تازہ ترین
شرمناک واقعات: کیسے ہو گی روکتھا م؟

غازی سہیل خان :
گزشتہ کچھ ماہ سے مسلسل انسانیت کو شرم سار کر دینے والی ایسی خبریں سننے اور پڑھنے کو مل رہی ہیں کہ ایک عام انسان کا سر شرم سے جھک جانا فطری بات ہے۔ابھی اس واقعہ کو چند ہی دن گزرگئے تھے کہ ایسی ہی ایک اور خبر سوشل ویب سائٹس پر گردش کرنے لگی جس میں گاندربل سے تعلق رکھنے والے ایک کنبہ کو روتے اور بلکتے ہوئے دکھایا جا رہا تھا،جس میں ایسے ہی شرم ناک سانحہ کی کہانی سُنائی جا رہی تھی۔
فی الوقت اس طرح کے شرمناک واقعات کا رونما ہونا ہمارے سماج کا اب حصہ بنتے جا رہے ہیں، جو کہ انتہائی تشویش ناک امر ہے۔انسانیت کو شرم سار کر دینے والے اس جیسے واقعات کے بعد ان درندہ صفت مجرموں کے خلاف ابھی تک قانون کوئی کارروائی نہیں کر پاتا، جس کی وجہ سے اس طرح کی ذہنیت رکھنے والے جسمانی لذت کے پُجاریوں کے گھناونے عزائم کو اور زیادہ تقویت ملتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ قانون ایسے مجرموں کو عبرتناک سزا دینے میں اب تک مکمل طور سے ناکام ہو چکاہے ۔بلکہ آنکھ کھول کر بلا کسی تعصب کے اگر دیکھا جائے تو ایسے مجرموں کے لئے قران مجید نے جو سزا مقرر کی ہے وہ قابل عمل ہی نہیں مانی جاتی، حالانکہ اس شرمناک وبا کا واحد علاج قانون قرآن ہی ہے۔ ”زانیہ عورت اور زانیہ مرد ،دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارواو ران پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روز آخرپر ایمان رکھتے ہواور اُن کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے“۔(النور:۲)
اگر یہی قانون عمل آور بنا کر ان زانیوں اور حوس کے پُجارئیوں،کنن پوشپورہ میں درجنوں ماوں اور بہنوں کی عصمتوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں ،آسیہ اور نیلوفرکی عزت کو تار تار کرنے والوں،رسانہ کی آصفہ جیسی ہزاروں بیٹیوں اوربہنوں کی عصمتوں کو لوٹنے والوں کو سزائیں دی جاتیں تو آج ایسی خبریں دیکھنے کو نہیں ملتی ۔حال یہ ہے کہ اب ہم بھی ایسے دردناک واقعات پر جذباتی ہو کر وقتی ردعمل دکھا کر خاموشی اختیار کر کے روزانہ معمولات میں مست ومگن ہو جاتے ہیں۔ اس جیسے واقعات پر ہمارا وقتی شوروغل کرنا اگرچہ غیرت کی ہی نشانی ہے تاہم ہم نے اخلاقی تعلیم اور اسلام سے اپنی نئی نسل کو نابلد و نا آشنا رکھا ہے، ہم نے اپنے سماج میں اسلام پسندوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں،ہم مسلکی اور گروہی جھگڑوں میں اُلجھ گئے ہیں،آٹھ اور بیس پر مناظرہ بازیاں اور فتویٰ دینا اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا ہے ، اسلام کو بحیثیت مکمل نظامِ زندگی تسلیم کرنا تو دور کی بات اس پر رہی سہی موجودہ ہماری خود کی بنائی ہوئی عمارت بھی ہمیں عملاً قبول نہیںہے۔ ہمارے معاشرے میں جدیدیت کے نام پرایسی آوازیں اُٹھنی شروع ہو گئی ہیںجن پر بلا جھجھک کہہ سکتے ہیں کہ وہ ”اصل“ کو ”خراب“ کرنے کے لیے کافی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ:”بچوں کو سیکس ایجوکیشن بھی دی جانی چاہیے،گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کا علم بھی ان معصوم نونہالوں کے ذہنوں میں اُتار دیا جانا چاہے۔وا حسرتا….!
