تازہ ترین
حضرت شمس فقیرؒ کی سماجی و شاعرانہ زندگی پرایک مختصر جائزہ

مشتاق شمیم ،خانصاحب بڈگام

24۔ماہ جون کو شاعر معرفت و شریعت حضرت شمس فقیر ؒ کا عرس آپ کے آستان عالیہ بمقام باغ شمس کلشی پورہ خانصاحب میں نہایت ہی عقیدت اور تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا ۔ عرس کے موقع پر حسب روایت ذائرین کی طرف سے درود و اذکار اور نعت و مناجات کی مجلسیں آراستہ کی گئیں۔ ساز و سماع کی محفلیں سجائی گئیں۔سجادہ نشین و متولی خاص پیر محمد الطاف اور آستان عالیہ سے وابستہ منتظمین کی طرف سے عقیدت مندوں کیلئے قیام و طعام کا اعلیٰ انتظام کیا گیا تھا۔اس بار ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند شمس فقیرؒ کے آستان پراس روحانی و صوفی بزرگ کو عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کیلئے حاضر ہوگئے جن میں خواتین و حضرات کے ساتھ ساتھ ایک اچھی خاصی تعداد میں نوجوان پیڑی کے لوگ بھی شامل تھے۔ آج کے کالم میں راقم نے اسی صوفی شاعر کی سماجی و شاعرانہ زندگی کا ایک مختصر جائزہ عوام الناس کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔امید ہے کہ سامعین کرام کو میری یہ کوشش پسند آجائیگی انشااللہ۔
شاعر معرفت و شریعت حضرت شمس فقیر ؒ صوفیانہ شعر و ادب کے اُفق پر ایک ایسے درخشندہ ستارے کی مانند جلوہ افروز ہیں جو تا قیام قیامت اپنے نور سے وادی کشمیر کے چپہ چپہ اور صوفیانہ مزاج رکھنے والے خواتین و حضرات کے دلوںکو روشن اور منور کرتے رہیں گے۔انہوں نے جوعارفانہ کلام فرمایا ہے اُس کلام میں اللہ پاک کی تعریف و تمحید اور رسول پاک ﷺ کے عشق و محبت کا عکس اس طرح سے آشکارہ کیا جاچکا ہے کہ اصحاب ایمان کے قلوب و اذہان کو یہ پُر مغزکلام سکون اور راحت بخش احساس فراہم کرتا رہتا ہے ۔عبادت گزاری دین داری خدا پرستی اورعشق نبوی ﷺ سے اُن کا کلام اس قدر مالا مال ہے کہ اس کا مطالعہ و سماعت کرنے والے حضرات کسی بھی صورت میں متاثر ہوئے بنا نہیں رہ پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر شریعت حضرت شیخ نورالدین نورانی ؒ کے بعد جس کشمیری صوفی شاعر نے اپنے الہامی کلام سے سب سے زیادہ دین اسلام کا باغ رحمت سینچا سنوارا ہے آپ ہیں حضرت شمس فقیر ؒ ۔
شمس فقیرؒ کا تعلق صوفی سلسلہ قادریہ کے ساتھ بتایا جاتا ہے۔آپؒ میںبچپن سے ہی شعر و ادب کے ساتھ زبردست عقیدت اور دلی وابستگی پائی جاتی تھی۔دوران حیات برگزیدہ صوفی شاعروں کا کلام سماعت فرمانا حضرت شمس فقیر ؒکے اہم ترین مشاغل میں شامل رہا کرتاتھا۔سب سے زیادہ آپ ؒ انیس ویں صدی کے معروف صوفی شاعرحضرت نعمہ صابؒ کے کلام سے فیض حاصل کیا کرتے تھے۔ نعمہ صابؒ کو شمس فقیرؒ اپنا رہبر مانا کرتے تھے ۔اُن کا کلام سماعت کرنے کیلئے شمس فقیرؒ میلوں کا سفر پیدل طے کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا کرتے تھے۔ مانا جاتا ہے کہ نعمہ صابؒ کی شخصیت اور اُن کے عارفانہ کلام نے ہی شمس فقیر کو شعرو سخن کی طرف مائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔شعر و شاعری کے میدان میں قدم رکھنے سے قبل شمس فقیرؒ نے وقت کے بعض کئی اہم صوفی بزرگوں کی صحبت اختیار کررکھی ہوئی تھی جن میں سوچھ ملیاری عبدالرحمان صاحب برزلہ عطیق اللہ صاحب گلاب باغ محمد جمال صاحب و غلام رسول صاحب سرینگر شامل ہیں۔ان بزرگان دین کو شمس فقیر ؒاپنا رہبرمانا کرتے تھے۔ان ہی بزرگوں کی پاک صحبت میں رہ کر شمس فقیر ؒ شعر و شاعری کے میدان میں ایک منفرد اور اعلیٰ مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
