ہندوستان
سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر وکست بھارت کے ہدف کے لیے متحد ہو کر کام کریں: صدرِ جمہوریہ مرمو

نئی دہلی، صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے قومی مفاد کو سب سے اہم قرار دیتے ہوئے اراکینِ پارلیمنٹ سے زور دار اپیل کی ہے کہ وہ سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر ’’وکست بھارت‘‘ جیسے قومی اہمیت کے موضوعات پر باہمی اتفاق کے ساتھ کام کریں اور ملک کی ترقی کو نئی توانائی فراہم کریں۔
پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے پہلے دن دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ قوم سے جڑے اہم معاملات پر اراکینِ پارلیمنٹ کا یک زبان ہونا ضروری ہے اور یہی آئین کی روح بھی ہے۔ انہوں نے گزشتہ 11 برسوں کے دوران حکومت کے کام کاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک نے مختلف شعبوں میں تیز رفتار ترقی کی ہے اور ہندوستان ہر میدان میں تیزی سے خود کفالت کی سمت بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے دفاع، صحت، تعلیم، خلائی تحقیق، بنیادی ڈھانچے اور زراعت جیسے شعبوں میں حکومت کی کامیابیوں کا خصوصی ذکر کیا۔ ساتھ ہی کہا کہ حکومت بدعنوانی کے خاتمے، سماجی انصاف اور خواتین کے بااختیار بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ وکست بھارت کا ہدف کسی ایک حکومت یا نسل تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل سفر ہے، جس میں سب کی کوششیں اور تسلسل نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا “مختلف نظریات اور خیالات کے درمیان یہ بات سب کو تسلیم کرنی چاہئے کہ ملک سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ وکست بھارت کا عزم، ہندوستان کی سلامتی، خود انحصاری، سوَدیشی کی مہم، اتحاد کی کوششیں، صفائی اور قوم سے جڑے ایسے موضوعات پر اراکینِ پارلیمنٹ کو متحد ہونا ہی چاہیے اور یہی آئین کی روح ہے۔”
صدرِ جمہوریہ مرمو نے مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو، بابا صاحب امبیڈکر، سردار پٹیل، جے پی لوہیا، پنڈت دین دیال اپادھیائے اور اٹل بہاری واجپئی جیسی عظیم شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سب کا یہی نظریہ تھا کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر کچھ معاملات اختلافات سے بالاتر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا:“میری آپ سب سے گزارش ہے کہ ہر رکنِ پارلیمنٹ قومی مفاد کے موضوعات پر متحد ہو کر، ملک کی ترقی کا حصہ بنے اور ملک کی ترقی میں نئی توانائی بھرے۔”
انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت مستقبل کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے اور آج کئے گئے فیصلوں کا اثر آنے والے برسوں میں نظر آئے گا۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ، حکومت اور عوام تینوں مل کر وکست بھارت کے عزم کو پورا کریں گے اور آئینی اقدار کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان (وکست بھارت) کے عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومت ’’ریفارم ایکسپریس‘‘ کی رفتار کو مسلسل تیز کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بدعنوانی اور گھوٹالوں سے پاک نظام قائم کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے، جس کے باعث ٹیکس دہندگان کی ایک ایک پائی ملک کی ترقی اور عوامی فلاح پر خرچ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان جدید بنیادی ڈھانچے میں بے مثال سرمایہ کاری کر رہا ہے اور زمین، سمندر اور فضا ہر شعبے میں ملک کی تیز رفتار پیش رفت عالمی سطح پر موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔
صدرِ جمہوریہ نے ماؤ نواز دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جہاں کبھی 126 اضلاع میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول تھا، وہ اب سکڑ کر آٹھ اضلاع تک محدود رہ گیا ہے، جن میں سے صرف تین اضلاع ہی اب شدید طور پر متاثر ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ دن دور نہیں جب ملک سے ماؤ نوازوں کی دہشت گردی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس نظریے نے کئی نسلوں کا مستقبل تاریک کیا اور اس کا سب سے زیادہ نقصان نوجوانوں، آدیواسیوں اور دلت بھائی بہنوں کو ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں ماؤنوازوں سے وابستہ تقریباً دو ہزار افراد نے خودسپردگی کی ہے جس سے لاکھوں شہریوں کی زندگی میں امن لوٹا ہے اور ماؤ نواز سے پاک علاقوں میں تبدیلی واضح نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیجاپور کے ایک گاؤں میں 25 سال بعد بس پہنچی تو لوگوں نے اسے تہوار کی طرح منایا، بستر اولمپک میں نوجوان بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور ہتھیار چھوڑنے والے افراد جگدل پور کے پنڈم کیفے میں عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ حکومت کی ترقی پسند سوچ اور پالیسیوں کے سبب خواتین نے ہر شعبے میں تیز رفتار ترقی کی ہے۔ لکھ پتی دیدی اسکیم کے تحت مستفید خواتین کی تعداد دو کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جسے جلد ہی تین کروڑ تک پہنچانے کا ہدف ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے سے خواتین کیڈٹس کے پہلے بیچ کی پاس آؤٹ تقریب نے اس یقین کو مزید مضبوط کیا ہے کہ ملک کی ترقی میں ’’ناری شکتی‘‘ کا کردار مرکزی ہے۔
