Connect with us

تجزیہ

وادی گریز کی خواتین جدوجہد، ایثار اور قربانی کا مجسمہ

Published

on

تحریر ایڈووکیٹ صفا
ہمالیائی پہاڑیوں کے بیچ میں واقع ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حد متارکہ پر واقع وادی گریز اپنی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے ۔ یہ وادی سٹریٹجک لحاظ سے کافی اہمیت کی حامل ہے تاہم یہ وادی موسم سرماءکے چھ مہینوں تک وادی کشمیر کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطے سے کٹ کر رہ جاتی ہے کیوں کہ یہاں پر درجہ حرارت منفی 20ڈگری سے بھی نیچے چلا جاتا ہے ۔ اس طرح سے یہاں پر زندگی دشوار بن جاتی ہے ۔

یہ وادی انتہائی خوبصورت ہے جہاں پر ایک الگ ثقافت اور تہذیب ہے جبکہ زبان بھی مختلف ہے ۔ گریز وادی کے مکین شینا زبان بولتے ہیں ۔ موسم سرماءکے دوران جہاں زندگی کی رفتار تھم جاتی ہے اور معمولات زندگی متاثر رہتی ہے تاہم اس سخت موسم میں گریز کی خواتین اپنے فرائض سے پیچھے نہیں ہٹتی ۔ خواتین نہ صرف اپنے گھر کے کاموں کو بخوبی انجام دیتی ہے بلکہ سماجی ، ثقافتی اور تہذیبی لحاظ سے بھی اپنی خدمات انجام دیتی ہیں۔ قارئین وادی گریز دور دراز علاقہ ہونے کی وجہ سے کئی بنیادی سہولیات سے آج بھی محروم ہے ۔ بجلی کی غیر معقولیت ، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی ، موبائل کنکٹوٹی کا فقدان جیسی جدید سہولیات مقامی لوگوں کےلئے باعث پریشانی بنی ہوئی ہے ۔

جہاں تک گریز کی خواتین کی سرگرمیوں کا تعلق ہے تو گریز میں خواتین کی دھوڑ دھوپ صبح فجر سے ہی شروع ہوجاتی ہے ۔ موسم سرماءہو یا موسم گرما ، سردیاں ہوں یا گرمیاں یا درجہ حرارت منفی سے نیچے چلا جائے جب پانی بھی جم جاتا ہے تو اس سخت مشکل موسم میں بھی گریز کی خواتین اپنی معمولات کو اپناتی ہے ۔ صبح اُٹھ کر پانی لانے کےلئے گھروں سے باہر نکلتی ہے اور لکڑیاں جلاکر رواتی طریقے سے کھانا پکانے کا کام شروع کرتی ہے ۔ قارئین سردیوں سے پہلے ہی سوکھی لکڑیوں کو جمع کرکے سردیوں کے موسم کےلئے دستیاب رکھا جا تا ہے ۔ اکثر خواتین جنگلوں سے لکڑیاں کاٹ کر اپنے سروں پر لاد کر لاتی ہیں اور یہ کام وہ اعلیٰ صبح کرکے باقی دن دیگر کاموں میں مصروف رہتی ہیں۔ اسی طرح گریز کی خواتین کاشتکاری کے لئے بھی اپنے آپ کو دستیاب رکھتی ہیں ۔ وادی گریز میں سخت موسمی صورتحال کے نتیجے میں کاشتکاری کا سیزن بھی مختصر ہوتا ہے ۔ کاشتکاری میں آلو، مٹر ، چلجم ، مکی ، راجماش اور دیگر ایسی چیزیں اُگائی جاتی ہیں جو موسم گرم میں ہی تیار ہوتی ہیں۔ اس کاشتکاری میں خواتین کا ہی اہم رول رہتا ہے جبکہ مویشی پالتے ہیں اور چارہ اکٹھا کرتے ہیں، یہ سب گھر کے کام کاج کا انتظام کرتے ہیں اور بچوں اور بزرگوںکی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اپنے گھریلو کام کے علاوہ دیگر کام بھی انجام دیتے ہیں جیسے دستکاری کے شعبے میں گریز کی خواتین اپنی خدمات انجام دیتی ہیں ۔ان دستکاریوں میںکڑھائی، بنائی اور روایتی دستکاری ماضی کی کہانیاں بیان کرتی ہیں اور ان کے ماحول کی عکاسی کرتی ہیں۔ خواتین اکثر ہاتھ سے کڑھائی کرتی ہیں فیرن، ایک لمبا اونی گاو¿ن جو سردی کے مہینوں میں پہنا جاتا ہے جو فطرت، زرخیزی اور تحفظ کی علامت ہے۔ یہ فنی اظہار اپنے ورثے کو زندہ رکھتے ہیں اور جدیدیت کی ہم آہنگی قوتوں کے خلاف خاموش مزاحمت کا کام کرتے ہیں۔