شمس فقیر ؒ کا اسم شریف اصل میںمحمد صدیق بٹ صاحب تھا اور آپ کی ولادت باسعادت شہر سرینگر کے چینکرال محلہ علاقے میں رہائش پزیر ایک غریب اور ناخواندہ خانوادے میں 1843 ءمیں ہو چکی تھی ۔گھر کی ابترتعلیمی و مالی حالات کے پیش نظر آپ ؒ کوکبھی ژاٹہ ہال یا درسگاہ جانے کا موقع نصیب نہیں ہو پایا اسلئے آپؒ کو ظاہری صورت میں تعلیم و تربیت کی دولت سے بہرہ ور ہونے کا موقع نہیں مل سکا ۔ اپنے گھرپریوار کی مالی حالت سدھارنے اور رزق حلال کا انتظام کرنے کی غرض سے آپؒ کو محنت و مشقت کا راستہ اختیار کرنا پڑا ۔ مزدوری کا پیشہ اختیار کرنے کے سوااُن کے پاس کوئی دوسرا چارہ باقی نہیں تھا۔ مزدوری کے سلسلے میں آپ کو لگ بھگ 25 سال کی عمر میں ہی اپنا گھر بار اور وطن عزیز چھوڑ کرمتحدہ ہندوستان کے شمالی علاقہ جات کا رُخ کرنا پڑا کیونکہ کشمیر میں اُس زمانے میں ڈوگرہ راجا مہاراجاﺅں کی متعلق العنان حکومت کا دور دورہ تھااوریہ حکمران یہاں کے نوجوانوں یہاں تک کہ بزرگوں اور مستورات کو بھی بے گار پر لے جانے میں کوئی شرم یا حیامحسوس نہیں کیا کرتے تھے۔وہ ظالم حکمران کشمیری نوجوانوں سے جانوروں کی طرح مشقت کروانے میں فخر محسوس کیا کرتے تھے ۔وہ جابر حاکم یہاں کے بد نصیب لوگوں سے بے حد و حساب کام تو کرواتے تھے لیکن بدلے میں پیٹ کی آگ مٹانے کیلئے روٹی کا ایک ٹکڑا بھی ان بیچاروں کو فراہم کرنے کی زحمت گوارا نہیں کیا کرتے تھے۔اسی وجہ سے یہاں کے نوجوان پڑوسی ملک ہندوستان کے مختلف شہروں خاص طور سے پنجاب کے امرتسرچندی گڑھ اور لاہور نامی زرعی طور آباد و خوشحال بستیوں کی طرف چار پیسہ کمانے اور پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر جوق در جوق جانے کیلئے بےتاب رہا کرتے تھے۔شمالی ہندوستان کے بعض شہروں میں ہمارے جدو اجداد کو بہ آسانی کام بھی ملا کرتا تھا اور مزدوری بھی اچھی خاصی ملاکرتی تھی۔
جانکار حلقوں اور تاریخ دانوںکے مطابق محمد صدیق بٹ(شمس فقیرؒ) کی حرکتیں تو بچپن سے ہی باقی بچوں کی حرکات سے بہت حد تک مختلف ہوا کرتی تھیں۔آپ ؒ کے خیالات احساسات اور جذبات باقی بچوں سے بلکل الگ تھلگ اور جُداگانہ نظر آتے تھے۔آپ تو زیادہ ترگُم سُم اور کھوئے کھوئے سے رہا کرتے تھے۔آپ کے ساتھ گفتگو اور تبادلہ خیال کرنے کے دوران ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ کا من خوابوں اور خیالوں کے ایک ایسے سمندر میں غوطہ زن ہوتا تھا جس سمندر کی سرحدیں آسمان کی گود میں سرَ رکھ کر کسی خاص دوست کی کھوج میں بے قرار سی رہا کرتی ہیں۔چونکہ جوانی کی د ہلیز پر قدم رکھتے ہی آپؒ کو معاش کی تلاش میںامرتسر کی راہ لینی پڑی لیکن وہاں پر بھی آپؒ نے بعض بزرگان دین کو اپنا دوست اور رہبربنا کے رکھ دیااور اُن کی نیک صحبت میں رہ کر گھیان دھیان حاصل کرتا رہا۔
