تازہ ترین
صدقہ فِطر،روزوں کا صدقہ

(الحاج حافظ)محمد ہاشم قادری صدیقی
﴿ ماہِ رمضان المبارک کے روزے فرض ہیں۔ روزہ رکھنے سے بندوں کے اندر جذبہ¿ غم خواری پیدا ہوتی ہے۔ انسان بھوک اور پیاس کی حالت میں ان لوگوں کا تصور کرکے لرز اٹھتا ہے جو ایک ٹکڑا روٹی کے لئے ترستے رہتے ہیں۔ اپنے اور اپنے بچوں کے پیٹ کی آگ بجھانے کی کوشش میں پریشان رہتے ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : رمضان کا مہینہ غم خواری کا مہینہ ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں: جب رمضان کا مہینہ آتا تو آپ ﷺ پہلے سے زیادہ سخی ہوجاتے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کا بیان ہے کہ جب رمضان کامہینہ آتا تو پیارے آقا ﷺ ہر قیدی کو آزاد کر دیتے اور ہر سائل کو کچھ نہ کچھ ضرور دیتے(بیہقی)۔رحمت عالم ﷺ اس مقدس مہینہ میں صدقہ و خیرات کثرت سے کیا کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کا بیان ہے: نبی کریم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی ہوتے تھے اور آپ ﷺ سب سے زیادہ صدقہ و خیرات رمضان المبارک میں کیا کرتے تھے۔ جب حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ سے رمضان المبارک کی ہر رات میں ملتے اور دوران ملاقات نبی کریم ﷺ انھیں قرآن مجید سناتے اور آپ ﷺ تیز ہوا سے بھی سبقت کے ساتھ صدقہ و خیرات کرتے۔(شعب الایمان)
اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے صدقہ و خیرات کو(سورہ البقرہ ،آیت۵۷۲)احادیث میں صدقات کی بہت فضیلتیں آئی ہیں۔ چند ملاحظہ فرمائیں۔(۱) ابو بکر صدیق ص فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے : دوزخ سے بچو اگرچہ آدھا چھوارہ دے کر کہ وہ کجی کو سیدھا اور بری موت کو دور کرتا ہے۔ (۲)نبی کریم ﷺ نے فرمایا :بے شک مسلمان کا صدقہ عمر کو بڑھاتا ہے اور بری موت کو منع کرتاہے۔(۳) بے شک اللہ عزوجل صدقہ کے سبب سے ۰۷دروازے بری موت کے دفع فرماتا ہے۔(۴) صبح کے صدقے آفتوں کو دفع کردیتے ہیں۔(طبرانی،ابو یعلی، والبراز، رواہ الدیمی حضرت انس ص) ،جو مسلمان اپنے مال حلال سے صدقہ دیتا ہے ، اسے حق تعالیٰ اپنے دست شفقت و لطف سے اس طرح پرورش فرماتا ہے۔جیسے تم اپنے چو پایوں کی پرورش کرتے ہو یہاں تک کہ چند خرمے(چھوارہ) اُحد پہاڑ کے برابر ہو جاتے ہیں اور فرمایا کہ قیامت کے دن ہر ایک اپنے صدقے کے سایہ میں ہوگا جب تک حساب ہوکر حکم صادر ہوگا لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ صدقہ کون سا افضل ہے فرمایا :جو تندرستی میں دیا جائے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے دروازے سے سائل کو محروم پھیر دیتا ہے (یعنی کچھ نہیں دیتا) سات دن تک اس کے گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں جاتے(کشف القلوب جلد اول صفحہ 469باب صدقہ کی فضیلت)،رسول کریم ﷺ دو کام اوروں پر نہیں چھوڑتے تھے بلکہ اپنے ہی ہاتھوں سے کرتے تھے فقیر کو صدقہ اپنے ہی دست مبارک سے دیتے اور رات کو وضو کے لیے پانی برتن میں خود رکھتے تھے۔آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص مسلمان کو کپڑا پہنائے گا جب تک وہ کپڑا اس کے بدن پر رہے گا کپڑا دےنے والا خدا کی حفاظت میں رہے گا۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک آدمی نے ستر (۰۷) برس عبادت کی پھر اس سے اتنا بڑا گناہ سرزد ہوا کہ وہ سب عبادت برباد اور رائگاں ہو گئی اس کا گزر ایک فقیر کی طرف سے ہوا اور اس نے فقیر کو ایک روٹی دی تو اللہ تعالیٰ نے اس کا وہ گناہ عظیم بخش دیا اور ستر برس کی عبادت اسے واپس کر دی۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی کہ بیٹا ! تجھ سے جب کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو صدقہ دینا اللہ نے قرآن کریم میں فرمایا : تم لو گ ہرگز نیکی کے مقام کو نہ پا سکوگے جب تک اس میں سے خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہے(القرآن ، سور ہ آل عمران،آیت نمبر ۲۹)۔
صدقہ فطر کا حکم:روزہ دار اگرچہ مجسم نیکی میں ہوتا ہے اس کے مادی جسم میں ملکوتی (فرشتوں جیسی)روح پیدا ہوتی رہتی ہے۔ وہ جھوٹ سے، بدگوئی سے، بد کلامی سے، ایذا رسانی سے، حق تلفی سے ، غرض کہ ہر طرح کی برائیوں سے دور رہتا ہے یا کم از کم دور رہنے کی کوشش کرتا ہے ۔ پھر بھی وہ بہر حال انسان ہی ہوتا ہے فرشتہ نہیںہوتا۔ اس لئے ہزار کوششوں کے باوجود اس سے لغزشیں ہو ہی جاتی ہیں۔ زبان سے بے ہودہ باتیں نکل ہی جاتی ہیں اس لئے قدرتی طور پر روزوں کا بالکل بے داغ اور ہر نقص سے پاک رہنا ممکن نہیں۔ اللہ کے حبیب رسول اللہ ﷺ نے روزوں کو اس طرح کے داغ دھبوں سے پاک صاف اور مقبول رب العالمین بنانے کے لئے ایک خاص قسم کا صدقہ دینے کا حکم فرمایا جس کو اصطلاح شریعت میں ”صدقہ فطر“ کہتے ہیں۔ احادیث میںہے کہ عمرو بن شعیب ص سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا کہ مکہ کے کوچوں میںاعلان کردے کہ صدقہ فطر واجب ہے۔(ترمذی جلداول، صفحہ ۶۴۱،باب ماجاءفی صدقة الفطر) ابو داو¿د،ابن ماجہ و حاکم ابن عباس رضی اللہ عنھما سے راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زکوٰة فطر مقرر فرمائی کہ لغو اور بیہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہوجائے اور مساکین کی خوردو نوش (کھانے پینے )کا انتظام ہوجائے۔(بہار شریعت جلد۵،صفحہ ۵۵)ایک حدیث میں ہے : رمضان کے روزے آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتے ہیں جب تلک صدقہ فطر ادا نہ کر دیا جائے آگے(بارگاہِ خداوندی )تک نہیں جاتے) (ترغیب) : رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطرکو فرض کیا ہے تاکہ روزہ دار (کا روزہ) لغو اور فحش گوئی وغیرہ کے داغ دھبوں سے پاک و صاف ہوجائے(ابو داود ، ابن ماجہ)
(زکوٰة بمعنی ضروری واجب) ان احادیث سے صدقہ فطر کی اہمیت اور غایت (مطلب) دونوں چیزیں واضح ہو جاتی ہیں۔ اس کو نگاہ میں رکھنے کے بعد صدقہ فطر کی ادائیگی ہر روزہ دار مسلمان کی ایک ناگزیر فطری چیز بن جاتی ہے۔ مسئلہ: صدقہ فطر ادا کرنے کے لئے مال کا باقی رہنا شرط نہیں مال ہلاک ہونے کے بعد بھی صدقہ فطر واجب رہے گا ساقط نہیں ہوگا بخلاف زکوٰة و عشر کہ یہ دونوں مال ہلاک ہوجانے سے ساقط ہوجاتے ہیں(درمختار جلد۲ صفحہ ۰۱۱، بہار شریعت جلد ۵ صفحہ۶۵ باب صدقہ فطر کا بیان)