قارئین جیسے کہ پہلے ہی عرض کیا جاچکا ہے کہ گریز وادی میں موسم کی سخت کے سبب زندگی بھی کافی مشکل ہے تاہم اس کے باوجود بھی گریز کے لوگوں نے اپنی زبان، رسم و رواج ، رہن سہن اور ثقافت کو تحفظ فراہم کیا ہے ۔ گریز کے لوگ شینا زبان بولتے ہیں جو ان کے قبیلے کی پہنچان بھی ہے ۔ خواتین اپنی زبان کو زندہ رکھنے کےلئے لوک گیت ، کہانیاں اور رواتی طریقے سے دیگر سماجی تفریحی پروگراموں میں اسی زبان کو ترجیح دیتے ہیں۔

گریز میں اگر ہم تعلیم و تربیت کی بات کریں تو اس دور دراز پہاڑی خطے میں تعلیمی سہولیات بھی کم ہی دستیاب ہے خاص طور پر اگر ہم خواتین کےلئے تعلیمی مواقعے کی بات کریں تو اس خطے میں خواتین کےلئے تعلیمی سہولیات کم ہونے کی وجہ سے زیادہ تر خواتین ناخواندہ ہی ہیں۔ تاہم اب وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ اس خطے میں بھی خواتین کی تعلیم کی طرف توجہ دی جارہی ہے ۔ اس تناظر میں پچھلی دو دہائیوں کے دوران، سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں نے اسکولوں کی تعمیر اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مراعات فراہم کرنے کے لیے معمولی کوششیں کی ہیں۔ آج کل نوجوان خواتین میں تعلیم حاصل کرنے کا زیادہ امکان ہے اور کچھ تو سرینگر یا جموں جیسے شہروں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھی گئی ہیں۔ سماجی بندھنوں کے باجود بھی بہت سی لڑکیاں ملک کے دیگر شہروں میں بھی تعلیم کے حصول کےلئے موجود ہیں ۔ اس طرح سے گریز کی لڑکیاں حصول تعلیم کےلئے بر سر جہد ہے ۔ آج لڑکیوں کے والدین اپنی بچیوں کو تعلیم دلانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں ۔

قارئین اسی طرح گریز وادی میں طبی سہولیات کا بھی فقدان ہے جس کا اثر براہ راست خواتین پر پڑتا ہے اور طبی نگہداشت کے حوالے سے یہاں کی خواتین کو شدید مشکلات درپیش ہے ۔ یہاں موجودہ طبی مراکز سردیوں میں اکثر بند رہتے ہیں جبکہ ان مراکز تک پہنچنا بھی سخت موسم میں مشکل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے خواتین عام طو رپر زچگی کے حوالے سے ہی گھروں میں ہی رہتی ہیں ۔اس کے باوجود، گریز میں خواتین نے دیکھ بھال کرنے والی، دائیاں اور علاج کرنے والی بننا سیکھ لیا ہے۔ انگریزی طریقہ علاج کے فقدان کے نتیجے میں یہاں پر آج بھی لوگ قدیم طریقہ علاج پر ہی منحصر ہے خاص کر جڈی بوٹیوں سے علاج آج بھی گریز میں عام بات ہے ۔ لیکن گریز کی خواتین جدید طرز کے علاج کی متمنی ہے اور اسی کوشش میں رہتی ہیں کہ انہیں جدید علاج دستیاب رہے ان کی اس خواہش کو پورا کرنے کےلئے کئی این جی اوز سرگرمی سے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کچھ این جی اوز اور سرکاری پروگراموں نے ٹیلی میڈیسن اور موبائل ہیلتھ یونٹس متعارف کرانے کی کوشش کی ہے لیکن ان کی رسائی محدود ہے۔ پھر بھی، مقامی خواتین کی صحت کے کارکنوں اور رضاکاروں کے طور پر تربیت حاصل کرنے کی خواہش ان کی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی وابستگی کو واضح کرتی ہے۔

