تازہ ترین
با برکت ماہ رمضان المبارک کیسے گزاریں؟

الطاف جمیل ندوی 
آمد رمضان کے ساتھ ہی لوگ یا تو خوشی و مسرت محسوس کررہے ہیں یا پھر اداس ہو رہے ہیں ،کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو اس وجہ سے خوش ہورہے ہیں کہ رمضان کی سعادت نصیب ہوگی اور ہم رب کے حضور اپنا تعلق مزید مستحکم کرکے دارین کی سعادت حاصل کرنے کی سعی کریں گئے اسی طرح کتنے ایسے بھی برائی کے خوگر لوگ ہیں جو اس وجہ سے غمزدہ ہونا شروع ہوچکے ہیں کہ بھوک و پیاس کی شدت برداشت کرنی پڑے گی اور مختلف طریقے اختیار کرکے اس سعادت سے فرار اختیار کرنے پر اپنی صلاحیت استعمال کرتے ہیں .
بعض لوگ اس طرح کے کام اختیار کرتے ہیں کہ اس میں روزہ رکھنا دشوار ہوتا ہے اور وہ دل ہی دل میں جھوم جاتے ہیں
پر کتنے ایسے بھی بدنصیب ملیں گے جو اس وجہ سے خوشی منارہے ہیں کہ انہیں روزہ داروں کے سامنے کھانے کو ملے گا اور وہ روزہ داروں کو چڑھاتے ہیں کہ کیا فائدہ تمہاری بھوک پیاس کا دیکھ لیں ہم کیسے زندگی کو مختلف لذیذ کھانے سےسنوار رہے ہیں
سوچنے کی بات ہے کہ ہم میں سے ہر کسی کو جائزہ لینا ہے کہ مذکورہ بالا کس قسم میں ہمارا شمار ہورہا ہے .
اگر ہم پہلی قسم سے تعلق رکھتے ہیں تو قابل مبارک باد ہیں ، دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو رمضان المبارک کی ہرسعادت اور ہرخیر و برکت سے نوازے اور ہمیں بھی ان لوگوں میں سے بنائے جن کے منہ سے نکل رہی بو رب الکریم کو بہت پسندیدہ ہے
دوسری قسم کے لوگوں کے لئے صرف اور صرف محرومی ہے ، دنیا میں بربادی ہے اور آخرت میں رسواکن عذاب ہے یہ مسلم معاشرے میں رہ کر بھی رب الکریم کی رحمتوں سے محروم رہ جاتے ہیں ایسے لوگ از خود رب الکریم کے غضب کو دعوت دیتے ہیں
اس لئے ایسے لوگوں کو اللہ تعالی سے سچی توبہ کرنی چاہئے اور رب الکریم
کے حکموں پہ چلنا چاہئے تاکہ ان کی دنیا و آخرت سنور جائے
تیسری قسم کے لوگوں کو چاہئے کہ ایسا پیشہ اختیار کریں جس سے روزہ پر اثر نہ پڑے، یا کم از کم رمضان میں اپنے اس عمل سے رک جائیں جس سے روزہ پر اثر پڑتا ہو اور اللہ سے امید وابستہ رکھنی چاہئے ، کہ وہی روزی دینے والا ہے اور ممکن ہے کہ رب آپ کی تلاش حق کی راہ میں ایسی دستگیری فرمائے کہ آپ بے نیاز ہوجائیں اس رزق کی تلاش سے یہ سب اسی رب کے ہاتھ میں ہے
چوتھی قسم کے لوگ پرلے درجے کے بدنصیب ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو کفار کی روش اختیار کرتے ہیں اور ان کی تقلید میں اہل ایمان کو کوستے اور ان کی استہزاء کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنی گھناؤنی حرکتوں سے باز آنا چاہئے اور قہر الہی سے پناہ مانگنی چاہئے رمضان المبارک کی ان مبارک ساعتوں کا کیا کہنا جن کے آنے پے رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم اپنی عبادات میں لذت و چاشنی کے شوق میں اضافہ کرتے اور شوق محبت میں رب کے حضور اپنا تعلق بناتے رب کی بارگاہ میں راز و نیاز کی باتیں کرتے رحمتوں کو سمیٹنے کے لئے اپنے مبارک ہاتھ بلند کرتے سحر ہو کہ افطار رب سے فریاد کرتے ہیں.
