جموں و کشمیر
عظیم الشان تعلیمی کانفرنس سرینگر میں منعقد، آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ڈائریکٹر اور بھارتیہ شکشا بورڈ کے چیئرمین نمایاں مہمانوں میں شامل

بھارتیہ شکشا بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر ناگندر سنگھ کی جموں و کشمیر کے نجی تعلیمی شعبے کو مکمل تعاون کی یقین دہانی
“تجدیدِ تعلیم کا آغاز کلاس رومز سے ہونا چاہیے”: آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ڈائریکٹر پروفیسر بی ایس مورتی کی اصلاحِ تعلیم پر زور
جے کے بورڈ کی بڑھتی مشکلاتپیشِ نظر: اگر تعلیمی مسائل حل نہ ہوئے تو قومی بورڈز کا رخ ناگزیر ہوگا: صدر پی ایس اے جے کے، جی این وار
“جدید نظامِ تعلیم ہی کشمیر کو عالمی قیادت کے سفر پر لے جا سکتا ہے”: بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ ماہرِ تعلیم اشوک کمار
سرینگر، جموں و کشمیر میں تعلیمی چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل کے موضوع پر ایک غیر معمولی، تاریخی اور فکرانگیز تعلیمی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے ممتاز ماہرینِ تعلیم، اعلیٰ تعلیمی اداروں کے عہدیداران، ماحولیاتی ماہرین اور نجی اسکولوں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ یہ اہم کانفرنس کریسنٹ پبلک اسکول، نسیم باغ، سرینگر میں منعقد ہوئی۔
کانفرنس کا آغاز ایک پُراثر اور پُرتپاک استقبالیہ تقریب سے ہوا، جہاں معزز مہمانوں کا خیرمقدم پھولوں کے گلدستوں سے کیا گیا اور ان کی خدمت میں کشمیری روایتی شال بطور تحفہ و اعزاز پیش کی گئیں—جو وادی کی مہمان نوازی، تہذیب اور ثقافتی ورثے کی روشن علامت ہیں۔
شرکاء میں شامل ممتاز شخصیات: ڈاکٹر ناگندر سنگھ (آئی اے ایس)، چیئرمین، بھارتیہ شکشا بورڈ؛ پروفیسر بی ایس مورتی، ڈائریکٹر آئی آئی ٹی حیدرآباد؛ پروفیسر نصیر اقبال، رجسٹرار، یونیورسٹی آف کشمیر؛ اشوک کمار ٹھاکر، بین الاقوامی اعزاز یافتہ ماہرِ تعلیم و چیئرمین مونی انٹرنیشنل اسکول نئی دہلی؛ پروفیسر ایم اے شاہ، این آئی ٹی سرینگر۔
علاقائی قائدین کی نمایاں شرکت: جی این وار (صدر، پی ایس اے جے کے، منظور احمد ونگنو (چیئرمین، بلالیہ ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ)، انجینئر محمد شکیل ڈار (چیئرمین) و انجینئر محمد شاہد ڈار (ڈائریکٹر، کریسنٹ اسکول)، مشتاق کینی (سینئر تعلیمی رہنما)، عشرت ٹنکی (صدر خواتین ونگ پی ایس اے جے کے)، فیصل اسلام میر (جنرل سیکرٹری)، شاہ گلزار (چیف آرگنائزر)، مجید بٹ (ڈویژنل آرگنائزر)، بلال بٹ (ضلع صدر)، طاہر وگے (ضلع سیکرٹری)، سیدہ رفیدہ صولیحہ (پی آر او) کے علاوہ ایم وائی وانی (چیئرمین گرین ویلی) اور فاروق فاضلی (چیئرمین، ڈالفن اسکول) وغیرہ۔
بھارتیہ شکشا بورڈ، چیئرمین ڈاکٹر ناگندر سنگھ (آئی اے ایس) نے اپنے خطاب میں کہاکہ “بھارتیہ شکشا بورڈ ایک قانونی طور پر تسلیم شدہ قومی تعلیمی بورڈ ہے، جس کا مقصد ہندوستانی تہذیب اور فکری ورثے پر مبنی ایک خالص دیسی نظامِ تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ اس بورڈ کی اسناد کو ملک بھر میں تعلیمی اور ملازمت کے تمام مقاصد کے لیے مکمل طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔”
