پاکستان
ایک سوٹی اپنی قبر کے لیے بھی۔۔۔۔۔۔۔

تحریر:عبدالحکیم کشمیری:
وزیراعظم فاروق حیدر نے چند دن قبل اپنی ایک تقریر میں ایکٹ 74کے حوالے سےپاکستان زیر انتظام کشمیر کے تین سابق سیاستدانوں ،سردار ابراہیم، کے ایچ خورشید اور سردار عبدالقیوم کے بارے میں کہا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ ”میں تمہاری قبروں پر جاکر سوٹیاں (لاٹھیاں) ماروں کہ تم نے ہمیں ایکٹ 74دیا“
فاروق حیدر کے اس بیان پرپاکستان زیر انتظام کشمیر بھر میں رد عمل دیکھنے میں آیا تاہم یہ رد عمل مخالفت برائے مخالفت کا ہے۔۔۔ خیال یہ تھا، دلیل سامنے آئے گی اور اس دلیل کی روشنی میں حقائق بھی سامنے آئیں گے اور بحیثیت کشمیری قوم ہم یا ہمارے سیاستدان اپنا محاسبہ کرتے ہوئے ماضی کے برعکس بہتر مستقبل کا تعین کرنے کی کوشش کریں گے، پہلی بات یہ کہ فاروق حیدر نے کو کچھ کہا کہ وہ غلط یا درست اس حوالے سے ہر دو مکتبہ فکر کی اپنی رائے ہے لیکن دوسری اہم بات یہ کہ فاروق حیدر ماضی میں اسی مسلم کانفرنس کا حصہ رہے جس کی اس وقت کی مرکزی قیادت نے ایکٹ 74قبول کیا۔۔۔۔
1985سے لے کر 2010تک 25سال پر مشتمل پارلیمانی نظام میں سے کم و بیش 17سال مسلم کانفرنس اقتدار میں رہی ،فاروق حیدر نے کبھی بھی اس پر بات نہیں کی، ہاں انہوں نے کشمیر کونسل کے خاتمے کی بات 2009میں ضرور کی لیکن ایکٹ 74کے ذمہ داران کے لیے ان کا یہ لب و لہجہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا، فاروق حیدر اپنی بات مناسب الفاظ میں بھی کر سکتے تھے لیکن انہوں نے قبروں پر سوٹیاں مارنے کی بات کر کے خود براہ راست سوٹی ماردی جس پر رد عمل آنا فطرتی بات ہے۔۔۔۔
ویسے بھی 1947کے بعد پاکستان زیر انتظام کشمیرکے سیاستدانوں نے اتنی غلطیاں کیں جن کی گنتی مشکل ہے ، فاروق حیدر بحیثیت وزیراعظم آج بھی وہی غلطیاں کر رہے ہیں ،جن پر وہ سابق سیاستدانوں کی قبروں پر سوٹیاں مارنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
ایکٹ 74مسلط ہوا۔۔۔۔۔۔ فاروق حیدر کی بات مان لیتے ہیں۔ جنہوں نے اس ایکٹ کو قبول کیا۔۔۔۔بقول فاروق حیدر ایکٹ 74غلامی کی دستاویز ۔۔اس کو قبول کرنے والے قصور وار۔۔۔۔۔۔ ہم سب فاروق حیدر کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ 13ویں ترمیم میں اپنی پوزیشن واضح کریں ، کیا بجلی کا اختیار پاکستان زیر انتظام کشمیر کے پاس ہے؟؟ کیا کارپوریشنز پر ٹیکسز کا اختیار آزادکشمیر کے پاس ہے اگر ہے بھی تو کون سی کارپوریشنز پر؟ کیا کسٹم ڈیوٹیز حکومت پاکستان زیر انتظام کشمیر کے اختیار میں ہے؟ کیا لینٹ آفیسرز کی تعیناتی کا پینل حکومت پاکستان زیر انتظام کشمیر بھیج سکتی ہے؟ کیا ججز کی تقرری کا مکمل اختیار حکومت پاکستان زیر انتظام کشمیر کے پاس ہے؟ کیا الیکشن کمیشن کی تقرری کا اختیار حکومت پاکستان زیر انتظام کشمیر کے پاس ہے؟۔۔۔۔۔۔۔فاروق حیدر ایکٹ 74قبول کرنے والی قبروں پر سوٹیاں ضرور ماریں، لیکن یہ بتائیں کہ ان کے دور میں نیلم جہلم پراجیکٹ مکمل ہوتا ہے اور پاکستان زیر انتظام کشمیر سے معاہدہ کیے بغیر بجلی پیداوار کیسے شروع ہو گئی؟ فاروق حیدر نے جس دن کہا کہ کوہالہ پراجیکٹ پر کام شروع نہیں ہو گا اسی دن اسمبلی میں کوہالہ ہائیڈرل پراجیکٹ پر کام روکنے کے لیے قرار داد پیش ہوئی اور اسی دن کوہالہ ہائیڈرل پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔۔۔ ان ہی دو سال میں فاروق حیدر کی انتظامیہ نے کوہالہ پراجیکٹ کے لیے 594کنال جگہ ایوارڈ کی اور 1147کنال جگہ مزید ایوارڈ کرنے کے لیے فہرستیں مرتب ہو رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔ یقینا اس سارے عمل سے فاروق حیدر کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ سردار ابراہیم ، کے ایچ خورشید اور سردار عبدالقیوم خان نے ایکٹ74کیوں قبول کیا؟