ہندوستان
کیڈٹس ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو پورا کرنے کے لئے سخت محنت کریں: راج ناتھ

نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے نیشنل کیڈٹ کور (این سی سی) کے کیڈٹس کو ملک کے لئے اہم قرار دیتے ہوئے ان سے سال 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے سخت محنت کرنے کی اپیل کی ہے پیر کو یہاں دہلی چھاؤنی میں این سی سی یوم جمہوریہ کیمپ میں کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا، “کیڈٹ، خواہ وہ کسی بھی شعبے میں کام کرتے ہوں، ان میں پیدا ہونے والی ‘قیادت’، ‘ضبط’، ‘مہتوکانشا’ اور ‘حب الوطنی’ کی خوبیوں کے ذریعے قوم کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔”
وزیر دفاع نے کہا، “وزیر اعظم نریندر مودی نے 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کا عزم کیا ہے۔ وہ خود بھی این سی سی کیڈٹ رہ چکے ہیں۔ لہذا، اگر کسی بھی سابق این سی سی کیڈٹ نے کوئی خواب دیکھا ہے، تو اسے پورا کرنا دیگر تمام کیڈٹس کی سب سے بڑی ذمہ داری بن جاتی ہے جس کا مطلب ہے کہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کی ترقی جو سماجی اور ثقافتی تنوع کے باوجود اتحاد میں رہتے ہیں۔ ہمیں اپنے لیے اور سماج کے لیے کچھ اچھا کرنا چاہیے اور جلد ہی ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔
وزیر دفاع نے کیڈٹس کی عزم، نظم و ضبط اور قوم سے محبت کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان ایک ملک کے طور پر جو کچھ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے وہ سب کی محنت کی وجہ سے ہے، خاص کر نوجوانوں کی۔ انہوں نے کہا، ’’میں جب بھی این سی سی کیڈٹس سے ملتا ہوں، مجھے ان میں صرف ایک کیڈٹ نظر نہیں آتا۔ میں ان میں ہندوستان کا عکس دیکھتا ہوں، جس میں بہت سے جسم ہیں لیکن ایک روح ہے، کئیشاخیں لیکن جڑ ایک ہے، بہت سی کرنیں لیکن ایک روشنی۔ یہ کیڈٹس مختلف علاقوں سے آتے ہیں، مختلف زبانیں بولتے ہیں اور مختلف رسوم و رواج کی پیروی کرتے ہیں لیکن ان میں ایک چیز مشترک ہے وہ ہے ‘اتحاد’۔ ان کی توانائی اور جوش اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان کا مستقبل روشن ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ جب ہندوستان کو آزادی ملی تو ایک ہی وقت میں کئی ممالک آزاد ہو ئے۔ انہوں نے کہا کہ آج صرف وہی قومیں ترقی کر رہی ہیں جنہوں نے نظم و ضبط، سالمیت اور قومی اتحاد کی اقدار کو برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے ان خصوصیات کو بروئے کار لانے کے لیے این سی سی کی تعریف کی جو ہر فرد کے لیے ضروری ہیں۔ کیڈٹس کو قیادت کے حقیقی معنی کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر دفاع نے 26/11 ممبئی حملوں کے دوران میجر سندیپ اننی کرشنن کی قربانی کا حوالہ دیا جس سے قوم کو ترغیب ملتی ہے۔
تقریب میں ‘النکرن سماروہ’ کے دوران، کیڈٹس کو ان کی شاندار کارکردگی اور ڈیوٹی سے لگن کے لیے وزیر دفاع کا تمغہ اور تعریفی سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ اس سال وزیر دفاع کا تمغہ کیرالہ اور لکشدیپ ڈائریکٹوریٹ کے انڈر آفیسر تھیجا وی پی اور شمال مشرقی ریجن ڈائریکٹوریٹ کے سینئر انڈر آفیسر آریمتر ناتھ کو دیا گیا۔ تعریفی اسناد آندھرا پردیش اور تلنگانہ ڈائریکٹوریٹ کے کیڈٹ ڈونترا گریشما، جموں و کشمیر اور لداخ ڈائریکٹوریٹ کی جونیئر انڈر آفیسر عابدہ آفرین، مہاراشٹر ڈائریکٹوریٹ کے سارجنٹ منن شرما اور مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ ڈائریکٹوریٹ کے سارجنٹ راہول بگھیل کو دی گئیں۔
تقریب کے بعد میزو ہائی اسکول، اجلور کے این سی سی کیڈٹس نے ایک غیر معمولی بینڈ پرفارمنس دی۔ وزیر دفاع نے ‘فلیگ ایریا’ کا بھی دورہ کیا، جہاں تمام 17 ڈائریکٹوریٹ کے کیڈٹس نے مختلف سماجی مسائل پر لائیو پریزنٹیشن دی۔ اس کے علاوہ انہوں نے ‘آئیڈیاز اینڈ انوویشنز’ نمائش کا مشاہدہ کیا، جہاں انہیں کیڈٹس کے ذریعہ کئے گئے مختلف آسان پروجیکٹوں کے بارے میں معلومات دی گئی، اس موقع پر این سی سی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل گربیرپال سنگھ اور اور وزارت دفاع کے دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔
یو این آئی۔ م ع۔ 1905
ہندوستان
‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے 14 نکاتی ‘اسلام آباد مفاہمت نامے (ایم او یو)’ پر مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مودی حکومت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کو ‘اسلام آباد ایم او یو’ کہا جانا پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی اور عالمی کردار کو ظاہر کرتا ہے اور یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کے لیے شدید جھٹکا ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ سال 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کر دیا تھا، لیکن اب پاکستان مغربی ایشیا کے جیو پولیٹیکل اور سکیورٹی نظام میں زیادہ اثر و رسوخ والا کردار ادا کر رہا ہے، جس کے ہندوستان کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ ایم او یو اپنے الفاظ اور جذبے کے مطابق نافذ ہوتا ہے تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی، حالانکہ اس کے ‘میمورنڈم آف مس انڈراسٹینڈنگ’ میں تبدیل ہونے کا خدشہ بھی برقرار ہے۔ ان کے مطابق، اگلے 60 دن اس معاہدے کی کامیابی کے لحاظ سے بے حد اہم ہوں گے۔
کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے سے ایران کو کئی اہم اور غیر متوقع فوائد ملے ہیں اور اس نے اپنی مزاحمت اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک نے احتیاط کے ساتھ اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن وہ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔
مسٹر رمیش نے اسے اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی سفارتی شکست قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی اب بھی اسرائیل کی پالیسیوں کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے تئیں حکومت کا یہ رخ ہندوستان کے مفادات کے لیے مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے امریکہ کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی مہمات اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہیں کر سکی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم مودی پر امریکی صدر کے تئیں خوش
خوشامد پسندی کا الزام لگاتے ہوئے مرکز حکومت کی خارجہ پالیسی کی نکتہ چینی کی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سربراہ اجلاس سے الگ برطانیہ، عرب امارات، جاپان، کوریا اور مصر کے لیڈروں سے کی مودی نے بات
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانس کے ایویاں میں جی-7 سربراہ اجلاس سے الگ برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیر اسٹارمر اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے منگل کو دوطرفہ ملاقات کی مسٹر مودی نے جنوبی کوریا کے صدر لی جے-میونگ، جاپان کی وزیر اعظم سنائے تاکائیچی، کینیا کے صدر ولیم روٹو اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی الگ الگ ملاقات کے دوران دوطرفہ اور عالمی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ مسٹر اسٹارمر اور مسٹر مودی نے گزشتہ سال باہمی دوروں کے بعد سے ہندوستان-برطانیہ تعلقات میں مضبوط رفتار کا جائزہ لیا اور ’ویژن 2035‘ کے تمام اہم ستونوں—تجارت اور اقتصادی ترقی، دفاع اور سکیورٹی، ماحولیاتی کارروائی اور گرین انرجی، ٹیکنالوجی اور اختراع نیز تعلیم اور لوگوں کے باہمی تعلقات—میں ہوئی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے کے جلد نافذ ہونے کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے مضبوط تعلیمی شراکت داری پر اطمینان کا اظہار کیا اور بنگلورو میں یونیورسٹی آف لیورپول کی طرف سے اپنا کیمپس قائم کرنے اور ممبئی میں یونیورسٹی آف یارک اور یونیورسٹی آف برسٹل کے کیمپس کھولنے کے لیے حال ہی میں ہوئی پیش رفت کا ذکر کیا۔
دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا اور یوکرین سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ انہوں نے ہندوستان-برطانیہ جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مضبوط کرنے کے اپنے مشترکہ عزم کو دہرایا۔ مسٹر مودی اور مسٹر آل نہیان کے درمیان اس سال یہ تیسری ملاقات تھی جس سے ہندوستان-یو اے ای کی مضبوط اور متحرک اسٹریٹجک شراکت داری کا پتہ چلتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس سال جنوری میں صدر آل نہیان کے دورۂ ہندوستان اور مئی میں وزیر اعظم مودی کے دورۂ متحدہ عرب امارات کے نتیجے میں ٹیکنالوجی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور دفاع کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں ہوئی پیش رفت اور مثبت تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔
وزیر اعظم نے مغربی ایشیا کے خطے میں مستقل امن، سکیورٹی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے آبنائے ہرمز سے مسلسل بلا رکاوٹ، محفوظ اور پرامن آمد و رفت اور تجارت جاری رکھنے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم نے صدر آل نہیان کو اس سال کے آخر میں ہندوستان کی میزبانی میں ہونے والے برکس بربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مبینہ ’ٹیلی گرام بین‘ کے تعلق سے مرکزی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ پیپر لیک روکنے کے نام پر حکومت اصل قصورواروں کے بجائے طالب علموں کو نشانہ بنا رہی ہے مسٹر گاندھی نے کہا کہ لاکھوں طالب علم برسوں سے ٹیلی گرام کا استعمال پڑھائی، نوٹس، ٹیسٹ سیریز، مباحثہ اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے کرتے ہیں۔ ایسے میں اس سہولت کو بند کرنا پیپر لیک کا حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چور کو پکڑنے کے بجائے متاثرہ کے گھر پر تالا لگا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قدم نہ تو مؤثر ہے اور نہ ہی پیپر لیک روکنے کا مستقل علاج۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اس سے بھی مسئلے کا حل نہیں ہوا تو کیا اگلی پابندی واٹس ایپ پر لگائی جائے گی
کانگریس لیڈر نے کہا کہ امتحان کے دوران طالب علموں کی سخت تلاشی، جیبیں کاٹ کر جانچ اور سوالناموں کو فضائیہ (ایئرفورس) سے بھیجنے جیسے اقدامات محض دکھاوا ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت پیپر لیک کے اصل مسئلے پر کارروائی کرنے سے بچ رہی ہے، جبکہ پیپر لیک مافیا نوجوانوں کے مستقبل سے لگاتار کھلواڑ کر رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ دکھاوٹی اقدامات کے بجائے پیپر لیک مافیا پر سخت کارروائی کی جائے، طالب علموں پر نہیں۔ مسٹر گاندھی نے انتباہ دیا کہ اگر نوجوانوں کی آواز نہیں سنی گئی تو ملک کا نوجوان اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا جانتے ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر5 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان5 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا5 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا6 days agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
جموں و کشمیر5 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا3 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں
دنیا1 week agoپاکستان کا افغانستان پر حملہ، 11 بچوں سمیت 13 افراد ہلاک
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
دنیا3 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا



































































































