تازہ ترین
دلوں کا بادشاہ ڈاکٹر محمد مرسی رحمہ اللہ علیہ

الطاف جمیل ندوی 
میں 17 جون کے دن شدید دکھ میں بار بار کی پیڈ کھول کر بیٹھا مگر تکلیف نے ذہن خالی کر دیا پھر تکیہ پر سر ٹکا کر آنکھین موند لیں مگر کچھ دیر بعددونوں آنکھوں کے کناروں سے ڈھلکتے گرم قطروں نے مجھےا ٹھا دیاآخر ہم جیسے بیکار لوگ اس جیسے انسان کے لئے کیا لکھ سکتے ہیں پر محبت نے جذبہ کو تحریک دی تو یہ حقیر سی کوشش کی تا آنکہ مولا کریم سے یہ کہہ سکیں کہ مولا میرا دل بھی تڑپتا تھا تیرے بندوں کے مصائب و مشکلات کو سن سن کر
میرے حضور دیکھئے پھر آگیامقام غم ،کنارے نیل چھا گئی پھر ایک بار شام غم
پھر ایک حادثہ ہوا پھر ایک کارواں لٹا ،وہ اس کے پاسبان تھے یہ جن کےدرمیاں لٹا
وفا کا پیکر وہ ایک سال اپنی ملت کو آزادی سے آشنا کرنے والا وہ امت مسلمہ کے فراق میں تڑپتا ہوا اب جیل کی اذیتیں سہہ سہہ کر اپنی آزادی کو پانے کے لیے سفر آخرت کا راہی ہوگیا ہے .ہائے یہ جو سالار قافلہ تھا 17 جون کو کس طرح خاموشی سے آخرت کی منزل کا مسافر ہوگیا اس پر کیا بیتی ہوگئی کال کوٹھڑی میں یہ اس کا مولا ہی جانتا ہے یا یہ اسی کو خبر ہوگئی پر اس کے اہل خانہ کہہ رہے ہیں پانچ سال کے عرصے میں ہم نے صرف تین بار ہی اسے دیکھا اس سے بات کی ویسے ایسا تو کسی خطرناک قاتل سے بھی سلوک نہیں کیا جاتا پر کیا کہئے یہ تو وہ مصر ہے جہاں کی تاریخ کی ایسی رہی ہے یہاں ہمیشہ حق و باطل کا تصادم رہا ہے قدیم زمانے سے تا این دم جو اب بھی جاری و ساری ہے پر قدیم تاریخ سے ہم واقف ہی ہیں کہ کیا کیا ہوتا رہا کیسے مظالم کی داستانین اس سرزمین سے وابستہ ہیں کیوں کہ ہم صاحبان علم و دانش ہیں تھوڑے ہی نہیں جانتے پر جس کی اب شھادت ہوئی اس کو نہیں جانتے اس کی تحریکی فکر سے واقف نہیں یہ جیالوں سرفروشوں کی ایک داستان الم ہے ان کے گناہ گننے سے ہم گن ہی نہیں سکتے .
پہلی خطا جو اس تحریک کے متوالوں نے کی وہ غیروں کے تسلط کے خلاف ان کا آواز بلند کرنا تھی کہ ہماری سرزمین اسلام کی آبیاری کے لئے ہے پر یہاں کسی اور کی اجارہ داری ہو یہ گوارہ نہیں اس کے لئے سب سے زیادہ قوی آواز حسن البناء شھید نے اٹھائی اور برطانوی سامراج کو اپنے ملک سے نکلنے کے لئے رات دن مگن رہے وہ چلے گئے اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھی یہی سرفروش میدان عمل میں آئے اپنی حکومت سے وفا کی اور اپنے ملک کی حفاظت کے لئے سر دھڑ کی بازی لگادی فتح نے قدم چومے بہار عرب میں بھی اس قافلے سخت جان نے کوشش کی تو اسلامیان مصر کو منزل ملی یہ اپنے کرب کے بجائے اپنی ملت و قوم کے لئے ہر ستم کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرتے رہے پورے مصر کی تاریخ اٹھا کر دیکھا جائے تو اس قافلہ نے صرف یہی نہیں کہ ملائیت کو فروغ دیا بلکہ یہ ہر شعبہ میں چلتے رہے وہ میدان عمل ہو کہ میدان کارزار ڈاکٹر انجینر پروفیسر اس قافلہ نے تیار کئے مفسر علماء کی ایک ایسی جماعت تیار کی جو پوری دنیا میں عزت و احترام سے دیکھئے جانے لگئے پر وہاں جو باطل کے بچاری تھے انہیں ان کا اخلاص ذرا بھی راس نہ آیا ہمیشہ ان کی قربانیوں کا صلہ دیا کہ جسے پڑھ کر روح کانپ جاتی ہے اول اس کے قائد کو اس حال میں شھید کیا کہ وہ اپنے گھر جارہے تھے کہ اچانک کچھ لوگوں نے ان پر ہاتھ صاف کردیا جس کے لئے حکومت نے کام کیا کیونکہ اسی لئے قائد اول حسن البناء شھید کی تجہیز و تدفین کے لئے کسی کو اجازت نہ ملی صرف گھر کے افراد نے تجہیز و تدفین کی خواتین نے کاندھا دے کر اس قوم و ملت کے بہی خواہ کو آخری آرام گاہ تک پہنچایا بس یہیں نہیں ہوا سید قطب شہید مفسر القرآن کو پھانسی گھاٹ پر لا کھڑا کیا جرم بے گناہی میں جن کے اقوال و افکار سے ہزار اختلاف کے باوجود ان کی استقامت ان کا اسلام پر قربان ہونے سے انکار ممکن نہیں جو آخری سانس تک ایسے ثابت قدم رہے حق پر کہ میدان حق کے اس قافلے کا جومر بن گئے اس کے کارکنان پر کیا ستم بیتے ان متوالوں نے وہ سپرد قلم کردیا پڑھ پانا جس کا دل گردے کا کام ہے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ان کی آب بیتیاں پڑھ کر یا سن کر کہ یہ قافلہ کس قدر غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتا ہے انہیں جیل کی کال کوٹھڑیوں میں کتوں کے ذریعہ نوچنے کے لئے کھڑا کیا گیا انہیں الٹا لٹکا کر پیٹا گیا آپا زینب الغزالی کہتی ہیں مجھے اتنا پیٹا گیا کہ میں بیہوشی ہوگئی میرے لباس کی چیر پھاڑ کی گئی میرے انگ انگ سے زخم رستے رہے پر یہ مسافران منزل انتہائی عزیمت کے ساتھ باوقار کھڑے رہے ان کی داستان الم پڑھ کر کوئی بھی دل پھٹنے کو آتا گیا صرف جو شقی القلب ہو وہ کیا جانے انسانیت کا کرب کیا ہوتا ہے خیر چھوڑے سابقہ کرب کو اب بھی کوئی سکون نہیں.
یہ نئے مصائب تب شروع ہوئے جب عرب انقلاب کے بعد محمد مرسی بحیثیت صدر حلف اٹھانے کے بعد اسلام کی آبیاری کے لئے کھڑے ہونے لگئے کچھ یادیں جو یاد ہوں تو تازہ کریں
1. القران دستورنا۔ والرسول زعیمنا۔ والجھاد سبیلنا ۔والموت فی سبیل اللہ امانینا اپنے حلف اٹھانے کے وقت کہتے رہے اور لوگوں کی کثیر تعداد میں ان سے بھی کہلوایا
2. عرب بہار کی ٹھنڈی ہوا جب شام میں بلند ہوئی تو وہاں پر حکومت نے اس میں شامل ہوئے لوگوں کو کچلنے کا من بنا لیا مظالم دیکھ کر ڈاکٹر محمد مرسی کہہ اٹھے لبیک یا سیریا لبیک یا سیریا لبیک
3. غزہ پٹی میں مصائب کے شکار امت مسلمہ کے لئے اپنی سرحد کھول دیں اور ان کے درد کے لئے تڑپ اٹھے ان کی مدد کی ٹھان لی
4. اقوم متحدہ کے اجلاس میں ڈاکٹر محمد مرسی کا خطاب مصر کے آئینی طور پر منتحب قانونی صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا خطاب کہ محمدﷺ ۔۔۔ ( اگر کوئی نبی کریمﷺ کے خاکے بنائے گا احترام نہیں کرے گا تو اس کا بھی نہیں کیا جائے گا اسکے گھر تک پیچھا کیا جائے گا.
