تازہ ترین
’لفظوں کا گھر‘ بناتے بناتے دنیا سے رخصت ہو گئے شمس الرحمن فاروقی، اُردو ماتم کناں!

کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اب’لفظوں کے گھر‘ میں کوئی نئی روشنی داخل نہیں ہوگی۔ شمس الرحمن فاروقی نے جس ڈکشنری کو تیار کرنے کا کام بڑی عرق ریزی کے ساتھ آگے بڑھایا تھا، اس پر اب فل اسٹاپ لگ گیا۔
تنویر احمد
شمس الرحمن فاروقی کا نام سنتے ہی اردو ادب کی اس شخصیت کا چہرہ سامنے آ جاتا ہے، جو تن تنہا ’لفظوں کا گھر‘ بنانے کی طرف رواں دواں تھے۔ لیکن اب یہ چہرہ صرف خیالوں، کتابوں یا ویڈیوز میں ہی نظر آئے گا۔ 2020 نے جاتے جاتے اردو کی ایک ایسی عظیم ہستی کو اپنی آغوش میں لے لیا، جس کا بدل ملنا محال ہے۔ جمعہ کی صبح تقریباً ساڑھے گیارہ بجے مشہور معروف مصنف اور ناقد شمس الرحمن فاروقی نے دنیائے فانی کو الوداع کہا اور اپنے پیچھے کچھ ایسے کام چھوڑ گئے جو شاید اب نامکمل ہی رہ جائیں گے۔
Shamsur Rahman Faruqi, the Sun of the Urdu World passed away at his home in Allahabad at 11.20 am where he was flown down from Delhi this morning
— Dastangoi Collective (@DastangoiTheArt) December 25, 2020
کورونا کے اس دور میں جب سبھی کی زندگی ٹھہر سی گئی تھی، 85 سالہ شمس الرحمن فاروقی ادب کی خدمت میں پہلے کی ہی طرح جی جان سے جٹے ہوئے تھے۔ اس کا تذکرہ انھوں نے ایک مضمون میں کیا تھا جو اپریل ماہ میں ہندی نیوز پورٹل ’امر اجالا ڈاٹ کام‘ پر شائع ہوا تھا۔ عنوان تھا ’بنا رہا ہوں شبدوں کا گھر‘۔ مضمون میں انھوں نے واضح لفظوں میں لکھا تھا کہ ’’لوگوں کو لگتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران بہت زیادہ وقت مل گیا ہے۔ لیکن میری معمولات زندگی اور مصروفیت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔ عمر کا تقاضہ ہے، بہت زیادہ چل پھر نہیں سکتا، اس لیے کہیں آنے جانے کی بات نہیں ہے، گھر میں ہی ہوں۔ ویسے بھی میری بہت گھومنے پھرنے کی عادت نہیں ہے۔ لکھنے پڑھنے میں اب بھی زیادہ وقت گزر رہا ہے۔ ہاں، زیادہ ہو جاتا ہے، تو زیادہ آرام کر لیتا ہوں، بس۔‘‘
اس مضمون میں شمس الرحمن فاروقی نے اپنے دیرینہ کام ’اردو سے اردو ڈکشنری‘ کا تذکرہ کیا تھا جس کا اردو داں طبقہ بے صبری سے منتظر تھا۔ انھوں نے لکھا تھا ’’اردو سے اردو کی ایک ایسی ڈکشنری تیار کر رہا ہوں، جس میں شاعری اور داستانوں میں شامل تمام پرانے الگ طرح کے الفاظ شامل ہیں۔ فی الحال پندرہویں صدی کے بعد سے لے کر اب تک کے تقریباً گیارہ ہزار ایسے لفظ جمع ہوئے ہیں جن کے آسان معنی تلاشے ہیں۔ ہاں، اس کام کی رفتار ذرا دھیمی ہے۔ اگر روزانہ 15-10 لفظ بھی مل گئے تو بڑی بات ہے۔ اس میں شمالی ہند کے زیادہ تر الفاظ ہیں، جنوب میں رائج لفظ کچھ کم ہی ہیں۔‘‘ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اب اس ’لفظوں کے گھر‘ میں کوئی نئی روشنی داخل نہیں ہوگی۔ پدم شری شمس الرحمن فاروقی نے جس ڈکشنری کو تیار کرنے کا کام بڑی عرق ریزی کے ساتھ آگے بڑھایا تھا، اس پر اب فل اسٹاپ لگ گیا۔ اس کام کو اب کوئی دوسرا ہی آگے بڑھا سکتا ہے، لیکن اس میں شمس الرحمن فاروقی والی تپش کہاں ہوگی!
