تازہ ترین
دعاؤں کی قبولیت کے لمحات

پرویز یعقوب مدنی
خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال
__________
اللہ رب العالمین کی ہم انسانوں پر بے شمار اور لا تعداد نعمتوں میں سے ایک عظیم اور بے مثال نعمت دعاء ہے ۔ اللہ رب العالمین بندے کو مخلتف طرح سے آزماتا ہے بندے کا امتحان لیتا ہے کبھی کسی نعمت اور اہم چیز سے محروم کردیتا ہے کبھی رزق میں تنگی اور کبھی مال و اولاد میں فراخی کے ذریعہ ذریعہ آزمائشوں سے دو چار کرتا ہے ایسے حالات اور لمحات میں بندے کو باری تعالیٰ سے منت و سماجت اور دعاء مانگنا چاہئے ۔ دعاء کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بندے کی پریشانیوں کو دور کرتا ہے اسی لئے شریعت اسلامیہ نے ہمارے لیے کچھ ایسے اوقات و لمحات کچھ جگہیں مقرر کی ہیں اور کچھ حالات ایسے بتائے ہیں جن میں دعاء زیادہ قبول ہوتی ہے۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
????نمبر ایک: *رات کے آخری تہائی حصے میں دعا کرنا۔*
صحابی رسول جناب ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، يَقُولُ : مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟۔ (متفق علیہ)
ترجمہ: ہمارا رب سبحانہ و تعالی ہر رات آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے جب کہ رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے وہ کہتا ہے کون ہے جو مجھے پکارے تو میں اس کی دعا قبول کروں کوئی ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اسے دوں؟ کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے میں اسے معاف کردوں۔
????نمبر دو۔ *سجدوں میں دعا کرنا:*
صحابی رسول جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَلَا وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ۔ (رواہ مسلم)
ترجمہ:خبردار! یاد رکھو بے شک مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے رکوع میں تم لوگ اللہ رب العالمین کی تعظیم بیان کیا کرو اور سجدے میں خوب دعائیں کیا کرو یہ زیادہ لائق ہے کہ تمہاری دعائیں قبول کی جائیں۔
????نمبر تین۔ *اپنے مسلمان بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے دعا کرنا*
صحابی رسول جناب صفوان بن عبداللہ بن صفوان کہتے ہیں کہ ام درداء نے ان سے کہا: أَتُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ. قَالَتْ : فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ ؛ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : ” دَعْوَةُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ مُسْتَجَابَةٌ، عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ، كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ : آمِينَ، وَلَكَ بِمِثْلٍ قَالَ : فَخَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (رواہ مسلم)
ترجمہ: کیا تم اس سال حج کرنا چاہتے ہو انہوں نے کہا ہاں۔ تو ام درداء نے کہا تو تم ہمارے لیے اللہ تعالی سے خیر کی دعاء کرنا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے مسلمان آدمی کا اپنے بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے دعاء کرنا قبولیت کا باعث ہوتا ہے اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ ہوتا ہے جو اسی پر مامور رہتا ہے کہ جب وہ اپنے بھائی کے لیے کسی خیر کی دعاء کرے تو وہ موکل فرشتہ آمین کہتا ہے اور کہتا ہے کہ تمہارے لیے بھی اسی جیسی چیز میسر ہو تو صفوان کہتے ہیں پھر میں بازار کی جانب نکل آیا میں نے ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے ملاقات کی انہوں نے بھی مجھ سے ایسے ہی کہا اور وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے۔
دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتی؟؟؟
دعاؤں کی عدم قبولیت کا سب سے بڑا سبب حرام کھانا اور حرام کمائی اور حرام تجارتیں ہیں۔
جناب ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ : { يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ } ، وَقَالَ : { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ } ، ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ : يَا رَبِّ يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ “. (رواہ مسلم).
