ہندوستان
غزہ میں انسانیت کا قتل عام، الاقصیٰ کو خطرہ لاحق : فلسطینی سفیر عبد اللہ ابوشاویش

اقوامِ متحدہ کی قراردادیں محض کاغذی دکھاوا، فلسطینی عوام اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بنا دیے گئے
نئی دہلی، فلسطین میں جاری انسانی المیے اور غزہ میں مسلسل بمباری کے نتیجے میں معصوم شہریوں کی ہلاکتوں پر عالمی برادری کی خاموشی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان میں متعین فلسطینی سفیر عبد اللہ ابوشاویش نے کہا ہے کہ “یہ کوئی جنگ نہیں، بلکہ ایک منظم قتلِ عام ہے۔”
سفیر عبد اللہ ابوشاویش انڈین مسلمز فار سول رائٹس (آئی ایم سی آر) کے زیراہتمام ایک غیر رسمی ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام اپنی ہی زمین پر اجنبی بنا دیے گئے ہیں۔ “ہماری زمین پر قبضہ کر کے ہمیں ہی غیر اور گھسپیٹھیا کہا جا رہا ہے — یہ انسانیت کی توہین اور انصاف کا مذاق ہے۔”
انہوں نے اقوامِ متحدہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے واضح کہا کہ اگر اقوامِ متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہی تو عالمی امن اور انسانی حقوق کے تمام دعوے محض دکھاوا ثابت ہوں گے۔ “درجنوں قراردادوں کے باوجود اگر فلسطینی عوام کو انصاف نہیں ملتا تو یہ ادارہ اپنی اخلاقی حیثیت کھو چکا ہے۔”
اس موقع پر سابق رکن پارلیمنٹ اور آئی ایم سی آر کے چیئرمین محمد ادیب، سابق چیف جسٹس اقبال احمد انصاری، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل فضیل ایوبی، ممتاز گاندھین پروفیسر وی۔ کے۔ ترپاٹھی، سماجی رہنما اور آل انڈیا پیس مشن کے صدر ڈاکٹر دیا سنگھ، فریڈم پریس کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر انظر الباری، آل انڈیا تعلیمی ایجوکیشن کے قومی سکریٹری محمد الیاس سیفی اور معروف صنعتکار زین العابدین بھی موجود رہے ۔
فلسطینی سفیر نے کہا کہ مسجدِ اقصیٰ کو لاحق خطرہ صرف فلسطین یا کسی ایک قوم کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے وقار اور تشخص کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت نہ صرف انسانی حقوق بلکہ عالمی ضمیر کے لیے بھی ایک کھلا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویسٹ بینک، غزہ اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں جاری مظالم کو دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ یہ تنازع صرف زمین کا نہیں بلکہ انسانیت اور بنیادی انسانی قدروں کا مسئلہ بن چکا ہے۔
تمام اہم شخصیات نے عالمی برادری، بالخصوص مسلم ممالک، سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر اسرائیلی جارحیت کے خاتمے، فوری سیز فائر، انسانی امداد کی بحالی، اور فلسطینی عوام کو انصاف دلانے کے لیے ٹھوس عملی اقدامات کریں۔
اجلاس کے آخر میں شرکاء نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی جس میں فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی، انسانی حقوق کے احترام، اور اقوامِ متحدہ سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
خواتین ریزرویشن کے نفاذ کی خواہش مند نہیں مودی حکومت: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت ہمیشہ خواتین کے ریزرویشن کے حق میں رہی ہے اور اس کے لیے وہ وقتا فوقتا حکومت پر دباؤ بھی ڈالتی رہی ہے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت حکمت عملی کے تحت اسے نافذ نہیں کر رہی ہے۔
کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے منگل کے روز سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ ان کی پارٹی گزشتہ 10 سالوں سے حکومت پر خواتین کو ریزرویشن دینے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور اس بل کو پارلیمنٹ میں پاس کرانے میں بھی اپنی حمایت دی، لیکن مودی حکومت نے جان بوجھ کر اور حکمت عملی کے تحت اسے حد بندی (ڈی لیمیٹیشن) کے عمل سے جوڑ دیا، جس کی وجہ سے اس کے نفاذ میں رکاوٹ آئی۔
انہوں نے کہا کہ 2017 میں اس وقت کی کانگریس صدر سونیا گاندھی نے بھی خواتین کے ریزرویشن کا بل منظور کرنے کے حوالے سے مودی کو خط لکھا تھا۔ سابق کانگریس صدر راہل گاندھی نے بھی 16 جولائی 2018 کو وزیر اعظم کو خط لکھ کر خواتین کے ریزرویشن کو فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مودی حکومت نے اس مطالبے پر کوئی توجہ نہیں دی اور پھر حد بندی سے جوڑ کر اسے ٹالنے کی کوشش کی۔
مسٹر رمیش نے کہا، “خواتین کے ریزرویشن کے تعلق سے کانگریس کا موقف اٹل اور غیر تبدیل شدہ رہا ہے۔ راہل گاندھی کے لکھے ہوئے خط کے آٹھ سال بعد بھی، وزیر اعظم حد بندی سے جوڑ کر ریزرویشن کے نفاذ میں تاخیر کرنے کے خواہشمند ہیں اور اسی لیے انہوں نے اس مطالبے پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔”