قارئین گریز ہندوپاک لائن آف کنٹرول پر واقع ہونے کے نتیجے میں کشیدگی کے نرغے میں رہتا ہے جہاں پر فوج مستقل طور پر تعینات ہے جبکہ کبھی کبھی دونوں ممالک کے مابین کشیدگی بڑھنے کے بعد گولہ باری کا بھی سامنا رہتا ہے ۔ کئی بار گریز میں مقامی کنبوں کو اپنے آشیانے چھوڑنے پڑے ہیں کیوں کہ سرحدی گولہ باری کے نتیجے میں نہ صرف املاک کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ انسانی جانوں کے زیاں کابھی اندیشہ بڑھ جاتا ہے ۔ اس طرح کے ہنگامی حالات میں بھی خواتین کو سب سے زیادہ جدوجہد کرنی پڑتی ہے ۔ ہجرت کے دوران انہیں کھانے پینے کی اشیاء، بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر چیزوں کا بندوبست کرنا پڑتا ہے ۔ قارئین گریز کی خواتین کی یہ جدوجہد نہیں ہے بلکہ ان کے حوصلے اور عزم کی عکاسی ہے پھر بھی اس خطے کی خواتین کی قربانی ، ایثار اور جدوجہد نظر انداز کی جاتی ہے ۔

Continue Reading

تجزیہ

اگر حکومت کو پہلے ہی معلوم تھا تو بل کیوں پیش کیا گیا؟

Published

on

اگر وزیرِاعظم Narendra Modi کی حکومت کو، جیسا کہ قائدِ حزبِ اختلاف Rahul Gandhi نے دعویٰ کیا، یہ علم تھا کہ آئین (131ویں ترمیم) بل لوک سبھا میں مطلوبہ خصوصی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث ناکام ہو جائے گا، تو پھر اسے پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

حقیقت یہ ہے کہ ایک “ناکام ہونے والا” بل بھی قانون بننے سے آگے کئی مقاصد پورے کر سکتا ہے—جیسے ایجنڈا طے کرنا، عوامی بحث کا رخ موڑنا، اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا، اور وقت کے ساتھ پالیسی خیالات کو معمول کا حصہ بنانا۔ مبصرین کے مطابق، ایسے بل کو متعارف کرانے کے کئی عملی اور سیاسی محرکات ہوتے ہیں، چاہے اس کی کامیابی کے امکانات کم ہی کیوں نہ ہوں۔

سب سے پہلے نیت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ بل پیش کرکے حکومت نے اپنے حامیوں—خصوصاً خواتین، جو وزیرِاعظم مودی کا ایک مضبوط ووٹ بینک سمجھی جاتی ہیں—کو یہ پیغام دیا کہ بی جے پی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ حتیٰ کہ مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود، یہ قدم انتخابی مہمات میں عوامی رائے ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسرا پہلو اپوزیشن پر دباؤ ڈالنا ہے۔ پارلیمان میں باضابطہ بحث نے تمام جماعتوں کو اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے پر مجبور کیا، جس سے حکمران جماعت کو یہ بیانیہ بنانے کا موقع ملا کہ اس نے اصلاحات کی کوشش کی مگر مخالفین نے اسے ناکام بنایا۔ بل کی ناکامی کے بعد بی جے پی رہنماؤں نے اپوزیشن کو “خواتین مخالف” قرار دیتے ہوئے اسی بیانیے کو مزید تقویت دی۔

آئین (131ویں ترمیم) بل کی ناکامی کے بعد، جس کا مقصد 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر 2029 کے انتخابات تک خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنا تھا، پارلیمانی امور کے وزیر Kiren Rijiju نے دو متعلقہ بل—یونین ٹیریٹوریز لاز (ترمیمی) بل 2026 اور ڈیلیمیٹیشن بل 2026—بھی واپس لے لیے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اس نے خواتین کے حقوق کی حمایت کا ایک اہم موقع ضائع کر دیا۔ این ڈی اے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج بھی کیا اور اپوزیشن کے خلاف بیانات دیے۔

