اہم خبریں
کشمیر پریمیئر لیگ، پی سی بی بھارتی کرکٹ بورڈ سے نالاں کیوں ہے؟

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ہفتے کو ایک بیان میں بھارتی کرکٹ بورڈ سے کہا تھا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور غیر ملکی کھلاڑیوں پر کے پی ایل میں حصہ نہ لینے کے لیے دباؤ ڈالنے سے گریز کرے۔
یہ معاملہ اس وقت موضوعِ بحث بنا جب جنوبی افریقہ کے سابق جارح مزاج اوپننگ بلے باز ہرشل گبز نے ٹوئٹ کی کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے اُنہیں کہا گیا ہے کہ اگر وہ کشمیر پریمیئر لیگ کا حصہ بنے تو اُنہیں کرکٹ کے حوالے سے کسی بھی سرگرمی میں شرکت کے لیے بھارت میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ہرشل گبز کا اپنی ٹوئٹ میں مزید کہنا تھا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے سیاسی معاملات کو کرکٹ میں لانا غیر ضروری ہے۔
Completely unnecessary of the @BCCI to bring their political agenda with Pakistan into the equation and trying to prevent me playing in the @kpl_20 . Also threatening me saying they won’t allow me entry into India for any cricket related work. Ludicrous ?
— Herschelle Gibbs (@hershybru) July 31, 2021
خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کشمیر تقسیمِ ہند کے بعد سے ہی برقرار ہے۔ دونوں ممالک کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیتے ہیں اور یہ علاقہ پاکستان اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بٹا ہوا ہے۔
ہرشل گبز کی اس ٹوئٹ کے بعد پی سی بی نے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کا یہ اقدام بین الاقوامی روایات اور کرکٹ جیسے جینٹلمین گیم کی روح کے منافی اور دوسرے ممالک کے کرکٹ بورڈز کے معاملات میں مداخلت ہے۔
پی سی بی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کا یہ اقدام ناقابلِ قبول اور کھیل کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
پی سی بی کے بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ معاملہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی سطح پر بھی اُٹھایا جائے گا۔
کشمیر پریمیئر لیگ کیا ہے؟
کشمیر پریمیئر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر مظفر آباد میں رواں ماہ چھ اگست سے شروع ہو رہی ہے جسے پاکستانی حکومت اور کرکٹ بورڈ کی منظوری حاصل ہے۔ ایونٹ کا فائنل 17 اگست کو کھیلا جائے گا۔
ایونٹ میں چھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن کا نام ریجن کے اہم شہروں مظفر آباد، باغ، کوٹلی، راولا کوٹ اور میر پور سے منسوب کیا گیا ہے۔
کرکٹ ویب سائٹ ‘کرک انفو’ کی رپورٹ کے مطابق شاہد آفریدی، شعیب ملک، عماد وسیم، محمد حفیظ، کامران اکمل اور شاداب خان ٹیموں کی قیادت کریں گے۔
جن غیر ملکی کھلاڑیوں نے ایونٹ میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے ان میں ہرشل گبز کے علاوہ انگلینڈ کے سابق اسپنر مونٹی پنیسر، انگلیںڈ کے میٹ پرائر، فل مسٹرڈ، ویسٹ انڈیز کے ٹینو بیسٹ اور سری لنکا کے سابق اوپننگ بلے باز تلکا رتنے دلشان شامل ہیں۔
بھارتی کرکٹ بورڈ کا ردِعمل
بھارتی خبر رساں ادارے ‘اے این آئی’ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ نے ہرشل گبز اور پی سی بی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
‘اے این آئی’ کے مطابق بی سی سی آئی کے ایک اہل کار کا کہنا ہے کہ ہرشل گبز میچ فکسنگ کے الزامات کے تحت بھارتی سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیش (سی بی آئی) کی تحقیقات میں شاملِ تفتیش رہ چکے ہیں۔ لہٰذا پی سی بی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر گبز کے بیان کو درست بھی مان لیا جائے تو بھی بھارتی کرکٹ بورڈ کرکٹ میں شفافیت کے لیے اقدامات کا حق رکھتا ہے۔
بی سی سی آئی اہل کار کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس معاملے پر کنفیوژ دکھائی دیتا ہے۔ کیوں کہ کسی بھی کھلاڑی کو اپنے ملک میں کھیلنے کی اجازت دینے یا نہ دینے کا حق مذکورہ ملک کا ہے۔
بی سی سی آئی اہل کار نے ‘اے این آئی’ کو بتایا کہ پی سی بی شوق سے یہ معاملہ آئی سی سی کے سامنے اُٹھائے۔
اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی دونوں ممالک کے صارفین کا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
کرکٹ ماہر ڈاکٹر نعمان نیاز نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ردِعمل کو سراہا ہے۔ اپنی ٹوئٹ میں اُن کا کہنا تھا کہ کرکٹ سیاست اور تنازعات سے پاک رہنی چاہیے۔
PCB’s reaction over BCCI forcing other boards to stop their retired cricketers from participating in the Kashmir Premier League is welcoming. We need to show solidarity & condemn such a petty act. Cricket is much bigger than it’s commercial value & way above small town politics.