ترجمہ: اے لوگو! بلاشبہ اللہ تعالی پاکیزہ ہے اور صرف پاک چیزوں کو ہی قبول کرتا ہے۔ اور بلا شبہ اللہ تعالی نے اہل ایمان کو انہیں چیزوں کا حکم دیا ہے جس کا اس نے اپنے پیغمبروں کو حکم دیا. اللہ تعالی نے رسولوں کو فرمایا اے پیغمبرو! تم پاک روزی کھاؤ اور نیک عمل کرو بے شک جو کچھ تم کرتے ہو میں اسے جاننے والا ہوں۔ اور اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جو ہم نے تمہیں روزی دی ہے اس میں سے پاک چیزیں کھاؤ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا تذکرہ کیا جو لمبے سفر پہ ہو، پراگندہ بالوں والا ہو، غبار آلود ہو، اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے ہو، اے رب! اے رب! کہہ کر پکار رہا ہو اس کا کھانا حرام ہو اس کا پانی حرام ہو اس کا لباس حرام ہو اور حرام مال سے اس کی پرورش کی جا رہی ہو تو ایسے آدمی کی دعا کیسے قبول کی جا سکتی ہے!!
جناب نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہما کی صحیح روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ، قَالَ رَبُّكُمُ : { ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ } (رواہ الترمذی و ابوداؤد)
ترجمہ: دعاء ہی عبادت ہے۔ اللہ رب العالمین نے فرمایا کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔
یہ عبادت خالص اللہ کا حق ہے اس کو کسی اور کی جانب پھیرنا درست نہیں ہے اور اس نے اسی چیز کا حکم دیا ہے اللہ تعالی فرماتا ہے: {إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ} [يوسف : 40]۔
ترجمہ : (یاد رکھو کہ) اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے۔ ایک اور جگہ فرماتا ہے: “فلا ادعوا مع الله أحدا”۔ (الجن 18)۔
ترجمہ : تم اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو۔
شرک و کفر کی اکثر صورتیں جو زمانہ ماضی میں اور حال میں بھی لوگوں کے درمیان پھیلی ہوئی ہیں وہ یہی ہے کہ دعاء جیسی عبادت کو فرشتوں کے لیے انبیاء کے لیے رسولوں کے لیے اولیاء و صالحین کے لیے یا کسی اور کے لیے پھیر دیتے ہیں یعنی اس دعا میں انہیں اللہ کا شریک بناتے ہیں چنانچہ انہیں یہ کہتے ہوئے پکارتے ہیں اے اللہ کے رسول ہمارے لیے کشادگی پیدا کر دیجیے۔ اے بدوی ہماری مدد کرو یا عبدالقادر جیلانی ہماری خبر لے لو۔ اے حسین ہمیں شفا دے دیجیے اے عیدروس ہماری حمایت کیجیے۔ اے میرغنی ہماری مصیبتیں دور کر دیجیے۔ اے رافعی کچھ تو دے دیجیے۔ لہذا اس قسم کی تمام چیزیں عبادت کو غیر اللہ کی جانب پھیرنا ہے اور یہ وہ شرک ہے جس کی وجہ سے انسان ملت اسلام سے خارج ہوجاتا اور نکل جاتا ہے کیونکہ یہ ایسے کاموں میں غیر اللہ کو پکارنا ہے جس پر صرف اللہ تعالی قادر ہے۔
محترم قارئین! بلند آواز سے چلا چلا کے دعاء کرنا برا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے آدمی پر نکیر فرمائی ہے جو ذکر و اذکار میں آواز بلند کرتا ہے۔ صحابی رسول جناب ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنَّا إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى وَادٍ هَلَّلْنَا وَكَبَّرْنَا، ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ؛ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّهُ مَعَكُمْ، إِنَّهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ، تَبَارَكَ اسْمُهُ وَتَعَالَى جَدُّهُ “. (متفق علیہ).
ترجمہ: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب ہم لوگ کسی وادی میں پہنچتے تو ہم تکبیر و تہلیل کرتے ہماری آوازیں بلند ہو جاتیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! اپنے آپ پر رحم کرو کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو بلاشبہ وہ تمہارے ساتھ ہے سنتا ہے قریب ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے اور اس کا نصیبہ بڑا بلند ہے.
