تازہ ترین
عرب دنیا میں بااثر خواتین

بااثر خواتین ’آواتارز‘ کی طرح بالکل بے روک ٹوک اور بڑی آسانی سے ہائبرڈ کائنات میں نقل وحرکت کرتی ہیں جبکہ ہماری طرح کے باقی لوگ اس میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ان متاثر کنندگان اور بالخصوص خواتین نے پہلے تو اپنی نج کی زندگیوں میں تغیّر وتبدل کا فن سیکھا۔ان کی آراء، طرز زندگی اور روزمرہ کے معمولات کو ایک قدری قیمت میں تبدیل کیا۔ اب یہ ہے کہ ان کے پُروقار انداز میں عوامی منظرنامے پر نمودار ہونے کی نقالی کی جاتی ہے۔ ہاں، البتہ ان کے پیروکار تو ان کے دلدادہ ہوتے ہیں لیکن ناقدین صرف تنقید کرتے ہیں۔ اثر ورسوخ کی حامل خواتین نے کامیابی سے آن لائن دنیا میں دوسری خواتین کے لیے بھی جگہ پیدا کرلی ہے۔اس ضمن میں ان کی کاوشوں کو سراہا جانا چاہیے اور انھیں تحفظ مہیّا کیا جانا چاہیے۔
کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں اسکول اور جامعات بند ہو چکی ہیں۔افرادی قوت نے تھوک کے حساب سے اپنے کام کا طریق کار تبدیل کر لیا ہے اور اب وہی افرادی قوت آن لائن ہمہ نوع کام کر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سرکاری میدان کے متوازی ایک نجی میدان عمل ظہور پذیر ہو چکا ہے۔ ماضی میں ان دونوں میں ہمیشہ ہم آہنگی نہیں ہوتی تھی اور اب بھی شاید نہ ہو لیکن آج ہم سب ہی اس نئی حقیقت اور تبدیل شدہ منظر نامے کو روادارانہ انداز میں قبول کر رہے ہیں۔
ہر کوئی اس کوشش میں ہے کہ وہ گھروں میں ہماری موجودگی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کامیابی سے کوئی حل ڈھونڈ نکالے اور دنیا کو اس نئے ’’گھریلو مدار‘‘ میں لا ڈھیر کرے۔ ہم میں سے سب لوگ بااثر خواتین کی طرح کے ماہر نہیں ہیں۔ چناں چہ بعض اوقات بچے انٹرویوز، آن لائن کلاسوں یا کانفرنس کالز میں اچانک دخیل ہو جاتے ہیں اور وہ سب کچھ تہ وبالا کر دیتے ہیں۔
چند ہفتے قبل کی بات ہے۔میں اپنی ایک آن لائن کلاس کے دوران میں ’’والدین اور ان کے بچّوں کے درمیان حدِ فاصل کھینچنے‘‘ کی وضاحت کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور یہ بتا رہی تھی کہ یہ سرحدیں بچوں کی تعلیم، ان کے احترام، انفرادیت کی تشکیل اور آزادی کے لیے کیوں ضروری ہیں؟ اس دوران میں میرا پانچ سالہ بیٹا آن ٹپکا اور بولا:’’ممی مجھے بھوک لگی ہے۔‘‘ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ سنتے ہی پوری جماعت قہقہے لگانے لگی جبکہ میں اس کو دوپہر کے کھانے کا انتظار کرنے، اشاروں سے خاموش رہنے اور اپنی آواز کو نیچا رکھنے کی تلقین کرتے ہی رہ گئی۔
میرے ساتھ پیش آنے والے اس ناخوشگوار واقعہ کے برعکس بااثر خواتین شعوری طور پر اپنی نج کی زندگیوں کے واقعات شیئر کرتی ہیں۔کسی خاتون کی نجی زندگی کو پبلک کرنے کی قیمت ہمیشہ بھاری ہی ہوتی ہے کیونکہ خواتین کو مردوں کی بہ نسبت زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔آن لائن ان کے بارے میں نازیبا مواد پوسٹ کیا جاتاہے یا انھیں ہراساں کیا جاتا ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ بعض خواتین کو آن لائن موجودگی کی بھاری قیمت کیوں چکانا پڑتی ہے؟ حتیٰ کی ان کی زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں۔
ہمیں اس سوال کاجواب دیتے وقت پہلے تو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آن لائن موجودگی یا حاضری کا حقیقی مطلب کیا ہے اور کون سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اپنے صارفین کو یہ موقع مہیّا کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطے کا موقع فراہم کرتا ہے لیکن بالمشافہ یا جسمانی طور پر نہیں۔ یہ دراصل تبادلے کی معیشت ہے، نظریات کا میدان جنگ ہے اور بعض لوگوں کو غیر مرئی انداز میں محبت کی تلاش کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے بڑے مؤثر انداز میں ’’ورچوئل شہری ریاستیں‘‘ تخلیق کی ہیں۔یونانی فلسفی ارسطو کی جوہری تقسیم کے مطابق مرد عوامی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ خواتین نج کی سلطنت سے تعلق رکھتی ہیں۔اس نظریے کے عین مطابق قدیم یونان میں عورتوں کو شہری شمار نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ عوامی منظرنامے میں ان کی موجودگی عارضی نوعیت کی ہوتی تھی۔ارسطو کی اس شہری تقسیم کے بعض مسلمان بھی قائل اور مبلغ ہیں۔