ارشاد باری تعالی ہے کہ مومنوں پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے سابقہ امتوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی شعار بن جاؤ
سوچنے کی بات ہے کہ رمضان المبارک اس سے پہلی امتوں پر بھی فرض ہی تھا اب جو ہم پر فرض کیا گیا تسلی بھی دی گئی کہ یہ صرف آپ کا امتحان نہیں ہورہا ہے بلکہ ایسا سابقہ امتوں سے بھی معاملہ کیا گیا تاکہ کھرے کھوٹے کو پرکھا جائے کہ تم میں سے رب سے کس کا کیا تعلق ہے کتنا مستحکم ہے اس میں کتنی اللہ کی محبت و اطاعت موجود ہے دنیا کی مختلف اقوام ایسا کرتے ہیں کہ مختلف دن مقرر کر کے دن میں کھانے پینے سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں پر ان کے اس عمل پر ان کے لئے کوئی پابندی نہیں کہ یہ کس طرح کی بھوک پیاس کی شدت کو سہہ لیتے ہیں پر مومنین پر قوانین نافذ ہیں کہ ایسا کرے ایسا نہ کریں یہ روزہ میں بہتر کام ہے پر اس کام سے روزے برباد ہوجاتے ہیں مطلب یہ کوئی اچانک والا طریقہ نہیں ہے بلکہ یہ الہی حکم ہے اور اس کے کرنے کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں جسے اب رب کی رضا مطلوب ہے وہ بڑا حساس بن کر پورے دن اپنے جسم کے اعضاء کی رکھوالے بھی کریں کہ کہیں کوئی حصہ یا عضو کسی غلطی کا ارتکاب نہ کر بھیٹے اور میری دن کی مشقت برباد ہو جاۓ یہ اخلاقیات کی تعلیم بھی دیتا ہے تو وہیں درس مساوات بھی یہ اتحاد و اتفاق کی ترغیب بھی دیتا ہے تو وہیں محبت و خلوص کا درس بھی انسان دوستی کا سبق بھی دیتا ہے.
کچھ کام کی باتیں
۱۔۔۔ روزہ دار کو افطار کرانا چاہئے ایک کجھور ہو کہ پانی کا ایک گھونٹ
اس سے آپسی میں محبت و اخوت کا تعلق بنے گا اصل یہی ہے ورنہ ایک گھونٹ پانی سے کیا ہوتا بس اسلام چاہتا ہے کہ امت مسلمہ آپس میں بھائی چارے کی مثالیں قائم کریں اور اسے فروغ دینے کا سنہری موقعہ رمضان المبارک کے مبارک ایام ہیں
۲۔۔ گالی گلوچ سے پرہیز
یہ بھی ایک ایسا کام ہے جس کو اب ہم مذاق مذاق میں مختلف بہانے بنا کر صحیح بنانے کی تک و دو میں رہتے ہیں پر ہے یہ ایک غلیظ عادت جس سے پرہیز کی تعلیم دی گئی ہے پر رمضان المبارک میں آسانی سے اپنی زبان کو بدی کی باتوں سے روکا جا سکتا ہے
۳۔۔ صبر کرنے کا کام یہ بھی ہے کہ بھوک پیاس کی شدت کا شکوہ بہ کریں کسی بھی سے کیونکہ یہ بھوک پیاس جس محبت و عقیدت کے لئے آپ سہہ رہے ہیں اس کی تا قیامت بدر میں اصحاب نبوی علیہ السلام نے مثال پیش کی انہوں نے کسی سے اپنی بے بسی بیان نہ کی سوائے رب الکریم کے .
