تازہ ترین
جرمنی میں پارلیمنٹ پر حملہ، حکومت گرانے کی سازش، ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں سمیت 25 افراد گرفتار

برلن، ٧ دسمبر (یو این آئی )جرمنی میں پارلیمنٹ پر مبینہ مسلح حملے کی منصوبہ بندی اور حکومت گرانے کی سازش کے شبہے میں دائیں بازو کے گروپ کے اراکین اور ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں سمیت 25 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جرمن پراسیکیوٹر نے بتایا کہ مذکورہ گروپ دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم ریخسبرجر کے نظریات سے متاثر ہے، جن کی جدید جرمنی میں جگہ نہیں ہے جبکہ جنگ عظیم دوم میں نازیوں کو شکست کے باوجود ’ڈوئشے ریخ‘ موجود ہے۔پراسیکیوٹر آفس کی جانب سے بتایا گیا کہ سازش کا منصوبہ جرمنی کے شاہی خاندان کے سابق رکن نے بنایا، جن کی شناخت ہینرخ کے نام سے ہوئی جو مستقبل کی ریاست کے سربراہ مقرر کیے گئے تھے اور دوسرا متشبہ شخص روڈیگر ہے جو عسکری اسلحے کا سربراہ تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہینرخ اپنے نام کے ساتھ شہزادہ کا استعمال کرتا تھا جو ریوس کے شاہی محل سے دیا جاتا ہے، جن کی مشرقی جرمنی کے کئی علاقوں میں حکومت رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار شخص نے روس کے نمائندے سے رابطہ کیا تھا، جس کو گروپ اپنی نئی حکومت کے لیے مرکزی رابطہ تصور کرتے تھے تاہم روسی نمائندے کی جانب سے کسی مثبت جواب کے شواہد موجود نہیں ہیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں قائم روسی سفارت خانے کے حوالے سے سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ جرمنی میں روسی سفارت کار یا قونصل خانے کسی دہشت گرد گروپ اور کسی غیر قانونی گروپوں کے نمائندوں سے رابطے نہیں رکھتے۔
جرمن وزیر داخلہ نینسی فائیسرنے کہا کہ ریاست کے خلاف اس طرح کے اقدامات کو ختم کرنے کے لیے حکومت مؤثر جواب دے گی اور تفتیش میں پتا چلے گا کہ گروپ نے حکومت گرانے کے منصوبے پر کتنی پیش رفت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ آئینی ریاست بہتر جانتی ہے کہ جمہوریت کے دشمنوں کے خلاف اپنا دفاع کیسے کرنا ہے۔
پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 3 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز نے جرمنی کی 11 وفاقی ریاستوں میں کارروائیاں کیں اور مختلف شہروں سے مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔انہوں نے کہا کہ گرفتار افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے نظریات کی بنیاد پر کارروائی کیں، جن میں نئے ارکان کی بھرتی، فائرنگ کی تربیت دینا اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ تربیت کی کوششوں میں فوج کے حاضر سروس اراکین اور پولیس افسران پر توجہ مرکوز تھی۔
پراسیکیوٹر آفس نے بتایا کہ گروپ جانتا تھا کہ اس منصوبے میں اموات بھی ہوں گی اور یہ سمجھتے تھے یہ صورت حال نظام کی تبدیلی تک پہنچنے کے لیے بنیادی ضروری اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ گرفتار افراد کو وفاقی عدالت انصاف کے جج کے سامنے پیش کیا جائے گا جو گرفتاری کے وارنٹ جاری کرے گا اور ٹرائل سے قبل ان کی حراست کا فیصلہ کرے گا۔
فوج کی خفیہ سروس کے ترجمان نے بتایا کہ ایک متحرک فوجی اور کئی ریٹائر افراد سے بھی تفتیش کی جارہی ہے، حاضر سروس فوجی کے ایس کے ایلیٹ فورس کا رکن ہے جبکہ ایلیٹ فورس کو انتہائی دائیں بازو کے گروپ کی جانب سے حالیہ برسوں میں ہونے والے واقعات کے باعث فعال کردیا گیا ہے۔
پراسیکیوٹر نے بتایا کہ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ گروپ کے ارکان نے برلن میں واقع پارلیمنٹ پر مسلح افراد کے ایک مختصر گروپ کے ساتھ حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
یاد رہے کہ اگست 2020 میں کورونا وائرس کی پابندیوں کے خلاف عوامی مارچ کے دوران مظاہرین نے جرمنی کی پارلیمنٹ کی عمارت کی سیڑھیاں گرادی تھیں، جن میں سے چند افراد کے ہاتھوں میں انتہائی دائیں بازو کے گروپوں کے جھنڈے تھے۔
جرمنی کی داخلی خفیہ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ریخسبرجر (ریخ کے عوام) تحریک سے 21 ہزار افراد جڑے ہوئے ہیں اور ان میں سے 5 فیصد انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند ہیں۔
یاد رہے کہ جرمنی میں ایک صدی قبل ہی بادشاہت کا خاتمہ ہوگیا تھا جب 14 اگست 1919 کو ویمار آئین نافذ کردیا گیا تھا اور اس کے تحت قانونی مراعات اور جرمن اعزازات ختم کردیے گئے تھے۔
دنیا
ایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے سینیٹ کے دورے سے قبل صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم واضح برتری کے ساتھ جیت رہے ہیں، مذاکرات میں ایران کے ساتھ معاملات بہت بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ امریکہ میں اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ بڑی تعداد میں کمیونسٹوں کو لانا چاہتے ہیں، جن کو آگے بڑھایا جا رہا ہے وہ کمیونسٹ ہیں، امریکہ میں کمیونزم کو جگہ نہیں دی جائے گی۔
بعدازاں، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک اور بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران بہت بہترین جا رہا ہے، وہ ہر اس چیز پر راضی ہے جو میں چاہتا ہوں، جو ہمیں چاہیے وہ ایران کو کرنا ہوگا ورنہ ہم واپس جائیں گے اور جو چاہیں گے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں تاریخ کی سب سے زیادہ فیکٹریاں بن رہی ہے، ملک میں جتنی فیکٹریاں ہوں گی اتنی زیادہ نوکریاں پیدا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خام تیل کی قیمتیں بھی نیچے جا رہی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