ہمارے سماج کا مایوس کن دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات کو ہمارے سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پر بیٹھے جانبازوں نے بغیر حقائق کے پیش کرنے کی جیسے قسم کھا رکھی ہو۔چند نے تو مبینہ طور زیادتی کی شکار تین سالہ بچی کے بدلے فلسطین کی زخمی حالت میں ایک بچی کی تصویر کو سوشل میڈیا پر اتنی وائرل کر دی کہ لوگوں نے اپنے جسموں پر کفن باندھنے جیسے شروع کر دئے تھے ۔اسکولی طلبہ وطالبات نے اسکولوں سے نکل کر توڑ پھوڑ شروع کر دی اس توڑ پھوڑ میں وردی پوش اہلکار بھی عادتاً پیچھے نہیں رہے۔بلکہ اس احتجاجی وقتی جذباتی سلسلے کے دوران کئی نوجوان پلٹ وغیرہ لگنے سے شدید زحمی ہو گئے، جن میں سے ایک ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں رہ کر آخر کار زندگی کی جنگ ہار گیا۔ ۔“
کشمیر ی عوام کا کیا کہنا پر امن احتجاج کے دوران چند سر پھروں نے آو دیکھا نہ تاﺅ ،نہ صرف عام گاڑیوں بلکہ ایمبولینسوں و دیگر گاڑیوں پرسنگباری کر کے ان کے شیشے وغیرہ چکنا چور کر دیے جس سے کئی مسافر، بیمار اور تیمارداروں کو سیدھا ہسپتال کا رخ لینا پڑا۔ ایک اور ستم ہمارے کچھ ”نہاد صحافیوں“ کا ہے جو نہ تو صحافتی اُصول مدنظر رکھتے ہیں اور نہ ہی قانون کی پاسداری…. گاندربل کامذکورہ بالادوسرے واقعے میں ایک جرنلسٹ صاحب نے رپورٹنگ کی آڑ میں متاثرہ لڑکی سے اس کا نام و پتہ اور زیادتی کی ساری تفصیل عوام الناس تک حرفاً حرفاً پہنچا دی ۔یہ صاحب ایسے اس کی تفصیل حاصل کر رہے تھے جیسے اس خبر کو اس صحافی کے علاوہ اور کوئی نہیں دیکھ رہا تھا، حالاں کہ اگر دیکھا جائے تو کسی جسمانی زیادتی کی شکار لڑکی کا نام ظاہر کرنا اخلاقا و قاًنوناً جُرم ہے ۔ یوں توآج کشمیر میں صحافی بننا کوئی بڑی بات نہیں کیوں کہ ہر گلی اور محلے والے دکاندار اور مزدور نے یوٹیوب چنلیں اور نیوز پورٹلزبنا ئے رکھے ہیں ۔کوئی روک ٹوک نہیں جس کے بس میں جو آئے وہی کرتا ہے۔صحافت ہے کیا ؟زبان و قلم کا کیسے استعمال کرنا ہے؟ اس کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی کوئی روک ٹوک۔ آج کل سوشل میڈیا یعنی فیس بک اور یوٹیوب وغیرہ پر ایسے نامی گرامی رپورٹرس کی خبریں دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں جن میں وہ زبان و ادب کا ستیاناس کر دیتے کے ساتھ ساتھ حقائق کو توڑ مڑوڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔
اس نام نہاد صحافتی یلغار کو روکنے کے لیے ہمارے یہاں کی صحافتی برادری کو اس طرح کے معیار کو ختم کر کے اصل معیار پر واپس لانے کے حوالے سے اقدامات اٹھانے کے ضرورت ہے تاکہ معیاری اور حقیقی صحافت کے ساتھ ساتھ عوام کے سامنے حقائق صحیح معنوں میں پہنچ سکیں ۔سما جی رابطہ کی ویب گاہوں پر بیٹھے نوجوانوں کو اپنے حدود میں رہ کر ہی اپنی رائے دینی چاہیے ،اشتعال انگریزی سے اجتناب کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے کوششیں ہونی چاہئیں۔
بہر حال اس تین سالہ بچی سے زیادتی اگر ثابت ہوتی ہے تو بحیثیت مسلمان ہمارا یہ مطالبہ ہونا چاہیے کہ اس درندہ صفت شیطان کو ایسی دردناک سزا دی جانی چاہیے کہ جس سے دوسرے لوگوں کے دل کانپ اٹھیں اور آئندہ کوئی ماں،بہن اور بیٹی اس درندگی کا شکار نہ ہو ۔
رابطہ : ghazisuhail09@gmail.com
٭٭٭
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ





































































