اب سازشیں شروع ہوئیں اس کے تانے بانے تیار کئے جانے لگئے ڈاکٹر محمد مرسی نے نیک نیتی کی بناء پر ڈکٹیٹر سیسی کو چیف بنا کر اپنی نیک نیتی کا مظاہرہ کیا المختصر یہی ان کے لئے سوہان روح بن گیا ایک سالہ مختصر عرصہ میں سازشیں کامیاب ہوگئیں اور فوج نے منتخب صدر محمد مرسی کو اقتدار سے بے دخل کرکے قید کردیا اب وہ ذلت و رسوائی کا دور شروع ہوا جس کی مثال صرف چنگیزی بربادی کے زمانے میں میسر ہے لوگ سڑکوں پر نکل آئے اخوان المسلمون کے قائدین و کارکنان کو تختہ مشق بنانے کے لئے اٹھایا جانے لگا ماہ رمضان المبارک کے مبارک ایام میں اخوان المسلمون کی اپیل پر عوام نے رابعہ میدان میں ڈھیرےجمائے اور انتہائی وقار کے ساتھ اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا جن کے ہاتھوں میں قرآن مجید کے نسخے تھے یہ دنیا کا ایک ایسا احتجاج تھا جہاں بجائے نعرے بازی کے صرف تلاوت قرآن اور نماز کا سہارا لیا گیا پھر پوری دنیا نے ڈکٹیٹر جنرل سیسی کی حیوانیت کا ننگا ناچ دیکھ لیا جب یہاں ان نہتے معصوم لوگوں پر فوج چڑھ دوڑی ان پر ایسا شدید تشدد کیا گیا کہ میڈیا کے افراد اس خبر کو نشر کرتے ہوئے روتے بلکتے دنیا نے دیکھئے ہاتھ کم پڑھ گئے تو بلڈوزر چڑھائے گئے پر یہ قافلہ سخت جان کے مسافر ڈٹے رہے جب تک زندگی کی سانسوں نے ساتھ دیا اس کرب کے بعد وہ ظالمانہ وطیرہ اختیار کیا گیا کہ انسانیت شرم سار ہوگئی اخوان المسلمون پر مختلف حربے استعمال کئے گئے کہ یہ اپنے آئینی موقف سے دستبردار ہو جائیں پر انہوں نے دستبردار ہونا سیکھا ہی نہ تھا نتیجہ پھانسی گھاٹ جیل تشدد پر یہ قافلہ کھڑا رہا ڈاکٹر محمد مرسی رحمہ اللہ پر الزامت لگا کر ان پر مقدمہ دائر ہوا پانچ سالہ عرصہ تک انتہائی ہمت و عظیمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ اپنے موقف کا دفاع کرتے رہے جہاں ان پر مصائب و مشکلات کا دور انتہائی کٹھن اور صبر آزما تھا اپنوں سے ملنے نہ دیا گیا انہوں نے جیل کے حکام سے قرآن مجید کا نسخہ مانگا جب نہ ملا تو فرمایا میں تو حافظ قرآن ہوں بس میں اس مصحف مبارک کو چھونا چاہتا تھا .
بی بی سی کی تازہ رپورٹ کے مطابق ان کی بیماری کا علاج تو دور انہیں دوائی تک سے محروم رکھا گیا جس کا محمد مرسی نے اپنے دور اسیری کے دوران عدالت میں اظہار بھی کیا پر ستم گر نے قسم کھا رکھی تھی کہ اسے اس حد تک پہنچانا ہے جہاں لگئے کہ یہ اپنی موت مر گئے ہیں پوری دنیا میں سکتے سی کیفیت تب پیدا ہوئی جب یہ خبر عام ہوئی کہ دوران سماعت ڈاکٹر محمد مرسی رحمہ اللہ کا انتقال ہوا یقینا یہ اس ظلم و ستم کے سودا گر کے لئے دنیا میں باعث فخر و مسرت ہے پر وہ کیا جانے کہ دنیا کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لئے جب حربے اس نے استعمال کئے تو ڈاکٹر محمد مرسی رحمہ اللہ نے سہرگاہی میں اسی مولا کے حضور اپنا تعلق بنائے رکھا جس مولا کی رضا کے لئے ان پر یہ ستم ڈھائے جارہے تھے تو مولا نے اس بندہ مومن کی لاج رکھ لی اور دنیا کی عدالت سے اٹھا کر اس پر ستم کرنے والوں کا مقدمہ انصاف کی اعلی عدالت آخرت میں پہنچا دیا گرچہ وقتی طور پر اس ظلم و ستم کے سوداگر نے اطمنان کا سانس لیا ہوگا پر وہ کیا جانے کہ کامیابی کا مزہ کا ہوتا ہے اور اخروی رسوائی کتنی سخت ہے اب وہ سلسلہ شروع ہوا کہ جو دلوں کو تباہ کرے اس ظالم و جابر کو محمد مرسی رحمہ اللہ کی میت سے خوف آنے لگا اس نے اسے غم نامی سے دفن کرنے کے لئے صرف اہل خانہ اور اس کے وکیل کو تجہیز و تدفین کے عمل میں شریک ہونے کی اجازت دی پر باوقار بیوی نے یہ کہہ کر اس کا منہ چڑھایا کہ میں میت کو ظالم سے مانگ کر اپنے عظیم شھید شوہر کی توہین نہ کروں گی لئے جگر نے یہ کہہ کر دلون کو تڑپا دیا کہ أبي عند الله نلتقي ابا اللہ کے پاس ملیں گے کوئی جذباتیت کا مظاہرہ نہیں استقلال کا وہ طریقہ کہ دشمن بھی داد دے پر کیا