اہم خبریں
پاکستان کے روشن خیال پشتون افغان حکومت کے حامی کیوں؟

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ پاکستان کے شمال مغربی حصے میں رہنے والے لوگ اپنے مذہبی رجحان کے باعث طالبان کے حامی ہیں لیکن یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ اگرچہ ان علاقوں میں بسنے والے کئی لوگ طالبان کو پسند کرتے ہیں لیکن گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایسے لوگوں کی تعداد میں بھی کئی گُنا اضافہ ہوا ہے جو طالبان اور پاکستانی ریاست کی جانب سے ان کی مبینہ حمایت کی مخالفت کرتے ہیں۔
ایسے زیادہ تر پشتون خطے میں جاری نہ ختم ہونے والی جنگ سے بیزار ہو چکے ہیں اور وہ ان علاقوں میں ہونے والی تباہی کی ذمہ داری طالبان اور اسلام آباد حکومت پر عائد کرتے ہیں۔ افغانستان میں طالبان طاقت پکڑ رہے ہیں اور لبرل پشتونوں کو ڈر ہے کہ طالبان پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں بھی پھر سے لوٹ آئیں گے۔
افغان سرحد کے قریبی علاقوں میں ابھی سے طالبان کے جھنڈے تھامے ہوئے پاکستانی شہری کئی مرتبہ نعرہ بازی کرتے دکھائی دے چکے ہیں۔ ملک کے کئی دیگر علاقوں میں بھی مذہبی رہنماؤں کی جانب سے افغان طالبان کی حمایت اور ان کے لیے چندے کی اپیلیں کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ اس طرح کی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب افغانستان سے ستمبر میں نیٹو فورسز کا انخلا مکمل ہونے سے قبل طالبان تیزی سے ملک کے کئی علاقے اپنے کنٹرول میں لے رہے ہیں۔
طالبان کی مخالفت
ترقی پسند پشتونوں نے افغانستان میں سکیورٹی کی بگڑتی صورت حال پر گفتگو کے لیے حال ہی میں خیبرپختونخوا کے شہر چارسدہ میں ایک کنونشن کا انعقاد کیا۔ شرکاء نے افغان فورسز پر طالبان کے حملوں کی مذمت کی اور دوحہ میں امریکا اور طالبان کے مابین طے پانے والے معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈیل اس جنگجو گروپ کو عملی طور پر جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔
کنونشن میں نمایاں قوم پرست پشتون جماعتیں، بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے سیاسی کارکن، دانشور اور ماہرین تعلیم بھی شامل تھے۔ شرکا نے افغانستان بھر میں فوری طور پر جنگ بندی اور امن مذاکرات شروع کیے جانے کے مطالبات کیے۔ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) نے بھی گزشتہ ہفتوں کے دوران خیبر پختونخوا کے کئی شہروں میں بڑے پیمانے پر جلسوں کا انعقاد کیا جن میں طالبان کی مذمت اور افغان حکومت کی حمایت کی گئی۔
اشرف غنی کی حمایت
پی ٹی ایم کے رہنما سید عالم محسود کا خیال ہے کہ اگر طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا تو افغان اور پاکستانی پشتونوں کو ایک سی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے محسود نے کہا، ’’ہم صدر اشرف غنی کی حکومت کی حمایت اس لیے کر رہے ہیں کیوں کہ وہ جائز حکومت ہے۔ طالبان پاکستان کے کرائے کے فوجی ہیں جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔‘‘
سید عالم محسود کا کہنا تھا کہ طالبان کے برعکس اشرف غنی کی حکومت نے افغانستان میں کئی ترقیاتی منصوبے مکمل کیے اور ان کے اقتدار کے دوران ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال میں بھی بہتری آئی۔
پاکستانی اسمبلی کی سابق رکن اور پشتون سیاست دان بشریٰ گوہر بھی محسود کے اس تجزیے سے اتفاق کرتی ہیں۔ بشریٰ گوہر کے مطابق، ’’پی ٹی ایم اور دیگر پشتون گروپ اشرف غنی کی حمایت اس لیے کر رہے ہیں کیوں کہ ہمارے لوگ طالبان کے وحشیانہ دور اقتدار کی طرف نہیں لوٹنا چاہتے۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ طالبان کی پیش قدمی کے باوجود افغان ان کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں: ’’ہم نے افغانستان میں طالبان کے خلاف بغاوت شروع ہوتے دیکھی ہے۔ عوام حکومت اور سکیورٹی فورسز کی حمایت میں سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔‘‘
پشاور میں مقیم سیاسی تجزیہ کار صائمہ آفریدی کہتی ہیں کہ سرحد کے دونوں طرف مقیم پشتون تعلیم، انسانی حقوق اور جمہوریت چاہتے ہیں جب کہ طالبان ان چیزوں کے خلاف ہیں۔
’پراجیکٹ طالبان‘
پاکستانی حکام کافی عرصے سے لبرل پشتون گروپوں اور پی ٹی ایم پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کے کہنے پر ملک میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں۔ پی ٹی ایم نے گزشتہ چار برسوں کے دوران نمایاں طور پر مضبوط ہوئی ہے اور ان کے جلسوں میں ہزاروں افراد شریک ہوتے رہے ہیں۔ ان کے حامی دہشت گردی کے خلاف جنگ پر تنقید کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے باعث افغانستان اور پاکستان کے پشتون علاقے متاثر ہوئے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں ایریا اسٹڈی سینٹر کے سابق سربراہ سرفراز خان کا کہنا ہے کہ اگر صدر اشرف غنی کی حکومت ختم ہو گئی تو پی ٹی ایم کو شدت پسند اور پاکستانی حکام، دونوں ہی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی پسند پشتونوں کو ہدف بنایا گیا تو اس خطے میں تباہ کن نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ سرفراز خان کہتے ہیں کہ یہ گروہ اب تک پر امن ہیں لیکن اگر انہیں نشانہ بنایا گیا تو وہ بھی ہتھیار اٹھا سکتے ہیں۔
بشریٰ گوہر کہتی ہیں کہ پاکستان کو ’پراکسی وار‘ اور ’طالبان پراجیکٹ‘ ختم کر کے افغان تنازعے کے حوالے سے اپنی پالیسی بدلنے کی ضرورت ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے بشریٰ گوہر کا کہنا تھا، ’’اقوام متحدہ کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ طالبان کا دوحہ میں دفتر، ان کے پاکستان اور دیگر جگہوں پر ٹھکانے فوری طور پر ختم کیے جائیں اور طالبان رہنماؤں پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ ان پر جنگی جرائم کے مقدمات چلنا چاہییں۔ طالبان کی مدد کرنے والے ممالک پر بھی پابندیاں لگانا چاہییں۔ اب افغانوں کی نسل کشی ختم ہو جانا چاہیے۔‘ع
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

جموں و کشمیر6 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
ہندوستان6 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا6 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
جموں و کشمیر6 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا4 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا7 days agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا1 week agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
دنیا6 days agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
دنیا4 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب




































































































