جموں و کشمیر
معاملے کو قانونی طریقوں سے نمٹانے کی ضرورت ،حکومت ریاستی املاک پر تجاوزات کی حوصلہ افزائی نہیں کرسکتی :وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

ریاستی اورکاہچرائی زمینوں پر آباد، رہائش پذیریاقابض لوگوںکو مالکانہ حقوق دینے سے متعلق بل اسمبلی میں صوتی ووٹ سے خارج
حکومت سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضے کو قانونی حیثیت نہیں دے سکتی
PMAY کے تحت بے زمینوں کو زمین اور بے گھر افراد کو گھر دینے کیلئے تیار ہیں، تو کیا آپ ان لوگوں کو بے گھر کر دیں گے:وحیدپرہ
سری نگر:جے کے این ایس : جموں و کشمیر اسمبلی نے منگل کو ایک پرائیویٹ ممبر بل کوصوتی ووٹ سے مسترد کر دیا جس میں سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کئے گئے مکانات کے مالکانہ حقوق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اس طرح کے بل سے زمینوں پر قبضے کے راستے کھل جائیں گے۔
جے کے این ایس کے مطابق یہ بل پلوامہ سے پی ڈی پی کے ممبراسمبلی پلوامہ وحید الرحمان پرہ نے پیش کیا تھا۔بل میں کہاگیاہے کہ ریاستی اورکا ہچرائی اراضی، مشترکہ زمین اور شاملات اراضی (جے اینڈکے زرعی اصلاحات ایکٹ، 1976 کا سیکشن 4) پر تعمیر کیے گئے مکانات کے ملکیتی حقوق کو تسلیم کرنے کےلئے ریاست جموں و کشمیر کے رہائشیوں کےلئے خصوصی دفعات فراہم کرنے کا بل، ایسے رہائشیوں کے حق میں ملکیت یا منتقلی کے حقوق کو محفوظ بنا کر جو ایسے رہائشی مکانات کے مالکان کے مفاد میں ہیں۔ آئین ہند کے آرٹیکل 21 کے ذریعہ اور اس سے منسلک یا اس سے متعلقہ معاملات کے لئے پناہ گاہ،۔تاہم حکومت نے ممبراسمبلی پلوامہ کی پیش کردہ پرائیویٹ ممبربل کی مخالفت کی اور وحید پرہ سے اسے واپس لینے کی درخواست کی۔ یہ کہتے ہوئے کہ حکومت ریاستی املاک پر غیر قانونی قبضے کو قانونی حیثیت نہیں دے سکتی ہے، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو پی ڈی پی سے وابستہ ممبراسمبلی پلوامہ وحید الرحمان پرہ کی طرف سے پیش کردہ ایک بل کو مسترد کر دیا جس میں ریاستی اور کاہچرائی زمینوں پرآبادلوگوں کے ملکیتی حقوق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ زمین کے حقوق کے معاملے کو قانونی طریقوں سے نمٹانے کی ضرورت ہے اور حکومت کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جس سے ریاستی املاک پر تجاوزات کی حوصلہ افزائی ہو۔جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عمر عبداللہ نے ممبراسمبلی پلوامہ وحید الرحمان پرہ سے بل کویہ کہتے ہوئے کہ ایسا اقدام موجودہ قوانین اور زمینی ضوابط کےخلاف ہوگا، واپس لینے کو کہا ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضے کو قانونی حیثیت نہیں دے سکتے۔تاہم، پی ڈی پی کے قانون ساز وحید الرحمان پرہ نے سرکاری زمین پر آبادیا قابض لوگوں کو مالکانہ حقوق دینے سے متعلق اپنی پیش کردہ بل کو واپس لینے سے انکار کر دیا۔انہوںنے کہا کہ حکومت اسے سیاسی وجوہات کی بنا ءپر مسترد کر رہی ہے۔ آپ اسے اپنی پالیسیوں کی وجہ سے مسترد کر رہے ہیں۔ ممبراسمبلی وحید الرحمان پرہ نے ایوان کو بتایا کہ بی جے پی اسے زمینی جہاد کہتی ہے، ان سے مت ڈرو۔ وحید الرحمان پرہ نے دلیل دی کہ اس بل کا مقصد ان لوگوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے جو کئی دہائیوں سے ایسی زمینوں پر رہ رہے ہیں یا کاشت کر رہے ہیں، جبکہ حکومت نے برقرار رکھا کہ قانونی طریقہ کار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔تبادلے کے نتیجے میں حزب اقتدار اور اپوزیشن بنچوں کے درمیان ایک مختصر زبانی جھگڑا ہوا۔ یہ کہتے ہوئے کہ حکومت ریاستی املاک پر غیر قانونی قبضے کو قانونی حیثیت نہیں دے سکتی ہے، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ زمین کے حقوق کے معاملے کو قانونی طریقوں سے نمٹانے کی ضرورت ہے اور حکومت کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جس سے ریاستی املاک پر تجاوزات کی حوصلہ افزائی ہو۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ سطح پر یہ آسان نظر آتا ہے۔انہوںنے مزیدکہاکہ اگر کسی نے سرکاری زمین پر مکان بنایا ہے تو اسے زمین دے دیں۔ پچھلی بار بھی حکومت نے لیز ہولڈ کو فری ہولڈ میں تبدیل کرنے کی اسکیم بنائی تھی جسے روشنی (اسکیم) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کا مقصد ان لوگوں کو فری ہولڈ دینا تھا جو عسکریت پسندی سے پہلے لیز ہولڈ تھے۔
