دنیا
پوتن کا ‘بورڈ آف پیس’ کو ایک ارب ڈالر عطیہ کرنے کا عندیہ، اسٹریٹجک شراکت داروں سے مشاورت کے خواہاں

ماسکو، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انہیں امریکہ کی تجویز کردہ غزہ سے متعلق نئی بین الاقوامی تنظیم ‘بورڈ آف پیس’ میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ جس کا مقصد عالمی تنازعات بشمول اسرائیل-فلسطین مسئلہ کو حل کرنا ہے۔
آر ٹی کے مطابق، پوتن نے ٹرمپ کے ‘بورڈ آف پیس’ کے قدم میں تعاون پر آمادگی ظاہر کی اور تجویز دی کہ امریکہ میں منجمد روسی اثاثوں میں سے ایک ارب امریکی ڈالر فلسطینی علاقے کی بحالی کے لیے اس ادارے کو عطیہ کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات بدھ کے روز روسی سکیورٹی کونسل سے خطاب کے دوران کہی۔
پوتن نے کہا کہ ٹرمپ کی پیشکش کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے مزید وقت درکار ہوگا، کیونکہ روس کے اسٹریٹجک شراکت داروں سے مشاورت ضروری ہے۔ آر ٹی کے مطابق، روسی صدر نے کہا کہ روس “ابھی، اسی وقت ایک ارب ڈالر فراہم کر سکتا ہے، یہاں تک کہ اس سے پہلے کہ ہم یہ فیصلہ کریں کہ بورڈ آف پیس کے کام میں حصہ لیں گے یا نہیں” اور اس کی وجہ انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ روس کے خصوصی تعلقات کو قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ رقم گزشتہ امریکی انتظامیہ کے دور میں منجمد کیے گئے روسی اثاثوں سے لی جا سکتی ہے۔ پوتن کے مطابق، ماسکو “ہمیشہ بین الاقوامی استحکام کو مضبوط بنانے کی ہر کوشش کی حمایت کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔”
یہ بورڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد اسرائیل۔حماس جنگ کا خاتمہ ہے۔ متوقع طور پر یہ ادارہ عارضی طور پر غزہ کی انتظامیہ سنبھالے گا اور اس کی تعمیر نو کا انتظام کرے گا۔
واشنگٹن نے مختلف عالمی رہنماؤں کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ پیر کے روز، صدر ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکروں کے بورڈ میں شامل ہونے سے انکار پر فرانسیسی شراب پر 200 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔
واشنگٹن کے مطابق، مستقبل میں اس ادارے کے دائرۂ اختیار کو دنیا کے دیگر تنازعات تک بھی توسیع دی جا سکتی ہے۔
‘بورڈ آف پیس’ کو بین الاقوامی قانون اور اس کے چارٹر میں طے شدہ رہنما اصولوں کے مطابق امن سازی کے اقدامات انجام دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ ادارہ ایسے بہترین طریقۂ کار تیار کرنے اور شیئر کرنے پر توجہ دے گا جنہیں امن کے خواہاں کسی بھی ملک یا برادری میں نافذ کیا جا سکے۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
میں کہیں نہیں جا رہا، لوگوں کو اُمید دلانے کی ضرورت ہے: برطانوی وزیرِ اعظم
لندن،حالیہ انتخابات اور لیڈر شپ چیلنج سے متعلق خطاب کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ الیکشن کے نتائج انتہائی مشکل تھے، جن کی ذمے داری قبول کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ذمے داری قبول کرتا ہوں، اب تبدیلی لانا بھی میری ذمے داری ہے، ہمیں خطرناک مخالفین کا سامنا ہے، اگر ہم نے درست راستہ اختیار نہ کیا تو ملک تاریک راہ پر گامزن ہو جائے گا۔
کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ لوگ برطانیہ کے حالات سے مایوس ہیں، کچھ لوگ مجھ سے بھی ناراض ہیں، معیشت مستحکم کرنے اور این ایچ ایس کی ویٹنگ لسٹ کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ برٹش اسٹیل کو نیشنلائز کرنے کے لیے قانون سازی اس ہفتے بادشاہ کی تقریر کا حصہ ہو گی، بریگزٹ نے برطانیہ کو کمزور کیا، نائجل فراج اب بریگزٹ کے نتائج پر بات نہیں کرتے۔
یواین آئی ۔م اع
دنیا
ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
ٹرمپ،ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جواب مسترد کیے جانے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی منصوبہ دراصل ’ٹرمپ کی لالچ کے سامنے ایران کی ہتھیار ڈالنے‘ کے مترادف تھا۔
الجزیرہ کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے اپنے ٹیلیگرام بیان میں کہا کہ تہران کی جانب سے دیے گئے جواب میں ایرانی قوم کے بنیادی حقوق پر زور دیا گیا ہے اور ایران کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کی خودمختاری یا قومی مفادات کے خلاف ہو۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کی تازہ تجاویز میں امریکا سے جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے مؤقف کو بھی دہرایا اور کہا کہ خطے میں سلامتی اور بحری گزرگاہوں کے معاملات پر ایران کا مؤقف واضح اور غیر متزلزل ہے۔
ایرانی جواب میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ امریکا ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثے فوری طور پر بحال کیے جائیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی ایرانی تجاویز کو ’ناقابل قبول‘ قرار دے چکے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز، پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات اب بھی کسی بڑے معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
تازہ ترین
آبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
تہران، ایران نے یورپی ممالک کو تنبیہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں مداخلت سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی ممالک امریکی اور اسرائیلی اقدامات کے زیر اثر نہ آئیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ یورپی اقدامات ان کے اپنے مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز یا خلیج فارس میں کسی بھی مداخلت سے صورتحال پیچیدہ ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر مسلط کی گئی جنگ غیر اخلاقی اور غیرقانونی ہے، امریکا اور اسرائیل نے ایران کیخلاف جارحیت شروع کی، یورپی ممالک کو تنازع میں شامل ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ یورپی مداخلت سے توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، عالمی برادری ذمہ دارانہ رویہ اپنائے اور جنگ کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرے۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا4 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
ہندوستان7 days agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
دنیا4 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی
ہندوستان7 days agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
دنیا1 week agoایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ
ہندوستان5 days agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
ہندوستان7 days agoہندوستان نے فجیرہ حملے کی سخت مذمت کی، مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیا
ہندوستان1 week agoرجحانات میں بنگال اور تامل ناڈو میں بڑا الٹ پھیر، آسام میں این ڈی اے تو کیرالہ میں کانگریس فرنٹ کو اکثریت








































































