۴۔۔۔ ذکر الہی
گر چہ پورے سال کرنے کا کام ہے پر رمضان المبارک میں اس کی لذت و چاشنی کا الگ ہی لطف ہے کہ آپ بھوک محسوس کر رہے ہیں اپنی بھوک کی شدت سے بچنے کے لئے آپ قرآن مجید اٹھا کر اس کی تلاوت شروع کرکے خود کو رب سے جوڑ رہے ہیں تو رب بھی آپ کو راندہ درگاہ نہ کرے گا بلکہ آپ کی بھوک جنت کے باغیچوں میں مٹانے کا وعدہ دے کر نوید فلاح سنائے گا پورے سال گر چہ کم قلیل تلاوت ہوتی رہتی ہے اب پر رمضان المبارک میں اس کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنے کی کوشش کریں بیشک قرآن مجید آپ کے دلوں کو منور کرے گا
۵۔۔ آپسی رنجش یا حسد بغض سے حتی الامکان بچیں نفرت و کدورت بھرے قلب کی صدائیں ضائع ہوا کرتی ہیں
۶۔۔ مساجد میں شور غل مچانے سے احتیاط کرنی لازم ہے فضول کے مسائل اٹھا کر ضد نہ کریں کہ یہ صحیح پے یہ غلط ہے بلکہ اپنے معاملات اللہ تعالی و رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کریں نہ کہ اپنی ضد اور انا کو بچانے کے لئے جگڑا کریں اعتدال کی راہ کا انتخاب سب سے بہتر طریقہ ہے اصلاح کا
آئے میرے عزیزان گرامی یہ چند گزارشات آپ کے لئے لکھ دی ہیں امید ہے کہ یہ رمضان ہمارے لئے رحمت ربی کا پیغام بن کر ہماری زندگیوں کو منور کریں شعبان کے آخری ہفتہ میں کیسا بہترین پیغام ہمارے لئے کتب احادیث میں موجود ہے آئے اس کا مطالعہ بھی کریں کہ ہم کیسے اس ماہ میں اپنے اوقات کو صرف کریں کیسے اپنی ایمانی لذت و چاشنی میں مزید اضافہ کرائیں کتب احادیث بتاتی ہیں کہ شعبان کا آخری دن ہوتا تو آپﷺ مسجد نبوی میں صحابہ کرام کو جمع فرما کر خطبہ ارشاد فرماتے جس میں رمضان المبارک کے فضائل و وظائف اور اہمیت کو اجاگر فرماتے تاکہ اس کے شب و روز سے خوب فائدہ اٹھایا جائے اور اس میں غفلت ہرگز نہ برتی جائے، اس کے ایک ایک لمحہ کو غنیمت جانا جائے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے فرمودہ خطبہ کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ٔاکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہم کو شعبان کے آخری دن خطبہ دیا، فرمایا: اے لوگو! ایک بہت ہی مبارک ماہ تم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کے روزوں کو فرض اور رات کے قیام کو نفل قرار دیا ہے۔
جو شخص کسی نیکی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف قرب چاہے اس کو اس قدر ثواب ہوتا ہے گویا اس نے دوسرے ماہ میں فرض ادا کیا۔
جس نے رمضان میں فرض ادا کیا اس کا ثواب اس قدر ہے گویا اس نے رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں ستر فرض ادا کئے۔
وہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے،وہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کا مہینہ ہے۔
اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔
جو اس میں کسی روزہ دار کو افطار کرائے اس کے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں اور اس کی گردن آگ سے آزاد کر دی جاتی ہے اور اس کو بھی اسی قدر ثواب ملتا ہے اس سے روزہ دار کے ثواب میں کچھ کمی نہیں آتی۔ اس پر صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیک و سلم ! ہم میں سے ہر ایک میں یہ طاقت کہاں کہ روزہ دار کو سیر کر کے کھلائے۔ اس پر آپ نے فرمایا: یہ ثواب تو اللہ اسے بھی عطا فرمائے گا جو ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ دودھ پلا دے. جس نے کسی روزہ دار کو افطاری کے وقت پانی پلایا اللہ تعالیٰ (روزِ قیامت) میرے حوضِ کوثر سے اسے وہ پانی پلائے گا جس کے بعد دخولِ جنت تک پیاس نہیں لگے گی۔
یہ ایسا مہینہ ہے جس کا اول رحمت ہے، اس کے درمیان میں بخشش ہے اور اس کے آخر میں آگ سے آزادی ہے۔ جو شخص اس میں اپنے غلام کا بوجھ ہلکا کرے اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے اور آگ سے آزاد کر دیتا ہے .
یہ وہ تعلیمات نبوی علیہ السلام ہیں جنہیں گر ہم رمضان المبارک کے مبارک ایام میں عمل میں لائیں تو یقینا رب الکریم کی رحمتیں ہمارے لئے وا ہوں گئیں آئے امت مسلمہ کے عظیم کارواں کے ساتھیو آو مل کر اپنی زندگیوں کے ان مبارک اوقات کو اپنے لئے رحمتوں کا سایہ تلاش کریں میں صرف کریں اور بقاء امت کے لئے اپنی دعاؤں میں امت کے کرب کا رب سے خاموشی سے اظہار کریں.
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ





































































