سچ ہے کہ کچھ لوگ دنیا میں آتے ہیں، زندگی گزارتے ہیں، اور پھر چلے جاتے ہیں۔ چند ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کا جانا عرصہ دراز تک مغموم رکھتا ہے۔ 30 ستمبر 1935 کو اتر پردیش میں پیدا ہوئے شمس الرحمن فاروقی کا شمار ان چند لوگوں میں ہی ہوتا ہے۔ ادب کے اس خادم کی گوناگوں خوبیوں کو چند سطروں میں بیان کرنا ناممکن ہے، لیکن اتنا ضرور بتانا چاہوں گا کہ مشہور و معروف اداکار عرفان خان جیسی شخصیت بھی ان کا معترف نظر آتے تھے۔ عرفان خان نے تو شمس الرحمن فاروقی کے مشہور زمانہ ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ پر فلم بنانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ عرفان نے اس کے لیے شمس الرحمن فاروقی کو ایک خط بھی لکھا تھا اور ناول کے تعلق سے اپنی پسندیدگی ظاہر کی تھی۔ افسوس کی بات ہے کہ عرفان خان 29 اپریل 2020 کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے، اور پھر آج…۔
پدم شری ایوارڈ، شرسوتی ایوارڈ اور ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ شمس الرحمن فاروقی کا جانا یقیناً دنیائے ادب اور خصوصاً اردو کے لیے خسارۂ عظیم ہے۔ اس وقت اردو ماتم کناں ہے، تعزیت کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ’کئی چاند تھے سر آسماں‘، ’افسانے کی حمایت میں‘، ’شعر، غیر شعر اور نثر‘، ’گنج شوختہ‘، ’شعر شور انگیز‘ اور ’جدیدیت کل اور آج‘ سمیت متعدد ایسے آفتاب و ماہتاب وہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں جو اردو اور اردو داں طبقہ کے ساتھ ہمیشہ رہے گا۔(قومی آواز)
دنیا
جنگ ہو یا جنگ بندی، ایران اور حزب اللہ ایک ہیں:باقر قالیباف
تہران، ایران کے اسپیکر باقر قالیباف نے حزب اللہ کی بہادری اور مزاحمتی اتحاد کی یکجہتی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بدھ کے روز کہا کہ لبنان میں جنگ بندی ’’عظیم حزب اللہ اور محورِ مزاحمت کے اتحاد‘‘ کا نتیجہ ہوگی۔
قالیباف نے کہا کہ امریکہ کو ’’معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے‘‘، ان کا اشارہ ایران کے اس مؤقف کی طرف تھا کہ لبنان میں جنگ بندی گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات سے قبل واشنگٹن اور تہران کے درمیان ابتدائی معاہدے کا حصہ تھی۔
ایران نے کہا تھا کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو وہ مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا، تاہم اس کے باوجود اس نے اعلیٰ سطح پر شرکت کی، جس کی قیادت خود قالیباف نے کی۔ اور اب وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے ایک اور دور کی تیاری کر رہے ہیں۔
قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ’’چاہے جنگ ہو یا جنگ بندی ایران، حزب اللہ، حماس، یمن کے حوثی اور عراقی ملیشیا ایک ہی روح کی مانند ہیں۔‘‘
انھوں نے امریکہ سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ ’’اسرائیل فرسٹ‘‘ کی پالیسی کی ’’غلطی‘‘ سے دست بردار ہو جائے۔ دریں اثنا، لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے آج صبح اسرائیل پر راکٹ حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ٹیلی گرام پر جاری بیان میں حزب اللہ نے بتایا مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 45 منٹ پر اسرائیل کے شمالی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ علاقے لبنان کی سرحد کے قریب واقع ہیں۔
حزب اللہ نے مزید کہا یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ہمارے ملک اور ہمارے عوام کے خلاف اسرائیلی امریکی جارحیت بند نہیں ہو جاتی۔ اسرائیل کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری طرف جنوبی لبنان میں امدادی کارکنوں پر اسرائیل کے تین مرحلوں پر مشتمل (ٹرپل ٹیپ) حملے میں 4 افراد ہلاک جب کہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔ میفدون کے علاقے میں پیرامیڈکس اپنے زخمی ساتھیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران اسرائیل کے لگاتار تین حملوں نے انھیں اور ان کی ایمبولینسوں کو نشانہ بنا لیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