امرتسر سے واپس لوٹ آنے کے بعد شمس فقیرؒ نے جنوبی کشمیر کے انت ناگ ضلع میں عارضی سکونت اختیار کی۔وہیں پر آپ ؒ نے اپنے آپ کو شادی کے پاک بندھن میں باندھ لیا ۔لیکن نہ جانے کیوں انت ناگ کا آب و ہواشمس فقیر ؒ کو زیادہ دیر تک راس نہیں آیا ۔آپ ؒ اپنی رفیق حیات کو ساتھ لیکر اپنے آبائی گھر واقع چینکرال محلہ حبہ کدل واپس تشریف لے کے آئے۔اس دوران ان کے پشت سے دو فرزندان ارجمند اور ایک دختر نیک اختر نے تولت ہونے کا شرف بھی حاصل کرلیا تھا۔اپنے آبائی گھر میں تشریف اشرف رکھنے کے دوران حضرت شمس فقیر ؒ فقیری اوردرویشی کے اعلیٰ مقام پر براجمان ہو گئے۔ آپ ؒ کے وجود میں تو اب دنیا اور دنیاداری کی کوئی رغبت باقی نہیں رہی۔آپ نے گھر گرہستی کی پریشانیوں اور مادی دنیا کی لذتوں سے ناطہ توڑ کر اپنے معبود برحق کی تلاش اوررضا حاصل کرنے کا مسمم اور مکمل ارادہ باندھ لیا۔اس اعلیٰ مقصد کی حصول یابی کیلئے آپ ؒ نے بڈگام ضلع کے قاضی باغ نامی گاﺅں میں موجود ایک قدیم ترین گھپا میں تشریف رکھ کرمکمل تنہا ئی اختیار کرلی۔مسلسل چھ ماہ تک اس تنگ وتاریک غار میں تن تنہارہتے ہوئے حضرت شمس فقیر ؒ کو اپنے خالق حقیقی کو قریب سے جاننے اور پہنچاننے کا موقع نصیب ہوااور آپ ؒ کوروحانیت کا اعلیٰ منصب حاصل ہوگیا۔روحانیت کے عالم میںآپ ؒ شاعری کی صورت میں علم و عرفان کے ایسے میٹھے دریا بہانے لگے جن دریاﺅں کے شیریں آب رواں نے آج تک نہ جانے کتنے مردہ دلوں کو حیات جاودانی سے سرفراز اور سرشار کرکے رکھ دیا ہے۔گھپا سے نکل کر آپؒ خانصاحب علاقے کے کلشی پورہ نامی ایک چھوٹے سے گاﺅں میں تشریف لے کے گئے اور وہیں پر اپنی زندگی کے آخری لمحات گزارنے کا فیصلہ کیا۔۱۰۹۱ءمیں ۸۵ برس کی عمر شریف میں آپؒ کلشی پورہ گاﺅں میں اللہ کو پیارے ہوگئے اور اسی گاﺅں میں ان کی آخری آرام گاہ فی الوقت موجود ہے۔ شمس فقیرؒ کے مرید اور عقیدت مندسال بھر کلشی پورہ میں واقع ان کے مزار پر حاضری دیتے رہتے ہیں اور وہاں پر اپنے پیر و مرشد کے ایصال ِثواب کیلئے قرآن خوانی ونعت خوانی کی محفلیں آراستہ کرتے رہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شمس صاحب ؒکے دونوں فرزند لا ولد گزر چکے ہیں البتہ اُن کا نسب ان کی دختر نیک اخترکے راستے ہی آگے بڑتا چلا جارہا ہے۔مرحوم پیر محی الدین صاحب شمس فقیر ؒ کے گھر داماد تھے جبکہ مرحوم پیر مبارک صاحب مرحوم پیر محی الدین صاحب کے گھر داماد رہے۔ پیر محمد الطاف پیر محی الدین صاحب کے دوسرے فرزند ہیں جو فی الوقت شمس فقیرؒ کے آستان عالیہ پر سجادہ نشین کی حثیت سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
حضرت شمس فقیر ؒ کا لگ بھگ دو تہائی کلام کلیات شمس فقیر میں موجود ہے۔اگر چہ ادارہ جموں و کشمیر کلچرل اکادمی آف آرٹ کلچر اینڈ لنگویجز ابھی تک کلیات شمس فقیر ترتیب دینے اور شائع کرنے میں کامیاب نہیں ہوپایاتاہم یہ نیک کام وادی کے مایہ ناز ادباءڈاکٹر عزیز آفاق صاحب اور ڈاکٹر محفوظہ جان صاحبہ نے سر انجام دیکرعوامی و ادبی حلقوں سے داد تحسین حاصل کی ہے۔نند ریشی کلچرل سوسائٹی کو کلیات شمس فقیر شائع کرنے کا اعزازحاصل ہے۔
بہر حال شمس فقیر ؒ کا کلام وادی کے مشہور و معروف گلکار اپنی مدر لئے میں گانے میں فخر محسوس کر رہے ہیں۔آپ کا کافی کلام ریڈیو کشمیر اور دور درشن کیندر سرینگر کی میوزک لائبرریوں میں معروف گلو کاروں کی مُدر آوازوں میں موجود ہے جس کو یہ دونوں ادارے عوام کی دلچسپی کو ملحوظ نظر رکھ کر روزانہ اپنی نشریاتی سروسز سے پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے رہتے ہیں۔عصر حاضرکے نئے گلو کار حضرات بھی شمس فقیر کا کلام موسیقی کے نئے اور جدید سانچوں میں ڈالکر گانے میں خاص دلچسپی دکھا رہے ہیں۔