کیا فاروق حیدر نہیں جانتے ایسے معاملات میں پاکستان زیر انتظام کشمیر کے سیاستدانوں سے زبردستی انگوٹھا لگوایا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان زیر انتظام کشمیرکے سیاستدانوں کے درمیان سیاسی اختلافات ہمیشہ پاکستان زیر انتظام کشمیر کے اجتماعی مفادات سے طاقتور رہے اور جس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔۔۔۔۔ معاہدہ کراچی کن حالات میں ہوا؟ کیا چوہدری غلام عباس کی طرف سے درج ذیل عبارت کہ ”مجھے اس معاہدے کی ان باتوں سے اتفاق ہے جو مسلم کانفرنس کے متعلقہ ہیں“لکھنے کے بعد دستخط کرنا ان کی بے بسی اور ”خوابوں کے محور و مرکز“ کا جبر ثابت نہیں کرتا۔
24اکتوبر 1947کی حکومت کے اعلامیہ کی روشنی میں پاکستان زیر انتظام کشمیر حکومت کے اختیارات اور آج کی پاکستان زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے اختیارات میں جو فرق ہے اس کی ذمہ دار مسلم کانفرنس ہے۔1947سے لے کر2018تک 71سال کی اہم ترین شخصیات میں چوہدری غلام عباس، سردار ابراہیم خان، راجا حیدر خان، کے ایچ خورشید، سردار عبدالقیوم خان، سکندر حیات، سردار عتیق ،سلطان محمود، فاروق حیدر، چوہدری عبدالمجید شامل ہیں، 71سال میں 20سے 22سال کا عرصہ ایسا ہے جس میں سے 4دور حکومت مجموعی طور پر 14سال پیپلزپارٹی اور 5سال کے ایچ خورشید اقتدار میں رہے، اور 2سال کا عرصہ ن لیگ کا ہے،جبکہ باقی سارا عرصہ مسلم کانفرنس یا ان کے حمایت یافتہ لوگوں کا تھا ۔سو فاروق حیدر تین قبروں کے ساتھ ساتھ ان دیگر شخصیات کی قبروں کو اپنی فہرست میں شامل کریں۔۔۔۔اور ایک سوٹی مستقبل کی ضرورت کے پیش نظر کسی بینک لاکر میں رکھوا دیں ۔۔۔ نیلم جہلم اور کوہالہ پراجیکٹ میں آزادکشمیر کے لوگوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہونے والے کی قبر بھی تو سوٹیوں کی مستحق ہو گی۔
نوٹ: ادارہ کا ان کی رائے سے اتفاق ہونا ضروری نہیں
پاکستان
بلوچستان میں خوفناک حادثہ، مسافر بس کھائی میں گرنے سے 39 افراد جاں بحق
کوئٹہ،بلوچستان کے ضلع ژوب میں خوفناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں بس گہری کھائی میں گرنے سے 39 مسافر جاں بحق ہو گئے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے نمائندے رفیق ژوب مطابق حادثہ شیرانی کے علاقے دانہ سر میں اس وقت پیش آیا، جب موڑ کاٹتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث بس کے بریک فیل ہو گئے، جس کے نتیجے میں بس گہری کھائی میں جا گری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ضلع انتظامیہ اور ریسکیو ادارے جائے حادثہ پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔
حادثہ اتنا سنگین تھا کہ بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور بس کے حصوں کو کاٹ کر لاشوں اور زخمیوں کو نکالنا پڑا۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ریسکیو حکام نے لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال پہنچایا، جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ڈی سی ژوب حضرت ولی کاکڑ کے مطابق حادثے میں 16 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے جب کہ باقی افراد نے امدادی سرگرمیوں اور اسپتال پہنچنے کے بعد دم توڑا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے، 29 دہشت گرد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان نے افغانستان کے مشرقی علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنا کر فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں کی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ کارروائیاں پاکستان کی سرحد کے اندر ہونے والے مہلک حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔ کاروائیوں کے نتیجے میں 29 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ “پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں تین اہداف کو انتہائی درست فضائی حملوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا ہے”۔ تارڑ کے مطابق یہ فضائی حملے ایک وسیع آپریشن کا حصہ تھے جس میں پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔
انہوں نے کہا ہےکہ اس آپریشن کا ہدف جماعت الاحرار تھا جسے عموماً تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا ہےکہ رات کے وقت کی جانے والی یہ کارروائی کراچی میں ہفتے کے روز ہونے والے اور تین نیم فوجی اہلکار وں کی ہلاکت کا سبب بننے والےحملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سرحدی صوبوں میں حالیہ پُرتشدد واقعات بھی اس کارروائی کا سبب بنے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے حکام کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اتوار کے روز پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی آپریشن کیا جس کے بعد دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر “انتہائی درست حملے” کیے گئے، جن میں 29 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ پاکستان نے رواں مہینے کے آغاز میں کئے گئے حملے سمیت حالیہ مہینوں میں افغانستان کے اندر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحد اکتوبر میں تشدد میں اضافے کے بعد سے بڑی حد تک بند ہےاور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا
اسلام آباد،جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں اور تیسری عالمی جنگ کے بادل چھٹ گئے، پاکستان جمعہ 19 جون 2026، کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب کی میزبانی کرے گا وزیر اعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ تقریب میں شرکت کریں گے، وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا، عظیم کامیابی پر مؤرخ پاکستان کا نام سنہرے حروف سے لکھے گا۔
شہباز شریف نے پیر کے روز کہا ہم بالآخر آنے والے جمعہ کو جنیوا میں امن معاہدے پر دستخط ہوتے دیکھنے جا رہے ہیں۔
انھوں نے پیر کی صبح اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور گہری مذاکراتی کوششوں کے بعد ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان 8 اپریل کو جنگ بندی کرانے میں کامیابی کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اور اب فریقین کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت الیکٹرانک طور پر دستخط بھی ہو گئے ہیں، اور امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی بھی ختم کر دی ہے جس کے سبب ایرانی تیل بردار بحری جہاز گزرنا شروع ہو گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان5 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا5 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان7 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
جموں و کشمیر7 days agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا1 week agoایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان5 days agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
دنیا2 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ



































































































