ہندوستان
ای ڈی نے منی لانڈرنگ معاملے میں الفلاح یونیورسٹی پر چھاپہ مارا

نئی دہلی، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے دہلی لال قلعہ دھماکے کے معاملے میں الفلاح یونیورسٹی میں مبینہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جہاں ملزمان ملازم تھے یا تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
ای ڈی نے کئی ٹیمیں تشکیل دی ہیں اور منگل کو الفلاح یونیورسٹی کے اوکھلا دفتر اور دیگر متعلقہ مقامات پر تلاشی لے رہی ہے۔
ای ڈی کے ایک سینئر افسر نے آج بتایا’’ای ڈی الفلاح یونیورسٹی، اس کے ٹرسٹیوں اور متعلقہ افراد/اداروں کے خلاف تلاشی مہم چلا رہی ہے۔ یہ کارروائی آج صبح پانچ بجے شروع ہوئی تھی اور اب بھی جاری ہے۔‘‘
ای ڈی کی یہ کارروائی دہلی کرائم برانچ اور ہریانہ پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کی بنیاد پر کی جا رہی ہے، جس میں الفلاح یونیورسٹی پر مالی بدعنوانی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔
لال قلعہ کے قریب ہوئے دھماکے میں اب تک 15 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ الفلاح یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر عمر نبی اس آئی-20 کار کو چلا رہا تھا جس میں دھماکہ ہوا۔ ابتدا میں یونیورسٹی نے ڈاکٹر عمر اور اس کے ساتھیوں سے کسی بھی تعلق سے انکار کیا تھا۔
تاہم بعد کی تحقیقات میں یہ سامنے آیا کہ یونیورسٹی مبینہ طور پر مالی دھوکہ دہی میں ملوث تھی، جس کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی اور منی لانڈرنگ کے پہلو کی جانچ ای ڈی کو سونپی گئی۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
غلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
نئی دہلی، ٹاٹا گروپ کی ہوا بازی کمپنی ایئر انڈیا کا ایک طیارہ منگل کی رات غلطی سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہو گیا، تاہم اس کا احساس ہوتے ہی وہ فوری طور پر واپس ہندوستانی سرحد میں لوٹ آیا ذرائع نے بتایا کہ پرواز نمبر اے آئی-479 دہلی سے امرتسر پہنچی تھی اس وقت امرتسر ہوائی اڈے پر کافی ٹریفک تھا، اس لیے اترنے کا انتظار کر رہی تمام پروازوں سے ’ہولڈ کرنے‘ کے لیے کہا گیا تھا۔ ایسی صورتحال میں طیارے آس پاس کے علاقے میں ہی چکر لگاتے ہیں۔ اسی دوران ایئر انڈیا کی یہ پرواز کچھ دیر کے لیے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہو گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عملے کے ارکان کو اس کا احساس ہوتے ہی انہوں نے طیارے کو واپس ہندوستانی سرحد کی طرف موڑ لیا۔ انہوں نے کہا کہ امرتسر ہوائی اڈہ پاکستانی سرحد کے کافی قریب ہے، اور کئی بار غلطی سے ایسا ہو جاتا ہے۔
واضح رہے کہ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں۔ اس کے باوجود، خراب موسم یا اس طرح کی کسی ہنگامی صورتحال میں ہندوستان پاکستانی طیاروں کو اپنے فضائی علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دیتا رہا ہے۔ اسی مہینے فلائی جناح ایئرلائنز اور مئی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی ایک ایک پرواز کو ہندوستانی سرحد میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
اجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت
نئی دہلی، کانگریس نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو اور ان کے خاندان پر اجین میں زمین کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے اس پورے معاملے میں وائٹ پیپر جاری کر کے معاملے کی عدالتی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے کانگریس کے شعبہ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا اور مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد مسٹر یادو کے خاندان نے جو زمین خریدی ہے، اس کی بنیاد میں ترقیاتی پروجیکٹ کا خاکہ تیار کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور ان کے خاندان کے ارکان کی طرف سے خریدی گئی زمینوں اور بعد میں اعلان کردہ ترقیاتی منصوبوں کے درمیان تعلقات کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ مسٹر یادو کے خاندان نے اجین میں سینکڑوں ایکڑ زمین خریدی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد تقریباً 168 ایکڑ زمین خریدی ہے جس میں سے 111 ایکڑ زمین اس علاقے میں واقع ہے جہاں سنگھستھ کمبھ سے جڑے ترقیاتی کام تجویز کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اجین کے جن علاقوں میں 2035 کے ماسٹر پلان کے تحت ترقیاتی کام ہونے ہیں، وہاں بھی وزیر اعلیٰ کے خاندان کی طرف سے زمین خریدے جانے کی معلومات سامنے آئی ہیں۔
کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ اجین اور ایودھیا کروڑوں لوگوں کی عقیدت کے مراکز ہیں اور ان علاقوں سے جڑے معاملات میں مکمل شفافیت برتی جانی چاہیے۔ ان کا الزام ہے کہ وزیر اعلیٰ ہونے کے ناطے مسٹر یادو کو ترقیاتی منصوبوں اور ان سے متعلق فائلوں کی معلومات ہوتی ہیں، اس لیے اس پورے معاملے کی آزادانہ اور منصفانہ جانچ ضروری ہے۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ کانگریس کو وزیر اعظم نریندر مودی سے اس معاملے میں کارروائی کی امید نہیں ہے، لیکن عوام کے سامنے حقائق کو لانا اپوزیشن کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایودھیا اور اجین سے جڑے معاملات میں بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں، جن کا جواب بی جے پی کو دینا چاہیے۔