انہوں نے وضاحت کی کہ “بھارتیہ شکشا بورڈ، CBSE اور دیگر قومی بورڈز کے مساوی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر آپ وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند کی ویب سائٹ، خصوصاً شعبہ اسکول ایجوکیشن و خواندگی (Department of School Education & Literacy) پر جائیں، تو آپ دیکھیں گے کہ CBSE اور بھارتیہ شکشا بورڈ دونوں کو قومی تعلیمی بورڈز کے طور پر سرکاری سطح پر درج کیا گیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا “یہ پہلا موقع ہے کہ حکومتِ ہند نے اپنے طور پر ایک قومی تعلیمی بورڈ قائم کیا ہے۔ اس بورڈ کو انڈین یونیورسٹیز کی ایسوسی ایشن (AIU) نے مساوات کا درجہ دے رکھا ہے، جس سے اس کی اسناد کو ملک گیر سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔”
جموں و کشمیر کے تعلیمی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے کہا “کشمیر نے ہندوستانی تہذیب اور علمی شناخت کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستان کے عروج کی کہانی، کشمیر کی علمی، روحانی اور خدماتی بلندیوں کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ یہ سرزمین ہمیشہ سے عظیم شخصیات کی جنم بھومی رہی ہے۔”
انہوں نے جموں و کشمیر کے نجی اسکولوں کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات اور مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا “ایک قومی تعلیمی بورڈ کے نمائندے کی حیثیت سے، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے تمام مسائل کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور ان کے قابلِ عمل حل تلاش کیے جائیں گے۔”
اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا “ایک سینئر آئی اے ایس آفسر کی حیثیت سے، جس نے 34 برس پالیسی اور انتظامی شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں، میں بخوبی جانتا ہوں کہ پالیسی سازی میں بعض اوقات غلط فہمیاں کس طرح جنم لیتی ہیں۔ لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایک ٹیم کی صورت میں ہم مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے کام کریں گے۔”
ڈائریکٹر آئی آئی ٹی حیدرآباد پروفیسر بی ایس مورتی نے اپنے خطاب میں کہا “ہندوستان اُس وقت ایک ترقی یافتہ ملک بنے گا جب ہمارا نظامِ تعلیم طلبہ کو صرف اچھی ملازمتوں کے حصول کی ترغیب نہ دے، بلکہ انہیں بامقصد اختراعات کرنے، خود روزگار پیدا کرنے اور قوم کی تعمیر میں بھرپور حصہ لینے کے قابل بھی بنائے۔”
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ “قومی فخر، بین الشعبہ جاتی سوچ اور تخلیقی آزادی جیسے عناصر کا فروغ اسکول کی سطح سے ہی شروع ہونا چاہیے۔ ہم جب تک طلبہ کے اندر یہ جذبہ پیدا نہیں کریں گے، ہم ’وکست بھارت‘ کا خواب پورا نہیں کر پائیں گے۔”
پروفیسر مورتی نے آئی آئی ٹی حیدرآباد میں رائج اختراعی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا “ہمارے یہاں طلبہ کو پہلے ہی سال سے اپنا کاروباری خیال عملی شکل دینے کے لیے سیمسٹر بریک کی اجازت دی جاتی ہے۔ ہم انہیں ابتدائی سرمایہ (Seed Funding) بھی فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے منصوبوں پر کام کر سکیں۔”
پروفیسر مورتی نے کہا کہ آئی آئی ٹی حیدرآباد میں اب تک 260 سے زائد اسٹارٹ اپس وجود میں آ چکے ہیں، جنہوں نے 1500 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ یہ ایک زندہ مثال ہے کہ اگر نوجوان ذہنوں کو سازگار ماحول، اعتماد اور وسائل میسر آئیں، تو وہ محض خواب نہیں دیکھتے بلکہ اُنہیں عملی شکل دے کر انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جذبے، اس سوچ اور اس نظام کو ملک کے ہر اسکول اور ہر تعلیمی ادارے تک وسعت دی جائے۔”
