اہم خبریں
کورونا کی دوسری لہر کا قہر جاری! ہندوستان میں نئے معاملوں کی تعداد 3 لاکھ اور اموات 2 ہزار سے زیادہ

نئی دہلی: ملک میں کورونا کی دوسری لہر قہر برپا کررہی ہے اور پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران انفیکشن کے تین لاکھ سے زیادہ نئے معاملے سامنے آئے ہیں جبکہ دوسرے دن، دو ہزار سے زیادہ متاثرہ افراد کی موت ہوئی ہے۔ دریں اثنا، ملک میں بدھ کے روز 2211334 افراد نے کورونا کا ٹیکہ لگوایا تھا اور اب تک 13 کروڑ 23 لاکھ 30 ہزار 644 افراد کی ٹیکہ کاری کی جاچکی ہے۔
جمعرات کی صبح مرکزی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 314835 نئے کیسز کی آمد کے ساتھ ہی ، متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر ایک کروڑ 59 لاکھ 30 ہزار 965 ہوگئی ہے۔ فعال معاملات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ، ان کی تعداد بڑھ کر 2291428 ہوگئی ہے۔ دوسری طرف ریکارڈ 178841 مریض صحتمند بھی ہوئے ، جنہیں ملاکراب تک ایک کروڑ 34 لاکھ 54 ہزار 880 افراد نے کورونا کو شکست دے چکے ہیں۔
اسی عرصے میں مزید 2104 مزید مریضوں کی موت سے ، اس مرض سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 184657 ہوگئی ہے۔ ملک میں ری کوری کی شرح 84.46 فیصد اور فعال کیسوں کی شرح بڑھ کر 14.38 فیصد ہوگئی ہے جبکہ اموات کی شرح کم ہوکر 1.16 فیصد ہوگئی ہے۔
مہاراشٹرا کورونا کے فعال معاملات میں سرفہرست ہے اور ریاست میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 11915 سرگرم کیسوں بڑھ کر 697467 ہوگئے ہیں۔ اس دوران ، ریاست میں مزید 54985 مریضوں کی شفایابی کے بعد کورونا کو شکست دینے والوں کی تعداد بڑھ کر 3268449 ہوگئی ہے ، جبکہ مزید 568 مریضوں کی ہلاکت کے ساتھ اموات کی تعداد 61911 ہوگئی ہے۔
کیرالہ میں ، فعال معاملات کی تعداد 16961 بڑھ کر 135957 ہوگئی اور 5431 مریضوں کی شفاہانہ کے ساتھ ہی ، کورونا کو شکست دینے والوں کی تعداد بڑھ کر 1154102 ہوگئی ، جب کہ 22 مزید مریضوں کی موت سے یہ تعداد پانچ ہزار ہوگئی ہے۔ کرناٹک میں کورونا کے فعال معاملات کی تعداد 17030 کے اضافے کے ساتھ 176207 ہوگئی ہے۔ ریاست میں اموات کی تعداد 13762 ہوگئی ہے اور اب تک 1032233 مریض ٹھیک ہو چکے ہیں۔
قومی دارالحکومت دہلی میں ، کورونا کے فعال معاملات میں 211 کی کمی واقع ہوئی ہے اور اب ان کی تعداد 85364 ہوگئی ہے۔ یہاں اب تک 12887 افراد اس بیماری سے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 831928 مریضوں نے کورونا کو شکست بھی دی ہے۔
تلنگانہ میں فعال معاملات بڑھ کر 49781 ہوچکے ہیں اور 1899 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 321788 افراد اس وبا سے صحت مند ہو چکے ہیں۔ آندھرا پردیش میں سرگرم معاملات کی تعداد 6319 سے بڑھ کر 60208 ہوگئی ہے۔ ریاست میں کورونا کو شکست دینے والوں کی تعداد 918985 تک جا پہنچی ہے جبکہ 7510 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ تامل ناڈو میں سرگرم معاملات کی تعداد 4557 بڑھ کر 84361 ہوگئی ہے اور اب تک 13258 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ وہیں ریاست میں 927440 مریض انفیکشن سے پاک ہوچکے ہیں۔
آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش نے پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ 18721 فعال معاملوں کا اضافہ ہوا ہے اور اب یہ تعداد بڑھ کر 242265 ہوگئی ہے۔ ریاست میں اس وبا کی وجہ سے اب تک 10346 متاثرہ فوت ہوئے ہیں اور 689900 مریض صحت مند ہوچکے ہیں۔
چھتیس گڑھ کورونا کے فعال معاملات میں دوسرے دن بھی کمی آئی ہے اور ان کی تعداد 2937 سے گھٹ کر 122751 ہوگئی ہے۔ ریاست میں ، 459600 افراد کورونا کو شکست دے ہوچکے ہیں جبکہ 193 مزید مریض اس وبا سے لقمہ اجل بن چکے ہیں انہیں ملاکر ان کی تعداد بڑھ کر 6467 ہوگئی ہے۔ مدھیہ پردیش میں ، فعال کیس 3997 سے بڑھ کر 82268 ہوچکے ہیں اور اب تک 359755 افراد صحت مند ہوچکے ہیں جبکہ 4788 افراد اس مرض کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔
پنجاب میں فعال کیسز کی تعداد 2157 سے بڑھ کر 38866 ہوگئی ہے اور انفیکشن سے راحت حاصل کرنے والے افراد کی تعداد 267289 ہوگئی ہے جبکہ 8114 مریض دم توڑ چکے ہیں۔ گجرات میں ، فعال کیسوں کی تعداد 7626 بڑھ کر 84126 ہوگئی ہے اور اب تک 5740 افراد کی موت ہوچکی ہے۔ ریاست میں 350865 مریض انفیکشن سے نجات بھی پاچکے ہیں۔ ہریانہ میں اس دوران فعال معاملات کی تعداد 5650 بڑھ کر 55422 ہوگئی ہے۔ ریاست میں ، اس وبا کی وجہ سے 3528 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور اب تک 322297 افراد اس انفیکشن سے ٹھیک ہو چکے ہیں۔
مغربی بنگال میں کورونا وائرس کے فعال معاملے 5110 بڑھ کر 63496 ہوچکے ہیں اور اس وبا کے انفیکشن کی وجہ سے 10710 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ریاست میں اب تک 614750 افراد شفایاب ہوئے ہیں۔ بہار میں ، فعال کیسوں کی تعداد 7392 بڑھ کر 63747 ہوگئی ہے۔ ریاست میں اب تک 1897 افراد کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 288637 مریض صحت مند ہوچکے ہیں۔
کورونا وبا سے اب تک راجستھان میں 3330 ، جموں و کشمیر میں 2084 ، اوڈیشہ میں 1958، اتراکھنڈ میں 1953، جھارکھنڈ میں 1609 ، ہماچل پردیش میں1236 ، آسا میں 1150 ، گوا میں 943 ، پوڈوچیری میں 722 ، چندی گڑھ میں 423 ، تریپورہ میں 394 ،،منی پور میں 380، میگھالیہ میں 157 ، سکم میں 136 ، لداخ میں 134 افراد ، ناگالینڈ میں94، اینڈومان نکوبار جزائر میں64، اروناچل پردیش میں 56، میزورم میں 12، دادر ونگر حویلی اور دمن و دیو اور لکشدیپ میں ایک ایک شخ کی موت ہوئی۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر7 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
کھیل1 week agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
ہندوستان6 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا5 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا1 week agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا4 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا6 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا1 week agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی
دنیا7 days agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران









































































