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
کانگریس نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی ، پاکستان کے ‘بڑھتے ہوئے سفارتی کردار’ پر متنبہ کیا
نئی دہلی ، کانگریس نے پیر کے روز مرکز کی خارجہ پالیسی پر شدید حملہ کرتے ہوئے سینئر لیڈر جے رام رمیش کے ذریعے یہ الزام لگایا کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے باوجود ہندوستان پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایک سخت بیان میں رمیش نے ان رپورٹس کی طرف اشارہ کیا جن میں پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اور انہوں نے اسے اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت قرار دیا۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے پہلے کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس ملک کو ہمارے عالم اور ہمیشہ خوش لباس وزیر خارجہ نے ‘دلال’ قرار دیا تھا، وہ مبینہ طور پر آج امریکہ-ایران امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کر رہا ہے۔
رمیش نے پاکستان کی نازک معاشی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور واضح کیا کہ اس ملک نے حال ہی میں اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لیے خلیجی ممالک سے اربوں ڈالر ادھار لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت واضح طور پر مشکل میں ہے اور اس کا انحصار دوست ممالک کی خیرات پر ہے، لیکن اس کے باوجود اسلام آباد ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
کانگریس لیڈر نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھنے کا الزام بھی لگایا اور اس سلسلے میں اسامہ بن لادن کو پناہ دینے اور پہلگام دہشت گردانہ حملے سمیت ماضی کے دیگر حملوں میں ملوث ہونے کا ذکر کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے رمیش نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پاکستان پر مستقل بین الاقوامی دباؤ بڑھانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ وزیر اعظم مودی کی علاقائی اور عالمی مشغولیت کے انداز اور بیانیے کے انتظام نے پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکامی کا سامنا کیا ہے۔
سابقہ یو پی اے حکومت کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے رمیش نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے میں زیادہ کامیاب رہے تھے۔
رمیش نے پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کی بین الاقوامی سطح پر، خاص طور پر امریکہ میں بڑھتی ہوئی پذیرائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ منیر کے ریمارکس نے خطے میں تناؤ کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی بڑھتی ہوئی قربت ہندوستان کے لیے ایک خاصا سنگین دھچکا ہے۔ رمیش نے مزید کہا کہ یہ واضح ہے کہ فیلڈ مارشل اور ان کے ساتھی ٹرمپ کے خاندان اور ساتھیوں کے ایکو سسٹم کو ہندوستان کے مقابلے میں بہتر طریقے سے سنبھالنے میں کامیاب رہے ہیں، اور انہوں نے اسے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک ‘تاریخی ناکامی’ قرار دیا۔ ہندوستان کی سفارتی حکمت عملی میں مکمل تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ موجودہ قیادت مطلوبہ تبدیلی لانے کی اہلیت نہیں رکھتی۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
کھڑگے مغربی بنگال اور راہل تمل ناڈو میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے
نئی دہلی ، کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے اور سابق صدر راہل گاندھی پیر کو بالترتیب مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے مسٹر کھڑگے مغربی بنگال کے کوچ بہار اور سلی گوڑی میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے جبکہ تمل ناڈو میں ، راہل گاندھی کنیا کماری میں لکشمی پورم ، ترونیل ویلی میں نونگولیری اور تھوتھکوڈی میں سری وینکٹم میں عوامی جلسوں سے خطاب کریں گے ۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا4 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
جموں و کشمیر4 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا4 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
جموں و کشمیر5 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک









































































