بی جے پی نے اس شکست کو محض عددی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بنا کر پیش کیا، اور خود کو وزیرِاعظم مودی کی قیادت میں خواتین کو بااختیار بنانے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، کانگریس، راہل گاندھی اور دیگر جماعتوں جیسے سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کو صنفی مساوات کی اصلاحات کی مخالفت کرنے والا دکھایا گیا۔ بحث کے دوران وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ Amit Shah نے کہا کہ “ملک کی خواتین انہیں معاف نہیں کریں گی” — ایک ایسا پیغام جو آئندہ سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایک اور امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عمل نے مستقبل میں مذاکرات اور ترامیم کی گنجائش پیدا کی ہو۔ اس سے حکومت کو پارلیمانی اعداد و شمار اور مختلف جماعتوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کے مؤقف کا اندازہ لگانے کا موقع ملا ہوگا، جس کی بنیاد پر آئندہ قانون سازی کی حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکتی ہے—اگرچہ بعض مبصرین کے نزدیک بی جے پی قیادت کی حکمتِ عملی کو دیکھتے ہوئے یہ امکان کمزور دکھائی دیتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، این ڈی اے کو بل کے حق میں 298 ووٹ ملے جبکہ انڈیا اتحاد نے 230 ووٹ حاصل کیے، جبکہ بل کی منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے۔ کیا حکومت کو اس کا علم نہیں تھا؟ یہ بعید از قیاس لگتا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی یہی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے سے زیادہ ایک سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا—خاص طور پر حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشے میں تبدیلی لانا اور جنوبی و چھوٹی ریاستوں کے حقوق کو متاثر کرنا، جبکہ ہندی بیلٹ کو فائدہ پہنچانا، جو بی جے پی کا اہم ووٹ بینک ہے۔

راہل گاندھی کے مطابق، اس اقدام کے دو بنیادی مقاصد تھے: “پہلا، بھارت کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنا، اور دوسرا، وزیرِاعظم کو خواتین دوست رہنما کے طور پر پیش کرنا۔”

Continue Reading

تجزیہ

کاربن کے اخراج، درخت کاری اور حیاتیاتی تنوع: موسمیاتی حکمتِ عملی کے درمیان توازن کی تلاش

Published

on

خصوصی مضمون: ظفر اقبال

دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نہ صرف واضح ہو چکے ہیں بلکہ تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں، بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور حیاتیاتی تنوع کا زوال یہ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ انسان کو اپنی ترقی کے ماڈل پر نظرثانی کرنا ہوگی، کاربن کے اخراج کو کم کرنا اس جدوجہد کا بنیادی جزو ہے، لیکن موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف اخراج میں کمی کافی نہیں ہوگی۔ ہمیں فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو نکالنے کے مؤثر طریقے بھی اپنانے ہوں گے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کاربن کو ہٹانے کے لیے درخت لگانا ہمیشہ فائدہ مند ہوتا ہے؟ یا یہ بعض حالات میں ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے؟ حالیہ سائنسی تحقیق اس پیچیدہ سوال کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے، خاص طور پر جب بات حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کی ہو۔

دنیا بھر میں انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہر سال تقریباً 42 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہو رہی ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ جیواشم ایندھن (fossil fuels) جیسے کوئلہ، تیل اور گیس کے استعمال سے آتا ہے، جبکہ زمین کے استعمال میں تبدیلی—جیسے جنگلات کی کٹائی—بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اگرچہ مختلف ممالک نے اخراج کم کرنے کے وعدے کیے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر اخراج میں اب بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف اخراج کو کم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ہمیں ‘نیٹ زیرو’ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کاربن کو فضا سے نکالنا بھی ہوگا۔

پیرس معاہدہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کو نہ صرف اخراج میں بڑی حد تک کمی لانی ہوگی بلکہ کاربن ہٹانے کی ٹیکنالوجیز اور حکمت عملیوں کو بھی بڑے پیمانے پر اپنانا ہوگا۔

لیکن یہاں ایک چیلنج ہے۔کاربن کو ہٹانے کے لیے استعمال ہونے والے طریقے خود ماحول پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر اگر انہیں بغیر منصوبہ بندی کے اپنایا جائے۔

کاربن کو ہٹانے کے کئی طریقے زیرِ غور ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

(اول) درخت لگانا: درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور اسے اپنے اندر ذخیرہ کرتے ہیں۔ اس لیے درخت کاری کو سب سے قدرتی اور سستا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

(دوم) توانائی کی فصلیں (Bioenergy Crops): ایسی فصلیں اگائی جاتی ہیں جنہیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے، اور پھر ان کے جلنے سے پیدا ہونے والے کاربن کو پکڑ کر ذخیرہ کیا جائے۔

(سوم) کاربن کیپچر اور اسٹوریج (CCS): صنعتی ذرائع سے نکلنے والے کاربن کو پکڑ کر زمین کے اندر محفوظ کرنا۔

(چہارم) ڈائریکٹ ایئر کیپچر (DAC): جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فضا سے براہِ راست کاربن کو نکالنا۔

ان میں سے سب سے زیادہ زیرِ بحث طریقہ درخت لگانا ہے، کیونکہ یہ فطری اور نسبتاً آسان ہے۔ لیکن اس کے بھی کئی پیچیدہ پہلو ہیں۔

