پر گامزن ہو جائے گا۔
کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ لوگ برطانیہ کے حالات سے مایوس ہیں، کچھ لوگ مجھ سے بھی ناراض ہیں، معیشت مستحکم کرنے اور این ایچ ایس کی ویٹنگ لسٹ کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ برٹش اسٹیل کو نیشنلائز کرنے کے لیے قانون سازی اس ہفتے بادشاہ کی تقریر کا حصہ ہو گی، بریگزٹ نے برطانیہ کو کمزور کیا، نائجل فراج اب بریگزٹ کے نتائج پر بات نہیں کرتے۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا4 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
ہندوستان7 days agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
دنیا4 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
ہندوستان7 days agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی
دنیا1 week agoایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ
ہندوستان5 days agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا
ہندوستان7 days agoہندوستان نے فجیرہ حملے کی سخت مذمت کی، مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیا







































































