انہوں نے عدالتی نظام، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے غلط استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات، عالمی چیلنجز کے باوجود ہندوستان کی مضبوط اقتصادی پیش رفت، قبائلی، درج فہرست ذاتوں اور پسماندہ طبقات کی فلاحی اسکیموں، توانائی، زراعت، صنعت، مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل معیشت اور سماجی تحفظ سے متعلق حکومت کی کامیابیوں کا تفصیلی ذکر کیا۔
صدرِ جمہوریہ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان نے اپنی ترقی کی بنیاد کو مضبوط کیا ہے، کروڑوں لوگوں کو غربت سے باہر نکالا گیا ہے اور ملک مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ مشترکہ عزم، نظم و ضبط اور مسلسل کوششوں سے ہندوستان ترقی یافتہ ملک بن کر ابھرے گا۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
وزیرِ اعظم مودی کے بیان پر راہل کا سخت ردِعمل، بولے ’’نصیحت نہیں، حکومت کی ناکامی کے ثبوت ہیں”
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے حالیہ خطاب پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو قربانی اور بچت کا مشورہ دیناحکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’’مودی جی نے کل عوام سے قربانی مانگی—سونا مت خریدو، بیرونِ ملک مت جاؤ، پٹرول کم استعمال کرو، کھاد اور کھانے کا تیل کم استعمال کرو، میٹرو میں سفر کرو اور گھر سے کام کرو۔ یہ نصیحت نہیں بلکہ حکومت کی ناکامی کے ثبوت ہیں۔”
انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ 12 برسوں میں ملک کی معیشت اور عام لوگوں کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ اب حکومت عوام کو یہ بتانے لگی ہے کہ کیا خریدنا ہے اور کیا نہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہر بار ذمہ داری عوام پر ڈال دی جاتی ہے تاکہ حکومت خود جوابدہی سے بچ سکے۔
کانگریس رہنما نے وزیرِ اعظم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’ملک چلانا اب وزیرِ اعظم کے بس کی بات نہیں ہے۔”
دراصل، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ملک کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے توانائی کی بچت، خود انحصاری اور ذمہ دار شہری رویے پر زور دیا تھا۔ وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ ’’ملک کے لیے لڑنا ہی حب الوطنی نہیں ہے، بلکہ ملک کے لیے جینا اور اپنے فرائض کی ادائیگی بھی حب الوطنی ہے۔” انہوں نے لوگوں سے پٹرول اور ڈیزل کا کم استعمال کرنے، میٹرو جیسے عوامی نقل و حمل کے ذرائع کا زیادہ استعمال کرنے، الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے اور ورک فرام ہوم، آن لائن کانفرنسنگ اور ورچوئل میٹنگز کو دوبارہ اپنانے کی اپیل کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی وزیرِ اعظم نے لوگوں سے سونا خریدنے سے گریز کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔
وزیرِ اعظم کے اسی بیان کو لے کر اب کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سیاسی ٹکراؤ تیز ہو گیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
ڈی آر ڈی او نے مقامی گلائیڈ ہتھیاروں کے نظام ‘ٹارا’ کا کامیاب تجربہ کیا
نئی دہلی، دفاعی تحقیقی اور ترقیاتی تنظیم (ڈی آر ڈی او) اور ہندوستانی فضائیہ نے پہلے مقامی گلائیڈ ہتھیاروں کے نظام ‘ٹیکٹیکل ایڈوانسڈ رینج آگمنٹیشن’ (ٹارا) کا کامیاب تجربہ کیا ہے ٹی اے آر اے ایک ماڈیولر رینج توسیعی کِٹ ہے، جو ہندوستان کا پہلا دیسی ساختہ گلائیڈ ویپن سسٹم ہے۔ یہ بغیر رہنمائی والے وارہیڈز کو ہدف پر درست نشانہ لگانے والے گائیڈڈ ہتھیاروں میں تبدیل کرتا ہے۔
