تازہ ترین
کانگریس کے تین ارکان پارلیمنٹ نے فضائی آلودگی کے مسئلہ پر لوک سبھا میں تحریک التواء کا نوٹس دیا

نئی دہلی، کانگریس کے تین ارکان پارلیمنٹ منیش تیواری، وجے کمار (وجے وسنت) اور منیکم ٹیگور نے جمعرات کو دارالحکومت میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لوک سبھا میں تحریک التواء کے لیے علیحدہ نوٹس دے کر اس معاملے پر فوری بحث کا مطالبہ کیا۔
کنیا کماری سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ وجے کمار (وجے وسنت) نے دہلی کی فضائی آلودگی کے بحران کو قومی صحت عامہ کی ایمرجنسی قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے نوٹس میں کہا کہ دہلی ایک کھلے گیس چیمبر میں تبدیل ہو گئی ہے۔ یہاں کروڑوں افراد زہریلی ہوا میں سانس لے رہے ہیں۔ یہ ہوا جسم کے ہر عضو کو نقصان پہنچانے اوربچوں و نوجوانوں میں بھی بیماریوں کا باعث بن رہی ہے۔ ایم پی نے بحران کی نگرانی کرنے میں ناکام رہنے پر مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ ایجنسیوں کے پاس آلودگی کے درست ڈیٹا تک نہیں تھے۔ مسٹر کمار نے ایک قومی صاف فضائی منصوبہ کے آغاز پر زور دیا اور انتباہ دیا کہ اس میں تاخیر سے لوگوں کی زندگی خطرے میں ہے اور پارلیمنٹ کو فوری طور پر توجہ دینی چاہیے۔
چنڈی گڑھ سے کانگریس ایم پی مسٹر تیواری نے اپنے نوٹس میں لکھا کہ فضائی آلودگی کے خطرناک بحران نے دہلی-این سی آر اور پورے گنگا کے میدان کو مہلک گیس چیمبر میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ یہ صحت عامہ کی قومی ایمرجنسی ہے۔ زہریلی ہوا اب لاکھوں ہندوستانی شہریوں کی زندگی کے سال چھین رہی ہے۔ طبی ماہرین نے تمباکو نوشی نہ کرنے والوں میں پھیپھڑوں کے کینسر میں تیزی سے اضافے کی اطلاع دی ہے۔
بچوں کے پھیپھڑوں اور دماغوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ بزرگوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے اور ہر عمر کے لوگوں کو دمہ، نمونیا، ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔
تمل ناڈو کے ویردھ نگر سے ایم پی مسٹر ٹیگور نے اپنے نوٹس میں کہا کہ عام شہری فضائی آلودگی کا شکار ہیں۔ ماسک کے باوجود کھانستے ہوئے بچے، بزرگ زہریلی ہوا میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے کارکنان اس کا شکار ہیں کیونکہ وہ گھر کے اندر نہیں رہ سکتے۔ لیکن کوئی احتساب نہیں، آلودگی پھیلانے والے آزاد گھوم رہے ہیں اور شہری اپنی صحت سے اس کی قیمت چکا رہے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
کوئی نئی جارحیت یا خلاف ورزی کاجواب خطے سے باہر تک پھیلے گا: ترجمان ایرانی مسلح افواج
تہران، ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان ابوالفضل شکارچی کا کہنا ہے کہ کوئی نئی جارحیت یا خلاف ورزی کاجواب خطے سے باہر تک پھیلے گا۔
ایک بیان میں ابوالفضل شکارچی نے کہا ہے کہ کسی نئی خلاف ورزی کی صورت میں ایران کا ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور طاقتور ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ اہداف کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔
ابوالفضل شکارچی کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئی خلاف ورزی کی صورت میں ایران کا ردعمل مختلف نوعیت کا ہو گا۔ ترجمان ایرانی مسلح افواج نے کہا کہ ایران کی تیل برآمدات میں رکاوٹ ڈالی گئی تو ایران خطے سے تیل کی ترسیل کا راستہ بند کر دے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز کو کبھی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنائیں گے جیسے جوہری معاملے میں کیا: ایران
تہران، ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کبھی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنائیں گے جیسےجوہری معاملے میں کیا، امریکی ناکہ بندی ختم ہوئی تو ہرمز سےگزرنے کا عمل ایران کے طے کردہ انتظامات کے تحت ہوگا۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے اہم ہے۔ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ہماری عظیم کامیابیوں کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہماری جغرافیائی اہمیت ہے۔ انہوں نےواضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو کبھی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنائیں گے جیسے جوہری معاملے میں کیا، امریکی ناکہ بندی ختم ہوئی تو ہرمز سے گزرنے کا عمل ایران کے طے کردہ انتظامات کے تحت ہوگا۔
ابراہیم عزیزی نے کہا کہ آبنائے ہزمز سے آمدورفت غیر فوجی اور غیرحریف ٹریفک کے لیے ہوگی، اصولی طور پر ہمیں کبھی بھی کسی سے اس کی منظوری کی ضرورت نہیں، یہ ہمارے علاقائی پانی ہیں اور ہمارے جائز حقوق ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اُن معاملات میں سےایک ہےجوابتدائی مراحل میں 5ا عتماد سازی اقدامات کے ذریعے ظاہر ہونا چاہیے۔ اس سے قبل ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ ہوگیا تو جوہری معاملے پر60 روزمیں مذاکرات ہونگے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ایک فریم ورک پر پہنچ گئے ہیں تاہم کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ بالکل قریب ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایم اویوکوحتمی شکل دی گئی توجوہری معاملے سمیت مفاہمتی یادداشت کی کچھ تفصیلات اوردیگر موضوعات پر بھی60 دن میں مذاکرات ہوں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
گلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
سری نگر، جموں و کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام گلمرگ میں عالمی شہرت یافتہ گونڈولا کیبل کار سروس تقریباً ایک ہفتے کے لیے بند رہے گی۔ حکام نے منگل کے روز بتایا کہ یہ فیصلہ پیر کو تکنیکی خرابی کے بعد بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کرنے کے بعد لیا گیا، جس میں ہوا میں پھنسے ہوئے تقریباً 300 سیاحوں کو بچا لیا گیا۔
حکام نے کہا کہ آپریشن معطل کرنے کا فیصلہ صرف اور صرف سیاحوں کی حفاظت اور بہبود کے مفاد میں کیا گیا ہے۔
“سیاحوں کی حفاظت کو ذہن میں رکھتے ہوئے، گنڈولا سروس تقریباً ایک ہفتے کے لیے معطل رہے گی،” سید قمر سجاد، ڈائریکٹر ٹورازم، کشمیر اور منیجنگ ڈائریکٹر جموں و کشمیر کیبل کار کارپوریشن نے کہا۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کی شام کہا کہ کیبل کار کے تکنیکی خرابی کے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ”کسی بھی غفلت کے لیے ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا، اور مناسب کارروائی کی جائے گی۔”
سید قمر نے بتایا کہ پیر کی سہ پہر ٹرالی سیکشن کے گیئر باکس میں تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی، جس سے حکام کو آپریشن روکنا پڑا اور ہنگامی ریسکیو آپریشن شروع کرنا پڑا۔ ریسکیو آپریشن پولیس، فوج، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اور کیبل کار کارپوریشن کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔
انہوں نے بتایا کہ کیبل کار کارپوریشن کی چھ ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر حرکت میں آئیں اور پولیس اور ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس کے ساتھ مل کر بالائی اور زیریں دونوں ٹرمینلز سے ایک مربوط ریسکیو آپریشن کیا گیا۔ انہوں نے کہا، “تقریباً 280 سیاح 62 معلق کیبنوں میں پھنسے ہوئے تھے۔ ہر سیاح کو بحفاظت کیبن کے ذریعے نیچے اتارا گیا۔ آپریشن چار سے پانچ گھنٹے میں کامیابی سے مکمل ہوا اور تمام سیاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔” انہوں نے واضح کیا کہ یہ نظام اپنی منظور شدہ صلاحیت کے اندر کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا، “گنڈولا میں 72 کیبنز کی گنجائش ہے، جب کہ صرف 63 کیبن کام کر رہے تھے۔ یہ ضرورت سے زیادہ بوجھ کا مسئلہ نہیں تھا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ مین گیئر باکس میں اس قسم کی ناکامی پہلی بار ہوئی۔ سید قمر نے کہا کہ تکنیکی خرابی کی وجہ کی تحقیقات کے لیے اندرونی تکنیکی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، “اگرچہ اس میں ایک ہفتے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے، آپریشن اسی وقت شروع ہو گا جب ہمیں سیاحوں کی حفاظت کے بارے میں 100 فی صد یقین ہو گا۔” گلمرگ گونڈولا کشمیر میں سیاحوں کی توجہ کا ایک اہم مقام ہے، جہاں 2024 میں ریکارڈ 10 لاکھ زائرین نے سواری سے لطف اندوز ہوئے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر4 days agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
دنیا5 days agoصدارت کے بعد اسرائیل کا وزیراعظم بن سکتا ہوں: ٹرمپ کی گفتگو وائرل
ہندوستان1 week agoملک میں بڑا معاشی بحران آنے والا ہے، عام آدمی پر پڑے گا اثر: راہل گاندھی
دنیا4 days agoٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیژل کی قیمت چار دن میں دوسری بار بڑھانے پر جواب دیں مودی:کھرگے
دنیا4 days agoکیوبا نے مارکو روبیو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا دیا
دنیا4 days agoٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹنے کی دھمکی سے یورپ اور ایشیا کو نیوکلیئر حملے کے خطرات پیدا ہوگئے تھے: رپورٹ
جموں و کشمیر1 day agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان1 week agoدفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے راج ناتھ ویتنام اور کوریا کے دورے پر روانہ
دنیا5 days agoمیں ایران کے ساتھ جنگ میں واپس نہیں جانا چاہتا، کچھ دن انتظار کروں گا: ٹرمپ
دنیا4 days agoامریکہ سے مذاکرات: ایران کا تمام محاذوں پرجنگ کا خاتمہ ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور بحری تحفظ کا مطالبہ
دنیا5 days agoحملہ ہوا تو جنگ خطے سے باہر تک پھیل جائے گی، پاسدارانِ انقلاب کا واضح پیغام



































































