دنیا کے لیے قابل بھروسہ سپلائی چین کو یقینی بنائیں گے ہندوستان اور آسٹریا: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹاکر کے دورہ ہند سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں نئی توانائی آئے گی اور مختلف شعبوں میں آسٹریا کی مہارت اور ہندوستان کی رفتار و وسعت دنیا کے لیے قابل بھروسہ سپلائی چین کو یقینی بنائے گی دونوں ممالک دفاع، سیمی کنڈکٹر، کوانٹم اور بایو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی اپنی شراکت داری کو مضبوط کریں گے۔ ہندوستان اور آسٹریا نے تعلیم کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک مفاہمت نامہ پر دستخط کیے ہیں اور مائگریشن اینڈ موبلٹی ایگریمنٹ کو نرسنگ کے شعبے میں بھی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے نوجوانوں کے تبادلے کے پروگرام کے تحت ہالی ڈے پروگرام شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
جناب مودی نے دورہ ہند پر آئے ہوئے جناب اسٹاکر کے ساتھ بات چیت کے بعد جمعرات کو یہاں مشترکہ پریس بیان میں کہا کہ ہندوستان-آسٹریا شراکت داری کو اختراع اور مستقبل کی ضروریات پر مبنی بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا پختہ یقین ہے کہ فوجی تصادم سے مسائل کا حل ممکن نہیں اور ہم یوکرین اور مغربی ایشیا میں مستقل امن کے حامی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اور آسٹریا دونوں ہی عالمی اداروں میں اصلاحات کے پرزور حامی ہیں اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہماری مشترکہ عہد بستگی ہے۔
جاری ۔ یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
سپریم کورٹ نے لازمی ووٹنگ کے مطالبے والی عرضی خارج کر دی؛ کہا- شہریوں کو ووٹ دینے کے لیے مجبور نہیں کر سکتے
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے جمعرات کو لازمی ووٹنگ نافذ کرنے کی ہدایت دینے کے مطالبے والی ایک مفاد عامہ کی عرضی کو خارج کر دیا عرضی گزار نے کہا تھا کہ جو لوگ ووٹ دینے سے انکار کرتے ہیں، انہیں سرکاری سہولیات سے محروم کر دینا چاہیے اور ان کے خلاف تعزیری کارروائی ہونی چاہیے عدالت نے اس پر سخت رخ اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ انتخابات میں شرکت کو جابرانہ یا زبردستی کے اقدامات سے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وپل پنچولی کی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ جمہوریت میں شہریوں سے حق رائے دہی کے استعمال کی توقع کی جاتی ہے، لیکن کسی شخص کو ووٹ دینے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ عرضی گزار کے وکیل نے مشورہ دیا تھا کہ عدالت الیکشن کمیشن کو لازمی ووٹنگ کے لیے رہنما خطوط بنانے اور بغیر کسی معقول وجہ کے ووٹ نہ دینے والوں پر پابندی لگانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دے۔ اس پر چیف جسٹس نے تبصرہ کیا کہ حق رائے دہی کے بارے میں عوامی بیداری کی مہم چلائی جانی چاہیے، لیکن ہم اس کے لیے مجبور نہیں کر سکتے۔
عدالت نے عرضی کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ اٹھائے گئے مسائل پالیسی سازی کے دائرے میں آتے ہیں اور ان پر متعلقہ قانون ساز اور انتظامی حکام (پارلیمنٹ اور حکومت) کے ذریعے غور کیا جانا ہی سب سے بہتر ہے۔ بنچ نے دہرایا کہ ووٹ دینا ایک آئینی حق اور جمہوری فریضہ ہے، لیکن اسے کسی پرمسلط نہیں جا سکتا۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر5 days agoلداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی
دنیا1 week agoمجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق تشویشناک دعویٰ، قیادت پر سوالات اٹھنے لگے
دنیا1 week agoایران میں کریک ڈاؤن تیز، مخالفین کے سہولت کاروں کے خلاف فوری فیصلوں کی ہدایت
ہندوستان7 days agoمغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی
دنیا1 week agoدنیا ایران کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ادائیگی قبول نہیں کرے گی: متسوتاکس
ہندوستان1 week agoہندوستان نے ایران میں مقیم اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا
ہندوستان1 week agoہندوستان نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا، مستقل امن کی اپیل
جموں و کشمیر1 week agoمنشیات کے کیس میں ملوث ہونے پر جموں و کشمیر میں خاتون پولیس اہلکار ملازمت سے برطرف
دنیا7 days agoایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز مسترد، نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے: جے ڈی وینس
جموں و کشمیر1 week agoایل جی نے 11 اپریل سے شروع ہونے والی 100 روزہ ‘نشہ مکت جموں و کشمیر ‘ مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا
جموں و کشمیر3 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoایران سے دوبارہ جنگ کیلئے تیار ہیں: نیتن یاہو











































































