بظاہر درخت لگانا ایک بہترین حل معلوم ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف کاربن کو جذب کرتا ہے بلکہ مٹی کو محفوظ رکھتا ہے، پانی کے چکر کو بہتر بناتا ہے اور ماحولیاتی نظام کو مستحکم کرتا ہے۔ لیکن جب اسے بڑے پیمانے پر نافذ کیا جاتا ہے، تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

بڑے پیمانے پر درخت لگانے کے لیے لاکھوں مربع کلومیٹر زمین درکار ہوتی ہے۔ یہ زمین کہاں سے آئے گی؟ اکثر یہ زرعی زمین یا قدرتی گھاس کے میدان (grasslands) ہوتی ہے، جو خود بھی اہم ماحولیاتی نظام ہیں۔

اگر ایک ہی قسم کے درخت بڑے پیمانے پر لگائے جائیں (monoculture plantations)، تو یہ مقامی پودوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس سے حیاتیاتی تنوع کم ہو جاتا ہے۔

کچھ درخت بہت زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں، جس سے مقامی آبی وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ زمین کے استعمال میں تبدیلی سے مقامی لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر کسانوں اور چرواہوں کی۔

حالیہ مطالعات میں سائنسدانوں نے مختلف موسمیاتی منظرناموں کا تجزیہ کیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کاربن ہٹانے کی حکمت عملیوں کا حیاتیاتی تنوع پر کیا اثر پڑتا ہے۔

انہوں نے عالمی نقشوں کو استعمال کرتے ہوئے یہ دیکھا کہ مستقبل میں کہاں درخت لگائے جائیں گے یا توانائی کی فصلیں اگائی جائیں گی، اور یہ علاقے حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے کتنے حساس ہیں۔

بہت سے ایسے علاقے جہاں درخت لگانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں۔ اگر ان علاقوں میں غیر مقامی درخت لگائے جائیں، تو مقامی ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔کچھ علاقوں میں درخت لگانا فائدہ مند ہو سکتا ہے، خاص طور پر جہاں پہلے جنگلات موجود تھے اور انہیں بحال کیا جا سکتا ہے۔

کاربن ہٹانے اور حیاتیاتی تنوع کے درمیان تعلق کو دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔درخت لگانے سے کاربن تو کم ہو سکتا ہے، لیکن حیاتیاتی تنوع متاثر ہو سکتا ہے۔ زرعی زمین کو جنگل میں تبدیل کرنے سے خوراک کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔

مقامی انواع کے درخت لگانے سے دونوں اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جنگلات کی بحالی (restoration) سے کاربن ذخیرہ بھی ہوتا ہے اور حیاتیاتی تنوع بھی بڑھتا ہے۔

ان چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے، ماہرین درج ذیل حکمت عملی تجویزکرتے ہیں۔

درخت لگاتے وقت مقامی پودوں کو ترجیح دی جائے۔حساس ماحولیاتی علاقوں کو محفوظ رکھا جائے۔مقامی لوگوں کو منصوبوں میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے مفادات کا تحفظ ہو۔ صرف درخت لگانے پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مختلف طریقوں کو یکجا کیا جائے۔

موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی مسئلہ ہے۔ کاربن کو ہٹانا اس کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن اسے اکیلے حل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

ہمیں ایک متوازن نقطہ نظر اپنانا ہوگا جس میں: کاربن کا اخراج (removal)، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، سماجی و اقتصادی انصاف سب کو یکجا کیا جائے۔

درخت لگانا ایک بہتر حل ہو سکتا ہے، لیکن یہ کوئی جادوئی حل نہیں ہے۔ اگر اسے بغیر سوچے سمجھے اپنایا جائے تو یہ ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سائنسی شواہد کی بنیاد پر فیصلے کریں اور ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف کاربن کو کم کریں بلکہ زمین کے حیاتیاتی نظام کو بھی محفوظ رکھیں۔مستقبل کی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کریں —ایسا توازن جو انسان اور فطرت دونوں کے لیے فائدہ مند ہو۔

(یواین آئی)

Continue Reading

تجزیہ

فلم گیت گایا پتھروں کے بعد جیتندر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے

Published

on

ممبئی، 7 اپریل (یواین آئی) بالی ووڈ کے مشہور اداکار جتیندرآج 84 سال کے ہوگئے 7 اپریل 1942 کو ایک جوہری خاندان میں پیدا ہونے والے جتیندرکا بچپن سے ہی فلموں کی جانب رجحان تھا اور وہ اداکار بننا چاہتے تھے۔ وہ اکثر گھر سے بھاگ کر فلم دیکھنے جایا کرتے تھے۔ جتیندرنے اپنے سنیما کیریئر کی شروعات 1959 میں ریلیز ہونے والی فلم نورنگ سے کی جس میں انہیں ایک چھوٹا سا کردار ادا کرنے کا موقع ملا تقریباً پانچ سال تک جتیندرفلم انڈسٹری میں اداکار کے طور پر کام حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ 1964 میں انہیں شانتارام کی فلم گیت گایا پتھروں نے میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم کے بعد جیتندر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔

1967 میں جتیندرکی ایک اور سپرہٹ فلم فرض ریلیز ہوئی۔ روی کانت ناگائچ کی ہدایتکاری میں بنی اس فلم میں جتیندرنے ڈانسنگ اسٹار کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں ان پر فلمایا گیا گانا مست بہاروں کا میں عاشق شائقین اور سامعین کے درمیان بہت مقبول ہوا۔ اس فلم کے بعد جتیندرکو “جمپنگ جیک” کہنا شروع کر دیا گیا۔

فرض کی کامیابی کے بعد ڈانسنگ اسٹار کے طور پر جتیندرکی شبیہ بن گئی۔ اس فلم کے بعد پروڈیوسرز اور ہدایتکاروں نے بیشتر فلموں میں ان کی ڈانسنگ شبیہ کو اجاگر کیا۔ پروڈیوسروں نے جتیندرکو ایک ایسے ہیرو کے طور پر پیش کیا جو رقص کرنے میں ماہر ہو۔ ان فلموں میں ہمجولی اور کارواں جیسی سپرہٹ فلمیں شامل ہیں۔ اس دوران جتیندرنے جینے کی راہ، دو بھائی اور دھرتی کہے پکار کے جیسی فلموں میں ہلکے پھلکے کردار ادا کر کے اپنی ہمہ جہت صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا۔

سال 1973 میں ریلیز ہونے والی فلم جیسے کو تیسا کے ہٹ ہونے کے بعد فلم انڈسٹری میں ان کے نام کے ڈنکے بجنے لگے اور وہ ایک کے بعد ایک مشکل کردار ادا کرتے ہوئے فلم انڈسٹری میں اپنا مقام بناتے گئے۔ 70 کی دہائی میں جتیندرپر یہ الزام لگنے لگا کہ وہ صرف ناچ گانے سے بھرپور رومانوی کردار ہی ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں اس شبیہ سے نکالنے میں پروڈیوسر اور ہدایتکار گلزار نے مدد کی اور ان کے ساتھ پریچے، خوشبو اور کنارا جیسی فیملی فلمیں بنائیں ۔ ان فلموں میں جتیندرکی سنجیدہ اداکاری دیکھ کر ناظرین حیران رہ گئے۔

جتیندرکے سنیما کیریئر پر نظر ڈالنے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ ملٹی اسٹارر فلموں کا اہم حصہ رہے ہیں۔ فلم انڈسٹری کے رنگین پردے پر جیتندر اور ریکھا کی جوڑی کو خوب پسند کیا گیا۔ 80 کی دہائی میں ان کی جوڑی سری دیوی اور جیا پردا کے ساتھ بھی کافی مقبول ہوئی۔ اپنے منفرد ڈانس اسٹائل کی وجہ سے اس جوڑی کو ناظرین نے بے حد پسند کیا۔

سال1982 سے 1987 کے درمیان جتیندر نے جنوبی ہندوستان کے فلم ساز ٹی راماراو، کے باپّیا کے راگھووندرا راؤ وغیرہ کی فلموں میں بھی کام کیا۔ 2000 کی دہائی میں فلموں میں اچھا رول نہ ملنے پر انہوں نے فلموں میں کام کرنا کم کر دیا۔ اس دوران وہ اپنی بیٹی ایکتا کپور کو چھوٹے پردے پر پروڈیوسر کے طور پر قائم کرنے میں ان کے رہنما بنے رہے۔ان دنوں وہ اپنی بیٹی ایکتا کپور کو فلم پروڈکشن میں مددکر رہے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement
دنیا17 minutes ago

ہم جنگ بندی میں توسیع کا خیرمقدم کرتے ہیں:اقوام متحدہ

دنیا21 minutes ago

ایران کی تجارتی ومالی مدد ہماری پابندیوں کا سامنا کرے گی:امریکہ

ہندوستان28 minutes ago

مودی نے پہلگام دہشت گردانہ حملے میں مارے گئے لوگوں کو یاد کیا

ہندوستان32 minutes ago

راہل گاندھی نے پہلگام کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا، دہشت گردی کے خلاف اتحاد کی اپیل کی