پروفیسر نصیر اقبال، رجسٹرار، یونیورسٹی آف کشمیر نے کہا “یونیورسٹی سب کے لیے ہے۔ میں یہاں موجود تمام طلبہ کو یہی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ دل کے ساتھ محنت کریں، اپنے اساتذہ اور والدین کا احترام کریں، اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔ آپ کے خواب قابلِ قدر ہیں، اور اگر آپ اخلاص، محنت اور نظم و ضبط کو اپنا شعار بنائیں گے، تو یقیناً آپ اُنہیں حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں اور اپنے والدین کا فخر بن سکتے ہیں”۔
میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یونیورسٹی آف کشمیر وادی کے تمام اسکولوں کے لیے کھلی ہے۔ اگر ہم، ایک یونیورسٹی کے طور پر، معاشرے سے تعلق مضبوط نہیں کریں گے، تو پھر یہ فریضہ کون ادا کرے گا؟ یہ ادارہ طلبہ کا ہے، اور میرے دفتر کے دروازے ہمیشہ آپ کے لیے کھلے ہیں۔”
“میرے تجربے میں، طلبہ کی تین اقسام سامنے آئی ہیں۔ پہلی قسم اُن طلبہ کی ہے جو بالکل غیر سنجیدہ ہوتے ہیں، وہ صرف والدین کے دباؤ پر اسکول آتے ہیں، اُن کا کوئی مقصد یا شوق نہیں ہوتا۔ میں سچائی سے کہتا ہوں کہ اگر آپ اس زمرے میں آتے ہیں، تو مستقبل آپ کے لیے سخت دشوار ہوگا۔ جب تک آپ خود اپنی مدد نہیں کریں گے، کوئی آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔
دوسری قسم میں وہ طلبہ آتے ہیں جو مخلص اور سنجیدہ ہوتے ہیں۔ اُن کے لیے دنیا کے دروازے کھلے ہیں۔ ملک و بیرونِ ملک میں مواقع آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ کو صرف محنت کرنی ہے، اپنے اساتذہ کا احترام، والدین سے محبت اور اپنی ذمہ داری کا احساس رکھنا ہے۔ یہ کہنا کہ نوکریاں نہیں ہیں، محض ایک افسانہ ہے۔
میری طلبہ سے عاجزانہ گزارش ہے: یہ وقت آپ کا ہے—اسے ضائع نہ کریں۔ محنت کریں۔ ایک اچھے سول سرونٹ، پروفیسر، یا کسی بھی شعبے کے ماہر بنیں۔ اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کریں۔ اُن کی محبت اور قربانیوں کا بدلہ ادا کریں۔ تبدیلی ہمیشہ فردِ واحد سے شروع ہوتی ہے۔ کسی اور کے انتظار میں مت رہیں—پہلا قدم آپ خود اٹھائیں۔”
صدر پی ایس اے جےکے، جی این وار نے اپنے خطاب میں کہا کہ”جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے پیدا کی جانے والی مسلسل رکاوٹوں، غیر ضروری این او سی کی شرائط، فیسوں میں بلا جواز اضافے، جی ایس ٹی کے نفاذ، اور تاخیر سے فیس جمع ہونے کے بہانے سے طلبہ کو ہراساں کیے جانے جیسے مسائل کے پیش نظر، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن سنجیدگی سے قومی تعلیمی بورڈز کے ساتھ رجسٹریشن اور ایفلیشن پر غور کر رہی ہے”۔
اس وقت رجسٹریشن اور تجدید سے متعلق سینکڑوں فائلیں زیر التوا ہیں اور اسکولوں کو مختلف غیر ضروری کاغذی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ ان مسائل کو بارہا اجاگر کیا گیا ہے اور جموں و کشمیر کی اعلیٰ ترین انتظامیہ کی توجہ میں بھی لایا گیا ہے، لیکن بدقسمتی سے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اُٹھایا گیا۔
حال ہی میں جے کے بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے چند معمولی تکنیکی نکات کی بنیاد پر طلبہ کو امتحانات میں شرکت کی اجازت نہ دینا — حالانکہ اسکولوں نے تمام بنیادی تقاضے پورے کیے تھے — ایک انتہائی بیوروکریٹک اور غیر حساس رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