بالی وُڑ کی مایہ ناز گلو کارہ آشا بھونسلے جی نے 60 کی دہائی میں شمس فقیر کا ایک مشہور کلام” ہا عشقہ ژھورو رشکہ کر?تھس دیوانہ تے ۔۔۔۔۔ پنُن ا<سِتھ چھوکھ ژ? لاگان بیگانہ تے “ریڈیو کشمیر کے سٹیڈیوز میں ریکارڑ کروا کے اس عالمی شہرت یافتہ شاعر کے تئیںاپنے خراج عقیدت کا اظہار کیا۔بہر حال ہر برس 24۔ جون کو حضرت شمس فقیر کا عرس(یوم وصال) اُ ن کی آرام گاہ پر مذہبی عقیدے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔جموں کشمیر کلچرل اکادمی محکمہ انفارمیشن سانگ اینڈ ڈرامہ ڈیویژن ریڈیو کشمیر سرینگر دور درشن کیندر سرینگراور دیگر ادبی و ثقافتی تنظیمیں باہمی اشتراک سے اس روز شمس فقیرؒ کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے محفل سماع و محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا کرتے ہیں۔ وادی کی معروف موسیقی پارٹیاں اس موقع پرشمس فقیرؒ کا کلام اُن کے عقیدت مندوں کے سامنے پیش کرکے اس برگزیدہ شاعر کواپنا والہانہ خراج پیش کرنے میں اظہار مسرت کرتے ہیں۔ امسال کی تقریب پر ثقافتی مرکز بڈگام کی طرف سے تین شاعری مجموعوں کی رسم رونمائی انجام دی گئی اور شعر و ادب سے وابسطہ بعض قلم کار حضرات کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔ مکہ مدینس بر چھ وتھئے نیری لتئے روف کران دُورِ چھی ہران نورہ پھتئے نیری لتئے روف کران
دنیا
افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب بھی ایرانی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں: سربراہ آئی اے ای اے
ویانا، اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب بھی اس کی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں، تاہم صورتِ حال کی حتمی تصدیق کے لیے معائنہ کاروں کی دوبارہ رسائی ضروری ہے۔
انہوں نے روسی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ مجموعی تاثر یہی ہے کہ مواد اب بھی وہیں موجود ہے۔
رافیل گروسی کے مطابق حتمی تصدیق کے لیے ضروری ہے کہ معائنہ کار دوبارہ تنصیبات کا دورہ کریں، معائنہ کریں اور اس بات کی تصدیق کریں کہ تمام مواد اپنی جگہ موجود ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ ادارے نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد تنصیبات تک رسائی ختم ہونے سے قبل افزودہ یورینیئم کی کسی بڑی نقل و حرکت کا مشاہدہ نہیں کیا۔
رافیل گروسی کے مطابق اگرچہ جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بعض مقامات تک رسائی بھی محدود ہو چکی ہے، تاہم ادارے کا ابتدائی اندازہ پہلے کے معائنے اور سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات
تہران، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق فیلڈ مارشل اور ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات میں شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ایران کے لیے خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، شہید آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے تہران میں موجود ہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور عاصم منیر نے تہران میں شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی اور شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف، عاصم منیر اور وفد کے ارکان نے فاتحہ خوانی بھی کی۔
