ہندوستان
سپریم کورٹ نے لازمی ووٹنگ کے مطالبے والی عرضی خارج کر دی؛ کہا- شہریوں کو ووٹ دینے کے لیے مجبور نہیں کر سکتے
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے جمعرات کو لازمی ووٹنگ نافذ کرنے کی ہدایت دینے کے مطالبے والی ایک مفاد عامہ کی عرضی کو خارج کر دیا عرضی گزار نے کہا تھا کہ جو لوگ ووٹ دینے سے انکار کرتے ہیں، انہیں سرکاری سہولیات سے محروم کر دینا چاہیے اور ان کے خلاف تعزیری کارروائی ہونی چاہیے عدالت نے اس پر سخت رخ اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ انتخابات میں شرکت کو جابرانہ یا زبردستی کے اقدامات سے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وپل پنچولی کی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ جمہوریت میں شہریوں سے حق رائے دہی کے استعمال کی توقع کی جاتی ہے، لیکن کسی شخص کو ووٹ دینے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ عرضی گزار کے وکیل نے مشورہ دیا تھا کہ عدالت الیکشن کمیشن کو لازمی ووٹنگ کے لیے رہنما خطوط بنانے اور بغیر کسی معقول وجہ کے ووٹ نہ دینے والوں پر پابندی لگانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دے۔ اس پر چیف جسٹس نے تبصرہ کیا کہ حق رائے دہی کے بارے میں عوامی بیداری کی مہم چلائی جانی چاہیے، لیکن ہم اس کے لیے مجبور نہیں کر سکتے۔
عدالت نے عرضی کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ اٹھائے گئے مسائل پالیسی سازی کے دائرے میں آتے ہیں اور ان پر متعلقہ قانون ساز اور انتظامی حکام (پارلیمنٹ اور حکومت) کے ذریعے غور کیا جانا ہی سب سے بہتر ہے۔ بنچ نے دہرایا کہ ووٹ دینا ایک آئینی حق اور جمہوری فریضہ ہے، لیکن اسے کسی پرمسلط نہیں جا سکتا۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
دنیا کے لیے قابل بھروسہ سپلائی چین کو یقینی بنائیں گے ہندوستان اور آسٹریا: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹاکر کے دورہ ہند سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں نئی توانائی آئے گی اور مختلف شعبوں میں آسٹریا کی مہارت اور ہندوستان کی رفتار و وسعت دنیا کے لیے قابل بھروسہ سپلائی چین کو یقینی بنائے گی دونوں ممالک دفاع، سیمی کنڈکٹر، کوانٹم اور بایو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی اپنی شراکت داری کو مضبوط کریں گے۔ ہندوستان اور آسٹریا نے تعلیم کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک مفاہمت نامہ پر دستخط کیے ہیں اور مائگریشن اینڈ موبلٹی ایگریمنٹ کو نرسنگ کے شعبے میں بھی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے نوجوانوں کے تبادلے کے پروگرام کے تحت ہالی ڈے پروگرام شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
جناب مودی نے دورہ ہند پر آئے ہوئے جناب اسٹاکر کے ساتھ بات چیت کے بعد جمعرات کو یہاں مشترکہ پریس بیان میں کہا کہ ہندوستان-آسٹریا شراکت داری کو اختراع اور مستقبل کی ضروریات پر مبنی بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا پختہ یقین ہے کہ فوجی تصادم سے مسائل کا حل ممکن نہیں اور ہم یوکرین اور مغربی ایشیا میں مستقل امن کے حامی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اور آسٹریا دونوں ہی عالمی اداروں میں اصلاحات کے پرزور حامی ہیں اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہماری مشترکہ عہد بستگی ہے۔
جاری ۔ یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے آغاز پر خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ‘تاریخی قدم’ کا خیر مقدم کیا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز کہا کہ آج سے شروع ہونے والا پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ایک “تاریخی قدم” ہے، جس سے عوامی زندگی میں خواتین کے وقار اور نمائندگی کو آگے بڑھانے کے حکومت کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم مودی نے کہا، “آج سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے ذریعے ہمارا ملک خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ایک تاریخی قدم اٹھانے جا رہا ہے۔ ہماری ماؤں اور بہنوں کا احترام ملک کا احترام ہے، اور اسی جذبے کے ساتھ ہم اس سمت مضبوطی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔”
ایک سنسکرت شلوک کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے مزید کہا، “تم ابھرو اور اپنی کرنوں سے دنیا کو منور کرو۔ کنوا خاندان کے رشیوں نے خوشحالی اور فراوانی کے لیے اپنی حمدوں کے ذریعے تمہیں پکارا ہے،” جس کے ذریعے انہوں نے قومی ترقی میں خواتین کے مرکزی کردار پر ثقافتی اور فلسفیانہ زور دیا۔