وہ اس عقیدے کی یونانی اساس سے لاعلم ہیں اوراس کو غلط طور پر اسلام پر مبنی قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب ظہور اسلام کے بعد ابتدائی مسلم معاشروں میں ہمیں عوامی منظر نامے میں خواتین کی موجودگی ایک فطری انداز میں نظر آتی ہے اور اس میں کوئی اختلافی رائے نہیں ہے۔ پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجۂ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مکہ کی ایک متموّل تاجر تھیں اور وہ مردوں کے ساتھ تجارت کیا کرتی تھیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مردوں کے لشکر کی جنگ میں قیادت کی تھی۔امہات المومنین رضی اللہ عنہن کو تو گھروں سے باہر آنے میں کوئی خوف وخطرہ لاحق نہیں ہوتا تھا۔اسی لیے مسلم خواتین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ ان کی تقلید کریں اور انھیں رول ماڈل کے طور پر قبول کریں۔
آج کی دنیا میں بعض مسلم مردوں کے نزدیک کسی ایک خاتون کا سوشل میڈیا پر نامحرم ’’غیر ملکی‘‘ مردوں سے ہم کلام ہونا گناہ ہے۔ان کے نزدیک ایک عورت اگر اپنی ویڈیوز پوسٹ کرتی ہے تو وہ غلطی کی مرتکب ہوتی ہے۔اس لیے جو خاتون اپنی رائے کا اظہار کرتی ہے اور اس کو آن لائن پوسٹ کرتی ہے تو اس کو خاموش کرادیا جانا چاہیے۔
عوامی منظرنامے میں صنف نازک کی عدم موجودگی کو صرف مرد ہی ختم کراسکتے ہیں۔ایک حکمت عملی کے ذریعے خواتین اور لڑکیوں کو کسی ایسے علاقے یاجگہ میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے جہاں انھیں جسمانی طور پر نقصان پہنچنے کے خطرات ہو سکتے ہیں۔اس سب کے باوجود آن لائن نسوانیت کا خاتمہ اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔اسمارٹ فونز کی عام دستیابی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو قابل رسائی بنا دیا ہے۔خواتین اب اپنے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کر رہی ہیں،وہ آن لائن عوامی منظرنامے میں ایسی جگہیں بنا رہی ہیں جہاں صنف نازک کی اپنی بالا دستی ہو۔
چناں چہ حکومتوں کو مسلسل ایسی قانون سازی کرنی چاہیے اور ایسے قوانین متعارف کرانے چاہییں جن کے تحت جنسی تشدد کی کسی بھی شکل کے مرتکبین کے خلاف فوجداری مقدمات چلائے جاسکیں۔
مثال کے طور پر مصر میں قومی کونسل برائے خواتین نے فیس بُک اور انسٹا گرام کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے۔اس کے تحت ’خواتین تحفظ اقدام‘ پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔اس کا مقصد خواتین کے خلاف سائبر ہراسیت کا استیصال ہے۔ قانونی انسدادی تدابیر کے ساتھ سول سوسائٹی کو بھی خواتین کے خلاف ہر قسم تشدد کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔اس طریقے ہی سے خواتین کو آن لائن اور آف لائن بااختیار بنایا جا سکتا ہے اور ان کے لیے ایک پائیدار اور محفوظ ماحول کی تشکیل میں مدد مل سکتی ہے۔
آئیں! خواتین نے جن ورچوئل جگہوں کو اپنے لیے تخلیق کیا ہے، انھیں تسلیم کریں اور مرد وخواتین، سب کے لیے ایک بہتر دنیا بنائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہباء یوسری قاہرہ میں نفسیات اور فلسفہ پڑھاتی ہیں۔انھوں نے امریکن یونیورسٹی قاہرہ سے عربی ادب اور فلسفہ میں پوسٹ گریجوایٹ ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ وہ تدریس کے ساتھ تحقیقی کام بھی کرتی ہیں اور جدیدیت، صنفی تفریق، مابعد الطبیعات اور زبان ان کی تحقیق کے خاص موضوعات ہیں۔ ان کا ٹویٹر ہینڈلر HebaYosry17@ ہے۔
دنیا
افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب بھی ایرانی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں: سربراہ آئی اے ای اے
ویانا، اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب بھی اس کی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں، تاہم صورتِ حال کی حتمی تصدیق کے لیے معائنہ کاروں کی دوبارہ رسائی ضروری ہے۔
انہوں نے روسی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ مجموعی تاثر یہی ہے کہ مواد اب بھی وہیں موجود ہے۔
رافیل گروسی کے مطابق حتمی تصدیق کے لیے ضروری ہے کہ معائنہ کار دوبارہ تنصیبات کا دورہ کریں، معائنہ کریں اور اس بات کی تصدیق کریں کہ تمام مواد اپنی جگہ موجود ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ ادارے نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد تنصیبات تک رسائی ختم ہونے سے قبل افزودہ یورینیئم کی کسی بڑی نقل و حرکت کا مشاہدہ نہیں کیا۔