کرے ان ستم گروں کا جو عاقل ہوکر سمجھنے کو آمادہ ہی نہیں یہ اس تربیت کا شاخسانہ ہے جس کا استاد کہتا ہے کمرہ عدالت میں جب کہتا ہے کہ میں 60ﮐﯽ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮨﻮﮞ، ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ مرشد انتہائی استقلال سے کہتا ہے کہ ﻣﯿﮟ 60 ﮐﯽ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﭩﮩﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻇﻠﻢ ﮐﯿﺎﮨﮯ یہی اول اولعزمی جس نے محمد مرسی رحمہ اللہ سے کہلوایا آخری لمحات میں جج صاحب مجھے کچھ بولنے کی اجازت دیں، مجھے قتل کیا جا رہا ہے، میری صحت بہت خراب ہے، ایک ہفتے کے دوران میں دو دفعہ بے ہوش ہوا، لیکن مجھے کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں لے جایا گیا۔ میرے سینے میں راز ہیں، جنہیں اگر ظاہر کروں، میں جیل سے تو چھوٹ جاؤں گا، لیکن میرے وطن میں ایک طوفان آئے گا، ملک کو نقصان سے بچانے کیلئے میں ان رازوں سے پردہ نہیں ہٹا رہا۔ میرے وکیل کو مقدمہ کے بارے میں کچھ پتہ نہیں اور نہ مجھے پتہ ہے کہ عدالت میں کیا چل رہا ہے۔‘‘ (اے پی)
20 سیکنڈ کی اس گفتگو پر غور کیجئے کہ اک ستم رسیدہ شخص اپنی قوم و ملت سے کس درجہ والہانہ محبت کرتا ہے
اپنی قوم و ملت سے کہتا ہے کون اِس قوم کو سمجھائے:اپنے شیروں کو مت مارو، کہیں ایسا نہ ہو تم اپنے دشمن کے کُتوں کے نرغے میں آ جاؤ
دلوں_کا_حکمران شہید حافظ محمد مرسی
مسجد اقصیٰ میں ہوا جنازہ اور اس میں شامل امت مسلمہ کے لوگوں کی سسکیاں امیر قطر کی ہچکیاں عالم اسلام کی غیور علمی و ادبی شخصیات کے المناک تبصرے پتہ دیتے ہیں کہ مسلم قلوب میں آپ کہاں کہاں تک جابسے تھےاور نبیؐ کی یہ امت آپ سے کیسی کیسی امیدیں باندھنے لگی تھیں زنداں سے اٹھنے والا آپ کا جنازہ گواہی دے گا کہ آپ نے اپنے فرض کی جانب کبھی پشت نہیں کی۔ میرے مظلوم دنیا تو آنی جانی ہے لیکن ظلم کی ایک وادی میں آپ کا سر اٹھا کر چلنا اِس جہان کو بڑی دیر تک یاد رہے گا۔خدا آپ کو غریق رحمت کرے
جنازہ
امت کا ایک مظلوم جسے دفن کےلیے”دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں”
(آبائی قبرستان میں دفنانے، گھر کی خواتین کو چہرہ دیکھنےاور سوائے بیٹے اور بھائی کسی کو جنازہ پڑھنےکی اجازت نہ ملی)
مگر خدا نے اِسی جہان میں اس کی تلافی یوں کروائی کہ اقصیٰ تا ملیشیا امت کی مساجد نے اس کا جنازہ پڑھا اور براعظموں نے اس کےلیے استغفار کیا
دنیا
افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب بھی ایرانی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں: سربراہ آئی اے ای اے
ویانا، اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب بھی اس کی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں، تاہم صورتِ حال کی حتمی تصدیق کے لیے معائنہ کاروں کی دوبارہ رسائی ضروری ہے۔
انہوں نے روسی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ مجموعی تاثر یہی ہے کہ مواد اب بھی وہیں موجود ہے۔
رافیل گروسی کے مطابق حتمی تصدیق کے لیے ضروری ہے کہ معائنہ کار دوبارہ تنصیبات کا دورہ کریں، معائنہ کریں اور اس بات کی تصدیق کریں کہ تمام مواد اپنی جگہ موجود ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ ادارے نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد تنصیبات تک رسائی ختم ہونے سے قبل افزودہ یورینیئم کی کسی بڑی نقل و حرکت کا مشاہدہ نہیں کیا۔
رافیل گروسی کے مطابق اگرچہ جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بعض مقامات تک رسائی بھی محدود ہو چکی ہے، تاہم ادارے کا ابتدائی اندازہ پہلے کے معائنے اور سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات
تہران، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق فیلڈ مارشل اور ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات میں شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ایران کے لیے خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، شہید آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے تہران میں موجود ہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور عاصم منیر نے تہران میں شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی اور شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف، عاصم منیر اور وفد کے ارکان نے فاتحہ خوانی بھی کی۔
وزیراعظم، فیلڈمارشل اور وفد کے ارکان نے ایرانی صدر اور دیگر عہدیداروں سے تعزیت کی۔
وفد میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ و دیگر شریک تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے۔
وزارت خارجہ میں سکریٹری (مشرقی امور) رودریندر ٹنڈن نے جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مسٹر مودی 6 سے 11 جولائی تک ان تینوں ممالک کے دورے پر رہیں گے۔ وہ 6 سے 8 جولائی تک انڈونیشیا، 8 سے 10 جولائی تک آسٹریلیا اور 10 سے 11 جولائی تک نیوزی لینڈ کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا میں وزیر اعظم کی اہم مصروفیات دارالحکومت جکارتہ میں ہوں گی۔ بعد ازاں وہ ثقافتی دارالحکومت یوگیاکارتا بھی جائیں گے اور پرمبانن مندر کا بھی دورہ کریں گے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ گزشتہ سال انڈونیشیا کے صدر کے دورۂ ہند کے بعد ہونے والے اس دورے کے دوران مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں تعاون پر بھی بات چیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ملاکا میں استحکام اور سلامتی کے حوالے سے انڈونیشیا کا اہم کردار ہے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں مسٹر مودی آسٹریلیا جائیں گے، جہاں وہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کے ساتھ تیسرے ہند-آسٹریلیا سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دونوں رہنما اہم معدنیات، سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
مسٹر مودی میلبورن میں ایک کھیلوں کے پروگرام میں بھی شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دورے کے تیسرے اور آخری مرحلے میں وزیر اعظم نیوزی لینڈ جائیں گے، جہاں وہ اپنے ہم منصب کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے۔ گزشتہ چالیس برس سے زیادہ عرصے میں کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا یہ پہلا دورۂ نیوزی لینڈ ہوگا۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی 1986 میں نیوزی لینڈ گئے تھے۔
پریس کانفرنس میں موجود حکام نے سوالوں کے جواب میں بتایا کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران ہندوستانی طلبہ کے ویزوں اور مختلف تعلیمی کورسز کی بڑھتی ہوئی فیسوں کے معاملے پر بھی بات چیت ہونے کا امکان ہے۔
وزیر اعظم تینوں ممالک میں مقیم ہندوستانی برادری کے افراد سے بھی ملاقات کریں گے، ان سے خطاب کریں گے اور مختلف تقریبات میں شرکت کریں گے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان5 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا5 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان7 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
جموں و کشمیر7 days agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا1 week agoایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا
دنیا2 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
ہندوستان5 days agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ


































































