یہ تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پارلیمنٹ کا ایک نایاب خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں قانون ساز اداروں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی تجاویز سمیت اہم قانون سازی کے اقدامات متوقع ہیں۔ حکومت نے مسلسل ایسے اقدامات کو جامع ترقی اور صنفی مساوات کو یقینی بنانے کی ایک وسیع مہم کے طور پر پیش کیا ہے۔
خواتین کو بااختیار بنانے کا معاملہ ہندوستان کے سیاسی منظرنامہ میں ایک مرکزی نقطہ رہا ہے، جہاں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں فیصلہ سازی کے اداروں میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے طریقہ کار پر بحث کرتی رہی ہیں۔ اگرچہ خواتین کے ریزرویشنچ کے حوالے سے قانون سازی کی کوششیں برسوں تک نشیب و فراز کا شکار رہی ہیں، لیکن موجودہ سیشن پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں کہ آیا دیرینہ66 وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا جاتا ہے یا نہیں۔
وزیر اعظم مودی کا یہ پیغام اس سیشن کے رخ کا تعین کرتا ہے، جہاں خواتین کو بااختیار بنانے کو نہ صرف ایک پالیسی ترجیح بلکہ قومی فخر اور ثقافتی اقدار کے معاملے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
فتح گڑھ صاحب میں بس کو حادثہ، 7 مسافر جاں بحق، 21 زخمی
چنڈی گڑھ، پنجاب کے ضلع فتح گڑھ صاحب میں منگل کی رات ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جب زائرین کو لے جانے والی ایک بس ہمت پورہ گاؤں کے قریب الٹ گئی، جس کے نتیجے میں سات افراد کی موت ہوگئی جبکہ 21 زخمی ہوگئے۔
یہ تمام افراد بیساکھی کی تقریبات میں شرکت کے بعد سری آنند پور صاحب سے واپس آ رہے تھے۔ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں دو بھائی لکھبیر سنگھ اور ہرویر سنگھ بھی شامل ہیں، جو مین ماجری گاؤں کے رہائشی تھے۔
حادثہ رات تقریباً 9:30 بجے پیش آیا، جب بس میں اچانک خرابی پیدا ہوئی جس کے باعث ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا۔ بس سڑک سے نیچے اتر گئی، ایک بجلی کے کھمبے سے ٹکرائی اور الٹ گئی۔
حادثے میں بچ جانے والے مسافروں کے مطابق ٹکر کے بعد کچھ دیر کے لیے بس میں بجلی دوڑ گئی، جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ قریبی گاؤں والے شور سن کر موقع پر پہنچے اور پھنسے ہوئے مسافروں کو باہر نکالا، تاہم انہوں نے امدادی گاڑیوں کی آمد میں تاخیر کی شکایت بھی کی۔
سینئر پولیس افسران، جن میں ایس ایس پی ڈاکٹر شُبھم اگروال شامل ہیں، جلد ہی موقع پر پہنچ گئے اور ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی۔ ان کے مطابق حادثہ مین ماجری سے محض ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا، جہاں مسافروں کو اترنا تھا۔
زخمیوں میں سے 12 کو مورِنڈا کے اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ 9 افراد کو فتح گڑھ صاحب میں داخل کیا گیا۔ کئی شدید زخمیوں کو بہتر علاج کے لیےپی جی آئی چندی گڑھ ریفر کیا گیا ہے۔
مرنے والوں میں جگوندر سنگھ، اقبال سنگھ ، لکھبیر سنگھ، ہرویر سنگھ، پردیپ کور، رنجیت کور اور کلویندر سنگھ (کجّل شامل ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق بس کو موقع سے ہٹا دیا گیا ہے اور علاقہ صاف کر دیا گیا ہے۔ گاؤں کے لوگ پوری رات پولیس کے ساتھ مل کر امدادی کاموں میں حصہ لیتے رہے۔
یو این آئی۔ ایم جے،
جموں و کشمیر5 days agoلداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی
دنیا1 week agoمجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق تشویشناک دعویٰ، قیادت پر سوالات اٹھنے لگے
دنیا1 week agoایران میں کریک ڈاؤن تیز، مخالفین کے سہولت کاروں کے خلاف فوری فیصلوں کی ہدایت
دنیا1 week agoدنیا ایران کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ادائیگی قبول نہیں کرے گی: متسوتاکس
ہندوستان7 days agoمغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی
ہندوستان1 week agoہندوستان نے ایران میں مقیم اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا
ہندوستان1 week agoہندوستان نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا، مستقل امن کی اپیل
جموں و کشمیر7 days agoمنشیات کے کیس میں ملوث ہونے پر جموں و کشمیر میں خاتون پولیس اہلکار ملازمت سے برطرف
دنیا7 days agoایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز مسترد، نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے: جے ڈی وینس
جموں و کشمیر7 days agoایل جی نے 11 اپریل سے شروع ہونے والی 100 روزہ ‘نشہ مکت جموں و کشمیر ‘ مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا
جموں و کشمیر3 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoایران سے دوبارہ جنگ کیلئے تیار ہیں: نیتن یاہو












































































