مشہور مفسر امام ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ دعاء میں آواز بلند کرنا مکروہ ہے اور یہی اسلاف صحابہ اور تابعین کا عام قول ہے۔
جناب امام آلوسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ تم اپنے اہل زمانہ میں بہت سارے لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ دعاء میں چلانے کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں خصوصا جامع دعائیں یہاں تک کہ آواز بڑھ جائے اور بہت بلند ہو جائے اور وہ لوگ نہیں جانتے کہ اس طرح کر کے انہوں نے دو بدعتیں جمع کر رکھی ہیں پہلی بدعت دعا میں بلند آواز کرنا اور دوسری بدعت یہ کام مسجد میں ہونا۔ اسی طرح امام کا مقتدیوں کے ساتھ بلند آواز سے فرض نمازوں میں سلام کے بعد اجتماعی دعا کرنا ہے، چنانچہ امام دعاء کرتا ہے سارے مقتدی اس کے پیچھے آمین کہتے ہیں یہ شریعت اسلامیہ میں غیر معروف چیز ہے اسے نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انجام دیا نہ اس پر صحابہ کرام کا عمل ہے نہ ہی قرون اولی سے ثابت ہے نہ ہی ائمہ اربعہ کا یہ فتوی ہے نہ ہی ان کے شاگردوں سے یہ تعلیم ملی ہے بلکہ حرام بدعت ہے۔
مشہور فقیہ امام شاطبی مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نمازوں کے بعد امام کا اجتماعی دعاء کرنا اس کی سنت سے کوئی دلیل نہیں ملتی جس سے اسے تقویت ملے بلکہ بعض روایات ایسی ہیں جن سے اس کی نفی ہوتی ہے اور جن کی اقتدا واجب ہے وہ سید المرسلین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ سے نمازوں کے بعد جو عمل ثابت ہے وہ یا تو خالص ذکر و اذکار ہیں جس میں دعاء نہیں ہے یا پھر ایسی دعائیں ہیں جو اپنے لیے مخصوص ہوتی تھیں آپ سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ آپ نے جماعت کے لیے دعاء کی ہو اور یہی آپ کا پوری زندگی عمل رہا ہے پھر آپ کے بعد خلفائے راشدین کا بھی عمل رہا ہے اور اسلاف صالحین کا بھی عمل رہا ہے۔
محترم قارئین! اہل علم کے نزدیک دعاء میں جو چیز حرام ہے وہ کسی کی عزت یا مخلوقات میں سے کسی مخلوق کے حق کے واسطے سے اللہ تعالی سے دعاء کرنا اور پکارنا ہے مثلا بعض لوگ دعاء کرتے وقت کہتے ہیں اے اللہ میں تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جاہ کے واسطے سے یا حق کے واسطے سے یا انبیاء کی عزت کے واسطے سے یا تیرے نیک بندوں کی عزت کے واسطے سے یا اس جمعہ کے حق کے واسطے سے دعاء کرتا ہوں کیونکہ دعاء میں جاہ یا حق داخل کرنا قرآن مجید میں ایسی کوئی نص نہیں ملتی اور نہ ہی سنت نبویہ سے اس کا کوئی صحیح ثبوت ملتا ہے نہ ہی صحابہ کرام سے اور تابعین عظام سے اس کا ثبوت ملتا ہے اور جو بھی عمل ایسا ہو اس کو علماء بدعت قرار دیتے ہیں اور بدعت حرام ہے بلکہ یہ سب سے بڑا گناہ اور نافرمانی ہے۔ واللہ اعلم
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ





































































