ہندوستان34 minutes ago

راج ناتھ نے جرمنی کو دفاعی پیداوار کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے مدعو کیا

دنیا56 minutes ago

ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کی کوئی اہمیت نہیں: مشیر اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ

دنیا58 minutes ago

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے روک رہے ہیں: امریکی صدر

دنیا1 hour ago

“جنگ بندی میں توسیع ” تیل کے حصص میں کمی،سرمایہ کار محتاط

دنیا3 hours ago

آبنائے ہرمز بند ہونے سے ایران کو روزانہ 50 کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان: ٹرمپ

دنیا5 hours ago

ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کردی

دنیا17 hours ago

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے قانون منظور کر لیا۔

دنیا17 hours ago

ایران-امریکہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز بڑی رکاوٹ

پاکستان18 hours ago

“اسلام آباد مذاکرات”ایرانی وفد تاحال پاکستان نہیں پہنچ سکا

جموں و کشمیر18 hours ago

جموں ڈویژن کے سمر زون دسویں جماعت کے نتائج میں لڑکیوں نے ماری بازی

دنیا19 hours ago

ایرانی میڈیا کا آبنائے ہرمز کو ‘اگلے اطلاع تک’ مکمل بند کرنے کا اعلان

پاکستان19 hours ago

عمران خان کو قید تنہائی میں رکھ کر غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہ: علیمہ خان

جموں و کشمیر19 hours ago

کانگریس کا خواتین کے ریزرویشن کو فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ

ہندوستان21 hours ago

دہلی سے بغیر محرم خواتین حج کے لیے مدینہ روانہ

ہندوستان21 hours ago

ڈیریک او برائن کا بی جے پی اور ایجنسیوں کے ذریعے ممتا بنرجی کو ‘نشانہ بنانے’ کا الزام

دنیا21 hours ago

غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری، متعدد فلسطینی شہید

دنیا21 hours ago

ایران نے دارالحکومت تہران کے ہوائی اڈے دوبارہ کھول دیے

دنیا21 hours ago

مخالفین کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کا فیصلہ کن جواب دینے کیلئے تیار ہیں: سربراہ خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر

جموں و کشمیر21 hours ago

جموں کے بیرونی علاقے میں موٹر سائیکل سوار ہلاک، دوسرا زخمی

پاکستان23 hours ago

بڑی تہذیب کا حامل ملک دھمکی و دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: ایرانی سفیر رضا امیری مقدم

دنیا23 hours ago

ایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں

جموں و کشمیر23 hours ago

ایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند

دنیا23 hours ago

ایران کیساتھ جلد ڈیل ہوجائےگی مگر جلد بازی میں کوئی بُری ڈیل نہیں کروں گا: امریکی صدر

دنیا23 hours ago

دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کسی صورت قبول نہیں: اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ

دنیا23 hours ago

ہمارے جہاز پر قبضہ بحری قزاقی ہے،مذمت کرتے ہیں :ایران

دنیا23 hours ago

ایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ

دنیا23 hours ago

نائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ

ہندوستان1 day ago

خواتین ریزرویشن کے نفاذ کی خواہش مند نہیں مودی حکومت: کانگریس

دنیا1 day ago

امریکہ “سرینڈر” چاہتا ہے لیکن ایرانی قوم طاقت کے آگے سر نہیں جھکاتی: مسعود پزشکیان

دنیا1 day ago

ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا تو اسے ‘بے مثال مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا: ٹرمپ

دنیا1 day ago

ٹرمپ اپنے تصورات میں مذاکرات کی ٹیبل کو سرنڈر ٹیبل بنا رہے ہیں، باقر قالیباف

دنیا1 day ago

ٹرمپ امریکہ کو ایک اور تباہ کن ڈیل میں نہیں جھونکیں گے: وائٹ ہاؤس

دنیا1 day ago

مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے: ابراہیم عزیزی

دنیا1 day ago

ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا تو اسے ‘بے مثال مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا: ٹرمپ

دنیا1 day ago

برطانیہ اور فرانس اپنی جوہری صلاحیتوں میں اضافہ کر کے ہتھیاروں کی دوڑ شروع کر رہے ہیں: روس

دنیا1 day ago

معاہدہ طے پانے تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں سے ناکہ بندی نہیں ہٹائے گا: ٹرمپ

دنیا2 days ago

امریکہ پر انحصار اب ’کمزوری‘ بن گیا ہے: کینیڈین وزیرِ اعظم

جموں و کشمیر2 days ago

جنوبی کشمیر رینج کے ڈی آئی جی نے پلوامہ میں جرائم اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا

دنیا2 days ago

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تجارتی معاہدے پر بات چیت پیر سے شروع

دنیا2 days ago

شریف، پیزیشکیان کی فون پر بات چیت، امن کی کوششیں جاری رکھنے کا عزم

دنیا2 days ago

ایران امریکہ جنگ بندی کا کل آخری دن! توسیع کے لیے سفارتی رابطوں میں تیزی

دنیا2 days ago

شہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر

دنیا2 days ago

ایران پہلے کے مقابلے میں زیادہ متحد ہے: ایرانی سفیر

دنیا2 days ago

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

دنیا2 days ago

جنگ کسی کے مفاد میں نہیں: ایرانی صدر

دنیا2 days ago

امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے ساتھ ساتھ تہران ‘ضروری اقدامات’ کے لیے تیار:ایرانی اسپیکر

جموں و کشمیر2 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اداریہ4 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

جموں و کشمیر2 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر2 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین2 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

تازہ ترین2 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین3 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

تازہ ترین2 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

دنیا2 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

اہم خبریں2 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تجزیہ4 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

تازہ ترین3 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

کھیل2 months ago

تاریخ رقم: جموں و کشمیر نے پہلی بار رانجی ٹرافی کا خطاب اپنے سر سجایا

جموں و کشمیر2 months ago

کشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین

تازہ ترین2 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

دنیا2 months ago

ایرانی میزائل کی 10 انٹرسیپٹرز کو چکمہ دیکر ہدف کو نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل

کھیل3 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

دنیا3 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

دنیا2 months ago

خامنہ ای کی شہادت کے بعد امام خمینی کے پوتے حسن خمینی توجہ کا مرکز

تازہ ترین3 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

تازہ ترین3 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

اہم خبریں2 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تجزیہ5 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

دنیا1 month ago

ٹرمپ کے مشیر کی امریکہ کو ایران جنگ سے نکلنے کی تجویز پیش

تازہ ترین4 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

اداریہ4 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

ہندوستان3 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

جموں و کشمیر2 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

تازہ ترین3 months ago

شوپیاں کے زینہ پور علاقے میں رہائشی مکان سے ہیروئن بر آمد، ملزم گرفتار: پولیس

ہندوستان2 months ago

گھریلو ایل پی جی سلنڈر 60 روپے اور کمرشیل سلنڈر 114.50 روپے مہنگا

دنیا1 month ago

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ

دنیا2 months ago

ٹرمپ کی گردن پر سرخ نشان، صحت سے متعلق نئی بحث چھڑگئی

جموں و کشمیر3 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

دنیا1 month ago

کیا نیتن یاہو مر چکے ہیں سرکاری اکاؤنٹ سے نیتن یاہو کی ’’چھ انگلیوں‘‘ والی ویڈیو وائرل

اداریہ4 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

دنیا4 weeks ago

امریکہ کے ایران کو بھیجے گئے 15 نکاتی امن منصوبے کی ‘شرائط’

دنیا1 month ago

امریکی شہریوں کو فوری طور پر افغانستان چھوڑنے کی ہدایت

جموں و کشمیر2 weeks ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین5 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

کھیل3 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا قانون کیا کہتا ہے

جموں و کشمیر2 months ago

جموں و کشمیر میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے مجھے بے حد متاثر کیا: سی پی رادھا کرشنن

جموں و کشمیر3 weeks ago

گاندربل تصادم میں مارے گئے شخص کی شناخت اے ٹی ایم کارڈ سے ہوئی

تازہ ترین3 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

دنیا2 months ago

بنگلہ دیش انتخابات: بی این پی کی ہندوستان، چین اور پاکستان کے ساتھ تعلقات پر واضح پالیسی :طارق رحمان

جموں و کشمیر1 month ago

محبوبہ مفتی نے ایرانی سفیر کے ساتھ کشمیری طلباء کا معاملہ اٹھایا

جموں و کشمیر4 weeks ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر2 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر2 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین2 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین2 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر2 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں2 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں2 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین3 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر6 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر2 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ2 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین2 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین2 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین2 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین2 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر2 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین2 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین3 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر3 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین3 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین3 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین3 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر3 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر3 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین3 years ago

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین3 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر3 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین3 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین3 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر3 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین3 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

تجزیہ3 years ago

از خود نوٹس کا فیصلہ: صدر پنجاب، گورنر خیبر پختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں

Advertisement

Trending