وزیراعظم، فیلڈمارشل اور وفد کے ارکان نے ایرانی صدر اور دیگر عہدیداروں سے تعزیت کی۔
وفد میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ و دیگر شریک تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے۔
وزارت خارجہ میں سکریٹری (مشرقی امور) رودریندر ٹنڈن نے جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مسٹر مودی 6 سے 11 جولائی تک ان تینوں ممالک کے دورے پر رہیں گے۔ وہ 6 سے 8 جولائی تک انڈونیشیا، 8 سے 10 جولائی تک آسٹریلیا اور 10 سے 11 جولائی تک نیوزی لینڈ کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا میں وزیر اعظم کی اہم مصروفیات دارالحکومت جکارتہ میں ہوں گی۔ بعد ازاں وہ ثقافتی دارالحکومت یوگیاکارتا بھی جائیں گے اور پرمبانن مندر کا بھی دورہ کریں گے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ گزشتہ سال انڈونیشیا کے صدر کے دورۂ ہند کے بعد ہونے والے اس دورے کے دوران مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں تعاون پر بھی بات چیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ملاکا میں استحکام اور سلامتی کے حوالے سے انڈونیشیا کا اہم کردار ہے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں مسٹر مودی آسٹریلیا جائیں گے، جہاں وہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کے ساتھ تیسرے ہند-آسٹریلیا سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دونوں رہنما اہم معدنیات، سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
مسٹر مودی میلبورن میں ایک کھیلوں کے پروگرام میں بھی شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دورے کے تیسرے اور آخری مرحلے میں وزیر اعظم نیوزی لینڈ جائیں گے، جہاں وہ اپنے ہم منصب کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے۔ گزشتہ چالیس برس سے زیادہ عرصے میں کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا یہ پہلا دورۂ نیوزی لینڈ ہوگا۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی 1986 میں نیوزی لینڈ گئے تھے۔
پریس کانفرنس میں موجود حکام نے سوالوں کے جواب میں بتایا کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران ہندوستانی طلبہ کے ویزوں اور مختلف تعلیمی کورسز کی بڑھتی ہوئی فیسوں کے معاملے پر بھی بات چیت ہونے کا امکان ہے۔
وزیر اعظم تینوں ممالک میں مقیم ہندوستانی برادری کے افراد سے بھی ملاقات کریں گے، ان سے خطاب کریں گے اور مختلف تقریبات میں شرکت کریں گے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان5 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
دنیا5 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان7 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
جموں و کشمیر7 days agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا1 week agoایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان5 days agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
دنیا2 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ



































































