— Dr. Nauman Niaz (@DrNaumanNiaz) July 31, 2021
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے بھی اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ایک بار پھر بھارتی کرکٹ بورڈ کھیل کو سیاست میں دھکیل رہا ہے۔
Really disappointing that BCCI is once again mixing cricket and politics! KPL is a league for Kashmir, Pakistan and cricket fans around the world. We will put up a wonderful show and won’t be deterred with such behaviour!! https://t.co/J9XcbEeUF6
— Shahid Afridi (@SAfridiOfficial) July 31, 2021
ایک صارف اشعر رضا خان نے تو یہاں تک مطالبہ کر دیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اکتوبر میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے سے انکار کر دینا چاہیے۔
Pakistan Should boycott India match in t20 cup. They deliberately put pak india in one group to generate revenue. Otherwise according to ranking they shouldn’t be in same group. So pak can hit them that way. But not sure if PCB has guts to do that. #boycottindiancricket
— Ashar Raza Khan (@asharrkhan1) July 31, 2021
راگوان چندک نامی بھارتی صارف نے ٹوئٹ کی ہے کہ جو بھی کشمیر پریمیئر لیگ میں کھیلنا چاہتا ہے تو کھیلے اس کے بعد اس کے لیے بھارت میں کرکٹ کے دروازے بند ہو جائیں گے۔
And for us Our India?? comes first And then others…If anyone want to play there they can freely but after that Their relations with bcci are over and they can’t work with them ….But this things will Not last long as POK will be under control of India soon..#India ??
— Raghav Chandak (@IamRvCk) July 31, 2021
ایک اور بھارتی صارف نے ہرشل گبز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس علاقے میں آپ کشمیر پریمیئر لیگ کے میچز کھیلنے جائیں گے وہ بھارت کا ‘حصہ’ ہے۔ لہٰذا ایسا کر کے ایک طرح سے آپ بھارت کی مخالفت کریں گے۔
The place where the matches will be played is legal area of Union of India, illegally occupied by pakistan so you taking part in that Kashmir premier league is going against the Union of India. It means you support the illegal occupatian of Kashmir by Pakistan.
— ?? (@Dinshastic) July 31, 2021
پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں سرد مہری کے باعث دونوں ممالک کی کرکٹ ٹیمیں صرف انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ایونٹس یا ایشیا کپ میں ہی مدِ مقابل آتی ہیں۔
دونوں ممالک کی ٹیمیں اکتوبر میں متحدہ عرب امارات اور عمان میں شیڈول آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ایک دوسرے کا سامنا کریں گی۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

جموں و کشمیر6 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
ہندوستان6 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا6 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
جموں و کشمیر6 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا4 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا6 days agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
دنیا4 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
دنیا4 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا


































































