“ہم ایک بار پھر انتہائی مؤدبانہ انداز میں حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ نجی تعلیمی اداروں کو درپیش دیرینہ اور سنگین مسائل کا فوری اور جامع حل نکالا جائے۔ اگر معاملات اسی طرح التوا کا شکار رہے، تو ہم قوم کے مفاد اور طلبہ کے روشن مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارتیہ شکشا بورڈ یا دیگر قومی بورڈز سے الحاق کا سنجیدگی سے جائزہ لینے پر مجبور ہوں گے۔ ہماری اولین ترجیح ہمیشہ طلبہ کا مستقبل رہی ہے، اور اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ تعلیم کسی کی انا یا بیوروکریسی کا شکار نہیں بننی چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تعلیمی شعبے کو سیاست اور پیچیدہ عمل سے نکال کر اصلاحات کی راہ پر ڈالا جائے۔”
بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ ماہرِ تعلیم، اشوک کمار ٹھاکر نے کہا “تعلیم محض نصابی کتابوں کے صفحات یا امتحانات کی کامیابیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس کا دائرہ فکر و شعور، خود شناسی، خود مختاری اور قیادت کے جوہر تک پھیلنا چاہیے۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو صرف روزگار کے پیچھے نہ دوڑے، بلکہ اپنے کردار، وژن اور عمل سے معاشرے میں بیداری اور تبدیلی کی شمع روشن کرے۔ کشمیر کے نوجوان فکری بالیدگی، تخلیقی قوت اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ انہیں صرف ایک ایسا تعلیمی نظام درکار ہے جو ان کے خوابوں کو پر دے، ان کی سوچ کو وسعت دے، اور انہیں عالمی سطح پر قیادت کی نئی راہوں پر گامزن کرے۔ تعلیم اگر دلوں کو روشن کرے، تو قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔”
پروفیسر ایم اے شاہ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (NIT) سرینگر نے کہا “کشمیر ہمیشہ سے ایک علمی اور فکری مرکز رہا ہے۔ ہمیں اپنی اس شان دار علمی روایت کو برقرار رکھنے کے لیے سائنسی تعلیم کو اسکولوں کی سطح پر عام اور قابلِ رسائی بنانا ہوگا۔ صرف نظری علم کافی نہیں، ہمیں طلبہ کو تجرباتی طریقے سے سکھانا ہوگا تاکہ وہ سائنسی حقائق کو محسوس کر سکیں، سمجھ سکیں، اور ان پر تحقیق کر سکیں۔ مستقبل ان ہی طلبہ کا ہے جو تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔”
چیف آرگنائزر، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن شاہ گلزار نے اپنے خطاب میں کہا “یہ تعلیمی کانفرنس جموں و کشمیر میں نجی تعلیمی شعبے کے لیے ایک تاریخ ساز لمحہ ہے۔ یہ صرف ایک اجتماع نہیں بلکہ ایک مشترکہ عزم ہے—طلبہ کی بہتری، معیاری تعلیم، اور ایک روشن تعلیمی مستقبل کے لیے۔ میں دل کی گہرائیوں سے تمام معزز مہمانوں، اساتذہ، ماہرین تعلیم، اسکول منتظمین، اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی وقت اور خیالات سے اس کانفرنس کو کامیاب بنایا۔ ہم جانتے ہیں کہ آگے راستہ مشکل ہے، لیکن اگر ہم سب متحد رہیں، تو ہر رکاوٹ کو عبور کیا جا سکتا ہے اور تعلیمی شعبے میں ایک مؤثر اور دیرپا تبدیلی ممکن ہے”۔
کانفرنس ایک پرامید عزم پر اختتام ہوئی—ایک ایسے نظامِ تعلیم کی تشکیل پر اتفاق، جو برابری، جدت اور ہمدردی کے اصولوں پر مبنی ہو، تاکہ جموں و کشمیر کے نوجوان عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔
جموں و کشمیر
آکاشوانی سری نگر نے خصوصی شری امرناتھ جی یاترا 2026 نشریات کا افتتاح کیا
سری نگر، جموں و کشمیر میں آکاشوانی کے سری نگر مرکز نے جمعہ کو سالانہ شری امرناتھ یاترا کے لیے خصوصی طور پر قائم کیے گئے جدید ترین براڈکاسٹ اسٹوڈیو کا افتتاح کیا۔