مسٹر پٹواری نے کہا کہ کانگریس نے اس معاملے میں عوامی طور پر بی جے پی، مسٹر مودی اور وزیر اعلیٰ یادو سے سوالات پوچھے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سب کچھ شفاف ہے اور کسی قسم کا گھوٹالہ نہیں ہوا ہے تو بی جے پی کو اس پورے معاملے کی آزادانہ عدالتی جانچ سے گریز نہیں ہونا چاہیے۔
کانگریس رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ یہ واضح کریں کہ 2023 کے بعد ان کے خاندان نے کتنی زمین خریدی، کیا ان زمینوں کا تعلق بعد میں اعلان کردہ ترقیاتی منصوبوں والے علاقوں سے ہے اور کیا حکومت ان منصوبوں کی وقت کی حد اور عمل کو عام کرے گی۔ پارٹی نے وزیر اعلیٰ کے خاندان کی طرف سے خریدی گئی زمینوں پر وائٹ پیپر جاری کرنے اور پورے معاملے کی عدالتی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
جانچ اور تنقیدوں کے درمیان بھی ہم نہ جھکے ، رکے نہیں: اڈانی
نئی دہلی، اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے بدھ کو کہا کہ مالیاتی سال 26-2025 چیلنجوں سے بھرا رہا اور غیر معمولی جانچ اور تنقیدوں سے بھرا رہا لیکن اس سب کے درمیان کمپنی بغیر رکے اور بغیر جھکے آگے بڑھتی رہی گروپ کی سالانہ جنرل میٹنگ (اے جی ایم) سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایسا سال تھا جب دنیا پہلے سے کہیں زیادہ منقسم نظر آئی، توانائی کی حفاظت ایک بار پھر قومی حکمت عملی کے مرکز میں آ گئی۔ ان چیلنجوں کے درمیان اڈانی گروپ نے توانائی، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور صنعتی مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں دنیا کے سب سے مربوط بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے پلیٹ فارم کے طور پر اپنے سفر کو آگے بڑھایا۔ کسی خاص معاملے کا ذکر کیے بغیر انہوں نے کہا، “ہمارا یہ سفر پرسکون حالات میں نہیں ہوا۔ یہ غیر معمولی جانچ پڑتال اور تنقید کے درمیان ہوا۔ پھر بھی، ہم جھکے نہیں، ہم رکے نہیں۔ کیونکہ ہماری پہچان ہمیشہ اس سے طے ہوئی ہے…۔”
بنیادی ڈھانچے اور ذہانت کو ملک کی ترقی کے دو اہم ستون قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دو عالمی انجن ہندوستان کی طاقت کو شکل دیں گے، اس کی خودمختاری کو محفوظ کریں گے اور اسے اس صدی کی بڑی طاقتوں میں سے ایک بننے کی سمت میں آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچہ سڑکوں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، ٹرانسمیشن لائنوں، بجلی گھروں، قابل تجدید توانائی کے پارکوں، گیس نیٹ ورکس، لاجسٹکس پلیٹ فارمز، سیمنٹ کی گنجائش، پانی کے نظام اور صنعتی ماحولیاتی نظام کی نمائندگی کرتا ہے جو قومی ترقی کو ممکن بناتے ہیں۔ ذہانت ڈیٹا سینٹرز، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی)، آٹومیشن، پیشن گوئی کے نظام، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ریئل ٹائم تجزیہ اور مشین پر مبنی فیصلہ سازی کی معاونت کو ظاہر کرتی ہے، جو ان تمام اثاثوں کو زیادہ موثر اور جوابدہ بناتے ہیں۔
مالیاتی سال 26-2025 کے اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے مسٹر اڈانی نے کہا کہ کمپنی نے بنیادی ڈھانچے پر 1.5 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی۔ یہ نجی شعبے کی طرف سے ملک کے کل نئے سرمایہ کاری اخراجات کے 30 فیصد سے زیادہ تھا۔ اس دوران کمپنی کی مجموعی آمدنی 2.92 لاکھ کروڑ روپے، آپریٹنگ منافع 94,834 کروڑ روپے اور خالص منافع 46,376 کروڑ روپے رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی عظیم ترین داستان لکھی جانی ابھی باقی ہے اور اڈانی گروپ اس میں اپنا تعاون دینے کے لیے پرعزم ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان6 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا1 week agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا1 week agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان1 week ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
تازہ ترین2 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
دنیا6 days agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا6 days agoاعلیٰ ترین قیادت کے دستخط سے معاہدے کی خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہو گئی: اسماعیل بقائی
دنیا1 week agoمجھے حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری کی طرف واپس جا سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے
دنیا5 days agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
ہندوستان1 week ago‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“




































































