ٹی اے آر اے کو ریسرچ سینٹر امرات (آر سی آئی) حیدرآباد نے ڈی آر ڈی او کی دیگر تجربہ گاہوں کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے، تاکہ کم لاگت والے ہتھیار کی تباہ کن صلاحیت اور درستگی میں اضافہ کرکے زمینی اہداف کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جا سکے۔ یہ جدید کم لاگت والے نظاموں سے لیس بھارت کا پہلا گلائیڈ ہتھیار ہے۔اس کِٹ کی تیاری ڈیولپمنٹ کم پروڈکشن پارٹنرز (ڈی سی پی پی) اور دیگر ہندوستانی صنعتوں کے اشتراک سے کی گئی، جنہوں نے اس کی پیداوار کا عمل بھی پہلے ہی شروع کر دیا ہے۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس سے پہلے، فضائی تجربے پر ڈی آر ڈی او، ہندوستانی فضائیہ، ڈی سی پی پی اور صنعت سے وابستہ اداروں کو مبارکباد دی اور اسے بھارت کی مقامی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
دفاعی تحقیق و ترقی کے محکمے کے سکریٹری اور ڈی آر ڈی او کے چیئرمین سمیر وی کامت نے بھی کامیاب فضائی تجربے سے وابستہ ٹیموں کو مبارکباد پیش کی۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
بی جے پی دورِ حکومت میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ، دھامی حکومت عصمت دری کے ملزمان کو بچا رہی ہے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ ملک میں خواتین کے خلاف جرائم بڑھ رہے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے مطابق ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت ان جرائم پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔
مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی خواتین کو تحفظ دینے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن سب سے زیادہ جرائم بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں ہی ہو رہے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستیں جیسے اتر پردیش، راجستھان اور مہاراشٹر خواتین کے خلاف جرائم کے اعداد و شمار میں ملک میں سرفہرست ہیں۔ اتراکھنڈ میں انکیتا بھنڈاری کے ساتھ بی جے پی لیڈروں نے عصمت دری کی اور اسے قتل کر دیا، لیکن اس کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔
مہیلا کانگریس کی صدر نے اتراکھنڈ حکومت پر عصمت دری کے ملزمان کو بچانے کا الزام لگایا اور کہا کہ وہاں دسویں جماعت میں پڑھنے والی ایک بچی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اور حکومت جرم کرنے والے اپنے لیڈروں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اتراکھنڈ پولیس خود متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ متاثرہ خاندان کے ارکان پر سمجھوتہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ پولیس انہیں کیس ختم کرنے کے لیے کہہ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کو 50 لاکھ روپے دے کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ پیشکش کرنے والے بی جے پی کے بڑے لیڈر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے آنے کے بعد نیشنل کرائم بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں عصمت دری کے واقعات میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور بی جے پی کی ریاستوں میں یہ اضافہ سب سے زیادہ ہے، اس لیے بی جے پی حکومت کو اس کا جواب دینا چاہیے۔ مہیلا کانگریس کی صدر نے دعویٰ کیا کہ ملک میں ہر 70 منٹ میں ایک خاتون عصمت دری کا شکار ہو رہی ہے اور یہ سب اس بی جے پی حکومت میں ہو رہا ہے جو خود کو خواتین کی محافظ حکومت قرار دیتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی کو بتانا چاہیے کہ مجرموں کے خلاف کس سطح پر کارروائی ہوئی ہے اور قصورواروں کو سزا کیوں نہیں دی گئی؟ انہوں نے مزید کہا کہ اتر پردیش، راجستھان، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، بہار، ہریانہ اور دہلی جیسی ریاستوں میں خواتین کے خلاف واقعات ہوتے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی حکومت میں دلت خواتین کے ساتھ سب سے زیادہ جرائم ہو رہے ہیں اور ایک اعداد و شمار کے مطابق ہر روز تقریباً 10 دلت خواتین کے ساتھ عصمت دری کے واقعات پیش آ رہے ہیں، لیکن ان جرائم کے حوالے سے کہیں کوئی انصاف نہیں مل رہا۔
یواین آئی۔ایف اے
جموں و کشمیر7 days agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا3 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
ہندوستان6 days agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا3 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
دنیا1 week agoایران کے ساتھ جنگ ختم ہو گئی: وائٹ ہاؤس
دنیا7 days agoایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ
ہندوستان6 days agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی
ہندوستان4 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
دنیا1 week agoامریکی نیوی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کیلئے ’بحری قزاقوں‘ جیسا کردار ادا کر رہی ہے: ٹرمپ
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا








































































