حکام نے بتایا کہ اس خصوصی سہولت کا قیام یاترا کے پورے دورانیے میں دنیا بھر کے یاتریوں اور عقیدت مندوں کو بلا رکاوٹ اعلیٰ معیار کی ریڈیو اور ڈیجیٹل نشریاتی خدمات فراہم کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔
اس خصوصی اسٹوڈیو کا باقاعدہ افتتاح آکاشوانی سری نگر کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (انجینئرنگ) اور دفتر کے سربراہ گربندر سنگھ نے پروگرام ہیڈ (اسسٹنٹ ڈائریکٹر پروگرام) غلام رسول اخون، پروگرام ایگزیکٹو سریش چند مینا اور انجینئرنگ و پروگرام شعبوں کے دیگر سینئر افسران کی موجودگی میں انجام دیا۔
اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گربندر سنگھ نے شری امرناتھ جی یاترا سے متعلق خصوصی نشریات کو ایک منفرد نشریاتی اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نشریاتی سروس بالتال اور پہلگام، دونوں یاترا راستوں کا احاطہ کرتی ہے۔
انہوں نے اس خصوصی اسٹوڈیو کو یاترا کی نشریات کے میدان میں ایک اہم تکنیکی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یاترا سے وابستہ تمام متعلقہ فریقوں کے فائدے کے لیے اعلیٰ معیار کی نشریات کو یقینی بنانے کی غرض سے جدید ترین ڈیجیٹل آڈیو ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔
گربندر سنگھ نے بتایا کہ خصوصی شری امرناتھ جی یاترا 2026 کی نشریات 103.7 میگا ہرٹز ایف ایم بالتال، 100.1 میگا ہرٹز ایف ایم پہلگام، ویوز اوور دی ٹاپ پلیٹ فارم، ڈائریکٹ ٹو ہوم (ڈی ٹی ایچ) سروسز، نیوز آن اے آئی آر کے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ایپلی کیشنز، نیز آکاشوانی آرادھنا چینل پر دستیاب ہوں گی۔
یو این آئی۔ اے ایم
جموں و کشمیر
ای او ڈبلیو نے بیرونِ ملک ملازمت دلانے کے نام پر دھوکہ دہی کرنے والے تعلیمی مشیر کے خلاف چارج شیٹ داخل کی
سری نگر، جموں و کشمیر کی اقتصادی جرائم کی روک تھام سے متعلق شاخ (ای او ڈبلیو) نے بحرین میں ملازمت دلانے کا جھانسہ دے کر متعدد نوجوانوں سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے کی دھوکہ دہی کرنے کے الزام میں سری نگر کے ایک تعلیمی مشیر کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں داخل کر دی ہے۔ حکام نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔
سال 2021 کے اس مقدمے میں سری نگر کے جامع مسجد علاقے کے عالی کدل کے رہائشی فیاض احمد زرگر کے خلاف چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، سری نگر کی عدالت میں دھوکہ دہی اور جعلسازی کے الزامات کے تحت چارج شیٹ پیش کی گئی ہے۔
ای او ڈبلیو کے مطابق یہ مقدمہ ایک تحریری شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزم سری نگر کے کران نگر میں میسرز ایچ آر چوائس انٹرنیشنل ایجوکیشن کنسلٹنسی چلاتا تھا اور اس نے شکایت کنندہ کو بحرین میں ملازمت دلانے کا جھوٹا یقین دلا کر اپنے جال میں پھنسایا۔
تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزم نے اسی طریقۂ واردات سے متعدد دیگر ملازمت کے خواہش مند نوجوانوں کو بھی مبینہ طور پر دھوکہ دیا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے متاثرین سے لاکھوں روپے وصول کیے اور انہیں ملازمت کی فراہمی کا یقین دلانے کے لیے جعلی تقرری نامے، ویزے، فضائی ٹکٹ اور دیگر فرضی دستاویزات فراہم کیے۔
متاثرین کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ان کے آن لائن انٹرویو اور طبی معائنے بھی کرائے گئے اور ان سے معاہدوں پر دستخط کروائے گئے، تاہم بعد میں نہ تو انہیں کوئی ملازمت فراہم کی گئی اور نہ ہی ان سے وصول کی گئی رقم واپس کی گئی۔