وینزویلا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 167 ،ایک ہزار سے زائد زخمی
کراکس، زلزلے سے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس سمیت مختلف شہروں میں درجنوں عمارتیں تباہ ہو گئیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وینزویلا میں پے در پے زلزلے کے شدید جھٹکوں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا دی اور ہزاروں اموات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق وینزویلا میں پہلا زلزلہ 7.1 شدت کا تھا جس کے چند منٹ بعد 7.5 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا، زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے آیا جس سے عمارتیں لرز اٹھیں۔
رپورٹ کے مطابق زلزلے سے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس سمیت مختلف شہروں میں درجنوں عمارتیں تباہ ہو گئیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈ ریگز نے زلزلے کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ کئی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں، زلزلے سے کراکس کے مرکزی مائی کیٹیا ائیرپورٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے، زلزلے میں اب تک 167افراد کی ہلاکت اور 970 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
حکومت کی جانب سے ہنگامی صورتحال کے اعلان کے بعد بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شمالی علاقوں میں بھی زلزلہ آیا جس کی شدت 5.6 نوٹ کی گئی اور 10 لاکھ افراد کو الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔
امریکی جیولیوجیکل سروے نے وینزویلا میں زلزلے کے باعث دس ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان اموات اموات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں زلزلے سے ابتدائی رپورٹ اچھی نہیں، بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں، امریکی اداروں کو فوری مدد کی ہدایت کردی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
موجودہ وقت میں منقسم دنیا ایک حقیقت، استحکام اور سلامتی کے لیے باہمی تعاون ضروری: جے شنکر
نئی دہلی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منقسم دنیا کو موجودہ وقت کی حقیقت بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اجارہ داری کم ہو سکتی ہے اور مواقع وسیع ہو سکتے ہیں لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ استحکام، کارکردگی اور سلامتی کے لیے اس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط بین الاقوامی تعاون ضروری ہے مسٹر جے شنکر نے جمعرات کو جنوبی کوریا میں جیجو امن اور خوشحالی فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا انضمام اور تقسیم کے ایک پیچیدہ مرکب کا تجربہ کر رہی ہے، جسے سپلائی چینز، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور وبائی امراض، دہشت گردی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے سرحد پار چیلنجز متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ اسٹریٹجک مقابلہ تجارت، ٹیکنالوجی، مالیات اور کنیکٹیویٹی کے نظام کو تیزی سے متاثر کر رہا ہے، جبکہ سیاسی دباؤ اور تحفظ پسند رجحانات عالمگیریت کو کمزور کر رہے ہیں۔
وزیر خارجہ نے دہشت گردی پر “دوہرے معیار”، موسمیاتی کارروائی پر “کھوکھلے وعدوں” اور ترقی پذیر ممالک کی صنعت کاری اور مارکیٹ تک رسائی کو محدود کرنے والی پابندیوں پر بھی تنقید کی۔ ہتھیاروں سے لیس ہونے کے بڑھتے ہوئے رجحان، زیادہ خطرہ مول لینے کے رجحان اور تیز ہوتی ہوئی جیو پولیٹیکل مسابقت سے خبردار کرتے ہوئے مسٹر جے شنکر نے کہا کہ جب بڑی طاقتیں تنگ نظری پر مبنی مفادات کا تعاقب کرتی ہیں، تب ترقی پذیر ممالک پر پڑنے والے اخراجات کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
منقسم دنیا میں تعاون کی نئی تشریح کے لیے انہوں نے پانچ ترجیحات تجویز کیں جن میں سپلائی چینز کا تنوع، بااثر ممالک کے درمیان نئی شراکت داریوں کا قیام، بین الاقوامی قانون اور اداروں کو مضبوط کرنا، گلوبل ساؤتھ کے لیے مواقع کو وسعت دینا اور اصلاح شدہ کثیر جہتی کو آگے بڑھانا شامل ہے۔ مسٹر جے شنکر نے جہاز سازی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، صحت کی دیکھ بھال، بنیادی ڈھانچے اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں ہندوستان–جنوبی کوریا تعاون کو مزید گہرا بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط دوطرفہ تعلقات عالمی استحکام اور ترقی میں تعاون فراہم کریں گے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان1 week ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
تازہ ترین3 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان1 week ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
دنیا1 week agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا1 week agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
دنیا1 week agoمجھے حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری کی طرف واپس جا سکتے ہیں: ٹرمپ
ہندوستان1 week ago‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
دنیا1 week agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا6 days agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
دنیا7 days agoاعلیٰ ترین قیادت کے دستخط سے معاہدے کی خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہو گئی: اسماعیل بقائی
دنیا6 days agoتل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران






































































