صدقہ فطر بہت ضروری ہے:صدقہ فطر کے واجب ہونے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ آدمی کے پاس زکوٰة کا نصاب ہو بلکہ جس طرح ایک مالدار کے لئے اس کا دینا ضروری ہے اسی طرح اس غریب کے لئے بھی ضروری ہے جس کے پاس عید کے دن اپنے اہل وعیال کی خوراک سے زائد اس قدر موجود ہو کہ ہر ایک کی طرف سے صدقہ فطر دے سکے ۔ مسئلہ: صدقہ فطر واجب ہونے کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں اگر کسی عذر شرعی ، سفر، مرض ، بوڑھا پے کی و جہ سے یا معاذ اللہ بلا عذر روزہ نہ رکھا جب بھی واجب ہے۔ (رد المختارجلد ۲صفحہ ۱۰۱، بہار شریعت جلد ۵صفحہ ۶۵ باب صدقہ فطر کا بیان) ان احادیث اور مسئلہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صدقہ فطر صرف ان ہی لوگوں پر فرض نہیں ہے جنھوں نے روزہ رکھا ہو یا نہیں ۔ نبی کریم نے صدقہ فطر کو طعمتہ للمساکین(مساکین کی خوراک) بھی فرمایا ہے۔ یعنی جس طرح صدقہ فطر کا ایک مقصد روزے دار کے روزوں کو پاک کرنا اور مقبول بنا دینا ہے اسی طرح عید کے دن غریبوں، مساکین کے لئے کھانے پینے کا بندوبست ہوجانا بھی ایک مصلحت اور مقصد ہے جس کا تقاضہ یہی ہے کہ صدقہ فطر دینے والوں کا دائرہ وسیع سے وسیع ہو صرف روزہ داروں تک ہی صدقہ فطر محدود نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا یہ امتیازی وصف ہے کہ وہ مساکین و فقراءسے محبت رکھتے ہیں اور ان کے لئے تواضع کرتے ہیں اور یوں حضور ﷺ کے اس قول پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔اے اللہ مجھے مسکین کی حالت میں رکھ اور مجھے مسکینی پر موت دے اور قیامت کے دن مساکین کے زمرے میں اٹھا۔(جامع ترمذی جلد ۲صفحہ ۸۵، کتاب الزہد حدیث نمبر۲۵۳۲)
اللہ کے رسول سب سے زیادہ فقراءومساکین کی تواضع کرتے اور جب ان کے ساتھ بیٹھتے تو گھٹنے پر گھٹنا رکھ کر بیٹھتے اور محبت سے پیش آتے لہٰذا ہم کو آپ کو چاہئے کہ فقراءو مساکین کی خوراک کا انتظام کریں ۔ صدقہ فطر ضرور ادا کریں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما نے کہا :رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر اس لئے مقرر فرمایاتاکہ لغو اور بےہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہوجائے اور دوسری طرف مساکین کے لئے خوراک ہوجائے۔(ابو داو¿دجلداول صفحہ۷۲۲، کتاب الزکوٰة ،مشکوٰة صفحہ ۰۶۱کتاب الزکوٰة)ہم سب کو چاہئے کہ صدقہ فطر عید سے پہلے ادا کریں ۔ عید کے دن گویا مزدوری ملنے کا دن ہے ۔ عید کے دن معاشرے کے پسماندہ اور محروم لوگوں کو اپنی خوشی میں شامل کرنا چاہئے تاکہ ان کی بھی عید ہوجائے ۔ اللہ ہم تمام مسلمانوں کو صدقہ فطر و زکوٰة ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ اور روزوں کے فوائد سے مالا مال فرمائے آمین! ثم آمین!