حاصل ہونے والی آمدنی بجلی کی پیداوار میں استعمال ہوتی۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اس وقت کی پی ڈی پی،کانگریس مخلوط حکومت نے ملی ٹنسی سے پہلے کی شق کو ہٹا دیا تھا۔انہوںنے کہاکہ ایک تنازعہ ہوا اور ’لینڈ جہاد‘ کی بات ہوئی اور کیا نہیں۔ یہ معاملہ عدالت میں گیا اور ہم وہاں اس کا دفاع نہیں کر سکے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ممبراسمبلی کی یہ تجویز روشنی اسکیم سے باہر ہے۔ بل میں کٹ آف ٹائم لائن نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں کر سکتے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ وزیراعظم آواس یوجناPMAY کے تحت بے زمین لوگوں کو زمین دینے کا انتظام ہے۔ لہٰذا، میں ممبر سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ بل واپس لے لیں۔تاہم، ممبراسمبلی پلوامہ وحید الرحمان پرہ نے کہا کہ جب ریاستی زمین الاٹ کی جا رہی ہے، اگر آپ PMAY کے تحت بے زمینوں کو زمین اور بے گھر افراد کو گھر دینے کیلئے تیار ہیں، تو کیا آپ ان لوگوں کو بے گھر کر دیں گے جو پہلے سے ہی سرکاری زمین پر رہ رہے ہیں ۔
انہوںنے کہاکہ یہ کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے جموں کشمیر کا مسئلہ ہے۔ آپ کے پاس (نیشنل کانفرنس کے بانی) شیخ عبداللہ کی وراثت ہے جس پر قائم رہنا ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی کے پاس کبھی بھی این سی کی میراث نہیں تھی لیکن، آج وہ اسے یاد کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ”زمین سے جوتنے والے (سینئر عبداللہ کے ذریعہ لاگو قانون) کسانوں کو حقوق دے رہا تھا، زمین پر قبضہ کرنے والوں کو نہیں۔انہوںنے وحید پرہ سے کہاکہ زمین سے جوتی اور جو آپ تجویز کر رہے ہیں اس میں بہت فرق ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاکہ ہم ڈر کے مارے کام نہیں کرتے۔انہوںنے کہاکہ میں کہوں گا کہ اس بل سے فلڈ گیٹس یعنی تمام دروازے کھل جائیں گے۔وحید پرہ کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہ بل سے وزیر اعلیٰ کے رشتہ داروں کو بھی فائدہ پہنچے گا،عمر عبداللہ نے کہاکہ میرے رشتہ دار غیر قانونی قابض نہیں تھے، ان کے پاس لیز تھی جس کی خلاف ورزی کی گئی تھی (دوسری طرف سے)۔انہوں نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے رشتہ داروں کے لیے بھی ایسا بل نہیں لاو ں گا۔ممبراسمبلی پلوامہ وحید الرحمان پرہ کی جانب سے بل واپس لینے سے انکار کے بعد اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے اسے ووٹ کے لیے پیش کیا لیکن اسے صرف 3 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی۔بل کو صوتی ووٹ سے شکست ہو گئی۔ (ایجنسیاں)
جموں و کشمیر
امرناتھ یاترا: جموں و کشمیر پولیس کا جموں شہر میں کرایہ داروں کی تصدیق کا عمل شروع
جموں، جولائی سے شروع ہونے والی سالانہ شری امرناتھ یاترا کے پیشِ نظر، جموں و کشمیر پولیس نے جموں شہر، بالخصوص بھگوتی نگر میں واقع ‘یاتری نواس’ کے قریبی علاقوں میں کرایہ داروں کی بڑے پیمانے پر تصدیق کا عمل شروع کر دیا ہے۔سرکاری ذرائع نے بدھ کے روز بتایا کہ 3 جولائی سے یاترا کے آغاز کے پیشِ نظر سیکورٹی فورسز نے حفاظتی اقدامات کو انتہائی سخت کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں جموں پولیس شہر میں رہنے والے تمام کرایہ داروں کا ایک مکمل ڈیٹا بیس تیار کر رہی ہے، جس میں یاتری نواس کے گردونواح میں رہنے والے افراد پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔یاترا شروع ہونے سے پہلے، حساس علاقوں، یاتریوں کے ٹھہرنے کے مقامات، بڑی مارکیٹوں، لنگر خانوں اور شری امرناتھ یاتری نواس (جو کہ یاتریوں کا بنیادی بیس اسٹیشن ہے) کے ارد گرد کرایہ داروں کی تصدیق کے لیے ایک خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے۔
بھگوتی نگر کے علاقے میں پولیس کی ٹیمیں گھر گھر جا کر کرایہ داروں کی معلومات اکٹھی کر رہی ہیں۔ اس مہم کے تحت کرایہ داروں کے نام، فون نمبر، شناختی دستاویزات (جیسے آدھار کارڈ کی تفصیلات) اور ان کے ممکنہ مجرمانہ ریکارڈ کی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق، جموں پولیس نے تمام اسٹیشن ہاؤس آفیسرز کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ 30 جون 2026 تک اپنے اپنے دائرہ اختیار میں 100 فیصد کرایہ داروں کی تصدیق کے عمل کو ہر حال میں یقینی بنائیں۔دراصل، امرناتھ یاترا کے آغاز سے قبل جموں پولیس کرایہ داروں کا ایک جامع ڈیٹا بیس بنانا چاہتی ہے تاکہ علاقے میں رہنے والے کسی بھی قسم کے سماج دشمن یا ملک دشمن عناصر کی بروقت شناخت کی جا سکے۔
یواین آئی ۔م ا ع
جموں و کشمیر
کٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں بلاو کے مقام پر بدھ کے روز ایک دردناک سڑک حادثہ پیش آیا، جہاں زائرین (عقیدت مندوں) سے بھری ایک مینی بس بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ اس حادثے کے نتیجے میں کم از کم 20عقیدت مند شدید زخمی ہو گئے ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق، یہ مینی بس سانبہ سے بلاور میں واقع مشہور ‘سکرالا ماتا مندر’ کی طرف جا رہی تھی۔ بدھ کی صبح بلاور قصبے سے محض چند کلومیٹر پہلے ہی یہ بس حادثے کا شکار ہو گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ڈرائیور گاڑی کی تیز رفتاری کے باعث اس پر سے اپنا کنٹرول کھو بیٹھا، جس کے نتیجے میں بس سڑک سے نیچے گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس کی ٹیمیں فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر بچاؤ اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اس واقعے میں تقریباً 20 عقیدت مند زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر ملبے سے نکال کر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔پولیس نے حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کر لیا ہے اور حادثے کی وجوہات کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
یواین آئی ۔م ا ع
جموں و کشمیر
سرینگر میں محرم کے جلوس میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے
سرینگر جموں و کشمیر کے سرینگر میں بدھ کو آٹھویں محرم کے روایتی جلوس میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے۔
انتظامیہ نے سرینگر کے اہم علاقے سے سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان گزرنے والے اس جلوس کو مسلسل چوتھے سال اجازت دی ہے۔ جلوس آج صبح گرو بازار سے شروع ہو کر جہانگیر چوک اور مولانا آزاد روڈ سے ہوتے ہوئے ڈلگیٹ پہنچا۔
جلوس میں مذہبی بینر لیے ہوئے لوگ طے شدہ راستے پر آگے بڑھ رہے تھے اور پیغمبر محمد کے نواسے امام حسین کی یاد میں مرثیہ اور نوحہ پڑھ رہے تھے۔ زیادہ تر کالے کپڑے پہنے ہوئے لوگوں نے کربلا میں امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ حکام نے جلوس کے لیے سکیورٹی کے وسیع انتظامات کیے تھے۔ پولیس نے مرکزی مسلح پولیس فورسز اور ٹریفک پولیس کی مدد سے کئی سطحوں والی سکیورٹی کا انتظام کیا تھا، جس میں ڈرون سے نگرانی بھی شامل تھی۔ جلوس کے راستے پر ٹریفک روک دیا گیا تھا۔
سرینگر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سندیپ چکرورتی نے کہا کہ پولیس نے جلوس کے شروعاتی مقام سے لے کر آخری مقام تک کے انتظامات کی باریکی سے منصوبہ بندی کی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارا واحد مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جلوس پرامن اور باوقار طریقے سے ہو۔ اس کے لیے ہمیں پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ عوام کے تعاون اور حمایت کی ضرورت ہے۔”
سول انتظامیہ اور پولیس کے افسران، نیز رضاکار کئی مقامات پر پانی پلاتے ہوئے اور جلوس میں شامل لوگوں کی مدد کرتے ہوئے دیکھے گئے۔
1990 کی دہائی کے اوائل میں دہشت گردی شروع ہونے کے بعد گرو بازار-ڈلگیٹ کا روایتی جلوس تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک بند رہا تھا، جسے 2023 میں پھر سے شروع کیا گیا۔ حکام نے اس ہفتے کے آخر میں ہونے والے 10ویں محرم کے جلوس کے لیے بھی وسیع انتظامات کا اعلان کیا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان7 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
تازہ ترین3 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان1 week ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
دنیا1 week agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا1 week agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
دنیا7 days agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoمجھے حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری کی طرف واپس جا سکتے ہیں: ٹرمپ
ہندوستان1 week ago‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
دنیا6 days agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
دنیا7 days agoاعلیٰ ترین قیادت کے دستخط سے معاہدے کی خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہو گئی: اسماعیل بقائی
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے



































































