کرائم برانچ نے کہا کہ تحقیقات کے دوران تمام الزامات درست پائے گئے۔ ای او ڈبلیو کے مطابق ضروری قانونی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد ملزم کو چارج شیٹ کے ساتھ عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ اے ایم۔ایف اے
جموں و کشمیر
جموں کشمیر: سخت سکیورٹی اور مذہبی جوش و خروش کے بیچ امرناتھ یاترا شروع
سری نگر، جموں کشمیر میں ہر سال ہونے والی شری امرناتھ یاترا جمعہ کو پہلگام اور بالتال، دونوں راستوں سے شروع ہوئی۔
ہزاروں یاتری پورے جوش اور سخت سکیورٹی کے درمیان مقدس گپھا کی طرف روانہ ہوئے۔
تقریباً پانچ ہزار یاتریوں کا پہلا جتھہ جمعرات کو کشمیر وادی پہنچا تھا، جسے جموں سے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا۔ ننوان آدھار شیور میں، اننت ناگ کے ڈپٹی کمشنر بلال بھٹ اور ایس ایس پی اننت ناگ آمود ناگپورے نے پہلگام روٹ سے جانے والے یاتریوں کو ہری جھنڈی دکھائی اور ان کی یاترا کے محفوظ اور کامیاب ہونے کی خواہش کی۔ بالتال، گاندربل میں ہلکی بوندا باندی نے وہاں کے پرسکون ماحول کو اور بھی خوشگوار بنا دیا، جبکہ عقیدت مند گپھا مندر کی طرف اپنی یاترا جاری رکھے ہوئے تھے۔
افسران نے اس سال کی یاترا کے لیے جموں کشمیر میں اب تک کی سب سے بڑی سالانہ سکیورٹی مہم شروع کی ہے۔ محفوظ یاترا یقینی بنانے کے لیے کئی سطحوں والا سکیورٹی گھیرا، دونوں راستوں پر نو فلائی زون، واچ ٹاور، سخت نگرانی اور یاتریوں کے قافلے کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ جیسے انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس نے سبھی رجسٹرڈ سروس پرووائیڈرز (جیسے پونی رائڈرز) کو چھیڑ چھاڑ سے پاک کیو آر کوڈ والے شناختی کارڈ جاری کیے ہیں، تاکہ ان کے شناختی کارڈ کی فوراً جانچ ہو سکے اور عسکریت پسندوں کو سپورٹ اسٹاف بن کر گھسنے سے روکا جا سکے۔
اس کے علاوہ، یاتریوں، گاڑیوں اور سروس دینے والوں کے لیے آر ایف آئی ڈی ٹیگ جاری کیے گئے ہیں تاکہ ان کی رئیل ٹائم ٹریکنگ کی جا سکے۔ ساتھ ہی، سی سی ٹی وی کیمروں کا ایک بڑا نیٹ ورک دونوں یاترا راستوں پر آمد و رفت پر نظر رکھ رہا ہے۔ افسران نے کہا کہ یاترا کو خوش اسلوبی اور محفوظ طریقے سے مکمل کرانے کے لیے سبھی انتظامات کیے گئے ہیں۔ یاتریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سکیورٹی اہلکاروں اور یاترا افسران کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں، صرف مجاز قافلوں میں ہی سفر کریں، جائز شناختی کارڈ ساتھ رکھیں، بغیر تصدیق والی معلومات یا افواہیں نہ پھیلائیں، اور کسی بھی مشکوک سرگرمی، لاوارث چیز یا ہنگامی صورتحال کی اطلاع فوراً قریبی پولیس اہلکاروں کو دیں یا ہنگامی ہیلپ لائن کے ذریعے مطلع کریں۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان5 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا5 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان7 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
جموں و کشمیر7 days agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا1 week agoایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا
دنیا2 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
ہندوستان5 days agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ

































































