دنیا
افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب بھی ایرانی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں: سربراہ آئی اے ای اے
ویانا، اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب بھی اس کی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں، تاہم صورتِ حال کی حتمی تصدیق کے لیے معائنہ کاروں کی دوبارہ رسائی ضروری ہے۔
انہوں نے روسی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ مجموعی تاثر یہی ہے کہ مواد اب بھی وہیں موجود ہے۔
رافیل گروسی کے مطابق حتمی تصدیق کے لیے ضروری ہے کہ معائنہ کار دوبارہ تنصیبات کا دورہ کریں، معائنہ کریں اور اس بات کی تصدیق کریں کہ تمام مواد اپنی جگہ موجود ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ ادارے نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد تنصیبات تک رسائی ختم ہونے سے قبل افزودہ یورینیئم کی کسی بڑی نقل و حرکت کا مشاہدہ نہیں کیا۔
رافیل گروسی کے مطابق اگرچہ جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بعض مقامات تک رسائی بھی محدود ہو چکی ہے، تاہم ادارے کا ابتدائی اندازہ پہلے کے معائنے اور سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات
تہران، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق فیلڈ مارشل اور ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات میں شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ایران کے لیے خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، شہید آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے تہران میں موجود ہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور عاصم منیر نے تہران میں شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی اور شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف، عاصم منیر اور وفد کے ارکان نے فاتحہ خوانی بھی کی۔
وزیراعظم، فیلڈمارشل اور وفد کے ارکان نے ایرانی صدر اور دیگر عہدیداروں سے تعزیت کی۔
وفد میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ و دیگر شریک تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے۔
وزارت خارجہ میں سکریٹری (مشرقی امور) رودریندر ٹنڈن نے جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مسٹر مودی 6 سے 11 جولائی تک ان تینوں ممالک کے دورے پر رہیں گے۔ وہ 6 سے 8 جولائی تک انڈونیشیا، 8 سے 10 جولائی تک آسٹریلیا اور 10 سے 11 جولائی تک نیوزی لینڈ کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا میں وزیر اعظم کی اہم مصروفیات دارالحکومت جکارتہ میں ہوں گی۔ بعد ازاں وہ ثقافتی دارالحکومت یوگیاکارتا بھی جائیں گے اور پرمبانن مندر کا بھی دورہ کریں گے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ گزشتہ سال انڈونیشیا کے صدر کے دورۂ ہند کے بعد ہونے والے اس دورے کے دوران مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں تعاون پر بھی بات چیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ملاکا میں استحکام اور سلامتی کے حوالے سے انڈونیشیا کا اہم کردار ہے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں مسٹر مودی آسٹریلیا جائیں گے، جہاں وہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کے ساتھ تیسرے ہند-آسٹریلیا سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دونوں رہنما اہم معدنیات، سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
مسٹر مودی میلبورن میں ایک کھیلوں کے پروگرام میں بھی شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دورے کے تیسرے اور آخری مرحلے میں وزیر اعظم نیوزی لینڈ جائیں گے، جہاں وہ اپنے ہم منصب کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے۔ گزشتہ چالیس برس سے زیادہ عرصے میں کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا یہ پہلا دورۂ نیوزی لینڈ ہوگا۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی 1986 میں نیوزی لینڈ گئے تھے۔
پریس کانفرنس میں موجود حکام نے سوالوں کے جواب میں بتایا کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران ہندوستانی طلبہ کے ویزوں اور مختلف تعلیمی کورسز کی بڑھتی ہوئی فیسوں کے معاملے پر بھی بات چیت ہونے کا امکان ہے۔
وزیر اعظم تینوں ممالک میں مقیم ہندوستانی برادری کے افراد سے بھی ملاقات کریں گے، ان سے خطاب کریں گے اور مختلف تقریبات میں شرکت کریں گے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان5 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا5 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان7 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
جموں و کشمیر7 days agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا1 week agoایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان5 days agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
دنیا2 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ



































































