رافیل گروسی کے مطابق اگرچہ جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بعض مقامات تک رسائی بھی محدود ہو چکی ہے، تاہم ادارے کا ابتدائی اندازہ پہلے کے معائنے اور سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات
تہران، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق فیلڈ مارشل اور ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات میں شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ایران کے لیے خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، شہید آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے تہران میں موجود ہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور عاصم منیر نے تہران میں شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی اور شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف، عاصم منیر اور وفد کے ارکان نے فاتحہ خوانی بھی کی۔
وزیراعظم، فیلڈمارشل اور وفد کے ارکان نے ایرانی صدر اور دیگر عہدیداروں سے تعزیت کی۔
وفد میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ و دیگر شریک تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے۔
وزارت خارجہ میں سکریٹری (مشرقی امور) رودریندر ٹنڈن نے جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مسٹر مودی 6 سے 11 جولائی تک ان تینوں ممالک کے دورے پر رہیں گے۔ وہ 6 سے 8 جولائی تک انڈونیشیا، 8 سے 10 جولائی تک آسٹریلیا اور 10 سے 11 جولائی تک نیوزی لینڈ کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا میں وزیر اعظم کی اہم مصروفیات دارالحکومت جکارتہ میں ہوں گی۔ بعد ازاں وہ ثقافتی دارالحکومت یوگیاکارتا بھی جائیں گے اور پرمبانن مندر کا بھی دورہ کریں گے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ گزشتہ سال انڈونیشیا کے صدر کے دورۂ ہند کے بعد ہونے والے اس دورے کے دوران مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں تعاون پر بھی بات چیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ملاکا میں استحکام اور سلامتی کے حوالے سے انڈونیشیا کا اہم کردار ہے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں مسٹر مودی آسٹریلیا جائیں گے، جہاں وہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کے ساتھ تیسرے ہند-آسٹریلیا سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دونوں رہنما اہم معدنیات، سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
مسٹر مودی میلبورن میں ایک کھیلوں کے پروگرام میں بھی شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دورے کے تیسرے اور آخری مرحلے میں وزیر اعظم نیوزی لینڈ جائیں گے، جہاں وہ اپنے ہم منصب کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے۔ گزشتہ چالیس برس سے زیادہ عرصے میں کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا یہ پہلا دورۂ نیوزی لینڈ ہوگا۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی 1986 میں نیوزی لینڈ گئے تھے۔
پریس کانفرنس میں موجود حکام نے سوالوں کے جواب میں بتایا کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران ہندوستانی طلبہ کے ویزوں اور مختلف تعلیمی کورسز کی بڑھتی ہوئی فیسوں کے معاملے پر بھی بات چیت ہونے کا امکان ہے۔
وزیر اعظم تینوں ممالک میں مقیم ہندوستانی برادری کے افراد سے بھی ملاقات کریں گے، ان سے خطاب کریں گے اور مختلف تقریبات میں شرکت کریں گے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان5 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا5 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان7 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا1 week agoایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
جموں و کشمیر7 days agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
ہندوستان5 days agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
دنیا2 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ



































































































